تماشائی

(Kiran Aziz Kashmiri, )
قارئین کرام! تماشائیوں کی کئی اقسام ہوتی ہیں کچھ لوگ تماشا بن جاتے ہیں اور کچھ تماشائی ۔حالات و واقعات کی تجزیہ نگاری کی جائے تو نا تو حالات بدلتے ہیں اور نہ ہی واقعات ۔بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جاتا رہے گا ۔ہر اس کردار کی مذمت کی جائے گی جو موقع غنیمت جان کر اپنے فرض سے راہ فرار اختیار کر لے گا۔یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنا فائدہ مد نظر رکھتے ہوئے بلا تکلف ابلیس سے ہا تھ ملا لیتا ہے۔اور جب اس کی سوچ میں ابلیس کے احساسات کی آمیزش شامل ہو جاتی ہے ۔تو فوراـ ًنیت بدل جاتی ہے۔’’جیسا کہ عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔اور پھر اعمال کچھ یوں ہوتے ہیں کہ جن لوگوں کو اسکی مدد درکار ہوتی ہے وہ انہیں اپنے مفادات کی تکمیل کا حصہ سمجھ کر یا تو ساتھ دیتا ہے یا نظر انداز کر دیتا ہے۔اس طرح تماشائی بن جاتا ہے۔

تماشائیوں کی ایک اور قسم ہے وہ جنہیں قطعی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ کیا کرنے جا رہے ہیں ۔خاص تہوار ،ریلیاں ،احتجاج ،ہڑتال،جلسے جلوس،ان کے من پسند مواقع ہوتے ہیں۔کہ جب انہیں گھناؤنے کارنامے سر انجام دینا ہوتے ہیں۔یوں تماشا بن کر رہ جاتے ہیں وہ لوگ جن کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ کب کس کا شکار بن جائیں گے۔اور پھر یہ نا معلوم تماشائی حکمرانوں ،تجزئیہ نگاروں ،ہر طبقہ فکر افراد کے مذمتی بیانات میں ہوتے ہیں پھر یہ جا وہ جا۔

قارئین! تحریر کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے میں پروفیشنل تماشائیوں کا ذکر وہیں کرونگی۔آئے روز رونما ہونیوالے حادثات جہاں ہماری پولیس ٹہلتے ٹہلتے پہنچتی ہے ۔تماشائیوں کا ایک ٹولہ ہمہ تن گوش ساکت و جامد یوں نظر آئے گا جیسا کہ بے جان پتلے۔دراصل یہ مردہ دل بے ضمیر لوگ حقیقت سے انجان ہوتے ہیں ۔کہ ایک دن انہیں بھی مقافات عمل کا شکار ہوجانا ہے ۔افسوس! صد افسوس کہ ان کی کوتاہیوں کی بدولت کئی لوگ اسپتالوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دنیا فانی سے کوچ کر جاتے ہیں ۔ایسے مردہ ضمیر لوگوں میں بے حسی کی یہ روش ـ’’صراط مستقیم‘‘کے طور پر اپنا رکھی ہے ۔اندازہ کیجئے!کہ جب ہم خود تماشائی بن گئے ہیں اپنے معاشرے اپنے ہم وطنوں کے لیئے ۔تو بیرونی دنیا ہمارا ’’تماشہ‘‘دیکھنے یا دکھلانے میں کیونکر نہ کوتاہی برتے گی۔ہمیں ہمارا انجام بحرصورت یاد رکھنا ہوگا۔نیتوں کی سفاکی کردار کی برہنگی مردار تماشائی ہمارے معاشرے کو کس موڑ پر لے آئے ہیں۔اگر اپنے کردار کا سچائی اور گہرائی سے مطالعہ کریں تو ہم خود تماشائی بن جائیں گے۔اپنے اعمال کے جنہیں کس ڈگر پر لے آئی ہے ہماری نیت۔۔۔خود اپنی ذات کی پرواہ کیجیئے نہ کہ دوسروں کی خوشگوار زندگی اجاڑنے والے تماشائی بنیئے اور حساب دیتے وقت آپ با لکل تنہا ہونگے تب نہ تو کوئی ساتھی ہوگا نہ رشتہ دار نہ دوست نہ دشمن ہر چند کوئی بھی رشتہ آپ کو تسلی دینے نہیں آئے گا۔تو آج بجائے تماشائی بننے کے معاشرے ملک و قوم کی بھلائی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔

آج ہماری قوم ایک ایسے دوراہے پہ ہے جہاں ہم اندرونی بیرونی سازشوں کا شکار ہیں ۔فرقہ پرستی، دہشتگردی ،کرپشن اور بہت سے سنگین مسائل کا شکار ہے۔اس کے برعکس ہمارا کیا کردار ہے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا۔اپنا اپنا کردار نہ کے دوسروں کاکردار ادا کر کے تماشائی کہلانا چاہیں گے۔اور تقلید کرتے کرتے ایک ایسا گرو بنا دینگے جسے تماشائی کہا جاتا ہے۔یاد رکھیئے آپ کا کردار ایک چنگاری کی مانند ہے اچھا ہوا تو گھر روشن کر دے گا برا ہو ا تو گھر جلا دے گا۔مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کر کے اپنے عظیم گناہوں کا کفارہ ادا کیجیئے ۔ایسے لوگ وقت مقررہ آپ کی بے حسی دیکھ کر اپنی رہی سہی قوت کھو بیٹھتے ہیں۔اپنے سماجی فرائض پہچانیئے دوسری صورت صرف خسارہ ہے۔اگر تھوڑی سی سچائی اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کردار کا مطالعہ کریں۔تو صرف ایک بات سمجھ آئے گی کہ ہم تماشائی ہیں صرف اپنا تماشا بننے تک ۔
پروردگار ہمیں ہدات دے امین
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 326 Print Article Print
About the Author: kiran aziz

Read More Articles by kiran aziz: 13 Articles with 5259 views »
write truth is my passion.. View More

Reviews & Comments

Language: