کیوں کا جواب مل گیا!

(Shahid Raza, Karachi)
ہم نے بچپن سے لے کر آج تک ایک کہاوت سنی ہے کہ’’کیوں کا جواب تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا‘‘میری نظر میں یہ محاورہ انسان کی کم علمی کی دلیل ہے کسی بچہ نے پوچھ لیا ہو گا ’’کیوں‘‘اُن کو جواب نہیں آتا ہو گا انہوں نے اپنی کم علمی کو چھپانے کے لئے کہہ دیا کہ بیٹا میں تو ایک معمولی انسان ہوں کیوں کا جواب تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھااور ہمارا اصول تو آپ کو پتا ہے کہ ہم غلط باتیں جلدی اور اچھی باتیں دیر میں سیکھتے ہیں بس ہم نے بھی یہ محاورہ سن لیا بس پھر کیا تھا جہاں کسی نے سوال کیا فوراً جواب دے دیا ارے میاں خاموش بیٹھو اس بات کا جواب تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا اس ارٹیکل کو لکھنے کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا ’’کیوں‘‘بنا ہی نہیں ہے جس کا جواب نہ ہو بس ہم کو اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہئے اور فکر کرنی چاہئے بے شک انسان کو ہر کیوں کا جواب مل جائے گا اپنی بات کو سمجھانے کے لئے چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں تا کہ آپ کو فکر کرنے اور سمجھنے میں آسانی ہو:

آپ کو پتا ہے آگ کی پوجا کیوں کی جاتی ہے کیوں کہ حضرت آدم ؑ کے دو بیٹے تھے ہابیل اور قابیل اور اﷲ نے ان دونوں کو حکم دیا تھا کہ اپنی اپنی قربانی آگ کے سامنے رکھو اب یہ آگ کی مرضی ہے کہ کس کی قربانی قبول کرے آگ نے ہابیل کی قربانی کو قبول کر لیا تو شیطان نے جھوٹ بولا جانتے ہو ہابیل کی قربانی کیوں قبول ہوئی کیونکہ ہابیل آگ کی پوجا کرتے تھے بس پھر کیا تھا قابیل نے آگ کی پوجا شروع کر دی آج تک اُس کی اولاد آگ کی پوجا کرتی ہے شیطان کا ایک جھوٹ نہ جانے کتنی نسلوں کو تباہ کر گیا۔آپ کو پتا ہے بتوں کی پوجا کیوں کی جاتی ہے کیوں کہ قرآن نے کہا ’’اور کہنے لگے تم اپنے معبودوں کو چھوڑو اور نہ ’’ود‘‘اور نہ ’’سواع‘‘اور نہ ’’یغوث‘‘اور ’’یعوق‘‘اور ’’نسر‘‘کو
(سورہ نوح آیت ۲۳)یہ تما م وہ افراد تھے جو اﷲ کی عبادت کرتے تھے جب یہ لوگ مر گئے تو لوگوں نے رونا شروع کر دیا اتنے میں شیطان ابلیس آ گیا اور کہا روتے کیوں ہو میں ان کی شکلوں کے بت بنا دیتا ہوں تم اُن کو دیکھ بھی لیا کرو اور جو مانگنا ہو مانگ بھی لیا کرو بس اس طرح دنیا میں بتوں کی پوجا کا آغاز ہو گیا۔یقیناً آپ کے ذہن میں یہ سوال بھی ہو گا کہ ہمارے کانوں میں میل کیوں رکھا گیا جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور آنکھوں میں نمی کیوں رکھی اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کان کا مادہ(کڑوا)نہ ہوتا تو کیڑے مکوڑے کان میں گھس سکتے تھے جس کی وجہ سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی تھی آنکھوں کو نمکین رکھا کیوں کہ دونوں آنکھیں چربی سے بنی ہیں اگر نمکین نہ ہوتیں تو پگھل جاتیں ،ہمارے نوجوانوں میں اکثر سیٹی بجانے کی عادت ہے جب کہ شریعت میں اس سے منع کیا گیا ہے کیوں کہ حضرت لوط ؑ کے گھر میں جب کوئی مہمان آتا تھا تو اُن کی بیوی گھر سے باہر نکل کر سیٹی بجا دیتی تھی اور جب لوگ اس کی سیٹی کی آواز سنتے تو آ جاتے اور حضرت لوط ؑ کو پریشان کرتے تھے،ہمارے معاشر ے کی ایک اور برائی یہ ہے کہ سونا پہنتے ہیں جانتے ہیں اﷲ نے اس کو پہننا منع فرمایا ہے کیوں کہ سونا پہننا اہل جہنم کے لباس میں سے ہے۔اور صاحبان علم کے لئے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر آپ کو زمین کا سینٹر پوائنٹ دیکھنا ہو تو خانہ کعبہ زمین کے سینٹر میں ہے یہ وہ جگہ ہے جس کے نیچے سے زمین بچھائی گئی ہے اور دنیا میں جو ہوا چلتی ہے وہ رکن شامی سے نکلتی ہے اہل مشرق اور مغرب کے لئے اس کا فاصلہ برابر ہے اور شاید یہ بات بھی آپ کے لئے حیران کن ہو کہ صفا کا نام صفا کیوں رکھا گیا اور مروہ کا نام مروہ کیوں رکھا گیا تو صفا کا نام صفا اس لیے رکھا رکھا گیا کیوں کہ اﷲ نے جنت سے حضرت آدم ؑ کو صفا کی پہاڑی پر ہی اُتارا تھااور جس کو اﷲ بھیجے اسے اصطفی کہتے ہیں اور اصطفی سے ہی مشتق ہے صفا اور حضرت حوا کومروہ کی پہاڑی پر اُتارا گیا گیا اور عربی میں مراۃ عورت کو کہتے ہیں اس لئے مراۃ سے مشتق کر کے اس کا نام مروہ پڑ گیا،یہ تمام باتیں بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اﷲ نے کسی بھی چیز کو بے وجہ نہیں بنایا ہے ہر چیز کو بنانے کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہے ہر وجہ تو اس آرٹیکل میں بیان نہیں کی جا سکتی لیکن ہاں یہ ہماری ایک کوشش ضرور ہے اس طرف توجہ دلانے کے لئے کہ علم حاصل کرو اور اپنے علم پر آپ فکر بھی کریں علم حاصل کر کے کمرے کی الماری میں نہیں سجایا جاتا بلکہ علم آپ کا ایک ایسا ہتھیار ہے جس کا صحیح استعمال نہ صرف آپ کو بلکہ ہماری نسلوں کو جیت و کامیابی کی راہ کی طرف گامزن کر سکتا ہے۔علم کو ایک بوجھ سمجھنا چاہئے اور یہ بوجھ اُسی وقت کم ہو گا جب دوسروں میں منتقل ہو جائے گاہم اپنے خدا سے ملک اور قوم کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 469 Print Article Print
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 120410 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: