درخت کہانی- منفرد اور مخصوص پس منظر کے درخت

(ATEEQ AHMED AZMI, KARACHI)

درختوں کا بیجوں میں سے ننھے پودے کی صورت نکل کر پروان چڑھنا ، موسم کی سختیاں سہنا، شاخوں کا پھیلنا، لذیذ پھل دینا، بطور ایندھن لکڑی فراہم کرنا، گھر بنانے میں مددگار ہونا، شکار کے لئے ابتدائی ہتھیار کی حیثیت میں دکھائی دینا، ادویات کا ماخذ ہونا، جانوروں کی غذائی ضروریات پوری کرنا ،انسانی تاریخ کی عظیم ایجاد کاغذ کا مرکزی جزو ہونا، درختو ں کا بیمار ہونا، موت سے ہمکنار ہونا الغرض انسانوں اور درختوں کا زمانہ قدیم سے عہد حاضر تک چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ ساتھ ابد تک رہے گا- انسانوں کے ان قدیم دوستوں کی دنیا کیسی ہے اس سرسبز دنیا میں کون کون سے عجیب مناظر پوشیدہ ہیں آئیے درختوں کی دنیا میں داخل ہو کر اس دنیا کی سیر کرتے ہیں۔
 

عظیم سیکوئیا (Giant Sequoias) - سب سے جسیم درخت
ضخامت اورحجم کے لحاظ سے’’ سرو‘‘ نسل کا Giant Sequoias دنیا کا سب سے جسیم اور بھاری بھرکم درخت ہے جسےGeneral Shermanبھی کہا جاتا ہے- درخت کا نام امریکی خانہ جنگی کے دوران خدمات انجام دینے والے جنرل William Tecumseh Shermanکی یاد میں رکھا گیا ہے جو 1879میں مشہور ماہر فطرت James Wolverton نے تجویز کیا تھا- تقریباً ڈھائی ہزار برس پرانا یہ درخت کیلی فورنیا کے جنگلات میں ’’سیکوئیا نیشنل پارک‘‘ میں موجود ہے درخت کی اونچائی 275فٹ ہے تنے کا حجم 1487کیوبک میٹر ہے زمین کے ساتھ تنے کا گھیراؤ102فٹ ہے جب کے درخت کا مکمل وزن لگ بھگ 6ہزار ٹن ہے- ماہرین کے مطابق درخت میں سالانہ اوسطا ساٹھ فٹ طویل درخت کے برابر لکڑی کا اضافہ ہوتا ہے یہ منفرد عمل درخت کو قدرت کا نادر نمونہ بنا دیتا ہے۔


پرومیتھیوس Prometheus- قدیم ترین درخت
برطانوی Bristlecone پائن جس کا نام Prometheus ہے دنیا کا قدیم ترین مکمل درخت تھا درخت کے تنے میں موجود دائروں کی تعداد کے لحاظ سے درخت کی عمر 4862 سال تھی امریکی ریاست نواڈا کے مشرق میں واقع Wheeler Peak میں موجود درخت اُس وقت حادثاتی طور پر دریافت ہوا تھا جب 1964میں شمالی کیرولینا یونیورسٹی کے نوجوان ڈینڈروکونولوجسٹ Donald R. Currey نے تحقیق کے لئے ایک درخت کے تنے میں سوراخ (Bore) کیا تو سوراخ کرنے والا برما (Drill Machine)تنے کے اندر ٹوٹ گیا- چناں چہ ڈونالڈ نے محکمہ جنگلات سے درخواست کی کہ درخت کو کاٹ کر اس پر تحقیق کرنے کی اجازت دی جائے- اجازت ملنے کے بعد جب درخت پر تحقیق کی گئی تو یہ انکشاف ہوا کہ کاٹے جانے والا درخت دنیا کا قدیم ترین زندہ درخت تھا جو حادثاتی طور پر اب مردہ ہوچکا ہے-’’ پرومیتھیوس‘‘ ایک اوسط قامت کا درخت تھا جس کی اٹھان اپنی نسل کے دیگر درختوں کی طرح عمودی اور ستواں تھی ۔

’’پرومیتھیوس‘‘ کی دریافت سے قبل دنیا کا قدیم ترین زندہ درخت Methuselah کو سمجھا جاتا تھا جس نے’’ پرومیتھیوس‘‘ کے کاٹے جانے کے بعد دوبارہ دنیا کے قدیم ترین درخت کا اعزازحاصل کرلیا ہے دیو مالائی کردار ’’میتھیوسیلہ‘‘ سے منسوب یہ درخت بھی برطانوی Bristlecone پائن ہی کی نسل ہے جو کیلی فورنیا کے وائٹ ماوئنٹین پہاڑی سلسلے میں پایا جاتا ہے سطح سمندر سے گیارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع اس درخت کی عمر سن 2010میں 4,841 سال ہوچکی ہے دائروں کی مدد سے(Dendrochronology) درخت کی عمر کا سب سے پہلے تعین1957میں مشہور ماہر نباتات’’ ایڈمنڈ شلمین‘‘ نے کیا تھا اس وقت درخت کی عمر تنے میں موجود دائروں کے مطابق 4,789 سال قرار پائی تھی -تحقیق کے دوران ایڈمنڈ شلمین نے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا تھا کہ ’’برطانوی برسٹل کون پائن‘‘ نسل کے لگ بھگ ایک درجن ایسے درخت ہیں جن کی عمر 4 ہزار سال سے زائد ہے واضح رہے- ’’میتھیو سیلہ‘‘ نہ صرف کرہ ارض پر سب سے قدیم درخت ہے بلکہ اس وقت زمین پر موجود سب سے قدیم زندہ وجاوید شے یا ساخت (Organism) بھی ہے ۔


ہائپرون (Hyperion) - طویل قامت درخت
ہائپرون’’ سرو‘‘ نسل کے اس درخت کا نام ہے جسے 380 فٹ کی اونچائی کے ساتھ دنیا کے سب سے طویل قامت درخت کا اعزاز حاصل ہے- درخت کی بلندی کا تعین جدید لیزر بیم ٹکنالوجی کی مدد سے مشہور ماہر نباتاتStephen C. Sillettنے کیا تھا- بلند و بالا درخت کو 8ستمبر 2006 میں ’’کرس اٹکنس‘‘ اور’’ مائیکل ٹیلر‘‘ نے شمالی کیلی فورنیا کے’’ ریڈ وڈ نیشنل پارک ‘‘میں دریافت کیا تھا- Hyperion نہ صرف درختوں میں بلکہ دنیا میں سب سے قد آور جاندار ہے- درخت کی دریافت کے بعد ابتداء میں انسانی مداخلت سے بچاؤ کی خاطر 131,983ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے وسیع و عریض ریڈوڈ نیشنل پارک کی انتظامیہ نے درخت کا مقام خفیہ رکھا ہوا تھا- تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ماہرین اور درختوں کے شوقین حضرات نے درخت ڈھونڈ نکالا اور اب قدیم یونان کے دیومالائی دیوتا Hyperion سے منسوب اس درخت کا نظارہ کرنے کثیر تعداد میں سیاح آتے ہیں- یہاں یہ جاننا مناسب ہوگا کہ یونانی زبان میں لفظ ہائپرون ’’ سب سے بلند ‘‘ کے لئے استعمال ہوتا ہے- ماہرین کے مطابق درخت میں 18,600کیوبک فٹ لکڑی ہے Hyperion کی پیمائش سے قبل کیلی فورنیا ہی کے قصبے Humboldt کے ریڈ وڈ پارک میں’’Stratosphere جائنٹ‘‘ نامی درخت 371 فٹ بلندی کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھا- واضح رہے درخت کا نام Stratosphere زمین کی پانچ بیرونی بلند فضائی پرتوں(Layers) میں سے ایک سے منسوب ہے ۔


دی ٹیول ٹری(The Tule Tree) - سب سے وسیع تنے والا درخت
’’دی ٹیول ٹری‘‘ میکسیکو کی ریاست اوایکساکا (Oaxaca) کے قصبے Santa Mar237a del Tuleکے مرکزی چرچ کے احاطے میں واقع ہے- صنوبر کی نسل سے تعلق رکھنے والے اس درخت کے تنے کا گھیراؤ یا قطر لگ بھگ 39 میٹر ہے جو دنیا میں موجود کسی بھی درخت کے حوالے سے سب سے وسیع ڈیل ڈول والا تنا ہے- ابتدا میں خیال کیا جاتا تھا کہ یہ تین مختلف درختوں کے باہم ملے ہوئے تنے ہیں لیکن بعد میں DNA ٹیسٹ سے ثابت ہوا کہ یہ ایک ہی درخت کا تنا ہے 116 فٹ کی بلندی رکھنے والے اس درخت کا حجم اندازاً 636.107 ٹن ہے- درخت کو مقامی زبان میں El Arbol del Tule کہا جاتا ہے- ابتداء میں دی ٹیول ٹری کی عمر کے حوالے سے متنازع آراء تھیں تاہم مستند تحقیق کے بعد درخت کی عمر کا اندازہ 1500سے 1600 برس لگایا گیا ہے- علاقائی روائیتوں کے مطابق یہ درخت’’ ازٹک قبائل‘‘ کے ہوا کے دیوتا Ehecatl کے ایک پجاری نے 1400 سال قبل لگایا تھا- درخت کا ایک حوالہ یہ بھی ہے کہ وقتا فوقتا اس کے تنے پر مختلف جانوروں کی شکلوں سے ملتے جلتے ابھار ظاہر ہوتے ہیں جنہیں بہ غور دیکھنے پر ہی محسوس کیا جاسکتا ہے اس خوبی کے باعث درخت کو ’’ شجر حیات‘‘(Tree of Life)بھی کہا جاتا ہے۔


کواکنگ اسپن(Quaking Aspen) - قدیم ترین جھنڈ
’’کواکنگ اسپن‘‘ جسے پانڈو (Pando) اور Trembling Giant بھی کہتے ہیں امریکہ کے علاقے Utah میں واقع درختوں کا طویل سلسلہ (Colony) ہے- درحقیقت یہ درخت کے بجائے 47 ہزار کے لگ بھگ شاخیں ہیں جو جینیاتی طور ایک دوسرے کی مماثل(Clone) ہیں- 107 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ان تمام درخت نما شاخوں کا منبع ایک ہے جو لامتناہی رقبے پر پھیلے ہوئے جڑوں کے ایک ہی نظام سے جڑا ہوا ہے- ایک ہی مقام سے پھیلنے والی ان شاخوں کا وزن 6600 ٹن ہے جو شاخوں کے وزن کے لحاظ سے ایک رکارڈ ہے- ماہرین کے مطابق یہ سارا نظام لگ بھگ 80 ہزار سال میں تشکیل پایا ہے اس بنیاد پر درختوں کے اس جھنڈ کو دنیا کا ’’ قدیم ترین درختوں کا جھنڈ‘‘ یا کنج مانا جاتا ہے۔


عظیم برگد (The Great Banyan) - سب سے زیادہ وسیع رقبے پر پھیلا ہوا سائبان والا درخت
’’عظیم برگد‘‘ انڈیا کے شہر کلکتہ کے ساتھ بہنے والے دریائے ’’ہوگلی ‘‘کے ساتھ واقع نباتاتی گارڈن(BRETT) میں پھیلا ہوا ہے وسیع رقبے پر مشتمل برگد کایہ درخت قدرت کا شاہ کار ہے 200سے ڈھائی سو سال پرانا درخت اپنے سائبان (Canopy) یا چھاؤں کے پھیلاؤ کے باعث دنیا کا سب سے زیادہ رقبے پر محیط درخت ہے جس کی شاخوں اور ان پر لپٹی ہوئی بیرونی جڑوں کے باعث درخت ایک چھوٹا سا جنگل نظر آتاہے درخت کا مکمل پھیلاؤ 4ایکڑ ہے جب کہ اس کے موجودہ سائبان کا قطر یا رقبہ ایک کلومیٹر کے لگ بھگ ہے ، سائبان ایک دوسرے میں مدغم چھوٹی بڑی شاخوں اور ان کے ساتھ تقریبا2,880 لٹکتی جڑوں پر مشتمل ہے جن میں سے اکثر جڑیں زمین کو چھوتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اگرچہ درخت کے گرد 330میٹر کی دائرہ نما سڑک تعمیر کی گئی ہے لیکن درخت کا پھیلاؤ مستقل بڑھتا جارہا ہے جو دیکھنے والے کو مہبوت کر دیتا ہے۔


باؤ باب(Baobab) - منفرد خدو خال کا حامل درخت
منفرد خدو خال رکھنے والے ان درختوں کے مسکن زیادہ تر جزائر مڈغاسکر ، براعظم افریقہ اور مغربی آسٹریلیا کے خشک اور نیم صحرائی علاقے ہیں’’ باؤباب‘‘ کا نباتاتی نام Adansonia grandidieri ہے- جزائر مڈغاسکر کے قومی درخت کی حیثیت رکھنے والے باؤباب درختوں کو Trees Bottle بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ مناسب طریقے سے پروان چڑھے ہوئے درخت کے وسیع تنے میں لگ بھگ ایک لاکھ بیس ہزار لیٹر پانی جمع کرنے کی استعداد ہوتی ہے- درخت کی اونچائی سو فٹ تک مشاہدہ کی گئی ہے تاہم ماہرین کے لئے باؤباب درختوں کی عمر کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے- کیوں کہ ان کے تنوں میں درخت کی عمر کا اندازہ لگانے والے روائتی دائرے نہیں پائے جاتے- اس نسل کا ایک منفرد درخت Teapot baobabہے اس کے علاوہ براعظم افریقہ کے دورافتادہ علاقوں میں باؤباب درختوں کے چند دلچسپ ا ستعمال دیکھنے میں آتے ہیں جن میں کھوکھلے تنوں میں بیت الخلا، حمام اور جیل وغیرہ کی موجودگی شامل ہے۔


اینجل اوک (Angel Oak)
امریکہ کی ریاست جنوبی کیرولینا کے ساحلی شہر Charleston کے جزیرے میں واقع شاہ بلوط کے اس درخت کی اونچائی 65 فٹ ہے جبکہ اس کے تنے کا گھیراؤ 25.5فٹ ہے- درخت لگ بھگ 1400سال قدیم ہے درخت کا مکمل سایہ17 ہزار اسکوائر فٹ پر محیط ہوتا ہے جبکہ اس کی سب سے لمبی شاخ 89 فٹ لمبی ہے- درخت کی ملکیت چارلسٹن شہر کی ہے شاہ بلوط کے اس درخت کے بارے میں خیال ہے کہ دریائے مس سی پی کے مشرق میں واقع یہ سب سے قدیم جاندار شے ہے- ان گنت سمندری ہری کین طوفانوں زلزلوں اور انسانی مداخلت کے باوجود درخت طویل عرصے سے ہرا بھرا ہے- درخت کے نام کے حوالے سے دو آراء ہیں جن کے مطابق اس کا نام قدیم ریاست Angel کے وجہ سے رکھا گیا ہے جبکہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ماضی میں جن غلاموں کو مار کر اس درخت کے نیچے دفن کیا گیا ہے ان کی روحیں یہاں دیکھی گئی ہیں جس کے باعث اس کا نام Angle شاہ بلوط رکھ دیا گیا ہے۔


این فرینک ٹری(Anne Frank Tree)
نیدر لینڈ کے مرکزی شہر ایمسٹرڈیم میں واقع’’ این فرینک ٹری‘‘ اس وقت مشہور ہوا جب اسے حکومتی حکم سے گرایا جارہا تھا- دراصل دوسری جنگ عظیم کے دوران ’’ این فرینک ‘‘ نام کی لڑکی جو اپنے والدین کے ساتھ نازیوں کے ڈر سے ایک عمارت میں چھپی ہوئی تھی اس نے اپنی ڈائریThe Diary of a Young Girl میں اس درخت کی اونچائی اور اس کے اردگرد کے ماحول کے بارے میں خوبصورت پیرائے میں زکر کیا تھا- کیوں کہ عمارت کے سامنے ایستادہ شاہ بلوط کے درخت کو وہ چوری چھپے کھڑکی میں سے دیکھتی تھی جو اس کے لئے باہر کی دنیا کا واحد نظارہ بھی تھا- نوعمر این فرینک نے یہ یادداشتیں تیرہ سال کی عمر میں لکھی تھیں- کچھ عرصے بعد ہٹلر کے ساتھیوں نے اس کے والدین کو گرفتار کر لیا اور والدین کے ساتھ این فرینک کو بھی بطور سزا بیگار کیمپ بھیج دیا گیا جہاں محض دو سال بعد دوران قید اس کا انتقال پندرہ سال کی عمر میں ہوگیا تھا- این فرینک کی ڈائری اس کے والد منظر عام پر لائے تھے ڈائری کا انگریزی ترجمہ 1952 میں شائع کیا گیا تھا، ڈائری میں کثرت سے ذکر کئے جانے والے 170سالہ قدیم درخت کو جب حکومت نے 20 نومبر 2007 کو مخدوش قرار دیتے ہوئے گرانے کااعلان کیا تو درختو ں سے اور این فرینک سے محبت کرنے والوں نے سخت احتجاج کیا جس سے متاثر ہو کر Dutch Tree Foundation نے درخت کا تجزیہ کر کے اسے کاٹنے کے بجائے اس کی نگہداشت پر زور دیا- اس طرح اینی فرینک کا درخت درختوں سے محبت کرنے والوں کی فتح کی صورت اس وقت بھی موجود ہے یاد رہے این فرینک کی ڈائر ی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ڈائریوں میں شمار کی جاتی ہے۔


اربری ڈی ٹینری (Arbre Du Tenere)
افریقی ملک نائجر کے جنوب مشرق میں صحرائے صحارا کے علاقے Tenere میں واقع اس مقامی نسل کے کیکر کے درخت کو کرہ ارض کا سب سے تنہا درخت کہا جاتا تھا- درخت کے اردگرد 200 کلومیٹر کے دائرے میں کوئی درخت نہیں تھا- 1939 میں اس چھوٹے سے درخت کے گرد ایک کنواں کھودا گیا تھا جس سے یہ جڑوں کے ذریعے پانی حاصل کرتا تھا- تاہم بدقسمتی سے ایک مدہوش ڈرائیور کی گاڑی کی ٹکر سے درخت گر چکا ہے- مردہ درخت کو نائجر کے قومی عجائب گھر میں محفوظ کرلیا گیا ہے جب کہ صحرا میں علامتی طور پر درخت کی اصل جگہ دھاتی درخت لگا دیا گیا ہے ۔

 

Click Here For Part II

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
25 Nov, 2013 Views: 8205

Comments

آپ کی رائے
very very interesting article
By: Rizwan, Sharjah on Nov, 25 2013
Reply Reply
0 Like
Thanks.
Ateeq Ahmed Azmi
By: ATEEQ AHMED AZMI, Karachi on Nov, 26 2013
0 Like
Trees may be our most potent reminder of nature's power and beauty. For thousands of years, trees have inspired poets, scientists, warriors and priests, and they remain a living symbol of the glory of the natural world and its importance in our lives.