آدم ثانی کا بحری بیڑا

(DR ZAHOOR AHMED DANISH, NAKYAL KOTLE AK)
ربّ تعالیٰ نے بنی نوع انسانیت کی فلاح وکامرانی ،انسانیت کی اصلاح کے لیے اپنے نبی مبعوث فرمایئے :ان انبیاء علیہم السلام میں سے ایک نبی کریم حضرت نوح علیہ السلام ہیں ۔جن کے بارے میں ربّ تعالیٰ نے اپنی لاریب کتاب میں ارشادفرمایا:
اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰۤی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ(پ٣،ال عمران ،آیت :٣٣،)
ترجمہ ئ کنزالایمان :بے شک اللّٰہ نے چُن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی آل اور عمران کی آل کو سارے جہان سے ۔
ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ :وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖۤ اِنِّیْ لَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (سورۃ ہود،پ١٢،آیت:٢٥)
ترجمہ ئ کنزالایمان:اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ میں تمہارے لئے صریح ڈر سنانے والا ہو

تعارف:
نام عبد الغفارلیکن مشہورکسی اورنام سے وجہ اپنی قوم کیلئے اتنے خیرخواہی اپنی امت کی بھلائی کیلئے دعائیںکرتے اورتبلیغ کرتے ہوئے اپنی زندگی گذاردی،جی ہاںحضرت وہ نبی حضرت نوح علیہ السلام ہیںجن کانام اصل نام عبدالغفارمگرچونکہ آپ اپنی امت کی گمراہی اورپھراس کے سبب ان پرعذاب کی وجہ سے بہت روئے تھے اوراسی وجہ آپ کانام نوح پڑگیا۔

حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالی کے رسول ہیں،حضرت نوح کے القاب میں ایک لقب شیخ الانبیاء ہے،،ان کی والدہ "قِیُنوش"بنت راکیل تھیں۔ آپ نے تقریبا950سال تک لوگوں کو اللہ کی طرف بلایااور1600سال عمرپائی مگر آپ کی قوم کا جواب یہ تھا کہ آپ بھی ہماری طرح عام آدمی ہیں اگر اللّٰہ کسی کو رسول بھیجتا تو وہ فرشتہ ہوتااور اس میں سے صرف 80 لوگوں نے ان کا دین قبول کیا۔

قرآن مجید نے ان کی زندگی کے مختلف حصوں کی باریک بینی کے ساتھ تفصیل بیان کی ہے ایسی جو زیادہ تر تعلیم و تربیت اور پندو نصیحت کے پہلوؤں سے متعلق ہیں _ اور ان کی قوم کی طولانی عمریں تقریبََا300 سال تک لکھی گئی ہیں ۔

آپ کے تین بیٹے تھے ""حام"" ""سام"" یافث ""اور مو رخین کا نظریہ یہ ہے کہ کرئہ زمین کی اس وقت کی تمام نسل انسانی کی بازگشت انھیں تینوں فرزندوں کی طرف ہے ایک گروہ ""حامی"" نسل ہے جو افریقہ کے علاقہ میں رہتے ہیں دوسرا گروہ ""سامی ""نسل ہے جوشرق اوسط اور مشرق قریب کے علاقوں میں رہتے ہیں اور ""یافث "" کی نسل کو چین کے ساکنین سمجھتے ہیں حضرت نوح علیہ السلام نے 950سال تبلیغ فرمائی جس کے نتیجے میں7مسلمان ہوئے بعض نے 80 بھی لکھے ہیں۔

نوح علیہ السلام کی داستان عربی اور فارسی ادبیات میں بہت زیادہ بیان ہوئی ہے ، اورآپ صبر وشکر اور استقامت کی ایک داستان تھے ،

یہاں کہا جاتاہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے بعد350 سال تک زندگی کی اور تقریباً 1600 سال کی عمر میں رحلت کی اور موجودہ نجف اشرف میں سپرد خاک کیے گئے-

حضرت نوح پہلے اولوالعزم پیغمبر اور صاحب شریعت تھے، کہ ان کی توصیف میں کہا گیا ہے- ایک عقلمند مرد تھے جو فصاحت و بلاغت میں کمال رکھتے تھے، کافی عقل و شعور رکھتے تھے اور کافی صبر کے مالک تھے ، حضرت نوح نے بڑے صبر و تحمل سے اپنی قوم کی راہنمائی کی ہے،-لیکن ان کی قوم نے ہٹ دھرمی اور عناد کی راہ اختیار کی اور وہ لوگ خدا کو بھول چکے تھے اور ایک خدا کی بجائے انہوں نے مٹی اور پتھر کے کئی خدا بنالیے تھے، نہ صرف ان کی عبادت گاہیں بتوں سے اٹی پڑی تھیں بلکہ ہر گھر میں بت رکھے ہوئے تھے جن کی وہ پوجا کیا کرتے اور ان سے مرادیں مانگا کرتے تھے۔اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ حضرت نوح علیہ السلام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور خدا کی بارگاہ میں استغاثہ کے لیے ہاتھہ بلند کر کے فرمایا:"خداوند؛ یہ لوگ میری دعوت کو قبول نہیں کرتے ہیں اور خداوند نے حضرت نوح کی بات کی تائید فرماتے ہوئے، اس کی قوم کے ایمان لانے کے بارے میں فرمایاکہ: "جنہوں نے (آج تک) ایمان لایا ہے ان کے علاوہ تیری قوم میں سے کوئی فرد ایمان نہیں لائے گا؛"

اس لیے حضرت نوح علیہ اسلام نے ان کے لئے عذاب کی بددعافرمائی جس کے نتیجے میں ان پر عذاب نازل ہوا۔ خداوند تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ ایک کشتی بناؤ اور یہ بھی حکم دے دیا کہ دیکھنا اب کسی کی سفارش نہ کرنا، اب ان پر ضرور عذاب نازل ہوکے رہے گا، حضرت نوح علیہ السلام خدا کے حکم کے مطابق کشتی بنانے میں لگ گئے۔

اسی لئے آپ کو آدم ثانی یعنی زمین پرموجود انسانوں کادوسرا باپ(آدم) بھی کہاجاتاہے ۔

حضرت نوح علیہ السلام پہلے نَجَّارہیںجنہوںنے کشتی بنائی۔

جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا نے حکم دیا کہ اپنے اہل اور ان لوگوں کو کشتی پر سوار کرلو جو مجھ پر ایمان لے آئے ہیں اور ہر جانور کا ایک ایک جوڑا بھی کشتی میں رکھ لو۔

جب سب لوگ کشتی میں بیٹھ گئے تو خدا کے حکم سے زمین پھٹ پڑی اس کے ساتھ ہی موسلا دھار بارش شروع ہوگئی، زمین پر پانی بڑھنے لگا اور حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی پانی میں تیرنے لگی، پانی بڑھا تو حضرت نوح علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کا بیٹا پانی میں ڈوبنے لگا ہے آپ نے اسے آواز دی کہ اب بھی آجاؤ تاکہ خدا کے عذاب سے بچ سکو، مگر اس نے جواب دیا تم جاؤ، میں کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اپنی جان بچالوں گا۔

پانی تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ دنیا کے نافرمان اور سرکش لوگ اس سیلاب میں فنا کے گھاٹ اتر گئے اور حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑی کی چوٹی پر جا کر ٹھہر گئی۔اب خدا کے حکم سے سیلاب تھم گیا اور زمین نے سارا پانی اپنے اندر جذب کرلیا۔اب خدا نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ کشتی سے اتر جاؤ، تجھ پر اور وہ لوگ جو تجھ پر ایمان لائے ہیں ان پر ہماری رحمتیں برکتیں نازل ہوں گی،

چوں کہ اس طوفان میں دنیا کے تمام لوگ ہی فنا ہوگئے تھے، صرف چند لوگ ہی زندہ بچے تھے، اس لیے حضرت نوح علیہ السلام کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے، ان ہی کی اولاد اس وقت دنیا میں آباد ہے۔بعض روایات کے مطابق طوفان مکہ اور خانہ کعبہ تک پھیلا ہوا تھا تو یہ صورت بھی اس بات کی مو ید ہے کہ طوفان عالمگیر تھا _ یہاں ایک بات بہت ہی اہمیت کی حامل ہے کہ قرآن مجید دوبے تقوی عورتوں کی سرزانشت آتی ہے جو دو بزرگ پیغمبر وں کے گھر میں تھیں ،اور دومومنہ وایثارگر خواتین کابھی بیان کرتاہے جن میں سے ایک تاریخ کے جابرترین شخص کے گھر میں تھی _

پہلی دو''اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے ایک مثال بیان کی ہے حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کی مثال اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کی مثال ہے '' انہوں نے ان سے خیانت کی لیکن ان دو عظیم پیغمبر وں سے ان کے ارتباط نے عذاب الہی کے مقابلہ میں انھیں کوئی نفع نہیں دیا '۔

حضرت نوح کی بیوی کا نام ''وَالِھَہ'' اور حضرت لوط کی بیوی کا نام ''وَالِعَۃ''تھا ۔بہرحال ان دونوں عورتوں نے ان دونوں عظیم پیغمبروں کے ساتھ خیانت کی ، حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ اس پیغمبر کے دشمنوں کے ساتھ تعاون کرتی تھی اور ان کے گھر کے راز انھیں بتاتی تھی اور حضرت نوح کی بیوی بھی ایسی ہی تھی _

قرآن پاک ان کے بارے میںفرماتا ہے کہ: ''اور ان سے کہا گیا کہ تم بھی آگ میں داخل ہونے والے لوگوں کے ساتھ آگ میں داخل ہوجاؤ۔بہرحال : آج کے موضوع کوہم اس بات پراختتام پذیرکرتے ہیںحضرت نوح علیہ السلام اس طوفان کے بعد450سال دنیاتشریف فرمارہے اوراپنی قوم اس دوران نصیحت فرماتے کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتے رہواوربت پرستی مت پڑجاناجیسا سابق قوم پر گئی ۔

اللہ عزوجل :ہمیں انبیاء کرام علیہم السلام کے عطاکردہ پیغام پر عمل کی توفیق عطافرمائے۔اللہ عزوجل :ہمیں دین ِ متین کی سمجھ بوجھ عطافرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1183 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 230 Articles with 218955 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

Mr. Zahoor ahmad danish, u don't have control on your knowledge. once u said that Hazart Nooh lived 350 years after "tofan". and after that u said that Hazrat Nooh lived 450 year after "tofan".
Can u explain this?
By: Babur, Mandi Bahauddin on Oct, 31 2012
Reply Reply
0 Like
محترم و مکرم عظیم صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اللہ آپ جسیے علم دوستوں کا سائبان تابندہ رکھے ۔آپ کرم فرماتے رہتے ہیں ۔ان شاء اللہ آپ کی آراہ پر عمل کروں گا۔
By: DR ZAHOOR AHMED DANISH, NAKYAL KOTE AK on Aug, 05 2012
Reply Reply
0 Like
بہت اچھی تحقیق و کاوش ہے۔ بڑا ہی اہم نقطہ کہ ہر برگذیدہ ہستی چاہے انبیاء و رسل علیہم الصلوت والسلام اجمعین ہوں یا اولیائے کرام رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین ہمیشہ سے بالکل عام و سادگی پسند، کہ لوگ دھوکہ کھاتے چلے آ رہے ہیں، ان کی باتوں کے انکاری، اور کہتے ہیں کہ کوئی موجزہ ہو تو ساتھ چلیں، یہ حالت ہے لوگوں کی۔

اور آج کل کے بارے کیا خیال ہے کہ کوئی آ بھی گیا تو کیا حال ہو گا اس امت کے ہاتھوں؟ جسکو کہ پیٹ کے علاوہ کچھ سمجھ ہی نہیں آتا۔

محترم ڈاکڑر صاحب ان خاص واقعات کہ جنمیں حضرت یوسف علیہ السلام، بالخصوص حضرت خضر علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعات اور اگر ان جیسے واقعات کا ذکر کسی اور جگہ بھی قرآن پاک میں ملتا ہے تو ضرر تحریر کیجیئے گا تا کہ ہر عام انسان کو بزرگی کی راہوں کا علم ہو سکے اور بالخصوص دوسروں کی بات سننے و سمجھنے کی تربیت ملے برداشت وتحمل کی حقیقت سے آ گاہی ہو تا کہ اپنی تیاری ہو سکے اس وقت کے لیے کہ اس برگذیدہ چنی ہوئی ہستی کے آے پر ہم تو ساتھ مل سکیں اگر کوئی دوسرا نہ ہو۔
By: azeem, rwp on Aug, 02 2012
Reply Reply
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ