امید کا پیامبر

(ATEEQ AHMED AZMI, KARACHI)
ٹیری فوکس (Terry Fox)

’’ ماں میں پورے کینیڈا کو دوڑ کر عبور کروں گا چاہے اس کوشش میں جان کی بازی ہی کیوں نہ ہار جاؤں‘‘،یہ الفاظ ہیں اس بلند حوصلہ اورجواں ہمت نوجوان کے جس نے اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بنایابل کہ اپنے آہنی عزم سے کینیڈا کے گلی کوچوں میں دوڑ کر نئی تاریخ رقم کی، یوں تو کئی کھلاڑی اور افراد ہیں جنہوں نے طویل فاصلے دوڑ کر طے کئے ہیں لیکن کینیڈا کی سرزمین پر بسنے والا یہ نوجوان ان تمام سے اس لئے منفرد ہے کہ اس نے یہ کارنامہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ انجام دیا جب کہ اصل ٹانگ کینسر کے باعث کاٹ دی گئی تھی عزم و ہمت کااستعارہ قرار دئے جانے والے اس نوجوان کو دنیا ’’ ٹیری فوکس‘‘ کے نام سے جانتی ہے جو کینیڈا کے صوبے ’’مینی ٹوبا‘‘ کے علاقے’’ ونی پگ‘‘ میں 28جولائی1958کو پیدا ہوا ٹیری اپنے بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا یہ تین بھائیوں اور ایک بہن پر مشتمل مسٹر رولی فوکس اور ان کی بیوی بٹی فوکس پر مشتمل متوسط طبقے کا خوش حال خاندان تھا جو اپنی خوش اخلاقی کے باعث پورے علاقے میں مشہور تھاٹیری فوکس کا بچپن بھی دوسرے چلبلے بچوں کی مانند شوخیوں سے بھرا ہوا تھا جس میں شرارتیں اور حماقتیں جا بہ جا پھیلی دکھائی دیتی تھیں تاہم ٹیری کے اندر ایک بے چین ایتھلیٹ کی روح بھی چھپی ہوئی تھی جس کااظہار وہ بیس بال، رگبی اور فٹ بال کے وسیع میدانوں سے لے کر باسکٹ بال کے مختصر سے کورٹ میں اپنے خوبصورت کھیل سے کرتا رہتا تھا ۔

ٹیری فوکس کے والد رولی فوکس کینیڈا کے ریلوے کے محکمے میں سوئچ مین کی حیثیت سے ملازمت کرتے تھے1966میں وہ اپنے خاندان سمیت کینیڈا کے علاقے برٹش کولمبیا میں منتقل ہوگئے دو سال بعد وہ پورٹ Coquitlamکے علاقے میں شفٹ ہوگئے جہاں ٹیری فوکس کو ’’میری ہل جو نیئرہائی اسکول’’ میں داخل کردیا گیا یہ علاقہ وسیع و عریض گھاس کے قطعوں اور کھلی آب و ہوا پر مشتمل تھا جہاں ٹیری کی صلاحیتوں کو چار چاند لگ گئے کھیلوں میں ٹیری کی اولین پسند باسکٹ بال تھی لیکن اس کے کوچ کا خیا ل تھا کہ ٹیری کا پانچ فٹ کا قد باسکٹ بال کا عمدہ کھلاڑی بننے کے لئے نا مناسب ہے چناں چہ انہوں نے ٹیری کو مشورہ دیا کہ وہ طویل فاصلے کی دوڑ کے لئے خود کو تیار کرے ٹیری اگرچہ اس میں دل چسپی نہیں رکھتا تھا تاہم اپنے استاد اور کوچ کا حکم مانتے ہوئے اس نے طویل فاصلے کی دوڑ کی ٹریننگ شروع کردی لیکن اس دوران اس چھوٹے سے قد کے مگر اونچے عزم کے طالب علم نے اپنا باسکٹ بال کا جنون بھی جاری رکھا ٹیری کی ہمت اور ان تھک محنت کا نتیجہ جلد ہی سامنے آگیا جس کا اندازہ اس بات سے بہ خوبی ہوتا ہے کہ گریڈ 6میں وہ اپنی ٹیم کے متبادل کھلاڑیوں میں بھی کوچ کی آخری پسند ہوتا تھا تاہم گریڈ8میں وہ ٹیم کا لازمی حصہ بن گیا اور سخت محنت کے نتیجے میں گریڈ10میں وہ اپنی اسکول کی ٹیم کی جانب سے کھیل کا آغاز کرتا تھا جب کہ گریڈ 12میں وہ اور اس کا ہر دل عزیز دوست Doug Alwardاسکول کے بہترین ایتھلیٹ کے اعزاز کے مشترکہ حق دار قرار دئے گئے اسکول سے فارغ ہونے کے بعد ٹیری نے والدہ کے مشورے پر Simon Fraserیونیورسٹی میں داخلہ لے لیا جہاں اس نے شعبہ Kinesiologyکا انتخاب کیا اس شعبے میں انسانی اجسام کی حرکات اور سکنات سے متعلق پڑھایا جاتا تھاٹیری فوکس کی والدہ نے اس شعبے میں داخلے کا مشورہ اس کی کھیلوں میں دل چسپی کو دیکھتے ہوئے دیا تھا بنیادی طور پر وہ ٹیری فوکس کو مستقبل میں فزیکل ایجوکیشن ٹیچر کی اعلی تعلیم دلوانا چاہتی تھیں یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی ٹیری نے ابتدا ہی میں یونیورسٹی کی باسکٹ بال ٹیم میں اپنی جگہ بنا لی تاہم ٹیری فوکس نے کھیلوں میں اپنی حد درجہ مصروفیت کے باوجودپڑھائی پر بھی بھرپور توجہ جاری رکھی اور امتحانات میں ہمیشہ اچھے گریڈوں سے کامیابی حاصل کی۔

12نومبر1976وہ افسوس ناک دن تھا جب 18سالہ ٹیری فوکس کی بلند ہمتی کا نیا امتحان شروع ہوا یونیورسٹی میں داخلے کے کچھ ہی عرصے بعدٹیری کی کار ایک زیر تعمیر پل کے پاس کھڑے پک اپ ٹرک سے ٹکرا گئی ایکسیڈنٹ میں کار بری طرح تباہ ہوگئی البتہ ٹیری کے صرف سیدھی ٹانگ کے گھٹنے پر چوٹ لگی اور وہ سوج گیا ٹیری نے اپنی اس تکلیف پر زیادہ توجہ نہیں دی اور درد برداشت کرتے ہوئے باسکٹ بال کے سیزن کی سرگرمیاں جاری رکھیں دسمبر میں درد کی شدت میں اضافہ ہوگیا اور مارچ1977میں ٹیری کا درد ناقابل برداشت سطح پر پہنچ گیاچناں چہ ٹیری کو شہر کے بڑے ہسپتال میں معائنے کے لئے لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ٹیسٹوں کے بعد یہ روح فرسا خبر سنائی کے ٹیری کو Osteosarcomaکینسر نے گھیر لیا ہے جو عموماگھٹنے کے قریب درد اور سوجن سے شروع ہوتا ہے اس تشخیص کے باوجود ٹیری درد کو ایکسیڈنٹ میں لگی چوٹ کی وجہ قرار دیتا رہا اور ڈاکٹروں کی ہدایات کو نظر انداز کرتا رہا جب کے ڈاکٹر گھٹنے میں درد اور سوجن کا تعلق ایکسیڈنٹ سے ماننے سے انکاری تھے تاہم کچھ ہی عرصے میں ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ اگر ٹیری کی ٹانگ گھٹنے سے نہ کاٹی گئی تو کینسر تمام جسم میں سرایت کرجائے گا جس سے ٹیری کے صحت مند ہونے کی امید بالکل معدوم ہوجائے گے تاہم ٹیری فوکس اور اس کے والدین نے ٹانگ کاٹنے سے قبل کیمو تھراپی کروانا مناسب سمجھا ۔

بدقسمتی سے کچھ ہی عرصے بعد ٹیری فوکس اور اس کے والدین کو ڈاکٹروں کی بات ما ننی پڑی اور ٹیری کے صحت مند جسم کی بیمار ٹانگ کو گھٹنے کے اوپر سے کاٹ کر علیحدہ کردیا گیامرض کو پھیلنے سے روکنے کے لئے کیمو تھراپی کا سلسلہ تقریبا 16ماہ تک جاری رہا کیمو تھراپی کے ہی دوران ٹیری کو مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی جواں ہمت ٹیری اس دوران بھی اپنے والد کے ہمراہ گولف کھیلتا رہاوہ اپنے اس روئے سے مرض کے خلاف جنگ کررہا تھا تاہم سولہ ماہ تک برٹش کولمبیا کینسر تحقیقی مرکز میں زیر علاج رہنے کے دوران اس پر یہ حقیقت واضح ہوچکی تھی کہ اس تحقیقی مرکزمیں بیشتر مریض جو کینسر کے علاج کے لئے لائے جا تے تھے کچھ ہی عرصے بعد مرض کی تکالیف برداشت کرتے ہوئے دنیا سے گذر جاتے تھے جس کی بنیادی وجہ تحقیق کا فقدان تھا اس کے علاوہ وہ یہ بھی جان چکاتھا کہ صرف دوسال میں کیمو تھراپی سے مرض میں افاقے کا تناسب پندرہ فیصد سے بڑھ کر پچاس فیصدہوگیا تھا اوریہ کامیابی صرف تحقیقی کاوشوں کے مرہون منت ملی تھی لہذا ٹیری فوکس پر تحقیق کی اہمیت واضح ہوچکی تھی چناں چہ اس لمحے ٹیری نے فیصلہ کیا کہ وہ خود کو کینسر کے علاج کی تحقیق کے لئے نہ صرف وقف کردے گا بل کہ ایسے طریقے بھی وضع کرنے کی کوشش کرے گا جس سے محققانہ سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور محققوں کی حوصلہ افزائی ہو اس دوران وہ اپنی اس معذوری کو بھی عذر نہیں بنائے گا۔

اس دوران 1977کے موسم گرما میں جب ٹانگ کٹنے کے بعد ٹیری فوکس کیمو تھراپی کے تکلیف دہ عمل سے گذر رہا تھا اس کی جواں مردی کو دیکھتے ہوئے کینیڈا کی ’’وہیل چئیر اسپورٹس ایسوسی ایشن‘‘ کے سربراہ اور اسپیشل اولمپینHansen Rickنے ٹیری کو مشورہ دیا کہ وہ ان کی وہیل چئیر باسکٹ بال ٹیم کاحصہ بن جائے ٹیری نے بلا تامل یہ مشورہ مان لیا اور صرف دو ماہ کی تربیت کے بعد اس کا نام نیشنل چمپئن شپ میں شرکت کرنے والی ٹیم میں شامل کرلیا گیاٹیری کے ٹیم کا حصہ بننے کے بعدHansen Rickکی ٹیم نے تین مرتبہ قومی چمپین کا اعزاز حاصل کیا جب کہ 1980میں نارتھ امریکن باسکٹ بال وہیل چئیر ایسوسی ایشن کی جانب سے ٹیری کو All Starکھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔

تاہم اس دوران ٹیری کینسر کے خلاف جنگ میں اپنے کردار سے غافل نہیں ہوا تھا البتہ اسے وہ راستہ نہیں مل رہا تھا جس پر چل کر وہ کینسر کے خلاف موثر کردار ادا کرسکے پھر اچانک ایک دن اس کو وہ راستہ نظر آگیا جو کٹھن ضرور تھا مگراس کے نتائج کینسر کے خلاف تحقیق میں اہم ہوسکتے تھے دوران علاج ٹیری کی نظر سےDick Traumکے بارے میں ایک تحریر گذری’’ ڈک ٹراؤم ‘‘وہ پہلا شخض تھا جس نے1979میں مصنوعی ٹانگ کے ساتھ نیو یارک میراتھن پیدل چل کر کامیابی سے مکمل کی تھی’’ ڈک ٹراؤم‘‘ کی عزم و حوصلے سے بھرپور کہانی نے ٹیری کے کینسر کے خلاف جنگ کے جذبے کے لئے مہمیز کا کام کیا اور اس نے فیصلہ کرلیا کہ کینیڈا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک دوڑے(Race) گا جس کے دوران وہ اوسطا یومیہ42 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گا (یہ بین الااقوامی میراتھن ریس کا معیاری فاصلہ ہے ) اور اس دوران کینسر کے علاج کی تحقیق کے لئے عطیات جمع کرے گا اور عوام میں کینسر کے خلاف آگاہی اور شعور پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تقریبا 8آٹھ ہزار کلومیٹر پر محیط یہ میراتھن ایک مشکل فیصلہ تھا تاہم ٹیری نے مضبوط ارادہ باندھ لیا تھااس نے اپنے اس منصوبے کے بارے میں سب سے پہلے اپنے بچپن کے دوست Dough Alward کو آگاہ کیا جس نے حق دوستی ادا کرتے ہوئے دوران میراتھن اس کا بھرپور ساتھ دینے کا وعدہ کیاٹیری نے اپنے اس غیر معمولی منصوبے کا نام Marathon of Hopeرکھا۔
ٹیری جانتا تھا کہ وہ عام آدمیوں کی مانند دوڑ نہیں سکتاکیوں کہ پیدل چلتے ہوئے ہی ہر قدم کے بعد اس کی مصنوعی ٹانگ کے اسپرنگ کو واپس اپنی جگہ آنے میں وقت درکار ہوتاتھا لہذا دوڑنے کے دوران یہ عمل ناممکن تھا چناں چہ ٹیری نے فیصلہ کیا کہ وہ مخصوص انداز میں دوڑے گا اور اپنی صحت مند ٹانگ پر دو مرتبہ اچھلنے کے بعد مصنوعی ٹانگ کو زمین پر واپس رکھے گا اس دوران مصنوعی ٹانگ کا اسپرنگ بھی واپس اپنی جگہ پر آجائے گااور وہ اپنا سفر جاری رکھ سکے گا ٹیری فوکس نے ٹریننگ شروع کردی ابتدا ہی میں ٹیری کو اندازہ ہوگیا کہ ناقابل برداشت درد اور تکلیف اس پورے سفر میں اس کے ساتھ رہیں گے تاہم درد ، آبلوں اورزخموں کی پرواہ کئے بغیر ٹیری نے تربیت جاری رکھی اگست1979میں اس نے برٹش کولمبیا میں ہونے والی مقامی میراتھن ریس میں حصہ لیا جب وہ تمام کھلاڑیوں سے دس منٹ بعد اپنے مخصوص انداز میں دوڑتا ہو اختتامی لائن پر پہنچا تو یہ دیکھ کر اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے کہ میراتھن کے تمام شریک کھلاڑی اور شہرکی آبادی اس کا استقبال آنسوؤں اور تالیوں سے کرنے کے لئے دورویہ کھڑے تھے اور پورا علاقہ’’ ٹیری‘‘’’ ٹیری‘‘کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہاتھا ۔

ابتدا میں ٹیری کے منصوبے کو اس کے دوستوں ، معالجوں اور والدین نے جذباتی فیصلہ قرار دیتے ہوئے رد کردیا اور اس کی حوصلہ شکنی کی کیوں کہ ان کے خیال میں مصنوعی ٹانگ کے ہمراہ پیدل تو چلا جاسکتا تھا یا مختصر فاصلے کی دوڑ لگائی جاسکتی تھی لیکن تقریباآٹھ ہزار کلومیٹر طویل فاصلہ یومیہ 42کلومیٹر کے حساب سے دوڑکر طے نہیں کیا جا سکتا جب کہ کینسر کے واپس آنے کا بھی خدشہ بدستور موجود تھا لیکن ٹیری کے عزم و حوصلے کے آگے سب نے گھٹنے ٹیک دئے اس حوالے سے ٹیری کی والدہ کا کہنا ہے کہ’’ جب اس نے اپنی میراتھن ریس کے منصوبے کازکر ہم سب کے سامنے کیا تو میں نے منصوبے کی مخالفت کی جسے سن کر ٹیری نے مجھ سے کہا کہ ماں میں تو سمجھ رہا تھا کہ آپ وہ پہلی ہستی ہوں گی جو میری صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے میری حوصلہ افزائی کریں گی ٹیری کے اس اعتماد نے مجھے ماں ہوتے ہوئے بھی اس پر کٹھن سفر کی اجازت دینے پر مجبور کردیا‘‘ابتداء میں ٹیری کاارادہ تھا کہ وہ میراتھن کے دوران ایک ملین ڈالر کی رقم جمع کرے گا لیکن پھر اس نے فیصلہ کیاکہ وہ ہر کینیڈین شہری سے درخواست کرے گا کہ وہ اسے ایک ڈالر عطیہ دیں جو آبادی کے لحاظ سے 24ملین ڈالر بن جائیں گے یہ ایک بڑی رقم ہوگی جس سے کینسر کے خلاف تحقیق میں مدد مل سکے گی ۔

دو ماہ بعد 15اکتوبر1979کو ٹیری فوکس نے ’’کینیڈین کینسر سوسائٹی‘‘ کو اپنے مشن کے حوالے سے خط لکھا جس میں اس نے لکھا کہ’’ وہ کینسر کے علاج کے لئے تحقیق کاروں کی مدد کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے وہ اپنی معذوری کے باوجودپورے کینیڈا میں جائے گا چاہے اس دوران اسے گھسٹ گھسٹ ہی کر کیو ں نہ آگے بڑھنا پڑے اس نے خط میں مزید لکھا کہ اس کوشش کی بنیادی وجہ کینسر کے علاج کی تحقیق کے لئے کم سہولتوں میں اضافہ کروانا ا ور رقم کی فراہمی میں مدد کرنا ہے کیوں کہ کینسر کے مریض ہر وقت معجزوں کے انتظار میں رہتے ہیں لہذا ان حالات میں دنیا بھر میں کینسر میں مبتلا لا علاج مریضوں کا واحد سہارا تحقیقی مراکزہیں اس ضمن میں میرا کام صرف خواب دکھانا نہیں ہے بل کہ میں آپ کے ہمراہ اس خواب کی تعبیر حاصل کرنا چاہتا ہوں ‘‘ کینیڈین کینسر سوسائٹی اور ڈاکٹروں نے ٹیری کے جذبے کو سراہتے ہوئے اسے اس شرط پر میراتھن کی اجازت دے دی کہ دورانِ دوڑ کسی بھی قسم کی صحت کی ناسازی پر وہ دوڑ معطل کردے گااس کے بعد انہوں نے ٹیری کا تفصیلی طبی معائنہ بھی کیا جس کے دوران انکشاف ہوا کہ اس کے دل کا سائز معمول سے کچھ بڑھا ہواہے تاہم اس کے باوجود ٹیری نے اپنے عزم او ر ارادے سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا، دوسراخط اس نے معروف اداروں کے مالکان کو لکھا جس میں میراتھن کے دوران آرام کرنے کے لئے ایک بڑی وین، برساتی خیمہ ،جوتے اور ایک مضبوط مصنوعی ٹانگ کے لئے عطیے کی درخواست کی خط کے جواب میں فورڈ موٹر کمپنی نے برساتی خیمہ اور بڑی وین ، امپریل آئل کمپنی نے پیٹرول اور Adidasکمپنی نے جوتے فراہم کردئے جب کے بہت سے اداروں کی جانب سے ملنے والی امداد سے اس نے فائبر کی مضبوط مصنوعی ٹانگ بنوالی ۔

آغاز میراتھن
Marathon of Hope
12اپریل1980کو ٹیری فوکس نے لگ بھگ آٹھ ہزار کلو میٹر پر محیط سفر کا آغاز کیا اس نے یہ آغاز کینیڈا کے مشرقی سرحد پر واقع صوبے نیو فاؤنڈلینڈ کے شہر سینٹ جان کے قریب بحر اوقیانوس سے کیا اس موقع پر اس نے اپنی مصنوعی ٹانگ سمندر کے یخ پانی میں ڈبوئی اور دوپانی کی بوتلیں بھریں اس کاارادہ تھا کہ ایک بوتل وہ بطور یادگار اپنے ساتھ رکھے گا جب کہ دوسری بوتل کا پانی وہ اپنے سفر کے اختتام پر مغربی سرحد پر واقع صوبے برٹش کولمبیا کے صدر مقام وکٹوریہ میں بحرالکاہل میں بہا دے گا اس یادگار سفر میں اس کے ہمراہ بچپن کا دوست Doug Alward تھا جو اس کی وین کا ڈرائیور ،باورچی ، خدمت گار بل کہ سب کچھ ہی تھامیراتھن کے ابتدائی دن ہی ٹیری کے لئے سخت آزمائش کے ثابت ہوئے تمام راستے یخ بستہ ہوا ئیں اور تیز بارش ہوتی رہی جب کہ تیسرے دن سے برف باری بھی شروع ہوگئی لوگوں کا ردعمل بھی مثبت نظر نہیں آرہا تھااس صورتحال نے ٹیری کو مایوسی میں دھکیلنا شروع کردیالیکن جب ٹیری فوکس دوڑتا ہوا نیو فاؤنڈ لینڈ کے علاقے Port aux Basquesمیں داخل ہوا تو یہ دیکھ کرحیران رہے گیا کہ تقریبا دس ہزار افراد کا مجمع اسے خوش آمدید کہنے کے لئے موجود تھا قصبے کے لوگوں نے دس ہزار ڈالر سے زائد عطیات بھی دئے اس محبت بھرے اظہار نے ٹیری فوکس اور اس کے دوست ’’آلورڈ‘‘ کو دوبارہ سفر کی قوت بخش دی کچھ ہی عرصے بعد جب یہ دونوں صوبہ’’ نوا اسکوشیا‘‘) (Nova Scotia پہنچے تو ٹیری کا سترہ سالہ چھوٹا اور زندہ دل بھائی Darrell Foxبھی ان سے آملا۔میراتھن کااگلامرحلہ موسمی پریشانیوں کے برعکس دوسرے مسائل پرمشتمل تھا جیسے ہی ٹیری فوکس اور اس کی ٹیم کیوبک صوبے میں داخل ہوئی تویہاں پر زبان کا مسئلہ آن کھڑا ہوا کیوں کہ عطیات کی اپیلوں کے تمام بینرز، دوڑنے کے دوران اس کے پیچھے چلنے والی گاڑی اور دیگر چیزوں پر انگریزی زبان میں تحریریں لکھی ہوئی تھیں جب کہ کیوبک صوبے میں صرف فرانسیسی زبان بولنے اورسمجھنے والے رہتے تھے لہذا وہ ٹیری کے مقصدسے ناآشنا تھے حتی کہ جس وقت ٹیری فوکس سڑک کے کنارے دوڑرہا ہوتا تھا تووہ لوگ گاڑی کے اندر سے اسے برا بھلاکہتے اور ہدایت کرتے کہ سڑک سے ہٹ کر دوڑے جب کہ چندہ دینے کی اپیل بھی انگریزی میں ہونے کے باعث کارگر نہ ہو سکی تاہم جیسے تیسے ٹیری نے یہ علاقہ عبور کیا اور 22جون کو مونٹریال شہر میں داخل ہوااب تک وہ آٹھ ہزار کلومیٹر کا ایک تہائی حصہ دوڑ کر طے کرچکا تھا جب کہ چندے کے بکس میں دولاکھ ڈالر جمع ہوچکے تھے اس رقم کو اس نے بعد ازاں اوٹاوہ شہر میں کینیڈا کی یوم آزادی کی زبردست تقریب کے دوران کینیڈین کینسر ریسرچ سوسائٹی کے حوالے کردیا۔

سفر کااگلامرحلہ ٹیری کے لئے مزید خوشگوار یادوں کابا عث بن گیااونٹاریو صوبے کے جنوب سے گذرتے ہوئے جب وہ Hawkesburyقصبے میں داخل ہوا تو سخت گرمی کے باوجود ہزاروں لوگ اس کے استقبال کے لئے لائن بنائے کھڑے تھے جن کے ہاتھوں میں ٹیری اور اس کے مشن سے محبت کے اظہار سے مزین بینر اور بورڈ تھے چھوٹے چھوٹے بچے اپنے والدین کے کندھوں پر سوار ٹیری کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے نوجوان خیر مقدمی نعرے لگا رہے تھے جگہ جگہ بینڈ استقبالی دھنیں بجا کر ٹیری کوخوش آمدید کہ رہے تھے جب کہ بہت سے عمر رسیدہ افراد آبدیدہ آنکھوں سے ٹیری کے جذبے کو سلام عقیدت پیش کررہے تھے انٹاریو کی صوبائی حکومت نے ٹیری کو دوڑکے دوران مکمل سرکاری پروٹوکو ل دیااور اس کے آگے پیچھے سائرن بجاتی گاڑیاں چلتی رہیں اونٹاریو کی خوبصورت یادوں کے بعد ٹیری دارلحکومت اوٹاوہ میں داخل ہوا جہاں اس کی ملاقات وزیراعظم Pierre Trudeauاور گورنر Ed Schreyerسے ہوئی وزیر اعظم نے ٹیری کی کوششوں کوسراہتے ہوئے کینسر ریسرچ سوسائٹی کو خطیر رقم کاعطیہ دیا اور سالانہ گرانٹ میں بھی اضافے کااعلان کیااس کے علاوہ شہر کے بہت سے کھیلوں کے مقابلوں میں ٹیری کو بہ حیثیت مہمان خصوصی مدعوکیا گیاجب کہ 16ہزار تماشائیوں کی موجودگی میں ٹیری نے فٹ بال کو کک لگا کر کینیڈین فٹ بال لیگ کا بھی آغاز کیا جس وقت ٹیری میدان میں داخل ہواتو تماشائیوں نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر اس کااستقبا ل کیااپنے اس والہانہ استقبال سے ٹیری فوکس پر یہ واضح ہوچکا تھا کہ اس کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں اور کینیڈین عوام میں کینسر کے خلاف جذبات متحرک ہو چکے ہیں اور تحقیق کا شعور جاگ چکا ہے ٹورنٹو شہر میں بھی اس کا استقبال دس ہزار افراد نے کیا جس میںآئس ہاکی کے شہرہ آفاق کھلاڑیوںDarryl Sittlerاور Famer Bobby Orrبھی شامل تھے ان دونوں کھلاڑیوں نے بھی دل کھو ل کر عطیات دئے صرف اس ایک دن میں ٹیری کو ایک لاکھ ڈالر کے عطیات وصول ہوئے ٹیری فوکس کی میراتھن کی مقبولیت کا احساس کرتے ہوئے کینسر سوسائٹی نے ہر اس مقام پر ٹیری کی تقاریر کا انعقاد کیا جہاں سے عطیات ملنے کی امید ہوتی تھی اور ٹیری تمام تکالیف کو پس پشت ڈال کر ان مقامات پر دوڑتا ہوا جاتااور اپنے مشن کے مقاصد سے عوام کو آگاہ کرتااس دوران اس نے اپنی صحت کی فکر بالکل چھوڑ دی حتی کہ کینسر سوسائٹی نے جب اس سے کہا کہ وہ کم از کم اپنی اکیسویں سالگرہ کے دن تو آرام کرلے مگر ٹیری نے اس دن بھی اپنا مشن جاری رکھا اور عطیات جمع کرنے کا سلسلہ جاری رکھا، بنا آرام کے روزانہ اوسطا 42کلو میٹر دوڑ نے سے ٹیری کی صحت مند ٹانگ میں بھی گھٹنے کے پاس سوجن ہوگئی اور یہ سمجھا جانے لگا کہ شاید فریکچر ہوگیا ہے ا س کے باوجود وہ تین دن تک بغیر کسی علاج کے دوڑتا رہا تاہم خوش قسمتی سے فریکچر نہیں ہوا تھالیکن اس جذباتی کیفیت کے باعث اس کی صحت مزید گرنے لگی۔
اور بالاآخر وہی ہوا جس کا ڈر ڈاکٹروں کو تھا اگست کے آخری ہفتے میں ٹیری کی ہمت جواب دے گئی اور یکم ستمبر کو اونٹاریو صوبے کے علاقے تھنڈر بے (Thunderbay)میں دوڑتے ہوئے اسے دمے کا شدید دورہ پڑا اور سینے میں درد ہوا موقع پر موجود لوگوں نے ٹیری کی حالت دیکھتے ہوئے اسے مزید دوڑنے سے روک دیالیکن تھوڑی ہی دیر بعد ٹیری نے دوبارہ دوڑنا شروع کردیا تاہم چند کلومیٹر کے بعد اسے سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور دوبارہ سینے میں شدید درد ہوا تو 143دنوں میں پہلی مرتبہ 5373کلومیٹر دوڑنے کے بعد ٹیری نے اپنے دوست Allwardسے درخواست کی کہ اسے گاڑی میں ڈال کر قریبی ہسپتال لے جائے تاکہ مناسب طبی امداد ملنے کے بعد وہ دوبارہ اپنا مشن جاری رکھ سکے لیکن اگلے دن ٹیری فوکس نے پرنم آنکھوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ فی الحال اپنا مشن ادھورا چھوڑ رہا ہے کیوں کہ ڈاکٹروں کے مطابق اس کا کینسر دوبارہ واپس آ چکا ہے اور پھیپڑوں تک پھیل گیا ہے چوں کہ ٹیری کا خواب پورے کینیڈا کو دوڑتے ہوئے عبور کرنا تھا جس کا وہ تین چوتھائی عبور کرچکا تھا لہذا بہت سے افراد نے ٹیری سے کہا کہ وہ اس کی جگہ دوڑتے ہوئے اس کا 8ہزار کلومیٹر دوڑنے کا مشن پورا کرینگے لیکن ٹیری نے انکار کردیا اور کہا کہ صحت مند ہوتے ہی وہ اپنی میراتھن کا مشن خود مکمل کرے گا واضح رہے ٹیری فوکس نے اپنی مصنوعی ٹانگ کے ساتھ جو راستہ دوڑ کر طے کیا تھا وہ کراچی سے اسلام آباد کے درمیانی فاصلے سے تقریبا پانچ گنا زائد بنتا ہے ۔

دوبارہ بیماری سے پہلے تک ٹیری فوکس 1.7ملین ڈالر رقم عطیات کی مد میں جمع کرچکا تھا اور اس کا خیال تھا کہ وہ مزید رقم جمع نہیں کرسکے گا لیکن میراتھن ختم کرنے کے صرف ایک ہفتے بعد کینیڈین قوم نے ٹیری کے عزم و حوصلے سے متاثر ہو کر اسے عطیات دینے کاسلسلہ جاری رکھا اس دوران کینیڈین ٹیلی ویژن نیٹ ورک اور کینسر سوسائٹی نے ٹیری فوکس کے مشن سے متعلق ٹی وی پر طویل نشریات نشر کی نشریات کے دوران صرف پانچ گھنٹوں میں 10.5ملین ڈالر کے عطیات وصول ہوئے جس میں برٹش کولمبیا اور اونٹاریو کی صوبائی حکومتوں کی ایک ایک ملین ڈالر کی امداد بھی شامل تھی جب کہ اونٹاریو کی صوبائی حکومت نے ٹیری فوکس کے نام سے ’’کینسر ریسرچ سینٹر ‘‘بنانے کا اعلان کیا جو بعد ازاں’’ اونٹاریو کینسر ٹریٹ منٹ اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن ‘‘کا حصہ بن گیاریسرچ کے لئے امداداور عطیات کا سلسلہ چلتا رہا اس دوران ٹیری بستر پر دراز اپنے صحت مند ہونے کا انتظار کرتا رہا اپریل میں عطیات کی رقم 24ملین ڈالر تک جا پہنچی جس کا خواب ٹیری نے دیکھا تھا علالت کے دوران ٹیری کے چاہنے والو ں کی تعداد میں بے حد اضافہ ہوگیا اسے جلد از جلد صحت مند ہونے کے دعائیہ خطوط اتنی زیادہ تعداد میں موصول ہوتے کہ محکمہ ڈاک کے مطابق ٹیری کی ڈاک پورے علاقے کی مجموعی ڈاک سے زیادہ ہوجاتی اسی طرح کینیڈا کے کسی بھی کونے سے لکھے جانے والے خط کے پتے میں اگر صرف ’’ ٹیری فوکس۔ کینیڈا‘‘ لکھا ہوتا تو وہ بغیر کسی رکاوٹ کے ٹیری تک پہنچ جاتا ۔

19جون1981کو ٹیری فوکس کی طبیعت مزید بگڑ گئی اور اسے انتہائی نگہ داشت کے شعبے میں داخل کردیا گیا ڈاکٹر ٹیری کی زندگی سے تقریبا ناامید ہوچکے تھے کوئی معجزہ ہی اسے زندگی دلا سکتا تھا ان لمحات میں آنجہانی پوپ پال دوئم نے بھی اسے ایک دعائیہ ٹیلی گرام کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ اس کی صحت مندی کے لئے دعاگو ہیں ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ ٹیری فوکس پر کینسر کے علاج کے کچھ ایسے طریقے آزمائے جائیں جن پر تحقیق جاری تھی ڈاکٹروں کی درخواست پر بلند حوصلہ ٹیری فوکس اور اس کے پر امید والدین نے اجازت دے دی لیکن مثبت نتائج حاصل نہ ہوسکے علاج روک دیا گیا اور معجزے کا انتظار کیا جانے لگا لیکن 28جولائی1981کو ٹیری فوکس نے 22سال کی عمر میں اپنے والدین کے ہاتھوں میں دم توڑ دیا ٹیری کی جواں مرگ پر حکومت کینیڈا نے پرچم سرنگوں کرنے کا اعلان کیاجب کہ وزیر اعظم Pierre Trudeauنے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ قوموں کی زندگی میں بہت کم ایسے مواقعے آتے ہیں جب تمام قوم کسی ایک شخص کی بلند حوصلگی اور جواں ہمتی کے باعث اس کی زندگی میں بھی اور اس کی موت پر بھی ایک ہوجائے ٹیری فوکس ایک ایسا نوجوان تھا جس نے ہم سب کو انسانی جذبے اور ہمت کے زریعے پریشانیوں پر فتح حاصل کرنے کا طریقہ سمجھا دیا‘‘۔

بلاشبہ ٹیری فوکس جیسے لوگ ہی دراصل کسی بھی معاشرے کا اصل حسن اور اعتبار ہیں یہی وجہ ہے کہ ٹیری کے انتقال کو تقریبا تین دہائیاں گذر چکی ہیں لیکن اس کا عزم اور ہمت آج بھی ان سوچوں میں تر وتازہ ہے جو کینسر کے علاج اور تحقیق میں مصروف ہیں اور وہ دن دور نہیں جب کینسر کا علاج سو فیصد کامیابی کے ساتھ ممکن ہو سکے گا ۔

اعزازات
ٹیر ی فوکس کینیڈا کا سب سے کم عمر شخص تھا جسے زندگی ہی میں کینیڈا کا سب سے بڑا شہری اعزاز ’’آڈر آف کینیڈا‘‘ عطاکیا گیا اسی طرح برٹش کولمبیا کی صوبائی حکومت نے اسے ’’ آڈر آف ڈاگ وڈ‘‘ (Order of the Dogwood)سے نوازا1980میں جب وہ سخت بیمار تھا ٹیری کو ملک کاکھیلوں کا سب سے بڑا ایوارڈ ’’ لیومارش ایوارڈ‘‘ (Lou Marsh Award)دیا گیا اور اس کا نام ’’آل ٹائم گریٹ کینیڈین ا یتھلیٹس‘‘ کی فہرست میں بھی شامل کرلیا گیاعوامی مقبولیت کے باعث ٹیری کو 1980ہی میں سرکاری طور پر ’’نیوز میکر آف دی ائیر ‘‘ قرار دیا گیا اس کے علاوہ 27جون 1981کو کینیڈا کے محکمہ ڈاک نے روایت کے برعکس ٹیری فوکس کا یادگاری ٹکٹ جاری کیا واضح رہے محکمے کی روایت کے مطابق کینیڈا میں زندہ شخض کا یادگاری ٹکٹ جاری نہیں کیا جاتا بل کہ انتقال کر جانے والے کسی بھی اہل شخص کا یادگاری ٹکٹ اس کے انتقال کے تقریبا دس سال بعد جاری کیا جاتا ہے ا سی طرح 4اپریل 2005میں ٹیری فوکس کی میراتھن کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر ایک ڈالر کی مالیت کا سکہ جاری کیا گیا جس کے ایک رخ پر ٹیری اور دوسرے رخ پر ملکہ کی تصویر منقش ہے اس طرح ٹیری وہ واحد کینیڈین شہری ہے جس کی تصویر ایک ڈالر کے سکے پر ہے سکے کی تقریب رونمائی کو پورے ملک کے اسکولوں میں براہ راست دکھایا گیا تھا۔
ان اعزازات کے علاوہ اس وقت کینیڈا میں لگ بھگ 32 سڑکیں ، ہائی ویز اور راستے ٹیری کے نام سے منسوب ہیں 14اسکولوں اور کئی لائبریریوں کے نام ٹیری کے نام پر رکھے گئے ہیں 1986 میں اس اسکول کا نام جہاں سے ٹیر ی نے گریجویشن کیا تھا تبدیل کرکے ٹیری فوکس سیکنڈری اسکول رکھ دیا گیا ہے اسکولوں اور لائبریروں کے علاوہ ایک درجن سے زائد عمارتیں بھی ٹیر ی فوکس کے نام سے پہچانی جاتی ہیں جس میں وینکور شہر میں واقع’’ فوکس کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ‘‘بھی شامل ہے کینیڈا کے طول وعرض میں ٹیری فوکس کے سات مجسمے بھی ایستادہ کئے گئے جن کے ساتھ ٹیری کی عزم و ہمت کی داستان رقم ہے ایک کھلاڑی ہونے کے باعث نو’’ فٹ نس سینٹر‘‘ اور جمنازیم بھی ٹیری کی یاد دلاتے ہیں اس کے علاوہ برٹش کولمبیا کی صوبائی حکومت نے علاقے میں موجود ایک پہاڑی کا نام تبدیل کر کے ’’ ٹیر ی فوکس ماؤنٹین‘‘ رکھا ہے اور اس کے ارد گرد کے علاقے کو بھی ’’ٹیری فوکس پارک‘‘ کا درجہ دیا ہے جب کہ کینیڈین کوسٹ گارڈ نے1983میں سمندر میں برف توڑنے والے بحری جہاز(Icebreaker) کا نام’’ ٹیری فوکس شپ‘‘ رکھ کر ٹیری کو خراج عقیدت پیش کیا 1993میں ٹیری فوکس سے منسوب Terry Fox Hall of Fame قائم کیا گیا جس میں کئی نامی گرامی شخصیات شامل ہیں اگرچہ ٹیری فوکس کے انتقال کو تیس سال ہو چکے ہیں لیکن اس کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی 1999میں کینیڈا کے ایک قومی سروے میں عوام نے ٹیری کو ’’ عظیم ترین ہیرو ‘‘کادرجہ دیا تھا جب کہ2004میں کینیڈین براڈ کاسٹنگ کی جانب سے کرائے جانے والے سروے میں ٹیری فوکس کو کینیڈا کا ہر زمانے کا دوسرا’’ عظیم ترین کینیڈین شہری‘‘ قرار دیاگیا تھا اس اعزاز کااعلان کرتے ہوئے مشہور خاتون کمپیئر اور گلوکارہ Sook-Yin Leeنے ٹیری فوکس کو یونان کے دیومالائی کردار Phidippidesکے ہم پلا قرار دیا تھا جس نے میراتھن کے مقام پر لڑی جانے والی جنگ کی فتح کی خبر ایتھنز میں عوام کو دی تھی اس نے یہ فاصلہ دوڑ کر طے کیا تھا اور خبر سنانے کے فورا بعد جان کی بازی ہار گیا تھا Leeکا کہناتھا کہ ٹیری فوکس بھی اپنی موت سے قبل عوام میں کینسر کے خلاف جنگ کا شعوردے کر امر ہوگیا ہے ۔

2010میں کینیڈا میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپک میں جن آٹھ افراد نے افتتاحی تقریب میں اولمپک پرچم لہرایا تھا ان میں سے ایک ٹیری فوکس کی والدہ Betty Foxبھی تھیں۔ٹیری فوکس کی مصنوعی ٹانگ اور اس کے جوتے برٹش کولمبیا کے عجائب گھر میں محفوظ ہیں جب کہ پانی کی وہ بوتل جو اس نے اپنی دوڑ کی تکمیل پر بحر الکاہل میں بہانے کی غرض سے بھری تھی اس وقت ٹیری فوکس کے والدین کے پاس بطور یادگار محفوظ ہے ٹیری فوکس کی ولولہ انگیز زندگی پر متعدد کتابیں تحریر کی جاچکی ہیں جن میں سے اکثر کتابیں یونیورسٹیوں اور اسکول لائبریریوں کا لازمی حصہ ہیں اس کے علاوہ ٹیری کے حوالے سے ٹیلی فلمیں بھی بنائی گئی ہیں۔

ٹیری فوکس رن (Terry Fox Run)
مشہور کینیڈین تاجر اور فور سیزن ہوٹلز کے مالک Isadore Sharpوہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ٹیری فوکس کے نام سے سالانہ دوڑ کا آغاز کیا یہ ایک ایسی دوڑ ہے جس میں ہار جیت نہیں ہوتی بل کہ کینسر کے علاج کی تحقیق کے حوالے سے عطیات اکھٹے کئے جاتے ہیں ’’ایساڈور شارپ‘‘ جن کا جواں سال بیٹا کینسر کے ہاتھو ں جان کی بازی ہار گیا تھا انہوں نے ٹیری فوکس کو میرا تھن کے دوران دس ہزار ڈالر کا عطیہ بھی دیا تھا اور دیگر 999تاجروں کو چیلنج کیا تھا کہ وہ بھی اتنا ہی عطیہ دیں شارپ اور ٹیر ی فوکس کے خاندان کی کوششوں سے پہلی دوڑ ٹیری کے انتقال کے دو مہینوں بعد 13ستمبر1981میں ہوئی جس میں تین لاکھ افراد نے حصہ لیا اور پینتیس لاکھ ڈالر کا چندہ اکھٹا کیا گیاچھے سال بعد ہی یہ ایک بین الااقوامی ایونٹ بن گیا جو دنیا کے ساٹھ ممالک میں ہر سال ستمبر میں منعقد کیا جاتا ہے ٹیری فوکس فاؤنڈیشن کے مطابق 2009تک وہ کینسر کے علاج میں تحقیق کے لئے 500ملین ڈالر سے زائد رقم فراہم کر چکے ہیں جس میں اہم کردار’’ ٹیری فوکس رن‘‘ ایونٹ کا ہے اس رقم کی معاونت سے کینسر کے علاج میں بیش بہا ترقی ہوئی ہے دنیا بھر میں ریس کا اہتمام عموما کینیڈین سفارت خانے ، ہائی کمیشن اور ٹیری فوکس فاؤنڈیشن کی نمائندہ تنظیمیں کرتی ہیں پاکستان میں بھی2004میں ’’ ٹیری فوکس رن‘‘ میراتھن اسلام آباد میں منعقد ہو چکی ہے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ATEEQ AHMED AZMI

Read More Articles by ATEEQ AHMED AZMI: 25 Articles with 82908 views »
I'm freelance feature essayist and self-employed translator... View More
28 Jun, 2013 Views: 842

Comments

آپ کی رائے
مردہ سے مردہ دل میں بھی زندگی کی امنگ پیدا ہو جاتی ہے بہت خوبصورتی سے آرٹیکل ترتیب دیا گیا ہے. بیشک دنیا میں ایسے لوگ موجود تھے ہیں اور رہیں گے جن کی داستانیں ہمارے لیے مشعل راہ ثابت ہوتی رہیں گی.
عزیز امین نے جس مقصد کے لیے اس کا انتخاب کیا وہ بهی اپنی مثال آپ ہے.
By: گلزیب انجم, دبئی on Jan, 04 2016
Reply Reply
0 Like