نظرئے میں تشدد کا عنصر کیوں ؟

(Qadir Afghan, Sawat)
کسی انسان کا قتل پوری انسانیت کاقتل اور کسی انسان کی جان بچانا گویا پوری انسانیت کی جان بچانے کے برابر ہے۔یہ حکم خداواندی یکساںطور پر تمام بنی نوع انسان کےلئے بلا تفریق رنگ و نسل، زبان و قوم اور کسی مذہبی امتیاز کے بغیر دیا گیا۔چونکہ قرآن کریم میں یہ آیت نازل ہوئی لہذا کچھناعاقبت اندیش عناصر کیجانب سے یہ سمجھ لیا گیا کہ اس حکم کا اطلاق صرف مسلمانوں پر ہوگا ۔ مسلم امہ میں موجود کسی فرقے کو مسلم، مومن اور کسی کو لادین از خود سمجھ کر تما م فتووں پر من و عن یقین کرلینا کسی ذی حس کے لئے ممکن نہیں۔ احساس محرومی کی بنیا د کسی بھی مفروضے پر ہو کسی کو حق حاصل نہیں کہ مخصوص اوقات میں، مخصوص مفادات کے تحت ،مخصوص فقہ یا سیاسی جماعتوں کے پیروکاروں کےخلاف ، جان لینے کےلئے فاشزام کے داعی بن جائیں۔ دین اسلام میں کوئی جبر نہیں،فقہی، سیاسی اختلاف کی بنیاد کو علمی ، سیاسی اختلاف تو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اسے بنیاد کر کسی انسان کا خون ناحق کرنے والوں کا تعلق کم ازکم دین اسلام سے نہیں ہوسکتا۔قتل ناحق ، فقہ کی بنیاد پر ہو ، نسل کی نبیاد پر ، زبان کی بنیادپر ، قوم کی بنیادپر یا مذہب کی بنیاد پر دین اسلام کسی کو بھی قطعی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شر پسند اپنے مفادات کی آبیاری کسی بے گناہ کے خون و بر بریت سے کرے۔سفاکیت کی کوئی بھی شکل ہو ، درندیت کی کوئی بھی شکل ہو،ابلیسیت کی کوئی بھی شکل ہو ، دنیا کا سپریم قانون قرآن کریم ایسے عوامل کی شدید الفاظوں میں مذمت اور دین اسلام سے لاتعلقی کا علان روز اول سے کرچکا ہے ۔

بے قصور انسانوں کا قتل،مثل حیوانیت کا مسخ شدہ نمونہ ہے جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں مسلسل دوہرائی جا رہی ہے۔ فقہی و سیاسی بنیادوں پر ہلاک کئے جانے کے واقعات کا سدباب نہ ہونے کے باعث اتحاد بین المسلمین اور قومی وحدت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ زبان کے نام پر دیگر قومیتوں کو قتل کئے جانے کے رجحان نے مسئلے کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن اس امر پر ثابت قدم ہوں کہ کسی انسان کو کسی بھی بنیاد پر جان سے محروم کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں،چاہیے نظرئےے کی بنیاد احسا س محرومی پر ہی مبنی کیوں نہ ہو۔ عوام کے مذہبی ، سیاسی جذبات کو بھڑکا کر خودساختہ اشتعال انگیزی کا کاشاخانہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ شدت پسندی ، انتہا پسندی ، کے لئے کوئی بھی و جہ جواز ہو، اسلام نے کسی کو یہ حق تقویض نہیں کیا کہ بے قصور انسانوں کے پرخچے اڑا دو، خواتین ، مرد ، بچے ار بوڑھوں بے گناہ انسانوں کے اعضا ءکو آتش گیر دہماکوں کی زد میں لاکر اسلام کے سلامتی و امن کے پیغام کو اس قدر مسخ کردو کہ پوری دنیا میں پاکستان کا تشخص ماسوائے دہشت گردوں کے سرپرست کے علاوہ نہ ابھرے۔قرآن و حدیث ، پانچوں فقہی مذاہب یا دین اسلام میں اس بات کے لئے رائی برابر گنجائش موجود نہیں ہے کہ بے گناہ انسانوں کو ہلاک کرنے کےلئے احساس محرومی کو بنیاد بنا لیا جائے ۔یا آتش گیر مادوں کے استعمال سے راہ گیروں اور معصوم جانوں کو ہلاک کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔اس قسم کی سوچ رکھنا فاشٹ نظریات کا حامل تو ہوسکتا ہے لیکن اسلام کے کسی اخلاقی اصول اسے کبھی چھو کر بھی نہ گذری ہوگی۔

لسانیت کے نام پر ، بھتہ خوری کے نام پر ، سیاسی وابستگی کے نام پر ،طاقت کے استعمال پر ، مفادات کے نام پر ، قومیت کے نام پر ، تاوان کے نام پر،برادری کے نام ، کاروکاری کے نام ،جاگیردارنہ ،وڈیرانہ سوچ کے نام پر انسانوں کا بھیانک قتال کا تعلق اسلام سے تو کیا انسانیت سے بھی نہیں ہے۔کیا ڈرون حملوں میں جلس جا کر راکھ بن جانے والے انسان نہیں ، کیا یہ اسی خدا کی مخلوق نہیں جس نے بلوچستان ، سندھ ، پنجاب ،خیبر پختونخوا ، کشمیراور گلگت ، بلتسانی کی عوام کو پیدا کیا ہے۔فوجی ہوں ، یا پاکستانی عوام ،کسی بھی بیرونی جارحیت کا شکار ہوں ان کے لئے یکساں موقف نیز ملک کے طول و عرض میں انسانوں کا ، لسانیت، فقہ،قومیت ،سیاسی وابستگی،بھتہ خوری یا تاوان کے غرض سے قتل عام اس وقت تک نہیں رکے گا ۔جب تک پاکستانی قوم متحد نہیں ہوسکتی ، بیرونی جارحیت کا مقابلہ نہیں کرسکتی ، اگر اندرونی و بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے توپارلیمنٹ ،عدلیہ ، قومی ومذہبی قیادت ، عسکری اداروں کو پاکستان میں ہونے والے ہر سانحے پرقومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انسانیت کا حترام کرنا ہوگا ۔تمام مذاہب کے پیروکاروں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنان کونظریہ کی بنیاد پر فکری طور پر تو مجادلہ کیا جاسکتا ہے لیکن کسی انسان کی جان لینے کا سبب احسا س محرومی کے نام پر رکھ کر قیمتی جانوں کو اپنے پیاروں سے محروم کرنا انسانیت نہیں حیوانیت ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Afghan

Read More Articles by Qadir Afghan: 379 Articles with 150885 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2012 Views: 312

Comments

آپ کی رائے