جاپان پھر سامنے ہے، جہاں پاکستان نے ہاکی کا پہلا ایشیائی تاج پہنا تھا
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
سترہویں سے بارہویں عالمی پوزیشن تک پہنچنے والا پاکستان اب جاپان میں ایشین گیمز کی تیاری کرے گا۔ 1958 میں ٹوکیو میں ایشیائی چیمپئن بننے والی ٹیم 2026 میں اسی ملک میں اپنی کھوئی ہوئی شناخت اور اولمپک راستہ تلاش کرے گی پاکستان ہاکی کے لیے جاپان محض ایک ملک نہیں، بلکہ تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جہاں قومی ٹیم نے اپنے عروج کی بنیاد رکھی تھی۔سترہویں نمبر کی عالمی ٹیم سے بارہویں پوزیشن تک پہنچنے کا سفر ہو ، پاکستان ہاکی کی موجودہ کہانی کو سمجھنے کے لیے جاپان کی تاریخ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان ایک مرتبہ پھر جاپان جا رہا ہے۔ 2026 کے ایشین گیمز میں قومی ہاکی ٹیم کے سامنے صرف ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ ایک تاریخی امتحان ہے۔ ایشین ہاکی فیڈریشن کے مطابق آئچی ناگویا ایشین گیمز 19 ستمبر سے 4 اکتوبر 2026 تک جاپان میں ہوں گے۔ پاکستان اور جاپان کا ہاکی تعلق 1958 کے ٹوکیو ایشین گیمز سے ایک غیر معمولی تاریخی مقام حاصل کرتا ہے۔ یہ ایشین گیمز میں مردوں کی ہاکی کا پہلا مقابلہ تھا اور پاکستان نے اسی پہلے ایڈیشن میں طلائی تمغہ جیت کر ایشیا پر اپنی آمد کا اعلان کیا۔ یہ کامیابی پاکستان کی ہاکی کے اس عظیم دور کی بنیاد بنی جس میں قومی ٹیم صرف ایشیا نہیں بلکہ عالمی ہاکی کی بڑی طاقت بن گئی۔ جاپان میں پاکستان کا پہلا بڑا قدم ہی چیمپئن بننے کی صورت میں سامنے آیا۔
چھ سال بعد پاکستان دوبارہ ٹوکیو پہنچا، لیکن اس مرتبہ ایشین گیمز کے لیے نہیں بلکہ اولمپکس کے لیے۔ 1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ عالمی ہاکی فیڈریشن کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق فائنل میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں ایک صفر سے شکست ہوئی اور پاکستان نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ پاکستان نے اسی اولمپکس میں میزبان جاپان کو بھی شکست دی تھی۔ یعنی جاپان میں پاکستان کی ہاکی تاریخ کے پہلے دو بڑے ابواب میں ایک طرف ایشین گیمز کا طلائی تمغہ تھا اور دوسری طرف اولمپکس کا چاندی کا تمغہ۔ یہ وہ پاکستان تھا جو دنیا کی بہترین ہاکی ٹیموں میں شمار ہوتا تھا۔
1960 کی دہائی سے 1970 کی دہائی تک پاکستان ہاکی کا عالمی منظرنامہ ناقابل یقین حد تک مضبوط تھا۔ عالمی ہاکی فیڈریشن کے مطابق پاکستان نے 1956 سے 1976 کے درمیان اولمپکس میں تین طلائی، تین چاندی اور دو کانسی کے تمغے حاصل کیے۔ اس دور میں پاکستان اور بھارت کی رقابت دنیا کی سب سے بڑی ہاکی رقابتوں میں شمار ہوتی تھی۔ 1960 روم اولمپکس میں پاکستان نے طلائی تمغہ جیتا۔ 1964 ٹوکیو میں پاکستان چاندی کا تمغہ لے کر واپس آیا۔ 1968 میکسیکو اولمپکس میں پاکستان دوبارہ طلائی تمغہ جیت گیا۔ 1972 میونخ میں چاندی کا تمغہ ملا۔ 1976 مونٹریال میں پاکستان کانسی کے تمغے کے قریب پہنچا، لیکن سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے شکست ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان نے 1984 لاس اینجلس اولمپکس میں دوبارہ طلائی تمغہ جیتا، جو آج تک اس کا آخری اولمپک طلائی تمغہ ہے۔
ایشین گیمز میں بھی پاکستان نے طویل عرصے تک اپنی برتری قائم رکھی۔ پاکستان نے مردوں کی ہاکی میں آٹھ مرتبہ طلائی تمغہ جیتا اور ایشیا کی سب سے کامیاب ٹیموں میں شامل رہا۔ 1958 ٹوکیو، 1962 جکارتہ، 1966 بنکاک، 1970 بنکاک، 1978 بنکاک، 1982 نئی دہلی، 1990 بیجنگ اور 2010 گوانگڑو میں پاکستان ایشین گیمز کا چیمپئن بنا۔ لیکن 2010 کے بعد یہ تسلسل ٹوٹ گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان ہاکی کی تاریخی طاقت اور موجودہ کمزوری کے درمیان سب سے بڑا فرق نظر آتا ہے۔2010 گوانگڑو میں پاکستان نے آخری مرتبہ ایشین گیمز کا طلائی تمغہ جیتا۔ اس کے بعد پاکستان ایشین گیمز ہاکی میں اپنی سابقہ حیثیت برقرار نہ رکھ سکا۔
یہ صرف ایک ٹورنامنٹ ہارنے کا مسئلہ نہیں۔ یہ ایک طویل المدتی تبدیلی ہے جس میں بھارت، آسٹریلیا، نیدرلینڈز، جرمنی اور دیگر ٹیموں نے جدید تربیت، فٹنس، حکمت عملی اور مستقل بین الاقوامی مقابلوں کے ذریعے اپنی سطح بلند کی، جبکہ پاکستان کو مسلسل انتظامی، مالی اور کھیل کے ڈھانچے سے متعلق مسائل کا سامنا رہا۔ پاکستان ہاکی کے زوال کو سمجھنے کے لیے عالمی رینکنگ سے زیادہ اہم اولمپکس ہیں۔ جو ٹیم کبھی مسلسل اولمپک فائنلز کھیلتی تھی، وہ حالیہ برسوں میں اولمپکس تک پہنچنے کے لیے بھی جدوجہد کرتی رہی۔ ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کی عدم موجودگی اس زوال کی ایک واضح علامت تھی۔ ایک طرف 1964 کا ٹوکیو تھا، جہاں پاکستان اولمپک فائنل کھیل رہا تھا۔ دوسری طرف جدید دور کا ٹوکیو تھا، جہاں پاکستان اولمپک میدان میں موجود ہی نہیں تھا۔ یہ تضاد پاکستان ہاکی کی پوری داستان کو ایک جملے میں بیان کرتا ہے۔
2026 میں تاریخ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے سامنے کھڑی ہے۔ ایشین گیمز آئچی اور ناگویا کے وسیع علاقے میں ہوں گے، جبکہ ہاکی مقابلے جاپان کے گیفو پریفیکچرل گرین اسٹیڈیم، ککامی گاہارا میں ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی ککامی گاہارا میں مئی 2026 میں انڈر اٹھارہ ایشیا کپ بھی کھیلا گیا، جہاں پاکستان نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا جبکہ بھارت چیمپئن اور میزبان جاپان دوسرے نمبر پر رہا۔ یہ نوجوانوں کی سطح پر بھی ایک واضح اشارہ ہے کہ ایشیائی ہاکی میں مقابلہ کتنا سخت ہو چکا ہے۔
1958 میں پاکستان جاپان گیا تو ایشیا کا چیمپئن بنا۔ 1964 میں پاکستان جاپان گیا تو اولمپک فائنل کھیلا۔ 2026 میں پاکستان جاپان جا رہا ہے تو صورتحال مختلف ہے۔ قومی ٹیم عالمی رینکنگ میں تیرہویں نمبر پر ہے اور اسے ایشیا میں اپنی پرانی برتری دوبارہ ثابت کرنا ہوگی۔ پاکستان کی موجودہ عالمی حیثیت اس کے ماضی سے بہت مختلف ہے، لیکن تاریخ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ 2026 کے ایشین گیمز میں پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ٹیم صرف میڈل جیتے گی یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان دوبارہ ایشیا کی مستقل طاقت بننے کی بنیاد رکھ سکتا ہے؟ اگر پاکستان صرف ایک ٹورنامنٹ جیت بھی لیتا ہے لیکن اس کے بعد دوبارہ عالمی مقابلوں میں کمزور پڑ جاتا ہے تو یہ مستقل بحالی نہیں ہوگی۔ پاکستان کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں قومی ٹیم کو مسلسل بین الاقوامی مقابلے ملیں، نوجوان کھلاڑیوں کو باقاعدہ راستہ ملے، کوچنگ کا تسلسل ہو، جدید فٹنس اور کھیل کی سائنس شامل ہو اور ملکی سطح پر باقاعدہ مسابقتی ڈھانچہ موجود ہو۔
ایشین گیمز پاکستان کے لیے اولمپک راستے کے حوالے سے بھی اہم ہیں۔ ایشین ہاکی فیڈریشن نے ایشین گیمز کو اولمپک کوالیفائنگ مقابلے کے طور پر واضح کیا ہے۔ اس لیے 2026 میں جاپان جانے والی پاکستانی ٹیم پر ماضی کی یادوں کے ساتھ مستقبل کا دباو¿ بھی ہوگا۔ یہ وہی جاپان ہے جہاں پاکستان نے 1958 میں ایشیا پر حکمرانی شروع کی تھی۔ یہ وہی جاپان ہے جہاں 1964 میں پاکستان اولمپک فائنل تک پہنچا تھا۔ اور اب یہی جاپان پاکستان سے یہ سوال کر رہا ہے کیا ماضی کا عالمی ہاکی دیو دوبارہ کھڑا ہو سکتا ہے؟
پاکستان ہاکی کی جاپان میں کہانی کو اگر چند تاریخوں میں سمیٹا جائے تو تصویر واضح ہو جاتی ہے: *1958:* ٹوکیو، ایشین گیمز کا پہلا ہاکی طلائی تمغہ پاکستان کے نام۔ *1964:* ٹوکیو اولمپکس، پاکستان چاندی کا تمغہ جیتتا ہے۔ *2010:* گوانگڑو، پاکستان آخری مرتبہ ایشین گیمز ہاکی کا چیمپئن بنتا ہے۔ *2020:* ٹوکیو اولمپکس، پاکستان کوالیفائی نہیں کر پاتا۔*2026:* جاپان، پاکستان ایک مرتبہ پھر ایشین گیمز میں، اس بار کھوئی ہوئی ایشیائی حیثیت اور اولمپک راستہ حاصل کرنے کے دباو¿ کے ساتھ۔ یہ صرف ہاکی کی تاریخ نہیں۔ یہ پاکستان کے ایک کھیل کے *عروج، زوال اور ممکنہ واپسی* کی داستان ہے۔اور شاید 2026 کا جاپان اس داستان کا اگلا اہم باب لکھنے والا ہے۔
#PakistanHockey #PHF #FIH #AsianGames2026 #AichiNagoya2026 #Hockey #GreenShirts #PakistanSports #Tokyo1964 #Tokyo1958 #OlympicHockey #AsianHockey #HockeyHistory #OlympicQualification #PakistanSportsHistory |