کاش کوئی ایک تو میری تقلید کرتا

(Faraz Tanvir (uzma ahmad), Lahore)

معمولی سی بات ہے چھوٹی سی بات ہے لیکن اس بات نے مجھے کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا بس یونہی بیٹھے بیٹھے اچانک یاد آگئی شاید جب نہیں کر سکا کوئی تو اب ہی کر سکے کوئی تقلید میرے عمل کی تائید میری بات کی-

غالباً ١٩٩٩ کی بات ہے میں سالِ سوئم کی طالبہ تھی دراصل تو اس وقت مجھے اگر تعلیم کا سلسلہ منقطعہ ہ ہوتا تو ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر کے شاید کہیں لیکچرشپ حاصل کرنے کی سعی کر رہی ہوتی کیونکہ یہی میرا شوق بھی تھا مگر وائے قسمت کہ ۔۔۔“یہ نہ تھی ہماری قسمت“ بہرحال اب اپنی آٹو بئیوگرافی تو یہاں نہیں لکھنی بس ایک چھوٹا سا واقعہ بتانا ہے معذرت کہ تمہید ذرا طویل ہو گئی ہے-

جی تو میں کہہ رہی تھی میں سال سوئم کی طالبہ تھی تو ہمارے کالج میں سالِ چہارم کی الودٰاعی پارٹی کے انتظامی گروہ میں جن طالبات کا نام تھا ان میں ایک میں بھی تھی کمرہء جماعت کی آرائش و زیبائش سے لے کر اشیائے خورد و نوش کی ذمہ داریاں ہمیں پورا کرنا تھیں تمام اشیا بطور امانت ہمارے سپرد تھیں اور ہمیں ایمانداری سے انہیں پورا کرنا تھا یہی بات میرے ذہن میں تھی ہر کام خوش اسلوبی سے محنت سے خلوص سے پر جوش ہو کر سر انجام دے رہی تھیں تمام لڑکیاں-

عموماً ایسے مواقع پر لنچ باکس کا انتظام کیا جاتا ہے لیکن ہم نے ٹیبل پر پلیٹوں میں ترتیب سے سجا کر تمام مہمانوں کی مہمان نوازی کرنا تھی تمام انتظامات خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کے بعد جب مرحلہ کھانے پینے کی اشیا کی سرونگ کا مرحلہ آیا تو خوشی اور جوش دیدنی تھا ہم میں سے ایک لڑکی نے ہر ایک آئیٹم کو پہلے خود کھایا اور پھر پلیٹوں میں سجایا-

اتنے دلکش لوازمات دیکھ کر گویا نیت بدل گئی منہ میں پانی بھر آیا اور فراموش کر بیٹھیں موصوفہ کے یہ امانت ہے اور اس میں ہمارا حصہ بھی اتنا ہی ہے جتنا باقی تمام لڑکیوں کو تو کیا ہوا کہ ہم انتظامیہ ہیں انتظمہی میں سب نے اپنی خوشی اور مرضی سے بنا کسی ذاتی فائدے یا شرائط سے بالاتر ہو کر نام دیا تھا کسی لالچ کے تحت نہیں کے امور ہمار ذمے ہوں تو ہمم ڈبل حصہ ک حقدار بن جائیں-

ان موصوفہ کو دیکھتے ہوئے دیگر نے بھی اس عمل کی تائید کرتے ہوئے ان کی روش کو اپنا بھی حق سمجھتے ہوئے تقلید شروع کر دی-

ہاں یار کوئی حرج نہیں اتنا کچھ تو ہے یقیناً بچے گا بہت سا سامان کوئی فرق نہیں پڑتا اگر ہم تھوڑا سا کھالیں گے تو کچھ نہیں ہوتا -

یہ دیکھ کر مجھ سے نہیں رہا گیا اور میں نے کہا نہ کرو لڑکیوں یہ ٹھیک بات نہیں امانت ہے میری بات کو نظر انداز کرت ہوئے مجھے بھی کھلانے لگیں یہ کہتے ہوئے کہ یار کچھ نہیں ہوتا لو تم بھی کھاؤ بہت مزے کا ہے اور ایک پیسٹرے اٹھا کے میرے پاس لے آئی لین مجھے سے یہ گواراہ نہیں ہوا اور میں نے کہا نہیں میں نہیں کھا سکتی ابھی کچھ بھی ہمیں اپنا کام مکمل کرنا چاہئیے جو میرا حق ہے مجھے بس وہی چاہئیے اپنے وقت پہ یہ امانت ہے اس مین خیانت آپ بھی نہ کریں کوئی اللہ تو دیکھ رہا ہے کسی کو پتہ چلے نہ چلے
مگر نہیں جی کہاں دیکھائی دیتا ہے کچھ کھانے کے آگے کہاں سنائی دییتی ہے پھر کوئی اور آواز نہیں سنی کسی نے میری بات اور نہ حمایت کی میری صحیح بات کی جبکہ غلطی کرنے والی پہلی لڑکی کے عمل کو دہراتے ہوئے سب امانت میں خیانت کے عمل کی تقلید کرتی رہیں جب کہ ساس مال میں ان کا بھی حصہ ہونا چاہئیے جنہیں ہم خاص طور پہ ایسے مواقع پر نظر انداز کر دیتے ہیں جو بھی اضافی سامان تھا وہ کالج کے صفائی کرنے والے اور دیگر عملے میں تقسیم کرنا چاہئیے تھا نہ کے پاڑتی شرعو کرنے سے پہلے کھا بھی لینا اور اپنے بیگ میں رکھ ھکر ساتھ گھر بھی لے جانا یہ کیا عمل ہے ۔۔۔؟

او نہیں یار کچھ نہیں ہوتا لو تم بھی کھاؤ بہت ٹیسٹی ہے یہ کہتے ہوئے اپنی اپنی پسند کی چیزیں ساتھ ساتھ کھاتی رہیں ساتھ ساتھ سمیٹتی رہیں اور میں روکتی ٹوکتی کہتی رہ گئی کوئی ایک تو میری بات کی تائید کرے کوئی ایک تو میرے عمل کی تقلید کرے ندارد میادہ حصہ وصول کیا اور وہ جو حقدار تھے ان کے لئے کچھ نہ بچا صفائی کرنے والا عملہ اور دیگر ان کو دیا جانا چاہئیے تھا یہ حصہ اصولی طور پر مگر اپنے حق سے بڑھ کر حصہ وصول کرنے کے لالچ نے کسی کا ہاتھ نہیں روکا سب نے مزے کئے اور میں ششدر رہ گئی یہ دیکھ کر ایک بات میرے ذہن میں آئی کیا اسی طرح انسان برائی کے پیچھے لپکتا اور اچھائی سے روگردانی برتتا ہے محض اپنے ذات فائدے کے لئے ایک کو خیانت کرتا دیکھ کے روکنے کی بجائے خود بھی خیانت کی روش اختیار کرتا چلا جاتا ہے یوں انصاف کی جگہ بے انصافی پنپتی ہے مساوات کی جگہ حق تلفی حقدار حق سے محروم رہتا ہے اچھا کرنے والے کی تقلید آتے میں نمک کے برابر جب کے برائی کی تقلید نمک میں آتے کے مترادف اس قسم کی سوچ اور عمل بھی معاشر ے میں بگاڑ کا ایک سبب ہے اگر سمجھا جائے تو
ذرا سوچئے کیسے ملک میں عدل و احسان، ایثار و مساوات قائم ہو سکے گی-

دوسروں کا احساس دوسروں کے لئے ایثار و قربانی کا جزبہ کیسے بیدار ہوگا جب افرادِ قوم کا طرز عمل یہ ہوا تو۔۔۔؟

صحیح بات کرنے والے کی مخالفت اور غلطی پر چلنے والوں کی تقلید کے عمل سے ہی برائی پھیلتی جارہی ہے معاشرے میں اور اچھائی بہ نسبت کم دِکھائی دیتی ہے اچھائی کی تقلید کو لوگ حماقت جب کہ برائی کی تقلید سے وقتی فائدہ جو کہ دراصل خسارہ ہے کو دانشمندی سمجھتے ہیں۔۔۔ کیا ایک مسلمان کا یہی طرز فکر و عمل طرز تائید ، تردید یا تقلید ہونا چاہئیے۔۔۔؟

دل یہی سوچ کر پریشان ہوتا ہے کہ چھوٹی سظح سے لیکر بڑی سطح تک بھی کیا یہی عمل ہوتا رہتا ہے برائی کی تقلید اور اچھائی کی تردید کا۔۔۔؟

اس بات کو یاد کر کے آج بھی میرے ذہن میں یہ خیال آتا ہے
“کاش کوئی ایک تو میری تقلید کرتا“

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1479 Print Article Print
About the Author: uzma ahmad

Read More Articles by uzma ahmad: 265 Articles with 241150 views »
Pakistani Muslim
.. View More

Reviews & Comments

mujhay ab hairath nahinhoti log mufaad or zati lalach kay liyai kiya kuch ker jatayhain..............khair aap nay jo kiya wo aap ki good deeds may izafay ka sabab bana jo unho nay kiya wo unkay nama-e-amaal may nadamath moujab banay ga............khush rahain.................aap kay likhnay ka andaaz acha hay...aap subaq amooz articles post kertay rahain takay humay bhi ibrath hasil hoti rahay .....................Jazak Allah Hu Khairan
By: farah ejaz, dearborn, mi USA on Jan, 25 2015
Reply Reply
0 Like
ASALAM-O-ALAIKUM, khushi huyee kay aap ko novel pasand araha hay............mujhay likhnay say ziyada achi tehreerain parhnay ka shoq hay........or mashallah aap or degar huzraath acha likh rahay hain.....urdu say aik zamana hogaya nata tootay huay....baherhaal Allah aap ko hamesha shad wa abad rakhay....AMEEN
By: farah ejaz, dearborn,mi USA on Feb, 15 2015
0 Like
buhat shukria frah Ejaz ap k comment apni tehrir pe dekh kr acha lga
ap ka novel paRh rahi hon mein comment last episode k lye rakh chhory hain baqaedgi sy paRhti aur next episode ka intzar b krti hon buht acha likh rahi hain ap
Allah ap ko mazeed kamyabiyan enayad frmaey
sda khush rahain stay blessed lawyas
By: uzma, Lahore on Feb, 11 2015
0 Like
ایک انسان کو اپنی زندگی میں بارہا اس سے بھی زیادہ اندوہناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ حق پر ہونے کے باوجود ہزیمت کا سامنا کرتا ہے سچائی کی ہار ہوتی ہے اور برائی کی جیت ۔ مگر آگے بڑھنے کیلئے ایسے صدموں کو ہمت اور ظرف کے ساتھ جھیلنا پڑتا ہے ۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ننگوں کے حمام میں سب سے عجیب شخص وہی لگ رہا ہوتا ہے جس نے کپڑے پہن رکھے ہوں ۔ کسی نے بھی آپکی بات نہیں مانی تو یہ آپکی نااہلی نہیں تھی ۔ امانت میں دیانت بہت بڑی اہلیت ہوتی ہے کوئی ہدایت نہ پانا چاہے تو آپکی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے ۔ آخر آپکی اپنی بھی کوئی زندگی ہے بہت سے کام کرنے ہیں ۔ آدمی ایسے مشاہدات کی یاد کو روگ بنا کر انہی کا سوگ مناتا رہے تو پھر کچھ اور نہیں کر سکتا ۔ بھول جائیں اس بات کو اور مطمئین رہیں کہ آپ نے اپنا فرض پورا کیا ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas,USA on Jan, 16 2015
Reply Reply
0 Like
جناب محترم رانا تبسم پاشا صاحب بیحد شکریہ کہ آپ نے تحریر پر نظر فرمائی اور تبصرہ بھی کیا جی آپ سچ کہتے ہیں۔۔۔لیکن ایک بات واضح کرتی چلوں سوگ یا روگ کی کیفیت میں تو نہیں ہوں بس یونہی یاد آگئی یہ بات تو شئیر کردیا۔۔۔ہاں مگر یہ بھی درست ہے کہ اطراف میں آئے روز کی ہونے والی ابتر صورتحال اور روزافزوں بگڑتے ہوئے حالات دیکھ کر دکھ تو ہوتا ہے ۔۔۔بعض حساس لوگ کچھ کر نہیں پاتے بس دیکھ دیکھ کر سن سن کر اندر ہی اندر جلتے کڑھتے گھٹتے رہتے ہیں جبکہ بعض افراد اظہار کر دیتے ہیں اپنے اپنے انداز بیان کی صورت بھلے ہی کسی پہ اثرت ہو نہ ہو۔۔۔لکھنے والے لکھ لکھ کر تھک جاتے ہیں مقرر تقریریں کرتے اور نصیحت کرنے والے نصیحت کرتے رہ جاتے ہیں جب کہ حالات ہیں کہ سدھرنے میں ہی نہیں آتے۔۔۔کیونکہ ہم جو لکھتے ہیں وہ ہم اور آپ جیسے قارئین ہی پڑھتے ہیں معاشرے میں جن کی وجہ سے انتشار یا بگاڑ پیدا ہو رہا ہوتا ہے وہ تو اس طرف آتے ہی نہیں نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ ہی نصیحت پکڑتے ہیں بس اندھا دھند اپنے جنون میں اپنی روش میں آگے ہی آگے تباہی کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ ہر انسان خوش رہنا چاہتا ہے اور خوش رہنے کی اپنی سی کوشش بھی کرتا ہے مگر کیا کریں کہ سب کچھ دیکھ کر دل دکھتا بھی ہے آنکھ روتی بھی ہے پھر صبر بھی آ ہی جاتا ہے یہ سوچ کر دنیا فانی ہے ہر شے فنا ہو جانی ہے جو ہونا ہے وہ ہو کر ہی رہتے ہے سب فنا ہو جائے گا جو باقی رہے گا بس نام اللہ کا
آپ کی آرا و تبصرے کا ایک بار اور شکریہ
سدا خوش رہیں اللہ آپ کا ہمارا سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)
By: uzma, Lahore on Jan, 22 2015
0 Like
دوسروں کی غلطیوں کو چھوڑیں اور یہ سوچیں کے کسی نے بھی آپ کی بات کیوں نہیں مانی۔۔۔ آپ نے لاکھ کوشش کی۔۔۔۔ آپ کی باتوں میں وھ اثر ہی نہیں تھا ۔۔۔۔ مگر آپ غلط نہیں تھیں
By: Ghufran ul Haque, Karachi on Jan, 08 2015
Reply Reply
0 Like
قائدانہ صلاحیت سے عاری ہے میرا سادہ کلام یہ حقیقت ہے
اسلئے کسی پر میری بات کا اثر نہیں ہوا ہوگا لیکن پھر بھی عادت سے مجبور ہوں وہ بات کہنی ضرور ہوتی ہے جسے کہنے کا خیال دل میں آجائے
By: uzma, Lahore on Jan, 14 2015
0 Like
جی شاید آپ درست کہہ رہے ہیں
کیونکہ مجھ میں لیڈر بننے والی خصوصیات نہیں اور میرے بیان میں جوش خطابت بھی نہیں ہے ہاں مگر عمل کی صفت ضرور ہے کہ جو کہتی ہوں وہ کر گزرتی ہوں ہوں جو نہیں کرنا ہوتا وہ کہنے سے بھی گریز کرتی ہوں
لیکن شاید اسکی ایک یہ وجہ بھی ہو کہ انسان کی فطرت کچھ ایسی ہے کہ جو اچھائی کا اثر کم اور برائی کا اثر زیادہ قتیزی سے قبول کرتی ہے عیاں ہے واضح ہے سب کو دکھائی دیتا ہے مثال دینے کی ضرورت نہیں لیکن پھر بھی ٹی وی پر بےشمار چینل چلتے ہیں لیکن کون سے چینل کتنی آبادی کتنا دیکھتی ہے آپ بھی جانتے ہیں ہم بھی جانتے ہیں پردہ کتنی خواتین اپناتی اور کتنی فیشن کی دوڑ میں آگے بڑھنے کو سراہتی ہیں آپ بھی دیکھتے ہیں ہم بھی دیکھتے ہیں
بہرحال بہت شکریہ توجہ فرمانے اور تبصرہ کرنے کا
ہر کوئی اپنی اپنی بات کہتا ہے باقی دِلوں کے حال تو بس اللہ ہی جانتا ہے
اللہ ہم سب سے راضی ہو نیکی کی تقلید اور برائی کی تردید کرنے کی توفیق عنایت فرمائے اور ہم پہ اپنے رحم و کرم کے در ہمیشہ وا رکھے آمین)
By: uzma, Lahore on Jan, 13 2015
0 Like
koi aik adha heii hota ha jo ghalti ki nishan dahi karta ha or dusron ko ghalat chiz se mana karta ha. us ki bat hujjat hoti ha. kal ko koi ye n kah sakta ke hamen koi batata to to hum baaz aajate/////
By: Muhammad saleem, Rawalpindi on Jan, 03 2015
Reply Reply
0 Like
thanks for comments
stay blessed always
By: uzma, Lahore on Jan, 04 2015
0 Like
Language: