سرکاری ریکارڈ میں کمپیوٹر موجود، گراونڈ پر غائب!
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
سرکاری دفاتر میں بعض اوقات فائلیں اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ ان چیزوں کی موجودگی بھی ثابت کر دیتی ہیں جو گراو¿نڈ پر نظر نہیں آتیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل اسپورٹس خیبر پختونخوا کے کمپیوٹرز کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے، جہاں سرکاری ریکارڈ ایک کہانی بیان کرتا ہے، جبکہ موقع پر موجود صورتحال اس کہانی سے کچھ مختلف سوالات اٹھاتی ہے۔دستیاب سرکاری آر ٹی آئی ریکارڈ کے مطابق 2018-19 میں ڈائریکٹوریٹ جنرل اسپورٹس نے اے ڈی پی اسکیم نمبر 1118/170048 کے تحت دس ڈیل ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر خریدے تھے۔ 25 اکتوبر 2022 کو جاری کیے گئے آر ٹی آئی جواب میں فی کمپیوٹر قیمت ایک لاکھ اٹھاون ہزار دو سو چالیس روپے، ٹیکس سمیت، درج کی گئی۔ یوں دس کمپیوٹرز کی مجموعی مالیت تقریباً پندرہ لاکھ بیاسی ہزار روپے بنتی ہے۔دستاویز میں سپلائر کے طور پر میسرز پاک خیبر ٹریڈرز کا نام بھی درج ہے۔
اب اصل سوال 2018-19 کی خریداری نہیں بلکہ ان کمپیوٹرز کی موجودہ صورتحال ہے۔چھ جولائی 2026 کو ڈائریکٹوریٹ جنرل اسپورٹس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تازہ آر ٹی آئی جواب میں تمام متعلقہ دفاتر میں مجموعی طور پر سات ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز موجود ہونے کی اطلاع دی گئی۔یعنی آٹھ سال پہلے دس کمپیوٹر خریدے گئے تھے، جبکہ اب سرکاری ریکارڈ میں سات کمپیوٹر موجود ہیں۔باقی تین کہاں گئے؟ یہ سوال بظاہر بہت سادہ ہے، مگر سرکاری اثاثہ جات کے نظام میں اس کا جواب انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ اگر کوئی سرکاری کمپیوٹر خراب ہو گیا ہو، ناکارہ قرار دیا گیا ہو، کسی دوسرے دفتر منتقل کیا گیا ہو، نیلام کیا گیا ہو یا کسی اور طریقے سے اسٹاک سے خارج کیا گیا ہو تو اس کا باقاعدہ ریکارڈ ہونا چاہیے۔
سرکاری کمپیوٹر کوئی عام چیز نہیں کہ صبح دفتر میں رکھا گیا، شام کو کسی اور جگہ پہنچ گیا اور اگلے دن سب نے پوچھنا بھی چھوڑ دیا۔ اس کا خریداری ریکارڈ ہوتا ہے، اسٹاک رجسٹر ہوتا ہے، اثاثہ نمبر ہوتا ہے، سیریل نمبر ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داری کسی نہ کسی افسر یا اہلکار کے پاس ہوتی ہے۔ یہاں معاملہ اس وقت مزید دلچسپ ہو جاتا ہے جب سرکاری ریکارڈ کو گراونڈ پر موجود صورتحال سے ملانے کی کوشش کی جائے۔ دستیاب معلومات کے مطابق بعض ایسے مقامات پر، جہاں سرکاری جواب میں کمپیوٹرز کی موجودگی اور استعمال کی نشاندہی کی گئی، موقع پر ان کمپیوٹرز کی موجودگی کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ خصوصاً اسپورٹس ہاسٹل کے حوالے سے سرکاری ریکارڈ میں کمپیوٹر کی موجودگی بتائی گئی، تاہم موقع پر ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر دستیاب نہیں ملا۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اگر کمپیوٹر کسی دوسرے کمرے، اسٹور یا دفتر میں منتقل کیا گیا ہے تو یہ بذات خود کوئی جرم نہیں۔ سرکاری اثاثے ضرورت کے مطابق منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن ایسی صورت میں منتقلی کا ریکارڈ بھی ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر کمپیوٹر ناکارہ ہوگیا ہے تو اسے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت ناکارہ قرار دینے اور اسٹاک سے خارج کرنے کا ریکارڈ ہونا چاہیے۔ لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ کمپیوٹر خراب کیوں ہوا یا کہاں منتقل ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کا سرکاری ریکارڈ کیا کہتا ہے؟ اگر ریکارڈ مکمل ہے تو معاملہ آسانی سے واضح ہوسکتا ہے۔
اگر ریکارڈ موجود نہیں تو پھر سوال صرف کمپیوٹر کا نہیں بلکہ پورے اثاثہ انتظامی نظام کا ہے۔اور یہاں سرکاری ریکارڈ اور گراونڈ کی صورتحال کے درمیان فرق خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ کیونکہ سرکاری اداروں میں اثاثہ رجسٹر محض کاغذی کارروائی نہیں ہوتا۔ یہ عوامی پیسے سے خریدی گئی اشیا کی ملکیت، موجودگی اور ذمہ داری کا بنیادی ریکارڈ ہوتا ہے۔ ایک لاکھ اٹھاون ہزار روپے کا کمپیوٹر بھی سرکاری اثاثہ ہے اور کروڑوں روپے کی سرکاری گاڑی بھی۔ دونوں کے بارے میں ادارے کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کہاں ہیں، کس کے پاس ہیں اور کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
اسی معاملے میں پشاور اسپورٹس کمپلیکس کے سی سی ٹی وی نظام کا ذکر بھی سامنے آتا ہے۔ سرکاری جواب کے مطابق وہاں اکسٹھ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے، جن پر تقریباً تیس لاکھ روپے خرچ ہوئے جبکہ مزید ایک لاکھ دس ہزار روپے مرمت کی مد میں خرچ ہونے کا ذکر بھی موجود ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے بعض لیپ ٹاپس کے سی سی ٹی وی نظام کے لیے استعمال ہونے کی بات بھی سامنے آتی ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک بنیادی بات واضح رہنی چاہیے۔سی سی ٹی وی کے لیے استعمال ہونے والا لیپ ٹاپ، 2018-19 میں خریدے گئے ڈیل ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کا متبادل جواب نہیں ہوسکتا۔دونوں الگ اثاثے ہیں۔
لہٰذا اصل سوال پھر وہی برقرار ہے کہ 2018-19 میں خریدے گئے دس ڈیل کمپیوٹرز کے سیریل نمبرز کیا تھے، ان کے اثاثہ نمبر کیا ہیں، انہیں کن دفاتر یا اہلکاروں کے حوالے کیا گیا اور آج ان میں سے کتنے کمپیوٹر کہاں موجود ہیں؟اگر تین کمپیوٹرز اب ادارے کے پاس نہیں ہیں تو ان کی مکمل دستاویزی تاریخ بھی سامنے آنی چاہیے۔یہاں ایک اور دلچسپ پہلو بھی ہے۔ اگر 2026 کے سرکاری جواب میں پورے ڈائریکٹوریٹ کے پاس سات ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر موجود ہیں تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ سات کمپیوٹر وہی ہیں جو 2018-19 میں خریدے گئے دس کمپیوٹرز میں سے باقی بچے ہیں، یا بعد میں مزید کمپیوٹر خریدے گئے اور موجودہ تعداد میں انہیں بھی شامل کیا گیا۔اگر بعد میں مزید کمپیوٹر خریدے گئے ہیں تو ان کی خریداری کی تفصیلات کیا ہیں؟اور اگر سات ہی وہ کمپیوٹر ہیں جو پرانی خریداری سے باقی بچے ہیں تو تین کی کمی کی وجہ کیا ہے؟
یہ وضاحت صرف ایک صحافتی سوال نہیں بلکہ مالی اور انتظامی ریکارڈ کی بنیادی ضرورت ہے۔ کیونکہ عوامی پیسے سے خریدی گئی ہر چیز کا حساب عوام کے سامنے واضح ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں ڈائریکٹوریٹ جنرل اسپورٹس اگر مکمل وضاحت دینا چاہے تو اسے صرف ایک تحریری بیان جاری کرنے کی ضرورت نہیں۔ دس کمپیوٹرز کا خریداری حکم نامہ، ادائیگی کا ریکارڈ، ڈیلیوری چالان، اسٹاک رجسٹر، اثاثہ رجسٹر، کمپیوٹرز کے سیریل نمبرز، موجودہ مقام اور متعلقہ کسٹڈین کی تفصیلات سامنے رکھ دی جائیں۔ اگر کسی کمپیوٹر کو دوسرے دفتر منتقل کیا گیا تو منتقلی کا ریکارڈ سامنے آجائے۔ اگر ناکارہ قرار دیا گیا تو کنڈیمیشن کا ریکارڈ سامنے آجائے۔ اگر نیلام کیا گیا تو نیلامی کی دستاویزات سامنے آجائیں۔ یوں معاملہ چند منٹ میں واضح ہوسکتا ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب کاغذ کہتا ہو کہ چیز موجود ہے، لیکن موقع پر اس کی موجودگی ثابت نہ ہو سکے۔
یہ صورتحال کسی حتمی نتیجے کی بنیاد ضرور نہیں بنتی، مگر سوال ضرور پیدا کرتی ہے۔ اور صحافت کا کام بھی یہی ہے کہ جہاں سرکاری اعداد و شمار آپس میں سوال پیدا کریں، وہاں سوال پوچھا جائے۔ آخر میں بات صرف تین کمپیوٹرز کی نہیں۔ بات اس نظام کی ہے جس میں سرکاری اثاثے خریدنے کے بعد ان کا مکمل اور مسلسل حساب رکھا جاتا ہے یا نہیں۔ اگر دس کمپیوٹر خریدے گئے تھے تو دس کا حساب ہونا چاہیے۔ اگر سات باقی ہیں تو تین کا حساب بھی ہونا چاہیے۔ اور اگر ریکارڈ میں سات موجود ہیں تو گراونڈ پر بھی ان کی موجودگی قابل تصدیق ہونی چاہیے۔ ورنہ پھر عوام کے پاس ایک ہی سوال رہ جاتا ہے:
سرکاری ریکارڈ میں موجود کمپیوٹر آخر سرکاری دفتر میں کہاں موجود ہیں؟ شاید اس سوال کا جواب کسی نئی فائل میں ہو۔ شاید کسی اسٹاک رجسٹر میں۔ شاید کسی پرانے دفتر کے اسٹور میں۔ اور اگر خوش قسمتی سے کمپیوٹر واقعی دفتر میں موجود ہوں تو بہتر ہے کہ انہیں بھی سامنے لایا جائے، تاکہ کم از کم اس بار فائل اور گراونڈ دونوں ایک ہی بات کہیں۔کیونکہ سرکاری اثاثے صرف رجسٹر میں موجود نہیں ہونے چاہئیں، انہیں حقیقت میں بھی موجود ہونا چاہیے۔
#SportsDepartment #KhyberPakhtunkhwa #RTI #GovernmentAssets #AssetManagement #PublicAccountability #Transparency #GovernmentRecords #PhysicalVerification #Peshawar #InvestigativeJournalism #PublicFunds #GoodGovernance #KP #SportsDepartment
|