خیر خواہی

(Muhammad Ajmal Khan, Karachi)
اللہ نے اپنے بندوں کو خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ پیدا کیا۔ اگر انسان کے اندر خیر خواہی کا عنصر نہ ہوتا تو انسانی معاشرہ پروان نہ چڑھتا۔دوست دوست کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ دشمن کبھی خیر خواہ نہیں ہوتا۔ لیکن آج ہم مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو ہمارے دشمنوں کو ہی ہماراخیر خواہ سمجھ رکھا ہے اور خود بھی اُن( دشمنوں )کے ہی بڑے خیر خواہ ہیں۔ آج ہماری میڈیا کی ہر چینیل صرف ہماری دشمنوں ہی کی خیر خواہی کر رہی ہےاور ہمارے دشمنوں کو ہمارا خیر خواہ بنا کر پیش کر رہی ہے۔ دراصل یہ میڈیا ہماری خیر خواہ نہیں بلکہ بد خواہ ہے اور اس پر آکر ہماری خیر خواہی کی راگ الاپنے والے‘ خیر خواہی کی آڑ میں ہماری بد خواہی چاہتے ہیں۔

لہذا ہمیں خود اپنی خیر خواہی کی فکر کرنی ہے۔

ہم خیر خواہی چاہتے ہیں اپنی ‘ اپنے اہل و عیال کی ‘ تمام مسلمانوں کی اور ساری انسانیت کی۔

ہم خیر خواہہیں۔

کیونکہ ہمارا دین خیر خواہیہے۔

ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' اَلدِّيْنُ النَّصِيْحَةُ۔ دین خیر خواہی ہے۔ ''صحابہ ؓنے پوچھا: کس کی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے لیڈروں کی اور ان کے عام آدمی کی۔''


لہذا دین خیر خواہی ہے اللہ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلمانوں کے لیڈروں کی اور ان کے عام آدمی کی۔

خیر خواہی اللہ پر ایمان اور معرفت و محبت الٰہی کے ساتھ حقوق اللہ کی ادائیگی یعنی شرک سے پاک عبادت و اطاعت میں ہے۔

خیر خواہی قرآن کا حق ادا کرنے میں ہے یعنی خشوع خضوع کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرنے اور اس کی معنی مطلب و مفہوم کو سمجھتے ہوئے اس کے احکام وتعلیمات پر عمل کرنے میں ۔

خیر خواہی ہے آپﷺ پر ایمان لانا ‘ آپؐ سے محبت کرنا‘ آپؐ کی اطاعت کرنا‘ آپؐ کی نصرت کرنا‘ آپ کے مشن کو پھیلانا اور آپؐ کی شریعت کو عام کرنا‘ آپؐ کی سنتوں پرعمل کرنا اور انہیں زندہ کرنا‘ آپؐ پر درود پڑھنا‘ آپؐ کی اخلاق عالیہ کی تقلید کرنا وغیرہ وغیرہ

خیر خواہی مسلمانوں کی لیڈروں حق کے معاملے کی اطاعت و معاونت اور ناحق معاملے انہیں تذکیر و تنبیہ کرنے میں ہے۔

خیر خواہی ہے کہ علما سے علم سیکھا جائے اور ان کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے۔

خیر خواہی عام مسلمانوں کی جہالت دور کرکے ان کی اصلاح کرنے اور انہیں علمِ دین سے بہرہ مند کرنے میں ہے۔

خیر خواہی فرقہ واریت کو ختم کرکے اسلامی بھائی چارا قائم کرنے میں ہے۔خیر خواہیغیر مسلموں تک دین اسلام کی دعوت پہنچانے اور انہیں اسلام کی روشنی سے روشناش کرانے میں ہے۔

وغیرہ وغیرہ ساری کی ساری خیر خواہی دین ہے۔

اور اللہ کے نزدیک یہ دین اسلام ہے۔

إِنَّ الدّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسلـٰمُ...﴿١٩﴾... سورةآل عمران


اور دین اسلام ابدی اور محکم قانونِ اِلٰہی پر مبنی کامل ترین نظام حیات ہے۔ جو اس نظام حیات کا پابند ہے وہی خیر خواہ ہےاپنا، اپنے اہل و عیال کا اور ملک، ملت و انسانیت کا۔


آج میڈیا والوں کی اکثریت اپنے تمام عملے‘ اینکرز اور اسکالر ز کے ذریعے خیر خواہی کی آڑ میں عوام الناس کو اسلام سے متنفر کرنے، اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کو مسلمانوں کا خیر خواہ ثابت کرنے کی سعیٔ ناکام میں لگے ہیں۔

حالانکہ یہ بڑے بڑے اینکرز و اسکالرز خود بھی کہنے کو مسلمان ہی ہیں لیکن ان کی عقل سقیم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جو لوگ ہمارے رب کےخیر خواہ نہیں ‘کتاب اللہ کے خیر خواہ نہیں‘ رسول اللہ ﷺ کے خیر خواہ نہیں، وہ ہمارے، عام مسلمانوں کے یا پھرمسلمانوں کے حکمرانوں و رہنماؤں کے کیسے خیر خواہ ہوسکتے ہیں؟

یہ کیسے خیر خواہ ہیں؟ یہ خیر خواہ نہیں بد خواہ ہیں۔ یہ شیطان کی نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔

مسلمانوں کے حقیقی خیر خواہ تو وہی ہو سکتے ہیں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کو اپنا اور مسلمانوں کا دشمن سمجھتے ہیں۔

مسلمانوں کے خیر خواہ تو وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کو اپنا اور مسلمانوں کا دشمن سمجھتے ہیں۔ جو لوگ صرف نام کے مسلمان نہ ہوں بلکہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوں۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿٢٠٨﴾ سورة البقرة

" اےایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وه تمہارا کھلا دشمن ہے."


لہذا خیر خواہی اسلام ہے۔

خیر خواہی اسلام ہی میں ہے۔

خیر خواہی اسلام کو مکمل طور پر اپنانے میں ہے۔

حقیقی خیر خواہ تو وہی ہے جو مکمل طور پر دین اسلام کو اپنائے ۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اور اہل و عیال کو اپنا‘ اپنی کتاب کا‘ اپنے رسول ﷺ کا ‘ مسلمانوں کے رہنماؤں کا اور عام آدمی کا خیر خواہ بنائے۔

ہمیں اسلام میں پورے پورے داخل ہونے کی توفیق دے اور شیطان کے قدموں کی تابعداری کرنے سے بچائے۔آمین
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 468 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ajmal Khan

Read More Articles by Muhammad Ajmal Khan: 91 Articles with 30065 views »
اللہ کا یہ بندہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی محبت میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی باتوں کو اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سیکھنا‘ سمجھنا‘ عم.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: