لاپتہ افراد اور عید

خدا ان لوگوں کو تباہ و بربادکرے جنہوں نے میرے آٹھویں کلاس کے معصوم طالب علم بیٹے کو مجھ سے دور کیا اور بغیر کسی وجہ کے ڈیڑھ سال سے میں اپنے بیٹے کیلئے خوارہورہی ہوں۔ مجھے نہیں پتہ میرے بیٹے کا جرم کیا ہے - ہاںہمارا جرم یہ ہے کہ ہم غریب لوگ ہیں اور ہماری کوئی سنتا نہیں لیکن اللہ تعالی تو سننے والی اور دیکھنے والی ذات ہے -یہ گلہ شکوہ مچنی کے علاقے انگور کلے سے ڈیڑھ سال قبل لاپتہ ہونیوالے نعیم کی والدہ کا ہے جو گذشتہ دنوں پشاور ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کی کیس کی سماعت کیلئے آئی ہوئی تھی اس کے ہمراہ ایک چھوٹی سی معصوم بچی بھی تھی جو اپنے بھائی کی تصویر اٹھائے ہائیکورٹ میںکھڑی تھی - نعیم کی والدہ کے بقول اس کا بیٹا سکول سے واپس آرہا تھا کہ اڈے کے قریب پولیس نے اس کو گاڑی سے اتارا اور سیکورٹی فورسز کے آدمیوں نے میرے چھوٹے بیٹے کو گاڑی میں ڈالا اور وہاں سے لے گئے اور ابھی تک میرا بیٹا لاپتہ ہے یہ داستان غم سناتے ہوئے دکھوں کی ماری ماں رو پڑی - اور اس نے نعیم کو لاپتہ کرنے والے افراد کو بد دعائیں دینا شروع کردیں جو ہمارے ہاں مجبور اور بے کس لوگ ہی دیا کرتے ہیں -

ایسی ہی دکھ بھری داستانیں لاپتہ ہونیوالے افراد کے رشتہ داروں کی ہیں جو ان کے غم اور دکھ شیئر کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے لاپتہ ہونیوالے افراد کے رشتہ دار جن میں معصوم بچے ` بوڑھی خواتین `بہنیں شامل ہوتی ہیں ان کے چہروں پر ایسے دکھ ہوتے ہیںجو کسی حساس شخص کو نظر آتے ہیں ان لاپتہ افراد میں ایسے معصوم فرشتے بھی میں نے خود دیکھے ہیں جنہوں نے اپنے لاپتہ ہونیوالے والدین کو نہیںدیکھا صرف ان کی تصاویر اٹھائی ہیں اور اپنی ماں یا دادی کے ساتھ لاپتہ افراد کے کیس کی سماعت کے موقع پر نظر آتی ہیں کہ شائدان کے پیاروں کو اٹھانے والے کچھ احساس کریں اور انہیں چھوڑ دیا جائے -ان بدنصیب لوگوں کی داستانیں سن کر ایسا لگتا ہے جیسے سولہویں صدی میں افریقہ کے کسی غار میں رہتے ہوں اور سفید فام جیسا سلوک ان کیساتھ کیا کرتے تھے ویسا ہی سلوک ان لوگوں کیساتھ کیا جا رہا ہو -

ہمارے کچھ عوامی نمائندے سابق صدر پرویز مشرف کو اس حال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیںجنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانوں کا معاوضہ لینا شروع کیا - لیکن ان لاپتہ ہونیوالے افراد میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پیارے اس عوامی جمہوری دور میں لاپتہہوئے ہیں اور ان کو غائب کرنے والوں میں ہمارے تحفظ کیلئے ہم سے ٹیکس لیکر ڈیوٹی انجام دینے والی پولیس فورس اور دیگر لوگ شامل ہیں آخر ہم لوگ دوسروں کے دکھ درد کا احساس کیوں نہیں کرتے کیا ایک بیلٹ پہن کر ہر کوئی قانون/انسانیت کی دائرے سے نکل جاتا ہے -ہمارے معاشرے میں جھوٹی قسمیں کھاکر منکر ہو جانا ایک وطیرہ بن گیا ہے یہ بات بھی گذشتہ دنوں خیبر ایجنسی کے ایک طالب علم نے بتائی اور اس نے باقاعدہ ایک پولیس افسر کا نام لیکر کہا کہ اس نے مدرسے میں زیر تعلیم میرے بھائی کو بٹہ تل باڑہ سے دیگر دو دوستوں کے ہمراہ بغیر کسی وجہ سے گاڑی میں ڈال دیا اس کے ساتھی کو چالیس ہزار روپے دیکر چھوڑ دیا گیا جبکہ میں اپنے بھائی سے ملنے اور اس کیلئے روٹی بھی اسی پولیس افسر کی موجودگی میں لے گیا تھابعد میں وہ پولیس افسر مجھ سے دس لاکھ روپے کا مطالبہ کرنے لگا کہ اتنی رقم دو تو تمھار ے بھائی کو چھوڑ دونگا اور تب سے میرا بھائی لاپتہ ہے - شکر ہے کہ عدالت عالیہ نے اس سلسلے میں نوٹس لیا ہے اس وقت پشاو ر ہائیکورٹ میں 171 افراد کی گمشدگی کی کیسوںکی سماعت ہورہی ہیںیہ عدالت عالیہ کا احسن اقدام ہے اس اقدام پر پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کیلئے لوگوں کی دلوں سے دعائیں نکلتی ہیں-لیکن کیا ہمارے اس معاشرے میں عدالتیں ہی لوگوں کو ٹھیک کرینگی اور یہ سلسلہ کب تک رہیگا!

میں اس ماں ` بہن ` بیٹی اور بیوی کیلئے بھی خون کے آنسو رو رہا ہوں جن کا گھر سے عبدالصمد نو ماہ قبل یہ کہ کر روانہ ہوا کہ صدر میں ٹائر تبدیل کرنے جارہا ہوں اور پھر وہ پشاور صدر سے لاپتہ ہوا والدین نے عدالت عالیہ میں گمشدگی کی رٹ جمع کرادی اور دو ماہ بعد اس کی بوری بند لاش مل گئی -کس نے مارا اور کیوں مارا یہ اس جمہوری عوامی حکومت میں جس کے نمائندے اپنے آپ کو سپریم قرار دینے کے چکروں میں مصروف عمل ہیں اور حکومتی سربراہ اپنے میٹرک پاس بیٹے کو اس " بے غیرت " قوم کے پیسوں پر دنیا بھر میںسیر کروا رہے اور اسے ان کمین کمینوں پر حکمرانی کے اداب سکھا رہا ہے سے سے کوئی پوچھ سکتا ہے یا کوئی پوچھنے والا ہے کہ آخر ان جیسے سینکڑوں لوگ جن کا تعلق کسی بھی نسل /مذہب سے ہے کیوں لاپتہ ہوا اورکیوں یہ لوگ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے کیونکہ جس آئین کے بل بوتے پر اپنے آپ کو یہ لوگ سپریم قرار دینے کے چکر میں ہیں اسی آئین کے ان کی ذمے شہریوں کو تحفظ دینے کی ذمہ داری بھی لگائی ہے -سپریم قراردلوانے والے یہ لوگ تو اپنے خاندان والوں کیساتھ بیٹھ کر عیاشیوں میں مصروف ہے لیکن اس شخص جس کی لاش نو ماہ بعد ملے اور اس کے رشتہ داروں کو یہ پتہ نہ ہو کہ آخر اسے کس جرم میں بوری میں بند کرکے ڈال دیا گیا کیا -سپریم قرار دینے والے ان لوگوں سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اس عیدالفطر پر وہ معصوم بچے /بہنیں/ والدین اپنی عید کیسے منا پائیں گے اس کا جواب کوئی دے سکتا ہے -یا وہ لوگ جن کے رشتہ دار لاپتہ ہیں اور انہیں نہیں پتہ کہ کس جرم میں ان کے پیارے لاپتہ ہے اور کیا ان کے پیارے زندہ بھی ہیں کہ نہیں -

میں ایک عام شہری کی حیثیت سے پاکستان کے 65 سال سے کوئی سروکار نہیں اور نہ اس سے کوئی سروکار ہے کہ اس ملک کے پاس ایٹم بم ہے نہ ہی اس سے کوئی مقصد ہے کہ اس ملک کوئی کتنا طاقتور یا پیسے والا ہے اس کا مذہب کیا ہے مجھے بحیثیت ایک ماں / بہن / بیوی جن کے رشتہ دار لاپتہ ہوچکے ہوں اس سے کوئی غرض نہیں نہ ہی مجھے کوئی فرق پڑتا ہے -لیکن میرا آپ لوگوں سے یہ سوال ہے کہ اس عید پر میں اپنے پیارے بھائی / شوہر/ والد کی گمشدگی کے حوالے سے کیا جواز دوں کیونکہ سب کے پیارے عید پراپنے گھر واپس آجاتے ہیںعید کی خوشیوں میں رشتہ داروں دوستوں کیساتھ مشغول ہو جاتے ہیں لیکن ہمارا پیارا جو لاپتہ ہوا ابھی تک لاپتہ ہے اس کی گمشدگی کا دکھ میں بحیثیت/ماں /بہن/ بیوی / والد کیسے برداشت کروں- ہاں ہم جیسے بے کس لوگ تو برداشت کرلیں گے لیکن ہر کوئی یہ جان لے کہ اگر آج میرا کوئی پیارے مجھ سے لاپتہ ہوا ہے تو کل آپ لوگوں کا پیارا بھی لاپتہ ہوسکتا ہے اس وقت کیلئے سوچئیے !۔
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 666 Articles with 543292 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More