عجیب و غریب پس منظر کے حامل منفرد درخت

(ATEEQ AHMED AZMI, Karachi)

درختوں کا بیجوں میں سے ننھے پودے کی صورت نکل کر پروان چڑھنا ، موسم کی سختیاں سہنا، شاخوں کا پھیلنا، لذیذ پھل دینا، بطور ایندھن لکڑی فراہم کرنا، گھر بنانے میں مددگار ہونا، شکار کے لئے ابتدائی ہتھیار کی حیثیت میں دکھائی دینا، ادویات کا ماخذ ہونا، جانوروں کی غذائی ضروریات پوری کرنا ،انسانی تاریخ کی عظیم ایجاد کاغذ کا مرکزی جزو ہونا، درختو ں کا بیمار ہونا، موت سے ہمکنار ہونا الغرض انسانوں اور درختوں کا زمانہ قدیم سے عہد حاضر تک چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہ ساتھ ابد تک رہے گا- انسانوں کے ان قدیم دوستوں کی دنیا کیسی ہے اس سرسبز دنیا میں کون کون سے عجیب مناظر پوشیدہ ہیں آئیے درختوں کی دنیا میں داخل ہو کر اس دنیا کی سیر کرتے ہیں-آج اس آرٹیکل کا حصہ دوئم شائع کیا جارہا ہے جبکہ حصہ اول چند روز قبل شائع کیا گیا-
 

تنہا سائپرس - (Lone Cypress)
کیلیفورنیا کے جزیرے Monterey کے ساحل Pebble کی پہاڑیوں پر واقع’’ سرو‘‘ کا یہ درخت تنہا درختوں میں ایک خوبصورت اضافہ ہے جس کے پس منظر میں بحر الکاہل کی لہریں جھاگ اڑاتی نظر آتیں ہیں- فوٹو گرافی کے شائقین کے لئے’’ لون سائپرس‘‘ ایک اہم مقام ہے- یہی وجہ ہے کہ سمندر کے کنارے تنہا کھڑے اس درخت کی خوبصورت تصاویر دنیا بھر میں دلچسپی سے دیکھی جاتی ہیں۔


بودھی درخت - (Bodhi Tree)
ہندوستان کی ریاست بہار کے شہر پٹنہ سے 100کلو میٹر کی دوری پر بدھ مت کے پیروکاروں کا مقدس مقام ’’ بدھ گیا‘‘ ہے جہاں تاریخی ’’ مہا بودھی ٹیمپل ‘‘ کی مغربی سمت پر ’’ بودھی درخت‘‘ واقع ہے- دراصل یہی وہ مقام ہے جہاں ’’گوتم سدھارتھ‘‘ نے پیپل کے درخت کے سامنے ایک ہفتے تک کھڑے ہو کر ابدی مسرت کے حصول کے لئے مراقبہ کیا تھا- ابدی مسرت یا بدھ مت کے مطابق ’’ بودھی‘‘ حاصل کرنے کے بعد وہ گوتم سدھارتھ سے ’’گوتم بدھ‘‘ کے درجے پر فائز ہوگئے تھے، پیپل کا یہ پیڑ جسے Bo بھی کہا جاتا ہے اپنے مخصوص دل کے شکل کے پتوں سے پہچانا جاتا ہے- اس قدیم درخت کی ایک قلم یا شاخ موریہ خاندان کے تیسرے بادشاہ اشوک( 270 ق م ) کی جانب سے سری لنکا بجھوائی گئی تھی جو آج بھی سری لنکا کے قدیم پایہ تخت’’ انورادھاپورا‘‘ میں درخت کی شکل میں موجود ہے- دو ہزار تین سو سال پرانے اس درخت کو انسانی ہاتھ سے لگائے گئے قدیم ترین درخت کا اعزاز بھی حاصل ہے- ’’ بود ھی درخت‘‘کی لگائی گئی قلم والا ایک اور درخت صوبہ اترپردیش کے ضلع ’’گوندا‘‘ میں بھی ہے اس ضلع کا پرانا نام Sravastiتھا- یہ قلم یا شاخ بدھ بھکشوؤں کی رہائش گاہ کے باہر لگائی گئی تھی- بودھی درخت کی موجودگی کے باعث’’ سراواستی‘‘ بھی بدھ مت میں مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔


شجر حیات - (Tree of Life)
مشرق وسطی کے ملک بحرین میں واقع’’ شجر حیات‘‘ قدرت کا ایک عجوبہ ہے- صحرا میں پہاڑی مقام ’’جبل دوخان‘‘ سے دو کلومیٹر کی دوری پر اکیلا کھڑا نظر آنے والا درخت تقریبا سو سال پرانا ہے- سرسبز درخت کس طرح پانی حاصل کرتا ہے ابھی تک ایک سربستہ راز ہے کیوں کہ درخت کے اطراف میں خشک صحرائی ریت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے- میٹھے پانی کی عدم دستیابی کے باوجود اپنے وجود کو قائم رکھنے کی بنا پر درخت کو ’’شجر حیات‘‘ کہا جاتا ہے ۔


ہپو کریٹس درخت - (Tree of Hippocrates)
یونان سے تعلق رکھنے والے مشہور ماہر طب’’ ہپوکریٹس‘‘ کے نام سے وابستہ درخت یونانی جزیرے Kos میں واقع ہے جو اُس ڈھائی ہزار سال پرانے چنار کے درخت کی یادگار ہے جس کے سائے تلے بابائے طب ’’ ہپوکریٹس‘‘ اپنے شاگردوں کو طب کی تعلیم دیا کرتے تھے- اس یادگار مقام پر لگا ہوا موجودہ درخت پانچ سو سال پرانا ہے جو اصل درخت کی قلمی پیوند کاری ہے - 1776 میں عثمانیہ سلطنت کے گورنر غازی حسن کے نام سے قائم کی جانے والی مسجد کے نزدیک واقع یہ درخت خاصا بوسیدہ ہوچکا ہے- درخت کو قائم رکھنے کے لئے دھاتی پٹیوں کی مدد حاصل کی گئی ہے- دنیا کے بہت سے تعلیمی اداروں میں اس قدیم درخت کی شاخیں کاٹ کر لگائی گئی ہیں جو درخت اور بابائے طب’’ ہپوکریٹس‘‘سے محبت کااظہار ہے ان اداروں میں یونیورسٹی آف گلاسگو، یونیورسٹی آف مشی گن، یونیورسٹی آف سڈنی، یونیورسٹی آف جنوبی الباما، یونیورسٹی آف وکٹوریہ اور Yaleیونیورسٹی جیسی درسگاہیں شامل ہیں۔


وولیمیا - (Wollemia Pine)
10ستمبر 1994کو آسٹریلیا کے بلیو ماؤنٹین پہاڑی سلسلے کی آبشاروں سے گھرے Wollemi نیشنل پارک میں یہ درخت اتفاقیہ طور دریافت کیا گیا تھا- نیو ساؤتھ ویلز میں واقع پارک کے فیلڈ آفیسر اور پودوں کے شیدائی’’ ڈیوڈ نوبیل‘‘کو گشت کے دوران ایک مخروطی خدو خال کا درخت نظر آیا جو اس سے پہلے ان کی نظر سے نہیں گزرا تھا- تحقیق کی غرض سے وہ اس درخت کا ایک چھوٹا پودا اپنے ساتھ لے آئے ابتدائی تحقیق سے ثابت ہوا کہ پودے کی نباتاتی خصوصیات درختوں کے قدیم خاندانAraucariaceaeکے ناپید سمجھے جانے والے درختوں جیسی ہیں اور حیرت انگیز طور پر اس قدیم خاندان کے موجودہ درختوں سےWollemia کا کوئی تعلق نظر نہیں آیا چناں چہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین نے Araucariaceae کے قدیم رکازات(Fossil) پر تحقیق کی تو ’’ وولیمیا‘‘ 200ملین سال قدیم Araucariaceae کے رکازات سے مماثل نکلا- اس انکشاف سے نہ صرف ’’چیڑ ‘‘کی نسل کا یہ درخت برفانی عہد کا جیتا جاگتا تسلسل قرار پایا بلکہ ماہرین Wollemiaکو قدیم ماحول پر تحقیق میں بنیادی حیثیت کا حامل قرار دے چکے ہیں- دلچسپ بات یہ ہے کہ پارک کے نام سے منسوب اس انتہائی قدیم نسل کے تقریباً سو درخت نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور انٹارکیٹکا میں بھی دریافت ہو چکے ہیں- یاد رہے یہ درخت طویل عمر کے نہیں ہیں بلکہ قدیم درختوں کے سلسلے کی کڑی ہیں جو ماہرین کے مطابق 17 برفانی عہد کی سختیاں برداشت کرچکے ہیں- اسی نسبت سے ان درختوں کو’’ ڈائنوسار ٹری‘‘ بھی کہا جاتا ہے درختوں کی اہمیت کے پیش نظر سن2005 سے ان درختوں کو نرسریوں میں پروان چڑھایا جارہا ہے اور تجارتی بنیادوں پر فروخت کیا جارہا ہے تاکہ یہ دنیا بھر میں پھیل سکیں۔


میجر اوک - (Major Oak)
شاہ بلوط کا یہ تاریخی درخت انگلینڈ کی کاؤنٹی ناٹنگھم شائر کے Sherwood جنگل میں واقع ہے- درخت تقریباً ایک ہزار سال قدیم ہے درخت کی وجہ شہرت افسانوی کردار’’ رابن ہڈ‘‘ اور اس کے ساتھیوں کا مسکن ہے جہاں وہ جمع ہوکر ہلہ گلہ کیا کرتے تھے- درخت کا نام اٹھارویں صدی کے مشہور برطانوی فوجی میجر Hayman Rooke سے منسوب ہے میجر Hayman کی ایک شہرت ان کی Sherwood جنگلات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بھی ہیں- منفرد وضع قطع کے اس درخت کا وزن 28ٹن ہے اور تنے کا گھیراؤ33 فٹ ہے 1998میں درخت کی شاخیں انٹرنیٹ کے ذریعے دھوکہ دہی سے نیلام کرنے کی کوشش بھی کئی گئی تھی اس واقعے سے درخت کو بہت شہرت ملی تھی- 2002 میں درخت کو برطانیہ کے پچاس عظیم درختوں میں شامل کر کے قومی اثاثہ قرار دیا گیا ہے- اس کے علاوہ درخت برطانیہ کے سات عجائب میں بھی شامل ہے شکستگی کے باعث در خت کی شاخوں کو مصنوعی سہارے کے زریعے گرنے سے روکا گیا ہے۔


فانوس درخت - (Chandelier Tree)
Drive-Through Trees

کیلیفورنیا کے کوسٹ ریڈوڈ پارک میں فانوس کی شکل کے اس 315 فٹ اونچے درخت کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کے تنے کے درمیان 6 فٹ چوڑا اور 9 فٹ اونچا شگاف کیا گیا ہے- شگاف جو 1930میں کیا گیا تھا اس کے درمیان میں سڑک ہے جس میں سے باآسانی کار گزر سکتی ہے’’ شینڈیلیر ٹری‘‘ کے علاوہ اس پارک میں مزید تین درخت ہیں جن کے تنوں کے درمیان بنائے گئے شگافوں سے کار باآسانی گزاری جاسکتی ہے اسی خصوصیت کے باعث انہیں Drive-Through Trees بھی کہا جاتا ہے ۔


سات بہنوں کا درخت - Seven Sisters Oak
سات بہنوں کے نام سے منسوب شاہ بلوط کا درخت امریکہ کی ریاست لوئیسیانا میں واقع ہے- امریکہ کے جسیم درختوں کے بارے میں اعداد وشمار جمع کرنے والے قومی ادارے کے مطابق شاہ بلوط کے درختوں میں یہ ایک چمپئین درخت ہے- 1500سال قدیم درخت کے مالک نے ابتداء میں درخت کا نام ایک شخص Carole Hendry Doby کے نام پر رکھا تھا جو سات بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا بعد میں یہ نام Seven Sister Oakمیں تبدیل ہوگیا 2005میں کترینہ طوفان نے درخت کو جزوی نقصان پہنچایا تھا مگر درخت دوبارہ اپنی اصلی حالت میں آچکا ہے- درخت کے حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ درخت شاہ بلوط کے درختوں کی بنائی گئی سوسائٹی کا صدر بھی ہے ۔


اخروٹ کا سو گھوڑوں والا درخت - Chestnut Tree of One Hundred Horses
شاہ بلوط کا یہ درخت اٹلی کے شہر سسلی میں واقع ہے جو ایک وسیع تنے پر مشتمل ہے دوہزار سال قدیم اس درخت کے تنے کی سب سے زیادہ پیمائش 1780 میں 190فٹ ریکارڈ کی گئی تھی- مورخین درخت کی وجہ شہرت وہ واقعہ بیان کرتے ہیں جس کے مطابق مملکت Aragon کی ملکہ اور اس کا فوجی قافلہ جب ماؤنٹ اینٹا کی جانب محو سفر تھا تو شدید باد وباراں نے قافلے کو گھیر لیا اس وقت ملکہ اور اس کے سو گھڑ سواروں نے اسی تاریخی درخت کے وسیع تنے کے اندر پناہ لی تھی تاہم اب درخت کا تنا سمٹ کر مختصر ہو چکا ہے ۔


Click Here For Part 1

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
03 Dec, 2013 Views: 12990

Comments

آپ کی رائے
masha Allah
By: taimur khan , Bannu on Dec, 24 2013
Reply Reply
0 Like
Subhan Allah
By: Nouman Usman, Kuwait on Dec, 03 2013
Reply Reply
2 Like
MashaAllah
By: mhshtaq ahmad, peshawar on Dec, 02 2013
Reply Reply
3 Like
Trees may be our most potent reminder of nature's power and beauty. For thousands of years, trees have inspired poets, scientists, warriors and priests, and they remain a living symbol of the glory of the natural world and its importance in our lives.