قرآں حکیم سے عربی زبان کی فرضیت

تحریر : عابد قائم خانی

[اَ عُوْ ذُ بِرَ بِّ النَّا سِ ہمَلِکِ النَّا سِ ہ اِ لٰہِ النَّا سِ ہ مِنْ شَرِّ الْوَ سْوَا سِ الْخَنَّا سِ ہ الَّذِیْ یُوَ سْوِ سُ فِیْ صُدُوْ رِ النَّا سِ ہ مِنَ الْجِنّۃِ وَ النَّا سِ ہ ](۱۱۶: سُوْ رَ ۃُ ا لنَّا س)
[ترجمہ: میں انسانوں کے رب، انسانوں کے بادشاہ ، انسانوں کے معبود کی تعویذ( یعنی پناہ) میں آتا ہوں۔وسوسہ ڈال کر پیچھے ہٹ جانے والے (خناسی) شر سیجو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے. وہ جن ( یعنی چھپے ہوئے)اور ناس( یعنی مانوس انسانوں) میں سے ہیں]

پیش الفاظ :

عربی زبان کے بارے میں لکھنے کا خیال سب سے پہلے اُس وقت آیا جب میں نے پہلی بار اپنے اُستادمحترم جناب علامہ الیاس ستارحفظہ اللہ تعالیٰ سے یہ سُنا کہ ’’اللہ تعالیٰ گرامر میں غلطی نہیں کرسکتا ہے ۔‘‘ اور قرآن عربی زبان کی گرامر میں نازل ہوا ہے اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ بہت سے تعلیم یافتہ اشخاص اور علماء کرام بغیر عربی زبان کو جانے صرف تراجم اور قاموسDictionary/کے سہارے قرآن حکیم کی غلط تشریحات کررہے ہیں جو عربی لسان اور اسکی گرامر کے سراسر برخلاف ہیں کیونکہ کچھ لوگ قرآن کی تشریح حدیث اور فقہ کی بُنیاد پرکرتے ہیں اور کچھ لوگ عقل اوراپنی خواہشات پر بُنیاد کرتے ہیں۔ عربی زبان اور اُسکی گرامر اُن دونوں کیلئے حجت نہیں ہیں جس کی وجہ سے ایک اللہ اور ایک قرآن کی حامل ’’اُمۃ مسلمۃ‘‘ تفرقے کے نا ختم ہونے والے سلسلے کا شکار ہے اوراس کا واحد حل صرف عربی لسان و گرامر سے مکمل واقفیت ہے۔ قرآن حکیم سے عربی لسان کی فرضیت پر دنیائے عرب و اسلام کے کئی ممتاز علماء کرام متفق ہیں جس میں سب سے بڑا نام فقہ شافعی کے امام شافعیؒ کاہے۔ اُردو میں یہ پہلا مضمون ہے جو عربی زبان کی فرضیت کے سلسلے میں لکھا گیا ہے کیونکہ رب العالمین کا ارشاد ہے کہ[ ا تَّبِعُوْ ا مَنْ لَّا یَسْءَلُکُمْ اَ جْرً ا وَّ ھُمْ مُّھْتَدُ وْ نَ ہ (۳۶: یاسین:۲۱) ایسے لوگوں کی اتباع کرؤ جو تم سے کسی اجر کے سوالی نہیں اور وہ ہدایت پر ہوں ۔ ]اور بغیر علم عربی کے کوئی کیسے صحیح ہدایت دے سکتا ہے ؟ وہ تو خود محتاجِ ہدایت ہے اسی لئے اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے کہ[ وَ مِنَ النَّا سِ مَنْ یُّجَا دِلُ فِیْ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍٍ وَّ یَتَّبِعُ کُلَّ شَیْطٰنٍٍ مَّرِیْدٍٍ ہ(۲۲:حج:۳) بعض لوگ اللہ (کے کلام ) میں جدال کرتے ہیں اور وہ بھی بغیرعلم کے اوروہ ہر سرکش شیطان کی اتباع کرتے ہیں۔] کیونکہ قرآن فہمی کا زیادہ تر دار ومدار عربی لسان و قواعد پر ہوتا ہے جس کی طرف بہت سے لوگوں نے اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ ان کی آنکھیں کھولنے کیلئے میں قرآنی آیات کے ساتھ ساتھ عقلی اور سائنسی دلائل بھی عربی کی فرضیت کے سلسلے میں پیش کررہا ہوں تاکہ جو لوگ صرف عربی زبان کا احترام کرتے ہیں وہ خود بھی عربی سیکھیں اور اپنے بچوں کو بھی بچپن سے عربی زبان سکھائیں اور اس کی فرضیت کے بارے میں لوگوں کو بھی تبلیغ کریں تاکہ دین کے ٹھیکیدار چند لوگ ہی نہ بنیں کیونکہ الٰہی فرمان کے مطابق اللہ کی واحد لاریب کتاب’’ القرآن‘‘ کا سیکھنا ہر مسلم پر فرض ہے ۔

(1) قرآن عربی زبان میں ہے:

جیسے کہ قرآن میں لکھا ہے ۔ [اِنَّا اَنْزَلْنَاہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ہ (۱۲:یوسف :۲) ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم عقل حاصل کرسکو ۔]
[نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ ہ عَلَی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذرِیْنَ ہ بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ ہ(۲۶:شعراء :۱۹۵) اس (اللہ ) نے اس (قرآن) کے ساتھ روح الامین کو نازل کیا، آپ (محمدرسول اللہ) کے قلب پر تاکہ آپ لوگوں کو نصیحت کرتے رہو۔ بیان کرنے والی (واضح) عربی زبان کے ساتھ۔ ] [ھٰذَا لِسَا نُٗ عَرَبِیُّٗ مُّبِیْنُٗ ہ(۱۶:نحل:۱۰۳) یہ (قرآن تو) صاف عربی زبان میں ہے۔] اللہ کی آخری کتاب القرآن عربی زبان میں نازل ہوئی ہے اس لئے اب ایک سچے مسلم کے نزدیک سوائے عربی کے کوئی دوسری زبان اس کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کی حامل کبھی نہیں بن سکتی ہے لہٰذا عربی کا سیکھنا بھی ہر مسلم پر فرض ہوجاتا ہے تاکہ پتا چلے کہ کون قرآن کی زبان کو اہمیت دیتا ہے اور کون نہیں ۔ عربی لسان سے واقف شخص کی بانسبت ناواقف شخص غلط فہمی اور فرقے واریت کا جلد شکار ہوجاتاہے کیونکہ عربی زبان قرآن کی روح ہے اور بغیر روح کے ہر جسد مردہ ہوتا ہے !!!

(2) قرآنی ترجمیں انسانی تقلید ہیں:

جب کسی شخص کو قرآن سے اس کے عقائد اور ترجمے کی غلطیاں بتائی جاتی ہے تو ان کے جواب بالکل ایسا ہی ہوتے ہیں [قَالُوْا بَلْ نَتَّبَعُ مَا اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ آبَاءَ نَا اَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُھُمْ لاَ یَعْقِلُونَ شَیْئاً وَلاَ یَھْتَدُوْنَ ہ (۲:بقرہ:۱۷۰)تو کہتے ہیں کہ (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے ابا اجداد کو چلتے پایا بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل استعمال کرتے ہوں اور نہ ہدایت پر ہوں۔ ] ترجمے چونکہ ا لٰہی تقلید نہیں بلکہ مکمل انسانی تقلید ہے اور اندھی انسانی تقلید اللہ اس آیت میں منع فرما رہے ہیں ہے اور عربی زبان مسلمین کو اندھی انسانی تقلید سے بچاتی ہے۔ عربی سے ناواقفی اور تراجم کی وجہ سے بھی فرقہ واریت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اللہ فرماتا ہے: ’’مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَکَانُوْا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ ہ‘‘ (۳۰:روم:۳۲) ’’ ان لوگوں میں (نہ ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو فرقے فرقے کردیا اور شیعہ (یعنی جماعت) بن گئے ہر فرقہ اسی میں خوش ہے جو ان کے پاس ہے۔‘‘ کیونکہ ہر فرقے کے قرآنی ترجمے، تشریح اور تاویل ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اس لئے کہ عوام کے ساتھ علماء نے بھی پچھلے ادیان میں تحریف کے مفہوم کو صحیح طور پر نہیں سمجھا۔ تحریف حرف الہامی صرف کو بدلنا ہی نہیں ہوتی بلکہ معنوی تحریف یعنی آیا ت کے حرف کی من مانی تفسیر کرکے آیات کے حروف کے معنی کو بدلنے کو بھی تحریف کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں بھی بہت سے علماء نے تراجم کے ذریعے ’’کتاب الفرقان‘‘ میں بھی پچھلے ادیان کے علماء کی طرح معنوی تحریف کرلی ہے کیونکہ لفظی تحریف کبھی بھی پکڑ میں آجاتی ہے لیکن معنوی تحریف ہر زمانے میں کامیاب رہی ہے۔ کیا اب بھی ہم عربی لسان کو سیکھنے کی کوشش کے بجائے انسانی زہن سے لکھے ہوئے اچھے ترجمہ شدہ قرآن پڑھیں گے؟؟؟

(3) قرآنی احکام صرف عربی زبان میں ہے:

قرآن مجید کے اس وقت اُردو میں (162) ترجمے، ترکی میں (۵۰)، فارسی میں (۵۷)، انگریزی میں(۴۲) ، بنگالی میں (۳۳)، پنجابی میں (۱۴)، سندھی میں (۱۳)، پشتو میں (۱۱) اور اِسپرانتو میں (۳) ترجمے ہیں۔ یاد رہے کہ ہر مترجم انسان ہوتا ہے اور کسی بھی لسان میں ایک سے زیادہ تراجم اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ہر مترجم نے اپنے سے پہلے ترجمے کو اپنے عقائد اور عقل کے لحاظ سے ناقص سمجھا ہوگا اسی لئے ہر روز ایک نئے فرقے کے ساتھ ایک نیا ترجمہ والا قرآن بازار میں آجاتا ہے۔ یہ سلسلہ دنیا کی ہر زبان میں جاری و ساری ہے۔ لیکن کوئی بھی بہترین ترجمہ قرآن حکیم کا نعم البدل نہیں بن سکا ۔ اگر آپ ترجموں کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو آپ قرآن مجید کا عربی متن کا ترجمہ چار پانچ مترجمین سے لیجئے۔ آپ کو بہت کچھ مختلف ملے گا، سب صحیح ہوں گے مگر ان میں فرق ہوگا مثال کے طور پر انگریزی اور اردو کے نو مختلف ترجموں میں سورۃ فاتحہ کی آیت ’’مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن‘‘ دیکھیں:

(1) Lord of day of Judgement. (2) Owner of the day of Judgement. (3) Master of the day of Judgement. (4) Master of day of Dome. (5) Ruler on day of repayment. (6) Sovereign of the Day of Recompense. (7) King of day of Reckoning. (8) The King of Judgement day. (9)The only owner (and only Ruling Judge) of the day of Recompense(i.e. the Day of Resurrection)

(ا) یوم الدین کا مالک (۲) بدلے کے دن مالک (۳) مالک ہے یوم حساب کا (۴) فیصلے کے دن کا بادشاہ (۵) قانون کے دن کا مالک (۶) جو سردار ہے روز جزا کا (۷) دینی امور کے وقت کا حاکم (۸) انصاف کے دن کا آقا (۹) یوم انصاف (یعنی قیامت کادن) کا حاکم ۔ وغیرہ وغیرہ انگریزی ا ور اُردو کے ان دونوں تراجم میں سے اگر کسی مترجم نے کسی بھی آیت کو سمجھنے میں کوئی بھی غلطی کردی ہے تو کیا ہم اللہ کی بات صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں؟ تراجم کی بنیاد پر فرقہ وارانہ فسادات بھی ہوتے ہیں اور کفر کے فتوے بھی صادر ہوتے ہیں اور کئی ممالک میں بعض تراجم پر پابندی بھی لگی ہے۔ تو کئی ترجموں پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی مل جاتی ہے۔ لیکن کوئی بھی ترجمہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے الفاظ کی جگہ نہیں لے سکتا! [وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنَاہُ حُکْماً عَرَبِیّاً ہ(۱۳:رعد:۳۷) اور ہم نے اس (قرآن) کو عربی (لسان) کا حکم بنا کر نازل کیا ہے ۔]یعنی اللہ کے تمام احکام صرف عربی زبان میں ہیں اسی لئے پوری دنیا میں ترجمے والے قرآن کے بجائے صرف عربی والا ’’قرآنِ نور‘‘ہی حفظ ہوتا ہے کیونکہ یہ قرآن نہیں بلکہ قرآن کا وہ مفہوم ہے جو انسان سمجھتا ہے جس میں خطا کا امکان ہے ۔ قرآن صرف عربی کا وہ متن ہے جو محمد رسول اللہؐ پر نازل ہواہے۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ[لَا تُشْرِِکُوْا بِہِ شَیْءًا ہ(۴: نساء: ۳۶) اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔] تو اللہ کے کلام کی زبان کے ساتھ زبردستی کسی دوسری زبان کو شریک کرنا بھی کیاکوئی پسندیدہ عمل ہے؟؟؟

(4) ۱۱۰۰سال کے بعد قرآنی ترجمے:

قرآن حکیم محمد رسول اللہ پر نازل ہوا۔ رسول اللہ نے یہ قرآن عربوں کے ساتھ ساتھ غیر عربوں تک بھی پہنچایا ۔ لیکن اس مبارک زمانے میں کسی بھی زبان میں قرآن مجید کا مکمل ترجمہ نہیں کرایا گیااور نہ ہی چاروں خلفاءِ راشدین کے زمانے میں قرآن حکیم کا ترجمہ ہوا۔حتیٰ کہ محدثین کے زمانے میں بھی کسی ترجمے کی کوئی تاریخ نہیں ہے جبکہ اکثر محدثین مثلاً امام بخاری،مسلم،نسائی،ترمذی وغیرہ سب تعلیم یافتہ غیر عرب تھے۔ قرآن حکیم کے ترجمے کی ابتداء سب سے پہلے غیر مسلم یورپی اسکالرز کی طرف سے ہوئی۱۱۴۳ء ؁ میں میں لاطینی زبان میں اور۱۵۴۷ء ؁ میں اطالوی میں،۱۶۱۶ء ؁ میں جرمن میں،۱۶۴۷ء ؁ میں فرانچ میں اور ۱۶۴۹ء ؁ میں انگریزی میں قرآن کے ترجمے ہوئے۔ تاریخ میں سب سے پہلے مسلمانوں کی طرف سے قرآن کے ترجمہ کا ذکر ۸۸۳ ؁ ہجری میں الوار (سندھ) میں ایک ہندو راجہ مہروک کی درخوراست پرعبداللہ بن عُمر بن عبدالعزیزنے قرآن کا سندھی ترجمہ کرایا۔لیکن آج یہ ترجمہ کہیں دستیاب نہیں۔ ہوسکتا ہے ترجمہ کی یہ کہانی جھوٹی ہو۔مسلمانوں کی طرف سے پہلا مستند ترجمہ ہندوستان میں فارسی زبان میں شاہ ولی اللہ صاحب نے(۱۷۰۳ء ؁ تا ۱۷۶۲ء ؁) میں کیا۔ جب پچاس سے زیادہ ترجمے غیر مسلم اسکالرز اپنی اپنی زبانوں میں کرچکے تھے۔ترجمہ کرنے پر اُس زمانے میں عام مسلمین اور علماء کرام کی طرف سے اُنکی زبرداست مخالفت کی گئی لیکن آج یہ کام فیشن بن گیا ہے ۔قرآن کے تراجم ایک ایسی خوفناک بدعت ثابت ہوئے ہیں جس کی وجہ سے لوگ اصل عربی قرآن سے بہت دور ہو گئے ہیں بلکہ عربی کی فرضیت کے بھی مُنکر بن گئے ہیں۔ اگرشروع کے زمانے میں عربی زبان سیکھنا فرض نہیں تھی تو کس وجہ سے اور کیو ں قرآن کے ترجمے اتنی دیر سے ہوئے؟ گیارہ سو سال کے بعد مسلمانوں میں قرآن کے مکمل تراجم کا آغاز کیا اس بات کو ثابت نہیں کرتا ہے کہ شروع کے مسلمانوں کے نزدیک عربی سیکھنا فرض تھی جس کی وجہ سے اُن کو ترجمے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔

(5) ہر زبان کا مختلف احساسِ بیان:

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ زبان (لغۃ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک الٰہی عطیہ ہے۔ [وَمِنْ آیَاتِہِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ اِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّلْعَالِمِیْنَ ہ(۳۰: روم:۲۲)اور اسی کی آیات میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا خلق کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا، اہلِ عالم کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) آیات (یعنی نشانیاں) ہیں۔ ] یعنی ہر زبان اللہ کی آیت ہے اور تمام زبانیں اللہ نے خلق کی ہیں۔ ’’زبان‘‘ جو بڑی اہمیت رکھتی ہے یہ وہ خاص صفت ہے جو انسان کو دوسرے زندہ عالم سے نمایاں بھی کرتی ہے۔ آج انسان جس ترقی پر پہنچا ہے اس میں زبان اور کتاب کا ایک بڑا حصہ ہے۔ ترقی انسانی میں زبان انسان کی ایسی حاجت اور ضرورت ہے کہ کوئی اور حاجت اس کے برابر نہیں زبان کی مختصر ترین تعریف بھی یہ ہے کہ زبان ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے ایک انسان دوسرے انسان سے ہمکلام ہوکر اپنے جذبات و احساسات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس لئے جو شخص کسی زبان میں بات کرتا ہے، اس کے ذریعے سوچتا ہے۔ یہ زبان انکے اندر اس زبان کی ایک روحانی اور اجتماعی احساس و محبت کے جذبہ کو پیدا کردیتی ہے اور اس زبان کے الفاظ و جملے، خوشی، غمی، سکون اور بے قراری کی حالت میں ان کے دلوں کی عکاسی کرتی ہے۔[وَکَذَلِکَ اَنْزَلْنَاہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً وَصَرَّفْنَا فِیْہِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَھُمْ ذِکْراً ہ(۲۰:طٰہٰ:۱۱۳) اور ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح کے ڈراوے بیان کردیئے ہیں تاکہ لوگ پرہیز گار بنیں یا اللہ ان کیلئے نصیحت پیدا کردے۔] جس طرح اللہ نے تمام زبانیں خلق کی ہیں اسی طرح ہر لسان کے ساتھ کچھ احساسات وجذبات بھی پیدا کئے اسی لئے ہر زبان کے ہر لفظ کے ساتھ ایک مختلف ذائقہ، جذبہ اور ایک خوبصورتی چھپی ہوئی ہوتی ہے جو ترجمے سے بھی مکمل طور پر ادا نہیں ہوسکتی ہے مثلاً کوئی غنا (یعنی گانا) کسی بھی لسان میں سننے میں تو بہت خوبصورت لگتا ہے لیکن ترجمے کے بعد اس کی تمام اصل خوبصورتی و رعنائی ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح کوئی لطیفہ اور کوئی اچھی خوفناک کہانی ترجمہ کے بعد وہ پہلا والا اثر نہیں رکھتی۔ اسی طرح قرآن مجید بھی ترجمے کے بعد اللہ تعالیٰ کے اندازِ کتابت کے وہ اندازِ جذبات و محسوسات کے وہ تاثرات نہیں دکھا سکتا جو اس کی اصل زبان عربی میں موجود ہے!!!

(6) شاعری ،نثر، نظم وغیرہ کا ترجمۃ نہیں ہوتا:

قرآن میں کل ایک سوچودہ (۱۱۴) سورتیں ہیں۔ ہر سورۃ ایک خاص ترتیب سے جوڑی ہوئی ہے۔ ہر سورۃ کی ہر آیت کا آخری لفظ ایک جیسی آواز کے حرفوں کا ہوتا ہے۔ مثلاً سورۃ الکوثر، العصر اور القدر کی ہر آیت کے آخر میں (ر) کا آنا، سورۃ الاخلاص میں (د) کا آنا، سورۃ الناس میں (س) کا آنا، سورۃ الفیل میں (ل) کا آنا اور سورۃ الشمس میں (الف) کا آنا کوئی اتفاق نہیں جیسے قرآن میں ہے : [وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْالَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْآنُ جُمْلَۃً وَاحِدَۃً کَذَلِکَ لِنُثِّبتَ بِہِ فُوَادَکَ وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیْلاً ہ(۲۵:فرقان:۳۲)اور کافروں نے کہا کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتارا گیا؟ اس طرح (اس لئے اتارا گیا کہ ) اس سے تمہارے دل کو ہم ثابت رکھیں اور ہم اُس (القرآن) کو نہایت عمدہ ترتیب و نظم کے ساتھ پڑھتے رہیں۔] کیونکہ ’’الرَتَّلُ‘‘ کے معنی کسی چیز کا حسنِ تناسب اور حسن نظم کے مربوط و مراتب ہونا ہے۔ قرآن یوں تو نثر ہے، نظم نہیں،لیکن اس کے فقرے نظم کے اصول کے مطابق متوازن اجراء میں تقسیم ہے۔ کیونکہ یہ نہایت اعلیٰ درجے کی نثر ہے جو ہر انسانی تصنیف سے بہت بالاتر ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تمام عرب علماء کو مخاطب کرکے یہ دعویٰ کیا: [وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدنَا فَاْتُوا بِسُوْرَۃٍ مِِنْ مِّثْلِہِ وَادْعُوْا شُھَدَاءَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صاَدِقِیْنَ ہ(۲:بقرۃ:۲۳) اور اگر تم کو اس (کتاب) میں جو ہم نے اپنے بندے (محمد رسول اللہ) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی کی مثل ایک سورۃ تم بھی بنالاؤ اور پُکارو اپنے گواہوں کو اللہ کے سواء اگر تم سچے ہو ۔] قال تعالی: [اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلاَفاً کَثِیْراً ہ(۴:نساء:۸۲) بھلا یہ قرآن میں تدبر کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو اس میں کثیر اختلاف موجود ہوتا ہے۔]اسی لئے آج تک کوئی انسان بغیر تضاد کے قرآن جیسا فصیح و بلیغ کلام بنانے سے بالکل عاجز رہا ہے۔ قرآن مجید لسان کی ایسی صنف میں ہے جس کا ترجمہ نہیں ہوتا بلکہ صرف مفہوم نکالا جاتا ہے۔ قرآن کریم چونکہ عربی لسان کا بہترین نمونہ ہے تو اس کے الفاظ کا تلفظ، تعبیر اور اس کے معانی کے انتخاب کے لئے اشعار عربی بھی ایک معیار ہے۔ لوگ گوئٹے کے اشعار کو سمجھنے کے لئے جرمن سیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں بقول ان کے شاعری کا ترجمہ نہیں ہوسکتا مگر ایسے کلام جس کا متکلم اللہ خود ہو اس کے فصیح و بلیغ کلام کو سمجھنے کیلئے عربی سیکھنے کو ضروری نہیں سمجھنے والے ہماری سمجھ سے باہر ہیں !!!

(7) مکہ کی عربی زبان حجت ہے:

قرآن مجید عرب کی مشہور بستی اُمّ القریٰ میں نازل ہوا۔ [وَکَذَلِکَ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ قُرْآنً عَرَبِیّاً لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَھَا ہ(۴۲: شوریٰ:۷)اور اسی طرح آپ کے پاس یہ قرآنی عربی وحی کی تاکہ آپ اُم القریٰ (یعنی مکہ) کو اور جو اس کے اردگرد ہیں، ان کو راستہ دکھائیں۔] یہ قرآنی عربی اس وقت کے عرب معاشرے کی عین بول چال کے مطابق تھی۔ جیسے ارشاد ہوا: [فَوَرَبِّ السَّمَاء وَالْاَرْض اِنَّہُ لَحَقُّ‘ مِّثْلَ مَا اَنَّکُمْ تَنْطِقُوْنَ ہ(۵۱: الذاریات:۲۳)پس آسمان اور زمین کے مالک کی قسم! بیشک وہ (قرآن) برحق ہے (تمہاری زبان) کی مثل، جس طرح تم (آپس میں) بات چیت کرتے ہو۔] یعنی مکہ اور مدینہ کی عربی بھی ایک معیار ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا: [اَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلَّمُہُ بَشَرُ‘ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ اَعْجَمِیُّ‘ وَھَذَا لِسَانُ‘ عَرَبِیُّ‘ مُّبِیْنَ ہ(۱۶:نحل:۱۰۳)وہ کہتے ہیں ہیں کہ کیا وہ اس بشر کو تعلیم دیتا ہے؟ جس کی زبان وہ ٹیڑھاپن اختیار کرتے ہوئے اشارہ سے ا عجمی (یعنی غیر عربی) بیان کرتے ہیں اور یہ صاف عربی زبان ہے۔] یعنی بعض عربوں کے نزدیک غیرعرب کو عربی نہیں سکھانا چاہیے کیونکہ یہ دوسری زبانوں کی نسبت مبین (یعنی واضح اور مکمل) زبان ہے جس کو کوئی اعجمی لسان کا فرد آسانی سے نہیں سیکھ سکتا اور قرآنی عربی وہاں کی مرکزی شہروں میں استعمال ہونے والی واضح علمی زبان میں ہے کیونکہ دیہاتی زبان کو عربی میں لسانِ مبین نہیں کہا جاتا اس لئے کہ دیہاتی زبان میں شستگی کے بجائے اکھڑپن پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے کافر قوم پرست عربوں نے یہ اعتراض کیا کہ رسول ؐ ان غیر عربوں کو اس لسان عربی مبین کی تعلیم دیتا ہے جو عربوں کو بھی مشکل سے سمجھ میں آتی ہے، آج بھی عربوں کو کوئی قرآن کی صحیح بات بتائے تو اکثر اسی طرح گھمنڈیا انداز میں کہتے ہیں کہ تم اعجمی ہم عربوں کو قرآن سکھاؤ گے؟ اور بعض غیر عربی لوگ کسی بات کو نہ سمجھنے کے لئے ’’زبان‘‘ کو مسئلہ بناتے ہیں جبکہ اللہ فرماتا ہے: [وَ لَوْ نَذَّ لْنٰہُ عَلٰی بَعْضِ الْاَ عْجَمِیْنَ ہ فَقَرَ اَ ہٗ عَلَیْہِمْ مَّا کَا نُوْ ا بِہٖ مُءْو مِنِیْنَط ہ(۲۶: شعراء: ۱۹۸) اور اگر ہم اسے بعض اعجمیوں( یعنی غیر عربی زبانوں) پر نازل کردیتے، پھر وہ اسے ان کے سامنے پڑھتا( پھر بھی) وہ ایمان نہیں لاتے ۔]

(8) عالمگیر دین کی عالمگیر زبان :

[آمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلَی مُحَمَّد ہ(۴۷: محمد:۲)اے لوگوں ایمان لیکر آؤ جو ’’محمد‘‘ پر نازل ہوا۔] محمدؐ اللہ تعالیٰ کے وہ واحد رسول ہیں جو پوری دنیا کے لئے رسول بناکر بھیجے گئے جیسے اللہ فرماتا ہے: [قُلْ یَااَیُّھَاالنَّاسُ اِنِّی رَسُولُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعاً ہ (۷:اعراف:۱۵۸) (اے محمد!) کہہ دو! کہ تمام لوگوں کو، میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔] قرآن کے مطابق آپؐ سے قبل تمام رسولوں کو اللہ نے ایک خاص قوم کے لئے رسول بناکر بھیجا تھا۔ جیسے [قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ اِنِّیْ رَسُولُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ ہ (۶۱:صف:۶) عیسیٰ ابن مریم نے کہا کہ اے (قومِ) بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔] اور دنیا کے تمام قومی رسولوں نے عالمی رسول ’’محمدؐ‘‘ کے دنیا میں آنے کی پیشگوئی بھی کی تھی، اس عالمی رسولؐ کو اللہ فرماتا ہے: [وَکَذَلِکَ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ قُرْآناً عَرَبِیّاً لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَھَا (۴۲:الشوری:۷) اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم اُمُّ القری کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو راستہ دکھاؤ۔] اوررسول اللہ نے یہ پیغام عربی زبان میں پہنچایا تو عربی زبان کی حیثیت بھی عالمی ہوگئی اور دنیا میں جہاں جہاں عربی بولی جاتی تھی وہاں وہاں یہ پیغام حق عربی میں پہنچا اور اب دنیا کی ہر زبان میں یہ پیغام حق پہنچ رہا ہے۔ جس طرح آہستہ آہستہ اسلام پوری دنیا کا عالمی دین بنتا جارہا ہے اسی طرح عربی لسان بھی عالمی زبان بنتی جارہی ہے۔ حبِ اسلام کے تحت آج بھی اکثر مسلمین کی لغتِ ثانی عربی ہے اور ماضی میں بھی عربی زبان اور اس کے علوم کی خدمت کرنے والے مسلمان اہل علم زیادہ تر غیر عرب تھے۔ آج جس طرح اسلام ایک عالمی دین ہے اگرتمام مسلمین عربی کو صحیح معنوں میں پھیلانے اور اس کو ترقی دینے میں بھر پور کردار ادا کریں تو پوری دنیا میں عربی کے مقابل کوئی عالمی زبان نہیں رہے گی کیونکہ اگر دین اسلام اللہ کا عالمگیر دین ہے تو اس عالمی دین کی زبان بھی عالمی اور آفاقی ہوگی!!!

(9) عربی رسول اللہ کی ایک زندہ سنت:

محمد رسول اللہؐ عربی النسل تھے اسی لئے آپ رسول اللہؐ نے ساری عمر عربی میں بول چال فرمائی۔ عربی بولنا وہ واحد سنت ہے جس کا اقرار مسلمانوں کے تمام فرقے کرتے ہیں مگر عمل کم لوگ کرتے ہیں جبکہ لکھا ہے: [فَاِنَّمَا یَسَّرْنَاہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْن ہ(۴۴:دخان:۵۸)ہم نے اس (قرآن) کو آپ (محمد رسول اللہ) کی زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں۔ ‘‘ یعنی قرآن بہت آسان ہے لیکن محمدؐ کی زبان عربی میں اور اللہ فرماتا ہے: [لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃُ‘ حَسَنۃُ‘ ہ(۳۳: احزاب:۲۱)اس نے (محمد) رسول اللہ کی (طرزِ زندگی) تمہارے لئے بہترین نمونہ بنادی ہے۔] یعنی رسولؐ کا ہر عمل جیسے عربی اندازِ تکلم (ناکہ اُردو اندازِ تکلم)، عربی لباس (ناکہ شلوار قمیض)، عربی کھانا (ناکہ انڈین کھانا) اور عربی ثقافت (ناکہ صوبائی ثقافت) وغیرہ یعنی وہ تمام عمل جو رسولؐ نے اپنی زندگی میں کئے اور جو ہوئے وہ سب ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں اور ان کو اپنانا حبِ قرآن و رسولؐ کا تقاضہ بھی ہے۔ عربی سیکھنے سے قرآن بھی ہمارے لئے آسان ہوجاتا ہے۔ جیسے کہ اللہ فرماتا ہے: [وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ہ(۵۴:قمر:۱۷)اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے ۔] اس لئے زبانی طور پر شاعری میں اللہ اور رسولؐ سے محبت کرنے کے دعوے کے بجائے صحابہؓ اور تابعین ؒ کی طرح عملی طور پر محبت کو ثابت کرنا چاہئے۔ تمام جبلی وغیر جبلی سنتِ محمدی جو کردار اور گفتار پر مبنی ہو اس پر عمل کرنا اللہ کا حکم بھی ہے تو رسول اللہؐ نے جس طرح کی عربی زبان کا استعمال کیا ویسی ہی عربی انداز ہم کو بھی اپنانا چاہئے کیونکہ رسولؐ کا کوئی عمل بعدِ نبوت غلط نہیں ہوسکتا!!!

(10) دنیا کی پہلی عالمی زبان عربی:

اگر ہم خلقِ انسانی کے قرآنی فلسفے پر غور کریں تو لکھا ہے: [ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَجَعَلَ مِنْھَا زَوْجََہَا ہ(۷:اعراف:۱۸۹)وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں ایک نفس (یعنی انسان) سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا۔] یعنی روئے زمین پر جس قدر لوگ، قبائل اور قومیں رہتی ہیں اگر یہ سب ایک انسان کی اولاد ہیں تو ان اولین انسانوں کی پہلی زبان کونسی تھی؟ [وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلاَّ اُمَّۃ وَاحِدَۃ ہ(۱۰:یونس:۱۹) اور سب انسان پہلے ایک ہی امت تھے ۔] قرآن کے مطابق آدمؑ کو جو چیز دوسروں سے نمایاں کرتی تھی وہ زبان کا علم تھا، جس کی برتری نے آدمؑ کو خلافت تک پہنچایا جیسے اللہ فرماتا ہے: [وَعَلَّمَ آدَمَ الاَسْمَاء کُلَّھَا ہ(۲: البقرہ:۳۱)اور اس نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھائے۔] بنی نوع انسان کی پہلی زبان کے بارے میں تاریخ کی کتابیں اختلافات سے بھری ہوئی ہیں لیکن اگر ہم قرآن و بائبل میں ابتدائی دور یعنی آدمؑ تا نوح ؑ کے زمانے میں موجود ہستیوں، مقامات اور مصنوعی خداؤں کے اسمائے معرفہ پر غور کریں۔ تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ نے دنیا میں انسانوں کے لئے پہلی زبان عربی بنائی تھی۔ آدم (انسان، رہنے والا)، ہوآء ناکہ حوا ( اوپرسے نیچے گرنی والی)، حابل ناکہ ہابیل(رسی سے باندھنے والا عہد، ذمہ)، ( قابِل (قبول کرنے والا)، نوح (غم زدہ)، وَدّ (چاہت)، عدن (رہنا، بسنا) ، فرات (میٹھا پانی)، یغوث (جوفر یا درسی کرتا ہے)، نسر (گدھ)، شیطان (زیادتی کرنے والا)، ابلیس (ناامید) اور جبریل (الٰہ کا جبار) جیسے الفاظ خالص عربی زبان کے ہیں کیونکہ یہ عربی میں ایک خاص معنی رکھتے ہیں جن سے ان کی حیثیت، ہیت اور اسبابِ اسم پر روشنی پڑتی ہے کسی دوسری زبان میں یہ الفاظ اس طرح بمعنی نہیں ہیں۔ اسی طرح اللہ نے مکہ کو قرآن کریم میں بستیوں کی ماں ’’اُمَّ الْقُرَی‘‘ (۴۲:شوریٰ:۷) قراردیا یعنی روئے زمین پر سب سے اولین بستی اور بستیوں کا آغاز کرنے والی بستی اور کعبہ کو ’’اَوَّلَ بیتٍ‘‘ (۳: عمران:۹۶)’’پہلا گھر‘‘ اور ’’بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقٍ‘‘ (۲۲: حج:۲۹) ’’سب سے قدیم گھر‘‘قرار دیا۔ یعنی دنیا کی آبادی کا آغاز مکہ اور کعبہ کے علاقے سے ہوا اور وہاں کی زبان عربی ہے اسی لئے دنیا میں صرف عربی لسان کو ہی ’’اُمّ الالسنۃ‘‘ یعنی زبانوں کی ماں کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ یعنی یہ تمام باتیں ثابت کرتی ہیں کہ عربی ہی دنیا کی پہلی زبان تھی، دنیا کی دوسری زبانوں کی پیدائش عربی کے بعد ہوئی ہے اسی لئے عربی کے الفاظ دنیا کی ہر زبان میں ملتے ہیں جس کا اقرار تمام ماہر لسانیات بھی کرتے ہیں خاص طور پر مسلم قوموں کی زبانوں میں عربی زبان کے الفاظ کی تعداد پچاس فیصد سے لیکر اسی فیصد تک استعمال ہوتی ہے عربی کے کئی الفاظ مثلاً ’’کتاب، قلم‘‘ وغیرہ تو ہر مسلم زبان میں استعمال ہوتے ہیں اس لئے عربی لسان سیکھنا تمام انسانوں خصوصاً مسلمین کے لئے بہت آسان ہے۔ اللہ نے دنیا کی پہلی عالمی زبان عربی کو بنایا، کیا اب تمام انسانوں خاص طور پر مسلمین کا فریضہ نہیں کہ وہ بھی عربی لسان کو عالمی زبان بنائیں؟؟

(11) تمام مسلمین امت واحد ہے :

ابتداء میں تمام انسان ایک امت اور ایک زبان تھے۔ جیسے اللہ فرماتا ہے۔ [وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلاَّ اُمَّۃ وَاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا ہ(۱۰:یونس:۱۹)اور سب لوگ پہلے ایک ہی امت تھے پھر وہ مختلف ہوگئے۔] یعنی اللہ نے امتِ واحدہ میں سے مختلف امتیں بناکر انہیں جدا جدا کیا۔ [لِکُلِّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَمِنْھَا جاً وَلَوْشَاء اللّٰہُ لْجَعَلَکُمْ اُمَّۃً ہ(۴:مائدہ:۴۸)ہم نے تم میں سے ہر ایک (اُمت) کے لئے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر اللہ نے چاہا تو سب کو ایک امت بنادیگا۔] یعنی ہرُ امت کے مختلف طور طریقے الٰہی ہیں امتِ واحدہ کیوں مختلف ہوئی؟ کا جواب اللہ نے ایسے دیا : [یَا اَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّن ذَکَرٍ وَاُنْثَی وَجَعَلْنَا کُمْ شُعُوباً وَقَبَاءِلَ لِتَعَارَفُوْا ہ (۴۹:الحجرات:۱۳)اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مذکر اور ایک مونث سے خلق کیا ہے ’’تعارف‘‘ کے لئے تمہاری شعوب اور قبائل بنائے۔] تعارف کی تشریح: [وَقُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ سَیُرِیْکُمْ آیَاتِہِ فَتَعْرِفُونَھَا وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْن ہ(۲۷:نمل:۹۳)اور کہو الحمد للہ پھر وہ تمہیں اپنی آیات دکھائے گا تو تم ان (آیات) کا ’’تعارف‘‘ جان جاؤگے اور جو عمل تم کرتے ہو تمہارا رب ان سے غافل نہیں۔] یعنی یہ قومیں اور قبائل اللہ نے صرف انسانی تعارف کے لئے نہیں بلکہ حق کے تعارف کے لئے بھی بنائے ہیں تاکہ معلوم ہوکہ کون سا شخص حق کی بات اور اللہ کی آیات کو مانتا ہے۔ جیسے اللہ فرماتا ہے: [وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ ہ(۵۱:ذاریات:۵۶)اور میں نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔] جس طرح اللہ نے رات کے ساتھ دن اور خیر کے ساتھ شرکو پیدا کیا، اسی طرح اللہ نے اچھی ، ناقص زبانیں اور اچھے، برے اقدار بھی پیدا کئے تاکہ سچے مسلم اللہ کی اچھی زبان اور اچھی ثقافت و تمدن کو قبول کریں۔ اللہ فرماتا ہے: [وَلَوْشَاء رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَاحِدۃً وَلاَ یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ رَبُّک ہ (۱۱: ھود:۱۱۹) اور اگر تمہارے رب نے چاہا تو تمام انسانوں کو ایک امت بنادیگا وہ مختلف نہیں رہیں گے مگر جن پر تمہارا رب رحم کرے۔] یعنی تمام انسانوں کا ایک امت بننا اللہ کی رحمت ہے اور یہ وعدہ اللہ نے عالمی رسول محمدؐ کو بھیج کر پورا کیا پھر مسلمین سے فرمایا: [اِنَّ ھَذِہِ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَاحِدَۃً وَاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنَ وَتَقَطَّعُوْا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ کُلُّ‘ اِلَیْنَا رَاجِعُوْنَ ہ(۲۱:انبیاء:۹۳)بے شک(مسلمانو ں)یہ تمہاری اُمت، اب ایک اُمت ہے اور میں تمہارا رب ہوں تم میری ہی بندگی کرو اور جس نے اپنے امر (یعنی اُمت) کو باہم ٹکڑے کیا (تو) وہ سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں۔]اسی لئے قرآن میں ابراہیم خلیل اللہ کی یہ دُعا ہے۔[ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَینِ لَکَ ومِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُ مَّۃً مُّسْلِمَۃُٗ لَّکَ (۲:بقرۃ:۲۸ا)اے ہمارے رب،تو ہمیں اپنا مسلم بنا لے اور ہماری اولاد میں سے بھی تو (صالح لوگوں کو) اُمتِ مسلمۃ بنا ۔] یعنی اب تمام مسلمین ایک اسلامی ثقافت کی حامل ایک اُمت ہے اور اس اُمت کی زبان عربی ہے۔ چونکہ ’’زبان‘‘ امت کے تمدن، ثقافت کی آئینہ دار ہوتی ہے بلکہ ثقافت اور تمدن کو پیدا کرنے اور بیدار کرنے کے لئے ایک معاون کی حیثیت بھی رکھتی ہے اور قومی تشخص پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جبکہ مختلف زبانیں تفرقے کی وجہ بنتی ہیں، جس میں فخر و نفرت دونوں کا عنصر ہوتا ہے جس کی وجہ سے دُنیا میں لسانی فساد بھی ہوتے ہیں اسی لئے اللہ نے امت مسلمہ کو اپنی رحمت سے امت واحدہ میں تبدیل کیا۔ کیا اب بھی تمام مسلمین مختلف زبانوں و اقوام میں تقسیم رہیں گے یا امر الٰہی کے مطابق ایک لسان و قوم کی شکل میں یکجا ؟؟؟

(12) تمام مسلمین ایک قوم بھی ہے:

عربی کی لغت( قاموس) میں ’’قوم Nation\ ‘‘ ان گروہ کو کہا جاتا ہے جن کی زبان اور ثقافت مشترک ہواور’’ اُمت‘‘ اس گروہ کو کہا جاتا ہے جس کی ثقافت، تمدن، زبان،دین، لباس، تاریخ اور تہوار وغیرہ مشترک ہو ۔ لغت کی رو سے دو الگ الگ زبانیں بولنے والوں کو ایک قوم نہیں کہہ جاسکتا۔ قرآن مجید کے مطابق بھی قوم کے لئے ایک زبان کا ہونا ضروری ہے۔ [وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ اِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہِ لیُبَیِّنَ لَھُمْ ہ(۱۴: ابراہیم:۴)اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان بولتا ہے تاکہ انہیں (احکام الٰہی) کھول کھول کر بتائے۔] یعنی ہر قوم اور ہر زبان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے ہیں اور اللہ نے قرآن میں امت اور قوم کو ہم معنی لفظ بھی استعمال کیا ہے۔ مثلاً [ثُمَّ اَرْسَلْنَا رسلنا تَتْرَاکُلَّ مَاجَاء اُمَّۃً رَّسُوْلُھَا کَذَّبُوْہُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَھُمْ بَعْضاً وَجَعَلْنَاھُمْ اَحَادِیْثَ فَبُعْداًلِّقَوْمٍ لاَّیُوْمِنُوْنَ ہ(۲۳:مومنون:۲۴)پھر ہم پے در پے اپنے رسول بھیجتے رہے۔ جب کسی’’امت‘‘کے پاس اس کا رسول آتا تھا تو وہ اسے جھٹلا دیتے تھے تو ہم بھی بعض کو بعض کے پیچھے لاتے رہے اور ان کی احادیث بناتے رہے پس جو ’’قوم‘‘ ایمان نہیں لاتی ان پر لعنت ہے۔] [وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلُ ہ(۱۰:یونس:۴۷)اور ہر ’’امت ‘‘کے لئے ایک رسول ہے ۔] [وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ ہ(۳:رعد:۷)اور ہر ’’قوم‘‘ کے لئے ایک ہدایت کرنے والا ہے۔] یعنی ان آیات کے مطابق قوم اور اُمت تھوڑے سے فرق کے ساتھ ہم معانی لفظ ہیں۔ عربی لفظ قوم کا اصل مادہ (ق۔و۔م۔)ہے جس کے معنی جگہ ،کھڑے ہونا، متوازن ہونا، کسی جگہ پر ٹھہر جانا،رک جانا کے ہیں اسی مادہ سے لفظ (قوام) عدل اور توازن ،(قامۃ) آدمی کا قد، (تقویم) کیلنڈر، توازن کا حامل (استقام) متوازن، (قیمۃ)قدر، (مقام) جگہ، (قیوم) ثابت قدم ،اللہ کا نام (قیامت) کھڑے ہونا (مستقیم) سیدھا ، درست راستہ وغیرہ نکلے ہیں ۔ (قوم) کے معنی وہ گروہ ہے جو ایک جگہ ایک ساتھ رہائش پذیر ہوں جن کی زبان او ر ثقافت ایک ہوجائے وہ گروہ ’’قوم‘‘ کہلاتا ہے۔اُمت لفظ کا مادہ (ا۔م۔م۔) ہے جس کے معنی اِرادہ، اَساس، بنیاد ،مرجع،مرکزی اور اصل کے ہیں اوراسی مادہ سے لفظ (اُمّ) ماں ، (امام) آگے، سامنے، مستقبل (امام) جو شخص آگے ہو، (امامۃ) آگے ہونا، پگڑی (اُمی) اُم القری ٰ کے رہنے والے، سب قوموں سے آگے قوم، ماں کا جنا ہوا وغیرہ نکلے ہیں۔ (اُمت) کے معنی وہ گروہ ہے جن کی تمام بنیادی اَساس بچپن سے ایک ہویعنی دین،ثقافت،زبان وغیرہ مسلمین کا گروہ اس تعریف پر پورا اُتارتا ہے جن کی ماں قرآن نے ’’اَزواج الرسول ؐ ‘‘ کو قرار دیا ہے۔[َ اَزْوَاجُہُ اُمَّھَاتُھُمْ (۳۳:احزاب:۶)] اور یہ رشتہ مجازی سے زیادہ حقیقی جیسا ہے۔[وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْْ ا اَ زْ وَجَہٗ مِنْ م بَعْدِ ہٖٓ اَبَدً ا ط (۳۳:۵۳) ]۔ قرآن میں مسلمین کے لئے ’’قوم‘‘ کا لفظ بھی آیا ہے جیسے قرآن میں لکھا ہے۔ [وَقَالَ الرَّسُوْلُ یَا رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ اتَّخَذُوْا ھَذَا الْقُرْآنَ مَھْجُوْراً ہ (۲۵: فرقان:۳۰)اور رسول (اللہ) نے کہا کہ اے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو مہجور یعنی باندھ کر بے حرکت بنالیا ہے۔] یعنی قرآن سے ہدایت نہیں لیتے ہیں جیسے کہ قرآن میں لکھا کہ ’’ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاس ہ‘‘ (۲:البقرہ:۱۸۰) ’’قرآن تمام انسانوں کے لئے ہدایت ہے ۔‘‘ اگر قرآن میں رسول کی مخاطب ’’قوم‘‘ تمام مسلمین ہے تو تمام مسلمین کو بھی قرآن کے مطابق ایک قوم بننا چاہئے!!!

مسلم ایک خاندان: اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک قوم میں بدلنے کے بعد اتحاد کی تعلیمات کو مزید قریب لاتے ہوئے مسلم قوم کو ایک خاندان میں بھی بدل دیا جیسے اللہ فرماتا ہے: ’’اِنَّمَا الْمُؤُمِنُوْنَ اِخْوَۃ ہ‘‘ (۴۹: حجرات:۱۰) ’’بے شک مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘ ’’النَبِیُّ اَوْلَی بِالمومنین مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَاَزْوَاجُہُ اُمَّھَاتُھُمْ وَاُوْلُوْا الْاَرْحَامِ ہ‘‘ (۳۳: احزاب:۶) ’’نبیؐ مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہیں ان (محمد رسول اللہ) کی بیویاں ان (مومنوں) کی مائیں اور خون کے رشتے کے قریب ہیں۔‘‘ یعنی اگر محمد رسول اللہؐ کی ازواج ’’اُمَّہات المؤمنین‘‘ ہیں تو ’’ابو المؤمنین‘‘ یعنی مؤمنوں کے باپ رسولؐ ہوئے جیسے ابراہیم ؑ بھی تمام مؤمنین کے باپ تھے۔’’مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ ہ‘‘ (۲۲:حج:۷۸) ’’اور اللہ نے حکم دیا: ’’فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ اَبْنَاء نَا وَاَبْنَاء کُمْ وَنِسَاء نَا ونِسَاء کُمْ ہ‘‘(۳: العمران:۶۱) ’’پس (اے محمد) کہو! (ان عیسائیوں سے) کہ آئیں، ہم بلائیں اپنے بیٹوں کو اور تم اپنے بیٹوں کو اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو۔‘‘ یعنی اس آیت میں صاف طور پر مجازی معنی میں مومنوں کو رسول کے بیٹے کہا گیاہے۔ حقیقی طور پر محمد رسول اللہؐ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں تھے۔ ’’مَا کَانَ مُحَمَّدُ‘ اَبَااَحْدٍمِّنْ رِّجَالِکُمْ ہ‘‘ (۳۳: احزاب:۴۰)‘‘ اور سورۃ کوثر میں ’’کوثر‘‘ کے معنی ’’کثرت‘‘ کے ہیں جو ’’ابتر‘‘ یعنی ’’بے اولاد‘‘ کے مقابلے میں آیا ہے۔ تو اس سورۃ سے بھی آسانی سے پتا چل جاتا ہے کہ اللہ نے اس سورۃ میں رسول کو مجازی اولاد کی کثرت کا بتایا تھا۔ جس سے اللہ نے رسولؐ کے تمام دشمنوں کو محروم رکھا، ورنہ رسولؐ کے دشمنوں کی حقیقی اولاد تو کثرت میں تھی۔ یعنی مختصراً الفاظ میں تمام مسلمین ایک خاندان ہے اور دنیا میں اس سے قریب کوئی انسانی رشتہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ مشاہدہ عام ہے کہ ہر خاندان ایک ہی زبان بولتا ہے، وہ خاندان چاہے انسان کا ہو یا حیوان کا ہو۔ ایسا کبھی نہیں ہو تاکہ بچے اپنے والدین کی زبانوں کو نہ اپنائیں اور اپنے بہن بھائی کی زبانیں نہ جانے۔ اگر رسولؐ اور انکی ازواج ہمارے ماں باپ ہیں تو ہمارے درمیان ایک زبان کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اسلام ’’اتحاد‘‘ چاہتا ہے، اتحاد کے لئے ضروری ہے’’رابطہ‘‘ ، رابطہ کے لئے ضروری ایک ’’زبان‘‘ کا ہونا کیونکہ دو الگ الگ زبانیں بولنے والے ایک دوسرے سے صحیح طور پر براہ راست رابطہ نہیں کرسکتے ہیں۔ آپس میں رابطہ کے لئے قرآن کی زبان سے بہتر کونسی زبان ہوسکتی ہے؟ اور عربی لسان کے بغیر اسلامی خاندان کے رشتے کو بھی زیادہ مضبوط نہیں بنایا جاسکتا!!!

(13) صلوٰۃ اور حج:

حج و عمرہ مسلمین کے اتحاد کے لئے ایک بین الانسانی اجتماع ہے جس میں دنیا بھر کے مسلمین اکٹھا ہوتے ہیں۔’’ وَ اَ ذِّ نْ فِی النَّا سِ بِا لْحَجِّ یَاْ تُوْ کَ رِ جَا لًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَا مِرٍ یَّاْ تِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍٍ ہ‘‘ (۲۲:حج:۲۸) ’’ اور لوگوں میں حج کے لئے آذان دو کہ تمہارے پاس مرد ( یا پیدل) آئیں اور تمام ضامر کیساتھ جو آئیں گی ہر دور کشادہ رستوں سے تاکہ وہ شہادت دیں اس میں ان کا منافع ہے اور معلوم ایام میں اللہ کے اسم کا ذکر کریں۔‘‘ اس موقع پر عربی زبان زیادہ تر مقامی اور غیر مقامی مسلمین کے درمیان رابطے کا کام کرتی ہے۔ کیونکہ عربی مسلمانوں میں سب سے زیادہ بولے جانے والی زبان ہے۔ صلوٰۃ (یعنی نماز) مسلمانوں کا محلہ کی سطح کا اجتماع ہے جس میں صلوٰۃ کے ذریعے آپس میں فلاح و تعلیم کا خیال رکھا جاتا ہے جس میں روزانہ رکوع با رکوع درسِ قرآن ہوتا ہے۔ جو صلوٰۃ کا بنیادی مقصد بھی ہے اور مساجد کے ذریعے تعلیم قرآن کا یہ سلسلہ پوری دنیا میں عام ہے اور یہ درسِ قرآن صرف عربی زبان میں ہوتا ہے۔ ’’وَکَذَلِکَ اَنْزَلْنَاہُ حُکْماً عَرَبِیّاً ہ‘‘ (۱۳: رعد:۳۷) ’’اور اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو عربی زبان کا حکم بنا کر نازل کیا ہے‘‘ یعنی اللہ کے تمام احکام عربی زبان میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْ لاَ تَقرَبُوْ الصَّلاَۃَ اَنْتُمْ سُکَارَی حَتَّی تَعْْلَمُوْا مَاتَقُوْلُوْنَ ہ‘‘ (۴:نساء:۴۳) ’’اے مومنو! جب تم سکاریٰ (نشہ، غندوگی، اوسانِ خطا اور بے سمجھی) کی حالت میں ہو تو جب تک جو منہ سے کہو سمجھنے نہ لگو صلوٰۃ کے قریب نہ جاؤ ۔‘‘ یعنی صلوٰۃ میں قرآن کی عربی قرأت کو بے سمجھی کی حالت میں سننے سے اللہ منع کرتا ہے بلکہ ایسی حالت میں جانا بھی منع ہے۔ ’’فَوَیْلُ‘ لِّلْمُصَلِّیْنَ ہ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلاَتِھِمْ سَاھُوْنَ ہ الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَاؤُوْنَ ہ‘‘ (۱۰۷:ماعون:۶) ’’تو ایسے مصلین پر ملامت، جو اپنی صلوٰۃ سے غافل ہیں، جو صرف ریا کاری کررہے ہیں۔‘‘ اگر اجتماعِ صلوۃ بتائے گئے قرآنی احکام پرعمل نہ کرنا غفلت ہے تو اللہ تعالیٰ کے احکام کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے عربی کو نہ سیکھنا کیا اس سے بڑی غفلت نہیں؟؟؟

عربی کی وسعت:

عربی ’’الفاظ‘‘ کے لحاظ سے دنیا کی سب سے وسیع زبان ہے۔ عربی میں چھوٹی سی چھوٹی چیزوں کے بڑے تفصیل سے علیحدہ علیحدہ نام ہوتے ہیں جس کا کسی دوسری زبان میں تصور بھی نہیں ہوتا۔ مثلاً عربی میں دن کے ہر گھنٹے کا علیحدہ نام اور انسانی جسم کی ہر اعضاء اور ہر انگلی کے لئے جدا گانہ نام وغیرہ۔ عربی میں الفاظ کی اتنی وسعت ہے کہ کئی ایک چیزوں کے سیکڑوں نام ہیں۔ مثلاً صرف تلوار کے لئے ایک ہزار (۱۰۰۰) الفاظ استعمال ہوتے ہیں، اونٹ کیلئے (۲۲۵)، سانپ کے لئے(۱۰۰) اور پانی کے لئے (۱۷۰) لفظ استعمال ہوتے ہیں، خود قرآن میں اللہ نے گروہ کے لئے بیس (۲۰) سے زیادہ لفظ استعمال کئے ہیں۔ عربی میں دو سو سے زائد ایسے الفاظ ہیں جن کے معنی تین تین ہیں، سو سے زائد کے چار چار معنی ہیں اور بعض کے پچیس پچیس معنی ہیں۔ مثلاً لفظ خال کے (۲۷)، عین کے (۳۵) اور عجوز کے (۶۰) معانی ہیں۔ جیسے اردو میں بھی لفظ ’’گولی‘‘ کے قریباً آٹھ معانی ہیں۔ (۱) سپاہی چور سے کہتا ہے، اگر بھاگنے کی کوشش کی تو گولی مار دونگا۔ (۲)درزی شاگرد سے کہتا ہے، بساطی کی دوکان سے سیلیٹی رنگ کی گولی لے آؤ۔ (۳) ڈاکٹر صاحب، مریض کو مشورہ دیتے ہیں یہ گولی کھالو، درد، دور ہوجائے گا۔ (۴) ماں بچے کو کہتی ہے کہ بیٹا ہر وقت گولیاں نہ کھیلو۔ (۵)حامد نے شادی کی تقریب کے لئے بازار سے بندوق کی ایک درجن گولیاں خریدیں۔ (۶) استاد شاگرد سے کہتا ہے تم مجھے کافی دنوں سے گولیاں دے رہے ہو۔ لیکن آج تمہاری گولی فٹ نہیں ہوگی۔ (۷)شاگرد: ’’میں نے بھی کوئی کچی گولی نہیں کھیلی‘‘ (۸) جس طرح ایک اُردو دان لفظ ’’گولی‘‘ کے اِن آٹھ معانی کو بخوبی سمجھتا ہے۔ اسی طرح ایک عربی دان عربی کے ایک سے زیادہ معانی والے الفاظ کو سمجھتا ہے۔ فرق صرف اہل زبان کا ہے!!!

عربی کی جامعیت اور اختصار پسندی کا یہ عالم ہے کہ بڑے سے بڑے مفہوم کو چند الفاظ میں نہیں بلکہ چند حروف میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے اور جبکہ اس زبان کے ایک لفظ کا مفہوم کو واضح کرنے کے لئے دوسری زبانوں میں کئی کئی جملے بھی ناکافی ہوتے ہیں اور عربی اور غیر عربی زبان کی قرآنی تفسیریں ان کی بہترین مثالیں ہیں۔

عربی کی خاص خاصیت:اس زبان کی سب سے بڑی خصوصیت جو دنیا کی کسی بھی زبان میں نہیں ہے۔ وہ یہ کہ عربی قواعد کی مدد سے ہزار زمانے کی نت نئی سائنسی ایجاد اور تکنیکی ضرورتوں کے ماتحت اس میں جدید الفاظ و اصطلاحات آسانی سے بنائی جاسکتیں ہیں۔ مثلاً آج کل ٹیلی فون کے لئے (ہاتف)، ریڈیو (اشعالی)، ٹرین(قطار)، ٹینک (دبابۃ)، بینک (مصرف)، فریج (ثلاجۃ)، میزائل (صاروخ)، کار (سیارۃ)، دوربین (منظار)، تھرمامیٹر (میزان حرارۃ)، دوائی (حبوب)، مارنے والی گولی (رصاصۃ)، ٹیپ (مسجلۃ)، کمپیوٹر (حاسوب)، کیکولیٹر (حاسبۃ)، ٹائپ رائیٹر (الۃ کاتبۃ)، ڈیسک (مکتب)، لائبریری (مکتبۃ) اورجنگی جہاز کے لئے (بارجۃ) وغیرہ کے جدید لفظ استعمال ہوتے ہیں جو ان چیزوں کی کیفیت وصفات کے عین مطابق ہیں۔ عربی نے کسی دوسری زبان کے الفاظ کو قبول نہیں کیا مَعْدُودے چند الفاظ کے، ان میں بھی عربی کی جامعیت وَوسعتِ معنی کا خاص خیال رکھا گیا اور اسی خاصیت کی وجہ عربی دنیا کی خالص ترین زبان ہے۔

عربی میں مادّے کی اہمیت:

مادّہ عربی لسان کی بنیاد ہے اور عربی کی قاموس بھی مادّے کی ترتیب سے لکھی جاتی ہے۔ دنیا کی دوسری لسان کی طرح لفظ بلفظ کی ترتیب سے نہیں لکھی جاتی ہے۔ مادّے کی ترتیب سے قاموس مرتب کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ عربی زبان میں ایک مادّہ سے سینکڑوں الفاظ، اسماء، افعال، صفات اور صیغے بن جاتے ہیں۔ عربی کی مشہور قاموس ’’تاج لعروس‘‘ سید مرتضیٰ زُبیدی، متوفی ۱۲۰۵ھ کے مادّہ ہائے الفاظ کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار ہیں۔

ایک مادّہ (ک:ت:ب) سے بنے چند الفاظ کی مثال جو قرآن میں آئے ہیں: کَتَبَ۔ اس نے لکھا [۲:۱۸۷]، کُتِبَ۔ وہ لکھا گیا [۲:۱۸۰]، کَتَبَتْ۔ اس (مؤنث)نے لکھا[۲:۸۹]، کَتَبْتَ۔ تونے لکھا [۴:۷۷] ، کَتَبْنَا۔ ہم نے لکھا[۴:۶۶] ، کِتَابُ۔کتاب، مضمون [۲:۲] ، کُتُبٍ۔کتابیں [۹۸:۳]، کُتُبِہٖ۔اس کی کتابیں [۲: ۲۸۵]، کَاتِبُ‘۔لکھنے والا [۲:۲۸۲]، کَاتِبُونَ۔لکھنے والے [۲۱:۹۴]، کَاتِبِیْنَ۔لکھنے والے [۸۲:۱۱]، مَکْتُوْباً۔ خط، لکھا ہوا [۷:۱۵۷]، اُکْتُبْ۔تو لکھ دے [۷:۱۵۶]، اَکْتُبُھَا۔میں اس (مونث) کو لکھتاہوں [۷:۱۵۶]، نَکْتُبُ۔ ہم لکھتے ہیں [۳:۱۸۱]، یَکْتُبُ۔وہ لکھتا ہے [۲:۲۸۲]، یَکْتُبُوْنَ۔وہ لکھتے ہیں [۲:۷۹]، تُکْتَبُ۔لکھی جاتی ہے [۴۳:۱۹]، تَکْتُبُوْہُ۔تم اس کو لکھو [۲:۲۸۲] وغیرہ وغیرہ

اگر چہ ان الفاظ کی شکلیں اور آگے پیچھے کے الفاظ مختلف ہونے کے باوجود ہر لفظ کے اندر ’’مادّہ‘‘ اپنے صحیح معنی کے ساتھ موجود رہتا ہے۔ یہ مختلف شکلیں جو مادے سے بنتی ہیں اپنے مخصوص قواعد و ضوابط کے تحت بنائی جاتی ہیں جو بہت آسان ہے۔ عربی چونکہ فصاحت و بلاغت کی زبان ہے اس لئے اس کی ہر کروٹ اور ہر پہلو میں کوئی نہ کوئی ضابطہ اور کوئی نہ کوئی قاعدہ موجود ہوتا ہے اور عربی نے جس طرح ہر دور میں نت نئے اسالیب نئے الفاظ و محاورات اور نت نئی اصلاحات کو اپنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ان دلائل کی بنیاد پر آج بھی اکثر ماہرین لسانیات عربی گرامر کو دنیا کی سب سے بہترین گرامر قرار دیتے ہیں، اسی بہترین عربی قوائد کی وجہ سے قرآن حکیم کے کسی حرف پر زیر و زبر کی تبدیلی بھی آسانی سے پہنچانی جاسکتی ہے بلکہ جدید عربی بغیر زیر زبر کے ہی لکھی جاتی ہے۔

(14) عربی ایک بہترین زبان:

عربی اپنے وسیع اور جامع ادبی سرمائے کی وجہ سے دنیا کی بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ عربی کی شیریں اس کی حیات بخش قوت، رسیلا پن اور اس کے استعارات کی رنگینی۔ اور اس کی صرف ونحو کی جامعیت اسے تمام دنیا کی زبان سے ممتاز کرتی ہے۔ عربی کے الفاظ میں ایسے ایسے اسرار و رموز پائے جاتے ہیں جو یقیناًکسی دوسری زبان میں موجود نہیں۔ قرآن میں عربی لسان کے بارے میں لکھا ہے۔ ’’وَلَوْ جَعَلْنَاہُ قُرْآناً اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْلاَ فُضِّلَتْ آیَاتُہُ اَاَعْجَمِِیُّ‘ وَعَرَبِیُّ‘ ہ‘‘ (۴۱:فصلت:۴۴) ’’اور اگر ہم اس قرآن کو غیر عربی زبان میں بناکر نازل کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ ان آیتوں میں (عربی کی طرح) تفصیل کیوں نہیں ہے کیا عجمی اور کیا عربی۔‘‘ اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے اگر اللہ چاہتا تو غیر عربی زبان میں بھی فصلت پیدا کرکے اس میں قرآن نازل کردیتا، لیکن یہاں پر یہ بات بتانا مقصود ہے کہ اللہ نے اپنی وحی کے لئے ایسی زبان کا انتخاب کیا ہے جو دنیا کی بہترین فصلت والی زبان ہے۔ اللہ عربی کے بارے میں یہ بھی بتاتا ہے کہ: ’’قُرْآنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ ہ‘‘ (۳۹: زمر:۲۸) (یہ)قرآن (ایسی) عربی (زبان میں) ہے جس میں کوئی عیب نہیں تاکہ وہ لوگ متقی بنیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے کتاب ایسی زبان میں نازل کی جس پر کسی بھی قسم کا ایسا کوئی لسانی عیب نہیں ہے کہ جس پر اعتراض کیا جاسکے جبکہ دنیا کی ہر زبان پر کسی نہ کسی طرح سے عربی کے مقابلہ میں اعتراض کیا جاسکتا ہے کیونکہ عربی دنیا کی ہر لحاظ سے بہترین زبان ہے۔ سادہ الفاظ میں کلام الٰہی کے بلند ترین حقائق اور عمیق ترین نکات کا بہترین بیان صرف عربی زبان میں ہی ممکن تھا اسی لئے اللہ نے اپنی کتاب ’’القرآن البرہان‘‘ عربی لسان میں نازل کی۔

دینی مدارس:

پاکستان میں اس وقت اکثر دینی مدارس میں علماء اپنے طلبہ کو بھی پڑھنے لکھنے اور بول چال کی عربی نہیں سکھاتے بلکہ عربی زبان کے نام پر طوطامینا کی طرح عربی قرأت اور تھوڑی بہت عربی قواعد سکھائے جاتے ہیں، عربی قرأت بھی جو سکھائی جاتی ہے اس کے لب و لہجے بھی ہر مدارس میں علیحدہ ہوتے ہیں یعنی عربی زبان کے ساتھ ساتھ علماء کو عربی لحن و لہجہ بھی پسند نہیں۔ ایک مشہور مفتی عاشق الٰہی لکھتے ہیں کہ ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ عربی سکھانے کی چیز نہیں۔۔۔۔جو لوگ عربی سیکھ لیتے ہیں وہ لوگ ہمارے مدارس کے کام کے نہیں رہتے، وہ تو عرب امارات میں جاکر نوکریاں کرلیتے ہیں۔۔۔۔امت جو چندے دیتی ہے اس لئے دیتی ہے کہ لوگ عربی مدارس میں پڑھ کر قرآن و حدیث کی خدمت کریں نہ اس لئے کہ بڑی تنخواہوں کے لالچ میں دوردراز کے عرب ملکوں میں چلے جائیں، کوئی عرب سفارت خانے میں لگ جائے اور کوئی امارت کے کسی ادارہ کا ملازم بن جائے۔ دنیا کے لئے عربی سیکھنا پھر اسے دنیا کمانے کا ذریعے بنانا اس میں اور انگریزی زبان سیکھنے میں کوئی فرق نہیں۔ (ہفت روزہ ’’ضربِ مومن‘‘ اخبار ۸ تا ۱۴ ۔ اگست ۲۰۰۳ء)

یعنی حصولِ رزقِ حلال عبادت پر ایمان نہیں۔ ایک اور عالم لکھتے ہیں : ’’ یہ بھی مشہور ہے صاحبو! کہ دیوبند کے مولانا قاسم نانوتوی اور دیگر بزرگوں کے پاس رسول صلی اللہ علیہ وسلم اُردو سیکھنے سو برس تک تشریف لاتے رہے۔‘‘ (حقائق و معارف دیوبند۔ مئی ۱۹۷۵ء) اسی طرح قادیانی کذاب نے بھی انگریزوں کی خوشنودی کے لئے یہ دعویٰ کیا کہ اللہ اس پر اُردو میں وحی کرتا ہے جس کی وجہ سے مجبورا ً ہرطلباء کو عربی کے بجائے مقدس اُردو سیکھنی پڑتی ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جس کی وجہ سے اکثر دینی مدارس کے تمام تعلیمی نصاب عربی کے بجائے اردو اور علاقائی زبانوں میں ہیں۔ جس میں ان کے من پسند ترجمے کے قرآن، حدیث اور فقہ وغیرہ کی کتب پڑھائی جاتی ہیں۔ اسلام کی خاطر چندہ لیتے ہیں اور عربی سے محروم کرکے طلباء کو براہ راست اللہ سے رابطہ کرنے سے بھی روک لیتے ہیں کیونکہ عربی لسان ناصرف ’’قرآن‘‘ کے ذریعے انسان کے بغیر کسی وسیلے کے اللہ سے رابطہ کراتی ہے بلکہ اللہ کا صحیح راستہ بھی بتاتی ہے، اسی لئے اللہ فرماتا ہے: ’’ یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنَّ کَثِیْراً مِّنَ الاَحْبَارِ وَالرُّھْبَان لَیَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ہ‘‘(۹:توبہ :۳۴) ’’اے مومنو! بہت سے احبار اور رھبان (یعنی فرقہ پرست علماء) لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور (ان کو) اللہ کے راستے سے بھی روکتے ہیں۔‘‘ ایک طرف تو اپنے طلبہ کو سیدنا عمر فاروق ؓ کا معروف قول عربی سیکھو کیونکہ یہ تمہارے دین کا حصہ پڑھاتے ہیں اور دوسری طرف اس کی نفی بھی کرتے ہیں۔ کیا ہمیں ایسے فرقہ پرست علماء کی متضاد باتوں کو ماننا چاہئے یا قرآن میں لکھی ایک اللہ کی بات کو؟ اور اللہ کی بات ہم عربی سیکھ کر قرآن کے ذریعے براہ راست جان سکتے ہیں!!! تو پھر ان مختلف فرقے والے علماء کی قرآن مخالف باتوں کو بھی پہچان سکتے ہیں!!!

(15)مذہبی زبان کی اہمیت:

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ’’عربی‘‘ مسلمین کی مقدس زبان، ’’اُردو‘‘ قادیانیوں کی مقدس زبان، ’’عبرانی‘‘ یہودیوں کی مقدس زبان، ’’سریانی،آرامی اور یونانی‘‘ عیسائیوں کی مقدس زبانیں، ’’ژندی‘‘ پارسیوں کی مقدس زبان اور ’’سنسکرت‘‘ ہندوؤں اور بدھ متوں کی مقدس زبان ہے۔ ہر مذہب کے افراد اپنی مذہبی زبان سے محبت کرتے ہیں۔ ہندوؤں نے بھارت میں سنسکرت کو سیکولر نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی ہندی کی شکل میں زندہ رکھنے کی کوشش کی ہے ، عیسائیوں میں عیسیٰ ؑ اور انجیل کی زبان کے بارے میں بہت سااختلاف ہے۔ عیسائیوں کے پاس اصل انجیل کے نسخے کے بجائے صرف انجیل کا قدیم یونانی ترجمہ موجود ہے جس سے وہ دنیا کی دوسری زبان میں انجیل کا ترجمہ کرتے ہیں اور یہ ہی یونانی زبان اکثرپادری حضرات چرچوں میں سیکھتے ہیں۔ پارسیوں نے فارسی کی شکل میں اپنی ژندی زبان کو زندہ رکھنے کی کئی ناکام کوشش کی ہیں اور یہودیوں نے عبرانی کو اسرائیل کی سرکاری زبان بنایا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود اب تک عبرانی زبان عوامی زبان نہیں بن سکی ابھی تک عبرانی یہودی علما تک محدود ہے۔ عربی کے علاوہ تمام مذہبی زبانیں صرف مذہبی لوگوں کے درمیان رہنے کی وجہ سے تحریف زدہ ہوکر اپنی اصلیت کھوچکی ہیں اور جبکہ عربی لسان آغازِ اوّل سے عوام کے اندر ایک مستعمل اور بولی جانے والی زبان رہنے کی وجہ سے اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ عربی کو دینی و عوامی نقطہ نظر سے جو اعلیٰ مقام حاصل ہوا ہے، اس کی وجہ سے عربی میں جدید و قدیم زبان کا وہ فرق بھی موجود نہیں ہے جو دنیا کی ہر زبان مثلاً انگریزی، اُردو وغیرہ میں ہر دوسو چار سو سال کے بعد پیدا ہوجاتا ہے۔

پاکستان اور اسرائیل:

دینی زبان کی اہمیت کے حوالے سے اسرائیل ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے لئے ایک مثال ہے کیونکہ پاکستان اور اسرائیل پوری دنیا کی دو ہی ایسی ریاستیں ہیں جو دینی نظریات کی بنیاد پر وجود میں آئیں۔ اسرائیل یہودی مذہب کے نام پر بنا۔ یہودی قوم میں بھی مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں کئی زبانیں بولنے والوں کی تعداد لاکھوں تک ہے۔ مثلاً یہودیوں کی زبان یدش (Yiddish) بولنے والوں کی تعداد آج بھی دنیا بھر ۹۰ لاکھ سے زیادہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیل کے لوگوں نے عبرانی زبان کو سرکاری زبان اس وقت بنایا جب صرف ان کے یہودی علماء ہی کتابوں میں عبرانی جانتے تھے لیکن افسوس پاکستان جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا جس خطے کی سرکاری زبان محمد بن قاسم کے زمانے (99ھ تا 101ھ) سے عربی رہی ہو۔ اس پاکستان نے اسلام کی اکلوتی زبان عربی کو وہ اہمیت نہیں دی جو اس کا حق تھا!!!

حرکۃ تعریب پاکستان:

جبکہ کئی معروف و مؤثر شخصیات نے پاکستان کی قومی زبان عربی بنانے کی تجویز بھی دی تھی۔ مثلاً پاکستان کی خالق جماعت ’’آل انڈیا مسلم لیگ‘‘ کے سابق صدر اور تحریک پاکستان کے ممتاز ترین سیاسی شخصیت سرامام محمد شاہ آغا خان ثالثؒ وغیرہ، آپ آغازِ پاکستان سے عربی کی حمایتی رہے ہیں۔ آپ نے 1951ء میں ’’موتمر عالمِ اسلامی‘‘ کے اجلاس میں مسلمانانِ پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔’’آج آپ کو مخاطب کرتے ہوئے میں ذمہ داری کا عظیم بوجھ محسوس کررہا ہوں۔ اگر ہم نے پاکستان کو کھودیا تو یہ اسلام کے ساتھ غداری کے مترادف ہوگا۔ میں اہلِ پاکستان سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ اُردو کے بجائے عربی کو قومی زبان بنائیں۔۔۔ ہر مسلمان بچہ عربی زبان میں قرآن پڑھتا ہے خواہ وہ ڈھاکہ کا باشندہ ہو یا کوئٹہ اور لاہور کا۔ وہ الف’’ب‘‘ سیکھتا ہے تاکہ قرآن پڑھ سکے قرآن عربی میں ہے اور عربی اسلام کی زبان ہے کسی فرد اور ملک کی نہیں، احادیث نبویہ ﷺ بھی عربی میں ہیں۔ اندیس میں تہذیب اپنے عروج پر اسی وقت تک رہی ہے جب تک عربی زبان و ادب کاعروج رہا۔ عربی سیکھنا آپ کا فرض ہے خواہ آپ سندھ کے باشندے ہوں خواہ بلوچستان یا سرحد کے۔‘‘ لیکن افسوس آج بھی پاکستان کی سرکاری زبان ’’انگریزی‘‘ ہے اور قومی زبان ’’اردو‘‘ ہے جو صوبے ’’اترپردیش‘‘ یو۔ پی کی ہے جس کا پرانا نام ’’متحدہ صوبہ‘‘ تھا جو پاکستان میں شامل بھی نہ ہوسکا۔ محمد علی جناح ؒ نے یہ ملک اسلامی نظریہ قوم کے ماتحت دو قومی نظریئے کی بنیاد پر حاصل کیا تھا۔ یعنی مسلم اور ہندو دو علیحدہ قومیں ہیں، مسلم قوم کی ثقافت محمد رسول اللہؐ کی ثقافت سے ملتی ہے تو پاکستانی ثقافت کے نام سے یہ کون سے صوبے کی ثقافت زبردستی پاکستان کے رہنے والی ہر قوم پر مسلط کی جارہی ہے کیونکہ یہ محمدی ثقافت نہیں بلکہ صوبائی ثقافت ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں لسانی اور قومیتی تفرقہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور آدھا پاکستان بنگلہ زبان اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم بھی ہوچکا ہے۔ کیونکہ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزی اور اُردو کی ترقی کے لئے پاکستان نہیں بنایا تھا بلکہ اسلامی شعائر کی ترقی کے لئے بنایا تھا۔ 1973ء کے آئین پاکستان میں دفعہ ۳۱ (الف، ب) میں بھی یہ وضاحت سے لکھا کہ ’’اسلامیات اور عربی زبان و ادب دونوں کی فروغ کی ذمہ داری ریاست پر ہوگی۔‘‘ اور کلاز ۳۱۔۲) میں صراحت کے ساتھ ذکر ہے کہ ’’ریاست کے فرائض میں یہ داخل ہے کہ ریاست مسلمان پاکستان کے لئے اسلامیات اور تعلیم قرآن کو لازمی قرار دے، نیز وہ عربی زبان کی تعلیم و تدریس، فروغ اور اشاعت کی حوصلہ افزائی کرے۔‘‘ اس وقت بھی عربی زبان سرکاری طور پر پاکستان کی تعلیمی زبان ہے لیکن یہ ناکافی اقدامات ہیں کیونکہ اس ملک اور اسلام کے خاطر ہندوستان کی تمام مسلم قوموں نے جدوجہد کی، ہجرت کی اور اپنی قیمتی جانیں دیں اور آج بھی لاکھوں کشمیری اسی سلسلے میں جان دے رہے ہیں۔ ان جانوں کے صدقے میں دو سو سے زائد ممتاز علماء و اساتذہ جامعات کا متفقہ مجوزہ ’’لسان عربی بل‘‘ 1990ء پر عمل کرکے پاکستان کی قومی زبان عربی کو بنا دینا چاہئے اور یہ مطالبہ پاکستان کے تمام مختلف زبانیں بولنے والے مقامی مسلمان اور ہندوستان سے آئے ہوئے مختلف زبانوں کے سچے مسلمان پاکستان کے ہر حکمران سے کرتے ہیں۔ مگر افسوس! ایسی صدایں ہیں جو رنگ نہیں لاتی!!! اس لئے قرآن کہتا ہے: ’’ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُواْمَابِاَنْفُسِھِمْ ہ‘‘(۱۳:رعد:۱۱) بے شک اللہ بھی کسی ایسی قوم کی حالت میں تغیر نہیں لاتاجب تک وہ خود اپنی حالت میں تبدیلی نہ لائے ۔‘‘ یعنی جب تک عملی اقدامات نہیں ہونگے کچھ نہیں ہوگا۔

زبانوں کے بارے میں چند غلط فہمیاں:

مثلاً لوگوں میں یہ غلط فہمی ڈالی گئی ہے کہ انگریزی ہی دنیا کی واحد عالمی زبان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریزوں نے ماضی میں جن ممالک پر حکمرانی کی ہے۔ صرف اُن ممالک کی سرکاری زبان انگریزی ہے جن کی تعداد (۵۷) ہے۔ جو تمام ’’دولتِ مشترکہ‘‘ کے ممبرز بھی ہیں جن کے ذریعے آج بھی انگریز ان پر حکومت کرتا ہے۔ دنیا میں برطانیہ کی ریاست انگلینڈ کے علاوہ کسی ریاست میں ۸۰ فیصد سے زیادہ انگریزی نہیں بولی جاتی ہے۔ پاکستان میں دو سو سال سے زائد عرصے تک سرکاری زبان رہنے کے باوجود آج تک انگریزی عوامی زبان نہیں بن سکی، اب تک صرف تعلیم یافتہ لوگ مجبوراً انگریزی سیکھتے ہیں اور تقریباً یہی حال پوری دنیا میں انگریزی زبان کے ماتحت ممالک کا ہے۔ دُنیامیں انگریزی کی ناکامی کی وجہ اس کا مشکل لہجہ، بے قاعدہ گرامر، بہت سی زبانوں کے الفاظ کی ملاوٹ ہے اور انگریزی سے ہمارا کوئی زمینی، تہذیبی اور دینی رشتہ کا نہ ہونا بھی اس کی ناکامی کے بہت بڑے اسباب ہیں۔
انگریزوں کی طرح ہسپانویوں، فرانسیسیوں اور دوسری بہت سی قوموں نے دنیا کے بہت سے علاقوں پر حکومت کی۔ اسی لئے دنیا کے بہت سے ممالک کی سرکاری زبانیں مختلف ہیں۔ جیسے (31) ممالک کی سرکاری زبان ’’ہسپانوی‘‘، (26) ’’عربی‘‘، (21) ’’فرانسیسی‘‘، (10) ’’پرتگالی‘‘، (5) ’’جرمن‘‘ اور (2) ممالک کی سرکاری زبان ’’چینی‘‘ ہے۔

دوسری غلط فہمی اُردو کے بارے میں پھیلائی جاتی ہے کہ اردو ایک مصنوعی زبان ہے جوکہ غلط ہے اور یہ بات قرآن کی آیت (۲۲:۳۰) کے خلاف بھی ہے اور نہ ہی تاریخ میں کسی شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ اُردو اس کی ایجاد ہے۔ قرآن کی آیت
(۱۴:۴) کے مطابق اللہ نے ہر قوم کو ایک زبان دی ہے۔ ہندوستان میں صوبہ یو پی اور اس کے اطراف کے تمام گاؤں میں صرف اردو/ہندی بولی جاتی ہے بقول اُن کے اُردو ان کی مادری زبان ہے۔ یہ دعویٰ ہندستان کا کوئی دوسرا صوبہ نہیں کرتا ہے اگر یہ ان لوگوں کی زبان نہیں تو یو پی کے لوگوں کی زبان کونسی تھی؟ جبکہ ہندوستان پر مسلمانوں کے ایک ہزار سالہ دورِ حکومت میں اُردو کو کوئی اہمیت حاصل نہیں تھی بلکہ اُردو زبان کا نام بھی زبان کی ناواقفی سے پڑا۔ فارسی اور ترکی میں اُردو کے معنی لشکر اور چھاؤنی کے ہیں۔ مسلمانوں کے دور میں لشکر میں زیادہ تر دہلی، یوپی کے مقامی لوگ ہوتے تھے تو مسلمانوں نے دہلوی زبان کو ’’زبانِ اُردو‘‘ یعنی لشکر والوں کی زبان سے پُکارا جو اُس کا نام ہی پڑگیا۔ مسلمانوں سے پہلے اُردو صرف بولی جاتی تھی لکھی نہیں جاتی تھی۔ مسلمانوں نے پہلی بار اُردو کو عربی رسم الخط میں لکھا۔ یہ وہ عرب مسلم مبلغ تھے جو مستقلاً ہندوستان میں بس گئے جن کی اولاد آج سید، قریشی، صدیقی، ہاشمی، عباسی، ایوبی، کاظمی انصاری، قادری وغیرہ کہلاتی ہیں، آج بھی ’’اُردو قوم‘‘ میں عرب نسل کے مسلمان، ہندی و ایرانی نسل کے مسلمانوں سے زیادہ ہیں۔ ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کے بعد ۱۸۳۵ء میں انگریزوں نے فارسی کو ہٹا کر اُردو کو پہلی مرتبہ پورے ہندوستان کی سرکاری زبان بنادیا۔ جسکے بعد انگریزوں کے حواریوں نے اس زبان کو ہندوستان میں مقبول بنانے کے لئے یہ غلط فہمی پھیلائی، جس کے جواب میں ہندووں نے بھی قوم پرستی میں آکر ہندی کے نام سے اردو میں مزید بہت سی تبدیلیوں کی خواہش کی۔ مثلاً عربی رسم الخط کی تبدیلی، عربی اور فارسی الفاظ کی جگہ مقامی زبانوں کے الفاظ وغیرہ جو انگریزوں نے رد کردی۔ لیکن آج اُردو کی وہ تبدیل شدہ شکل ’’ہندی‘‘ بھارت کی قومی زبان ہے۔
البتہ دنیا کے کچھ ماہر لسانیات نے کئی مصنوعی زبانیں بنانے کی کوششیں کی ہیں۔ اس سلسلے میں جتنی بھی زبانیں بنی ہیں ان میں سے کسی بھی زبان کے الفاظ یا گرامر ایسی نہیں تھی جو بالکل نئی ہو کیونکہ ایسی زبانیں بنانا قرآن کے مطابق اللہ کی شان ہے۔ یہ تمام زبانیں جو اب تک بنی ہے، پہلے سے موجود مختلف قومی زبانوں کی جدید شکلیں کہی جاسکتی ہیں۔ جن میں سے ابھی تک صرف ’’اِسپَرانتو۔ Esperanto‘‘ زبان کامیاب رہی ہے۔ جس کو پوری دنیا کے اتحاد کے لئے ۱۸۸۷ء میں ڈاکٹر زمن ہوف‘‘ نے آسان زبان کے اصول پر بنایا تھا۔ دنیا میں اس زبان کو کافی پذیرائی ملی جس کی وجہ سے بہت سے مسلم اس زبان کو تبلیغی مقاصد کے لئے سیکھتے ہیں۔ اگر دنیا کی اکثریت اِسپرانتو، انگریزی یا کسی اور زبان کو واحد عالمی زبان تسلیم کرلیں تو بھی تمام مسلمین کا فرض ہے کہ وہ عربی لسان کو ہی اپنے درمیان رابطے کی زبان رکھے اور اسی کو عالمی لسان بنانے کی کوشش جاری رکھیں۔

عبرانی اور عربی میں موازنہ:

کئی ماہر لسانیات کے مطابق عبرانی زبان عربی کی بگڑی ہوئی شکل ہے اور یہ بات عبرانی رسم الخط اور دونوں زبانوں کے ذخیرہ الفاظ اور گرامر سے بھی آسانی سے ظاہر ہوجاتی ہے۔ مثلاً عربی کا ہر۔س۔ عبرانی میں۔ ش۔ہے۔ ، ب۔و۔ہے، ف۔پ اور کہیں ک۔خ ہے وغیرہ اگر ایسی بہت سے غلطیاں درست کردی جائے تو عبرانی عربی زبان ہی ہے۔ عبرانی چونکہ دواڑھائی سو سال تک ایک مردہ زبان تھی جو انیسویں صدی کے آخری عشرے میں اسرائیلی ریاست کی خاطر زندہ کی گئی۔ اس لئے و ثوق سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اس کا اصل سے کوئی تعلق ہے لیکن عربی ہر زمانے میں مسلسل بولے جانے والی زبان رہی ہے۔ اس لیے عبرانی کا (شین۔ دانت) اصل میں عربی کا سِن۔ دانت) ہے اسی طرح عبرانی (سافاہ۔ ہونٹ) عربی کا ( شَفَہ۔ ہونٹ) ہے۔ یہودی اپنی نسبت موسیٰ ؑ سے کرتے ہیں، قرآن میں لکھا ہے: ’’وَمِنْ قَبْلِہِ کِتَابُ مُوْسَی اِمَاماً وَرَحْمَۃً وَھَذَا کِتَابُُ‘ مُّصَدِّقُ‘ لِّسَاناً عَرَبِیّاً ہ‘‘ (۴۶: احقاف:۱۲) ’’اوراس (قرآن) سے قبل موسیٰ کی کتاب امام اور رحمت ہے یہ کتاب تصدیق کرنے والی ہے عربی زبان کو۔‘‘ یعنی ان آیات میں اللہ نے یہودیوں کو بھی عربی لسان کی طرف متوجہ کیا کہ وہ عربی پر غور کریں۔ یہودی موسیٰ ؑ اور اُس کی کتاب کی زبان عبرانی بتاتے ہیں اس کے باوجود انہوں نے کئی صدیوں تک اس مقدس زبان کا استعمال نہیں کیا اور کروڑوں یہودیوں کا ہجرت کے بعد اپنی زبان کو فراموش کرنے کی دلیل بہت کمزور ہے۔ ہر شخص ہجرت کے بعد اپنی مادری زبان فراموش کرے کوئی ضروری نہیں، اس کی مثال دنیا میں بہت مہاجر قوموں سے دی جاسکتی ہے۔ آج بھی اسرائیل کے چاروں طرف عربی زبان بولی جا رہی ہے اور یہ بات بھی ممکن ہے کہ یہودیوں کے اندر ماضی میں ’’عبرانی رسم الخط‘‘ میں ’’عربی زبان‘‘ ہی بولی جاتی ہو اور بعد اسلام ان یہودیوں نے اس عربی جیسی زبان کو قرآن سے خوفزدہ ہوکر ترک کردیا ہو اسی طرح عیسیٰ ؑ کی سریانی یا آرامی زبان کو بھی آج مردہ کہا جاتا ہے جبکہ اناجیلِ اربعہ میں عیسیٰ ؑ کے اصل الفاظ عربی زبان جیسے ہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں کا موسیٰ و عیسیٰ ؑ کی زبانوں کو مشکوک بنانے کا مقصد ان کی اصل زبان عربی سے لوگوں کی توجہ اٹھانا ہے۔ آج بھی دنیا میں چھوٹی چھوٹی زبانیں زندہ ہیں جو کم اہمیت کی حامل رہی ہیں مثلاً سرائیکی، ہندکو وغیرہ تو پھر اللہ کے انبیاء ؑ کی زبانیں ناپید ہونا سمجھ سے باہر ہے اور یہ ایک بہت بڑی سازش ہے آج بھی اسرائیل کی سرکاری زبانیں عبرانی کے ساتھ عربی ہونا بھی اس شکوک کو بڑھتا ہے۔ اسرائیل کے اسکولوں، عدالتوں اور آئین ساز اسمبلی میں عبرانی کے ساتھ عربی زبان بھی مشترکہ طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اگر ماضی میں عبرانی ، آ رامی و سریانی زبانیں وجود رکھتی بھی ہوں تو وہ عربی سے بہت ہی ملتی جلتی زبانیں ہوں گی لیکن آج جو عبرانی زندہ ہوکر ہمارے سامنے آئی ہے۔ وہ یہودیوں کو متحد کرنے کے لئے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے ایک ڈرامہ ہے جس کی وجہ سے اکثر مسلمان قرآن میں اکثر الفاظ کو عبرانی زبان کا بتاکر غلط ترجمہ بھی کرتے ہیں جبکہ وہ تمام الفاظ خالص عربی زبان کے ہیں!!!

اسلامی ممالک:

پوری دنیا میں مسلمین کی آبادی ایک ارب سے بھی زیادہ ہے جو دنیا کی کل آبادی کا بیس فیصد سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ یہ تمام آبادی اپنے بچوں کے نام عربی زبان میں رکھتی ہے جو پوری دنیا میں ان کی ایک اسلامی پہچان اور اتحاد کی علامت ہے لیکن اس کے باوجود پوری دنیا میں اکسٹھ (۶۱) اسلامی ممالک میں صرف پچیس (۲۵) اسلامی ممالک کی سرکاری زبان عربی ہے اور باقی چھتیس (۳۶) اسلامی ممالک کی سرکاری زبانیں غیر عربی زبانیں ہیں۔ ان ’’۳۶‘‘ اسلامی ریاستوں کی زبان عربی نہ ہونے کی وجہ ان کی انگریزوں، فرانسیوں اور روسیوں کے ہاتھوں سابقہ غلامی اور ان کی قوم پرستی ہیں جبکہ قرآن کریم ہمیں قوم پرستی نہیں بلکہ وحدت سکھاتا ہے۔ ’’اِنَّ ھَذِھِ اُمُّتُکُمْ اُمَّۃً وَاحِدَۃً ہ‘‘ (۲۱: انبیاء:۹۲)
بارہ (۱۲) اسلامی ممالک کی سرکاری زبان انگریزی ہے۔ (۱) پاکستان (۲) بنگلہ دیش (۳) ملائیشیا (۴) برونائی دارالسلام (۵) یوگنڈا (۶)کیمرون (۷) گمبیا (۸)گھانا (۹) مالدیپ (۱۰) موزمبیق (۱۱) نائجیریا (۱۲) سیرالیون ۔

نو (۹) اسلامی ممالک کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔ (۱) بینن (۲) برکینوفاسو (۳) گیبوں (۴) گنی (۵) مالی (۶) نائجیر (۷) سینیگال (۸) ٹو گو (۹) کوٹ دیویئر۔

چھ (۶) اسلامی ممالک کی سرکاری زبان روسی ہے۔ (۱) اُزبکستان (۲)تاجکستان (۳) قازقستان (۴) کرغیزیا (۵) ترکمانیہ (۶) آزربائی جان۔

نو (۹) اسلامی ممالک کی سرکاری زبان اپنی علاقائی زبانیں ہیں۔ (۱)افغانستان [دری، پشتو] ایشیا (۲) انڈونیشیا [بہاسا] (۳) ایران [فارسی] ایشیا (۴) گنی بساؤ [پرتگالی] افریقہ (۵) سورینام [ڈچ] ساؤتھ امریکہ (۶) البانیا [البانین] یورپ (۷) ترکی [ترکش] یورپ (۸) بوسنیا [بوسینین] یورپ (۹)کوسوّو (اقوام متحدہ کے تحت) [سربین] یورپ۔

عربی رسم الخط:

عربی رسم الخط دنیا کی زبانوں میں استعمال ہونے والا دوسرا سب سے بڑا رسم الخط ہے لیکن خوبصورتی کے لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے خوبصورت انسانی رسم الخط ہے جس نے دنیا کی کئی مسلم زبانوں کو اپنی خوبصورتی سے مانوس کیا۔ اسی لئے اکثر مسلمین اپنی علاقائی زبانوں میں عربی رسم الخط کو استعمال کرتے ہیں جن کے نام یہ ہیں۔ (۱) اردو (۲) سندھی (۳)پنجابی (۴)پشتو (۵)بلوچی(۶) سرائیکی (۷) کشمیری(۸) بروہی (۹) ہندکو (۱۰) گلگیتی (۱۱) چترالی (۱۲) فارسی (۱۳) دری (۱۴) آزیری (۱۵) مالی (۱۶)ازبک (۱۷)کرغز (۱۸)اویاگور (۱۹)کُردُش (۲۰) کزخ (۲۱)سواحیلی (۲۲)نوبین (۲۳) اجامی (۲۴)وولف (۲۵)فولانی (۲۶)کمورین (۲۷)بوسنین (۲۸)ہوسا (۲۹)مینڈیکا(۳۰)البانین (۳۱)بربر (۳۲)باشکیر (۳۳)چاگاتائی (۳۴)ترکمین
عربی رسم الخط کا فائدہ یہ ہے کہ عربی پڑھنے اور سیکھنے میں آسان ہوجاتی ہے اسی لئے اکثر مسلمان اپنی علاقائی زبانوں میں عربی رسم الخط استعمال کرتے ہیں اور عربی رسم الخط اپنا کر اسلام اور عربی زبان سے اپنی محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ تو کیا مکمل عربی لسان سیکھ کر اس اسلامی محبت کو مزید بڑھایا نہیں جاسکتا؟ ؟؟

عربی کی بین الاقوامی حیثیت:

اینکارٹا انسائیکلو پیڈیا 2008ء کے مطابق عربی زبان کے بولنے والوں کی تعداد اس وقت دنیا میں بیالیس کروڑ (422,039,637) سے بھی زیادہ ہے۔ جس میں مسلم و غیر مسلم عرب دونوں شامل ہیں۔ یہ زبان دجلہ سے لے کر بحرِ اوقیانوس کے کنارے تک بولی جاتی ہے اور تعداد کے اعتبار سے یہ دنیا کی دوسری بڑی زبان ہے۔ پہلی نمبر پر چینی زبان، چوتھے نمبر پر انگریزی اور بیسویں نمبر پر اُردو زبان ہے۔ عربی زبان اسلام کی وجہ سے دنیا کے کم و بیش ہر ملک اور یونیورسٹی میں سمجھی اور پڑھی جاتی ہے۔ جبکہ اس وقت دنیا میں پچیس (۲۵) اسلامی ممالک کی سرکاری اور قومی زبان بھی صرف عربی ہے جس میں بارہ ممالک براعظم ایشیا میں اور تیرہ ممالک براعظم افریقہ میں ہیں۔ جو سب عرب ممالک کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں:۔(۱) عراق (۲) شام (۳) عمان (۴) یمن (۵) متحدہ عرب امارات (۶) بحرین (۷) قطر (۸) اُردن (۹) لبنان (۱۰) کویت (۱۱) ممکۃ العربیۃ السعودیۃ (۱۲) فلسطین (۱۳) مصر (۱۴) صومالیہ (۱۵) لیبیا (۱۶) اریٹیریا (۱۷) چاڑ (۱۸) تیونس (۱۹) الجزائر (۲۰) مراکش (۲۱)موریطانیۃ (۲۲)کموروز (۲۳) جیبوٹی (۲۴)سوڈان (۲۵) صحارا ۔ جبکہ بہت سے دوسری ممالک میں بھی عربی بولنے والے ’’عرب‘‘ لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں جن میں ایران، فرانس، ترکی، ارجنٹینا، تنزانیہ، امریکہ، نیدر لینڈ، بیلجیئم، مالیوغیرہ شامل ہیں۔

عرب ممالک کی کوششوں سے عربی دنیا کے کئی بڑے اِدارؤں کی سرکاری زبان بھی ہے جیسے سب سے بڑا اِدارہ ’’اقوام متحدہ‘‘ (دو سو سے زائد ممالک کی تنظیم) کی چھ منتخب سرکاری زبانیں (۱) عربی (۲) انگریزی (۳)فرانسیسی (۴)روسی(۵)چینی (۶)ہسپانوی ہیں۔ اس کے علاوہ ’’تنظیم اتحادِ افریقۃ‘‘ (۵۰ سے زائد ممالک کی تنظیم) کی تین سرکاری زبانیں (۱) عربی (۲) انگریزی (۳)فرانسیسی ہیں۔ اسلامی ممالک کی تنظیم ’’منظمۃ المؤتمر الاسلامی‘‘ (۵۷ رکن اور ۴ مبصر ممالک کی تنظیم) کی تین سرکاری زبانیں (۱) عربی (۲) انگریزی (۳) فرانسیسی ہیں۔

جبکہ ’’عرب لیگ‘‘ (۲۵) ممالک کی تنظیم) کی سرکاری زبان صرف ’’عربی‘‘ ہے۔ اس وقت دنیا میں تمام عرب ممالک اقتصادی اعتبار سے بہت مضبوط حیثیت رکھتے ہیں اسی لیے پاکستان کے زیادہ تر لوگ عرب ممالک میں کام کرنے جاتے ہیں ان ممالک میں عربی نہ جاننے کی وجہ سے وہ اپنے ہی مسلم بھائیوں میں اجنبی بن جاتے ہیں اگر پاکستان کی قومی زبان اُردو کی بجائے عربی ہوتی تو عرب ممالک سے اچھے رابطہ بھی استوار ہوجاتے اور ہمارا ملک بھی ان کی طرح اقتصادی اعتبار سے امیر ملک بن جاتا اور پاکستانی مسلمانوں کو عربی سیکھانا اتنا مشکل بھی نہیں آخر عربی سے مُتَشابہ ۲ فیصد عوام کی زبان ’’اُردو‘‘ کو بھی ۹۸ فیصد پاکستانی سیکھتے ہی ہیں جن سے ان کو کوئی معاشی فائدہ نہیں بلکہ اُلٹا نقصان ہوتا ہے جبکہ عربی سیکھنے سے ہر پاکستانی کو فائدہ ہے!!!

(16)علاقائی زبانیں:

یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں بولی جانے والی کل زبانوں کی تعداد (3824) ہیں۔ یورپ میں (۵۸۷)، ایشیا میں (۹۳۷)، بھارت میں (۴۰۰)، افریقہ میں (۲۷۲) اور دونوں براعظم امریکہ میں (۱۶۳۴) زبانیں بولی جارہی ہیں اگر ہم تمام عرب دنیا کا جغرافیائی جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں صرف عرب ممالک میں علاقائی زبانوں کی تعداد سب سے کم ہے جبکہ پوری دنیا میں ہر تیس چالیس کلو میٹر کے بعد زبان کی تبدیلی اور لب و لہجہ کا تغیر کا اصول ملتا ہے ۔ مثلاً یورپ کی سرحدیں روس کو چھوڑ کر 5.6 ملین اسکوائر کلومیٹر ہے اور اس پورے خطے میں (۵۸۷) زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اسی طرح عرب ممالک کی سرحدیں 11 ملین اسکوائر کلو میٹر (یعنی ۴ ملین اسکوائر میل) ہے یعنی عرب ممالک کی سرحدیں یورپ سے دگنی ہیں۔ تبدیلی زبان کے قانون کے تحت یورپ کے مقابلہ میں عرب ممالک میں تقریباً ایک ہزار ایک سو (1100) زبانیں بولی جانی چاہیے۔ لیکن اس دو براعظم پر مشتمل پورے عرب خطے میں علاقائی زبانوں کی تعداد سو (100) بھی نہیں ہے۔ یعنی دنیا میں کلو میٹر کے حساب سے تبدیلی زبان کا اصول عرب دنیا میں کہیں نہیں پایا جاتا۔ یعنی عرب ممالک میں آغازِ اسلام کے بعد امت واحدہ کے عقیدے نے اب تک تقریباً ایک ہزار زبانوں کو بالکل معدوم کردیا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کی سرحدیں (2) ملین سکوائر کلو میٹر تک ہے جو بھارت سے تقریباً نصف ہے۔ بھارت میں چار سو زبانیں بولی جاتی ہیں تو تبدیلی زبان کے قانون کے تحت سعودیہ میں بھی دو سو زبانیں ہونی چاہئے لیکن اس پورے خطے میں عربی کے علاوہ سعودیہ کی کوئی علاقائی زبان نہیں ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ شروع کے مسلمانوں کے نزدیک ہر مسلم کو عربی سیکھنا اور سکھانا فرض تھا۔ بعد میں لوگوں نے اسلام کی محبت میں اپنی علاقائی زبانوں کو بھی ترک کردیا اور اپنے آپ کو اسلامی نسبت سے عربی مسلم کہلایا اور اپنے بچوں کو صرف عربی زبان سکھائی جس کی وجہ سے اس پورے عرب خطے میں علاقائی زبانیں ناپید ہوگئیں۔ یہ سب کام عہدِ رسالت اور عصرِ صحابہؓ کے دور میں ہوا جس کو ’’خیرالقرون‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ اللہ صحابہ کرامؓ کے بارے میں فرماتا ہے۔ : ’’لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَافِیْ قُلُوْبِھِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْھِمْ وَاَثَابَھُمْ فَتْحاً قَرِیْباً ہ‘‘ (۴۸:الفتح:۱۸) ’’(اے رسول!) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے تو اللہ ان سے راضی ہوا اور جو ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی۔‘‘ ’’رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْ عَنْہُ اُوْلَءِکَ حِزْبُ اللّٰہِ ہ‘‘ (۵۸:مجادلہ:۲۲) ’’اللہ ان (صحابہِ رسول ) سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہیں یہی اللہ کا لشکر ہے۔‘‘مادری زبان کے ساتھ انسان کا جو فطری لگاؤ ہوتا ہے، وہ محتاجِ بیان نہیں۔ لیکن صحابہ رسولؓ کی دعوت پر دینِ حق کو قبول کرنے والوں نے اس طبعی رجحان کو بھی الٹ کر رکھ دیا۔ اگر اس وقت کے مسلمین اپنی علاقائی زبانوں کو عربی زبان کی خاطر چھوڑ سکتے تھے تو کیا ہماری زبانیں قرآن کی زبان سے بھی زیادہ افضل ہے؟؟؟ جو اسے ہم نہیں چھوڑ سکتے ہیں!!!

جبکہ قرآن ہمیں اپنی مادری زبانوں کو چھوڑ کر عربی کو اپنانے کی تعلیمات نہیں دیتا ہے بلکہ مادری زبان کے ساتھ ساتھ ہر مسلمان کو عربی زبان بھی سیکھنی چاہیے تاکہ دنیا بھر کے مسلمان ایک دوسرے سے آسانی سے رابطہ کرسکیں اور ایک دوسرے کو قرآن کی صحیح تعلیمات دے سکیں۔
 
عابد قائم خانی
About the Author: عابد قائم خانی Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.