تمغہ سونے کا، وعدہ "زیرِ کارروائی" ،مراد خان، سرکاری اعلانات اور ہمارے کھیلوں کا سب سے کامیاب کھیل
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پاکستان میں اگر کبھی "سرکاری اعلانات" کو بھی کھیل کا درجہ دے دیا جائے تو یقین مانیں، ہمارے پاس اولمپک، ایشین گیمز اور ساوتھ ایشین گیمز کے تمام ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔ اس کھیل میں ہم کسی سے پیچھے نہیں۔ یہاں نہ کوچ کی ضرورت ہوتی ہے، نہ ٹریننگ کی، نہ فٹنس ٹیسٹ کا ڈر اور نہ ڈوپنگ کا خطرہ۔ صرف ایک اچھا سا اسٹیج، چند کیمرے، چند تالیاں، ایک مائیک اور چند بڑے بڑے وعدے کافی ہوتے ہیں۔اسی کھیل کا ایک تاریخی مقابلہ 2019 میں بھی ہوا تھا۔
نیپال میں ساوتھ ایشین گیمز ختم ہوئے، پاکستان نے چند قیمتی تمغے جیتے اور خیبرپختونخوا کے نوجوان کراٹے کھلاڑی مراد خان نے ملک کے لیے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ پورا صوبہ خوش تھا۔ تصاویر بنیں، بیانات آئے، مبارکبادیں ہوئیں اور پھر وہ لمحہ بھی آیا جب اس وقت کے صوبائی وزیر کھیل عاطف خان نے بڑے اعتماد کے ساتھ اعلان کیا کہ مراد خان کو رہائشی پلاٹ بھی دیا جائے گا اور بیرون ملک ٹریننگ بھی۔اس اعلان پر تالیاں بھی بجیں اور امیدیں بھی۔
اب ذرا کیلنڈر دیکھیے۔2019... ، 2020... ، 2021... ، 2022... ، 2023... ،2024`، ` 2025... اور اب سال 2026 یعنی موجودہ سال جبکہ اگلے سال یعنی 2027 کے ساوتھ ایشین گیمز دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ لیکن اگر آج بھی یہ سوال پوچھا جائے کہ مراد خان کو وہ پلاٹ ملا یا نہیں؟ بیرون ملک ٹریننگ ہوئی یا نہیں؟ تو جواب شاید وہی پرانا سرکاری جواب ہوگا۔"معاملہ زیرِ غور ہے۔" پاکستان میں "زیرِ غور" شاید دنیا کا سب سے محفوظ مقام ہے۔ جو چیز وہاں چلی جائے، وہ برسوں بعد بھی ویسی ہی ملتی ہے۔
ہمارے ہاں کھیلوں کی دنیا میں دو ہی چیزیں بہت تیزی سے ہوتی ہیں۔ پہلی، اعلان۔ دوسری، اعلان بھول جانا۔ باقی تمام مراحل آہستہ آہستہ سرکاری رفتار سے مکمل ہوتے ہیں، یعنی کبھی بھی نہیں۔ ذرا تصور کریں کہ اگر مراد خان بھی سرکاری انداز اپنا لیتے۔ فائنل سے پہلے کہتے: "میں گولڈ میڈل جیتنے کا اعلان کرتا ہوں۔ اصل مقابلہ اگلے سات سال بعد کھیلوں گا۔"کیا پاکستان اسے قبول کر لیتا؟ ہرگز نہیں۔ اس سے فوراً پوچھا جاتا کہ تمہاری کارکردگی کہاں ہے؟تم نے وعدہ پورا کیوں نہیں کیا؟ لیکن جب سوال حکومت سے ہو تو جواب بدل جاتا ہے۔ "فائل چل رہی ہے۔" ایسا لگتا ہے کہ ہماری سرکاری فائلیں دوڑنے کے بجائے یوگا کرتی ہیں۔ حرکت کم، سکون زیادہ۔
2027 کے ساوتھ ایشین گیمز کے لیے یقیناً نئی تقریبات ہوں گی۔ نئے کھلاڑی آئیں گے۔ نئے اعلانات ہوں گے۔ شاید نئے پلاٹ بھی اعلان ہوں۔ شاید نئی بیرون ملک ٹریننگ بھی۔ اور شاید نئی تصویریں بھی۔ لیکن ایک پرانا سوال پھر کھڑا ہوگا۔2019 والے وعدے کہاں گئے؟ یہ سوال کسی ایک وزیر، کسی ایک حکومت یا کسی ایک جماعت کا نہیں۔ یہ سوال سرکاری نظام کا ہے۔کیا حکومت بدلنے سے وعدے بھی بدل جاتے ہیں؟
اگر ایک وزیر نے سرکاری حیثیت میں اعلان کیا تھا تو کیا اگلی حکومت کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ یا تو اس پر عمل کرے یا عوام کو بتائے کہ ایسا کیوں نہیں ہو سکا؟ ہمارے ہاں سپورٹس پالیسی کبھی کبھی موبائل فون کے ڈیٹا پیکج جیسی لگتی ہے۔مدت ختم، سب کچھ ختم۔نئی حکومت آئی، نیا پیکج آگیا۔ پرانے وعدے بھی ایکسپائر ہوگئے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کھلاڑیوں کے کیریئر ڈیٹا پیکج نہیں ہوتے۔
ایک ایتھلیٹ کی بہترین عمر محدود ہوتی ہے۔ جو ٹریننگ اسے 2020 میں ملنی چاہیے تھی، اس کی جگہ اگر 2027 میں ملے تو وہ انعام نہیں بلکہ تاخیر ہوتی ہے۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ہمارے ہاں کھلاڑیوں سے زیادہ مضبوط سرکاری بینر ہوتے ہیں۔تقریب ختم۔بینر اتر گیا۔اعلان بھی ساتھ ہی اتر گیا۔
اگر وعدوں کی بھی کوئی فیڈریشن ہوتی تو شاید وہ بھی ہر سال اجلاس کرتی اور یہ فیصلہ کرتی کہ اس سال کون سا وعدہ مزید ایک سال کے لیے موخر کیا جائے۔ ہمارے ہاں جب بھی کوئی کھلاڑی میڈل جیتتا ہے تو سب اس کے ساتھ تصویر بنوانا چاہتے ہیں۔ جب وہی کھلاڑی اپنے حق کی بات کرے تو سب کہتے ہیں۔ "یہ متعلقہ محکمہ دیکھے گا۔" متعلقہ محکمہ کہتا ہے۔ "یہ مالیات دیکھے گا۔" مالیات کہتا ہے۔ "یہ کابینہ دیکھے گی۔" کابینہ کہتی ہے۔ "یہ آئندہ اجلاس میں ہوگا۔" اور اجلاس شاید اگلے ساوتھ ایشین گیمز تک ملتوی ہو جاتا ہے۔
یہ کالم مراد خان کے لیے ہمدردی کا نہیں، نظام سے سوال کا ہے۔ اگر پلاٹ دے دیا گیا ہے تو مبارک ہو۔ ریکارڈ سامنے لے آئیں۔ اگر بیرون ملک ٹریننگ ہو چکی ہے تو تفصیل جاری کر دیں۔ اور اگر نہیں ہوئی تو صاف صاف کہہ دیں کہ کیوں نہیں ہوئی۔ خاموشی سب سے کمزور جواب ہوتی ہے۔ کھیلوں میں اعتماد بہت قیمتی چیز ہے۔ آج ایک نوجوان کسی اکیڈمی میں پسینہ بہا رہا ہے۔ وہ ٹی وی پر تقریریں بھی سنتا ہے۔ وہ انعامات کے اعلانات بھی سنتا ہے۔
لیکن وہ مراد خان کا معاملہ بھی دیکھتا ہے۔ اگر اسے یقین ہی نہ ہو کہ کامیابی کے بعد ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہوگی تو اس کی حوصلہ افزائی کیسے ہوگی؟ پاکستان میں اکثر کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ یہ درست ہے۔ کمی شاید وعدے پورے کرنے کی رفتار میں ہے۔ ہمیں نئے اعلانات سے پہلے پرانے اعلانات کا حساب دینا ہوگا۔ کیونکہ کھیل صرف میدان میں نہیں جیتے جاتے۔ اعتماد بھی جیتنا پڑتا ہے۔
2027 کے ساوتھ ایشین گیمز میں اگر پاکستان ایک بار پھر تمغے جیتتا ہے تو یقیناً پوری قوم خوش ہوگی۔ وزراءبھی مبارکباد دیں گے۔ تقریبات بھی ہوں گی۔ اعلانات بھی ہوں گے۔ لیکن شاید کسی کونے میں ایک صحافی پھر وہی سوال پوچھے گا۔"سر... 2019 والے وعدوں کا کیا بنا؟"اور اگر اس سوال کا جواب آج بھی موجود نہیں، تو پھر شاید ہمارے کھیلوں کا سب سے کامیاب ایونٹ ساوتھ ایشین گیمز نہیں، بلکہ "اعلان گیمز" ہیں، جہاں ہر کوئی جیت جاتا ہے... سوائے اس کھلاڑی کے جس نے اصل میدان میں ملک کے لیے گولڈ میڈل جیتا تھا۔
#MuradKhan #SouthAsianGames #SouthAsianGames2027 #Karate #KPSports #PakistanSports #SportsPolicy #BrokenPromises #GovernmentAccountability #AthletesFirst #SportsGovernance #Transparency #KPNews #GoldMedalist #PromisesMatter
|