رمضان المبارک کی فلاسفی

(DR ZAHOOR AHMED DANISH, NAKYAL KOTLE AK)
اللہ عزوجل کا کوئی بھی کام حکمت سے خالی نہیں ۔اس کے احکام میں ہمارے لیے ہزارہا حکمتیں ہیں ۔جن کے ثمرات کبھی ہم پر ظاہر کردیے جاتے ہیں اور کبھی ہم محسو س نہیں کرپاتے یا پھر آئندہ کے لیے ذخیرہ کرلیے جاتے ہیں ۔رمضان المبارک بھی مسلمانوں کے لیے ایک نعمت ہے جس میں وہ اپنے ربّ کی معرفت کے زینے چڑھتاہے ۔

آئیے ہم رمضان کی فلاسفی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

خوف و ڈر:
رمضان المبارک میں بندہ اپنے دنیاوی معاملات کو ثانوی حیثیت دیکر رضا الہی کے کاموں کو ترجیحا سرانجام دیتاہے ۔وہ اپنے ربّ کے عذاب سے ڈر کر راہ مستقیم پر چلنے کو راہ نجات جانتاہے ۔قران نے اس بات کو ''تاکہ تم تقوٰی اختیار کرو''یعنی برائیوں سے بچو۔جب انسان برائی سے اجتناب کرے گا،بچے گا،دور رہے گاتو اس کے مثبت اور قابل قدر اثرات نہ صرف اس کی ذات پر بلکہ باالواسطہ یا بلاواسطہ معاشرے پر بھی نظر آئیں گئے ۔معلوم ہواکہ رمضان معاشرتی برائیوں کا قلع قمع چاہتاہے ۔

آس و امید :
انسان کی بقاء امید پر ہے ۔اگر وہ پریشان ہے تو اسے یہ امید دلاکر معمول پر لایا جاسکتاہے کہ دیکھو ۔بہتر ہوگا۔سب ٹھیک ہوجائیگا،اس نقصان کا ازالہ ہوجائے گاتو اس کی ڈھارس بند جائے گی۔یوں تو ربّ کی رحمت ہرلمحہ اپنے بندے کی منتظرہے لیکن رمضان المبارک میں اس کی خصوصی عنایات کا ظہورہوتاہے ۔بندے کو امید کا پروانہ یقین کی سیاہی سے رقم کردہ دے دیاجاتاہے کہ تیری بہتری کی امید ہے ۔آس لگائے رکھ ،امید لگائے رکھ ،بہتر ہی ہوگا،گویارمضان میں بندے کی اعصابی تربیت ہورہی ہوتی ہے کہ وہ ڈی مورال نہ ہوبلکہ پرامید رہے ۔کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کی وسیع رحمت کا اظہار ہوتا ہے ، مثلا اللہ سبحانہ وتعالی نے چند ایام کے روزے فرض کیئے اللہ سبحانہ وتعالی نے صرف دن کا روزہ فرض کیا رات کا نہیں روزہ میں اگر کوئی شخص بہول کر کہا پی لے تواس کا روزہ پہر بہی صحیح ہے جنت کے دروازے کہول دیئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں سرکش شیاطین وجنات قید کر دیئے جاتے ہیں روزہ دار کا اجر اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنے ساتہہ خاص کیا .یعنی مزدور کو اس کی مزدوری کی امید اس ماہ میں دوگناکی ہوتی ہے ۔اس کا کام کا عزم بھی دیگر ماہ کی بنسبت قابلِ دید ہوتاہے ۔ ایک رمضان دوسرے رمضان تک کفارہ ہے ان گناہوں کے لیئے جو ان کے درمیان کیئے گئے بشرطیکہ کبائر گناہوں سے اجتناب کرے جس شخص نے إیمان واحتساب یعنی اجر و ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکہے تو اس کےاگلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی اگرچہ مہینہ ایک دن کم ہوجائے ۔چنانچہ رمضان کے ذریعے ہمیں پرامید رہنے ،پرعزم رہنے کا سبق ملتاہے۔مایوسی کو ختم کرنے کا جذبہ میسر آتاہے ۔

امتحان کی تیاری اور قوت برداشت کی مشق:
ماہ ِ صیام کو دیکھیں تو یوں لگتاہے گویا یہ امتحان کی تیاری ہے ۔جس میں طالبِ علم آئندہ کے لیے اپنی مشق کررہاہے تاکہ کڑھے سے کڑھے یا مشکل وقت میں اپنے اعصاب پر قابو رکھ سکے اور نمبردآزماہوسکے۔نفسانی خواہشات انسان کے اعصاب کو شیل کردیتی ہیں انسان آپے سے باہر ہوجاتاہے وہ کچھ کرگزرتاہے جو بعد میں سوچنے پر اس کے لیے سراسر حماقت ثابت ہوتاہے ۔رمضان المبارک کی پرکیف بہاروں میں وہ نہ صرف خواہشات پر قابو بلکہ اپنے اعصاب پر بھی گرفت رکھ کر سال بھر کے لیے تیاری کرلیتاہے ۔

گذشتہ امتوں کی مشکلات کااحساس اور اپنی آسانیوں پر تشکر:
رمضان مؤمن کے دل میں اللہ تعالی کی محبت پیدا کرتا ہے ، کیونکہ رمضان میں مؤمن اللہ تعالی کا عظیم کرم وعطاء ہے ، کیونکہ اللہ تعالی روزہ دار کی اور رمضان میں قیام کرنے والے کی اور افطاری کرنے والے کی مغفرت کرتے ہیں اور رمضان میں نیکی کا ثواب دوگنا ہوجاتا ہے ، اور روزہ دار کے لیئے خاص اجر ہے ، اور یہ سب اللہ سبحانہ وتعالی کا محض فضل ہے۔پھر مسلمان جب امّت محمدیہ پر ہونے والی عنایات کو دیکھتاہے ۔تو تقابل کرنے پر اسے اپنی قسمت اپنی فضیلت شکر اداکرنے کو جی چاہتاہے ۔یہاں کنتم خیرامۃ کا سرٹفیکیٹ مل گیا۔بہترین امت ہو۔روزے وہ بھی رکھتے تھے ہم بھی ہمیں اجر میں ان سے زیادہ نوازگیا۔معلوم ہواکہ رمضان المبارک گویا غمی کااحساس دلاکر شاکر بنانے کے لیے بھی ایک مشق ہے ۔

احتساب،اپنی جانچ پڑتال:
مجھے رمضان کی فلاسفی میں ایک بات یہ بھی سمجھ میں آئی ہے کہ اس میں بندہ اپنااحتساب کرسکے۔اپنے ٹمپرمنٹ کو چیک کرسکے ۔اسے اپنی طاقت ،قوت اور زور بازو کااندازہ ہوسکے ۔نیز یہ کہ رمضان المبارک میں روزہ کی حالت بندہ اور رب کے درمیان مخفی ہے ۔اس میں وہ اپنے عہد پر کتناپورا اتر رہاہے ۔اگر کمرے میں چھپ کر کھابھی لے گاتو ربّ کو معلوم ہے مخلوق تو نہیں جانتی ۔لیکن پھر بھی وہ کھاتانہیں ،نفسانی خواہش کو پورا نہیں کرتا۔یہ احتساب کی بہترین مثال ہے ۔

غربت ختم کرنے کاسیزن:
رمضان طاعات وخیرات میں مسابقت ومقابلہ کی ترغیب دیتا ہے ، لہذا رمضان میں طاعات وخیرات کے تمام مجالات ومیدان اور خیر کے تمام دروازے کہلے ہیں ، لہذا اہل ایمان کو چائیے کہ یہاں مسابقت ومقابلہ کریں اوراللہ تعالی کے اس فرمان پرعمل کریں لقولہ تعالی: وَسَارِعُواْ إِلَی مَغْفِرَۃٍ مِّن رَّبِّکُمْ . آل عمران . ، لیکن رمضان اس مقابلے کا خاص میدان ومجال ہے۔اس میں غیرمستحکم لوگ کو کچھ مالی سہارامل جاتاہے ۔معاشرہ میں جمود کا شکار پیسہ حرکت میں آجاتاہے ۔جو سال بھر خرچ کرنے میں بخیل تھا ان عطربار ساعتوں میں اس کی مٹھی بھی کشادہ ہوجاتی ہے ۔یوں رمضان میں غربت ختم کرنے کا سیزن ہوتاہے۔تاکہ صاحب ِ ثروت ،غرباء و مساکین کی پسماندگی کو دور کرنے میں ربّ تعالیٰ کی عطاکردہ حیثیت سے نفع پہنچائیں ۔

زندگی میں تبدیلی کا ساماں ہو:
رمضان المبارک کے فضائل پر آپ غور کریں تو آپ کو محسوس ہوگاکہ اس ماہ میں جنت و جہنم کے معاملات ،مسلمان کے درجات میں تبدیلی ،بخشش و برات کے مژدے وغیرہ ۔اس بات کو یوں سمجھیں کہ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، جہنم میں تبدیلی آجاتی ہے ، کیونکہ جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ، شیاطین کی حالت میں تبدیلی آجاتی ہے ، کیونکہ ان کو قید کردیا جاتا ہے ، لہذا یہ عالم غیب کی کچھ حالت ہے ، رہا مسلمان انسان تو اس کو بہی لازم ہے کہ اپنے إیمان وسلوک وعمل وعبادت وقلب وکردار میں تبدیلی پیدا کرے۔

اتحاد،اتفاق،اجتماعیت کا درس:
کبھی غور کیا اس باریک بین بات پر کہ رمضان امت کو وحدت واجتماع کی تعلیم دیتا ہے ، کیونکہ پوری امت چاند دیکہنے کے بعد روزہ رکہتے ہیں ، اورسب اجتماعی طور پر طلوع صبح صادق کے وقت روزہ بند کرتے ہیں ، اورغروب آفتاب کے وقت افطار کرتے ہیں۔ایسا نہیں کہ وڈیرہ جلدی کررہاہے تو غریب دیر سے ۔حاکم جلدی کررہاہے تو محکوم دیر سے ایساکچھ بھی نہیں ۔بلکہ سبھی یکساں ،بلاتفریق ،اکائی ،یکسانیت کی عمدہ مثال پیش کرتے ہیں ۔

ہر چیز کا ٹھیک ٹھیک استعمال :
محترم قارئین :اس ماہ ِ ذیشان نے ہمیں شریعت کے حدود میں کمی وزیادتی نہ کرنے کی تعلیم دی ، لہذا شریعت نے رمضان کا ایک مہینہ متعین کیا ہے ، لہذا اس میں کمی زیادتی جائز نہیں ہے ، اسی لیئے عید کے دن روزہ رکہنا حرام ہے۔

وقت کی قدردانی :
رمضان وقت کی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے ، اور وقت کی حفاظت شریعت کے اہم مقاصد میں سے ہے

اچھے کرنے کاپیغام:
رمضان حسن اخلاق کی تعلیم دیتا ہے ، قال صلی اللہ علیہ وسلم فإن امرؤ شاتمہ أو قاتلہ فلیقل انی صائم . یعنی روزہ دار کو اگر کوئی برا کہے یا گالی دے یا لڑائی جھگڑا کرے تو روزہ دار اس کے جواب میں صرف یہ کہے میں روزہ دار ہوں ، اور یہ کہنا ریاء نہیں ہے ، بلکہ اس بات کی خبردینا ہے کہ جس عظیم عبادت کو میں بجالا رہا ہوں وہ مجہے تمام فضول ولغو امور میں مشغول ہونے سے منع کرتا ہے ، لہذا میں تیری برائی کا جواب برائی سے نہیں دے سکتا۔یعنی تعمیر شخصیت کی بہترین مثال ہے ۔

محترم قارئین:رمضان المبارک کی فلاسفی مجھے جو سمجھ میں آئی آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نظر کردی ۔مزید فکرو نظر کے بعد کچھ علمی نکات ہاتھ آئے تو دوسری قسط میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔اپنی آراء ضرور دیتے رہاکریں ۔اس سے لکھنے والے کاحوصلہ بلند اور جذبات کو تازگی ملتی ہے ۔اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔اللہ ہم سب کا حامی ہو ناصر ہو
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 564 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 230 Articles with 218927 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

ACHI TEHRER HY.ISLAM KO MNTAQE ANDAZ ME APNE PAISH KIA BOHT BEHTER
By: SAJI AHMED, LAHOOR on Jul, 17 2012
Reply Reply
0 Like
A MEANING FULL ARTICLE ,REALY IM VERY IPRESS UR THOUGH.THANKS TO SHARE US
By: SAFDAR NAQVE, KARACHI on Jul, 17 2012
Reply Reply
0 Like
Language: