میری التجا سب سے اپیل سب سے

 میرے والد جو کہ پی ٹی سی ایل کے ملازم ہیں اور تعلق راجپوت برادری سے ہے ہم دونوں بہنوں کو تعلیم کے لیے سکول لے جایا کرتے تھے ۔ گھر سے سکول دور تھا ۔ کیوں کہ ہم لوگ گاؤں کے رہنے والے تھے راستے میں ہمارے ابو کہتے کہ بیٹا جلد تعلیم مکمل کر کے میرا سہارہ بن جاؤ۔ ہم دونوں بہنوں نے میٹرک اچھے نمبروں میں پاس کر لیا ۔ صلاح مشورہ پر نرسنگ میں داخلہ کا پروگرام بن گیا چار سال کورس مکمل کرنے کے بعد ہم دونوں بہنوں نے پرائویٹ ہسپتال میں جاب کر لی جہاں پر بندہ کی ناقدری کے ساتھ معاوضہ بھی بہت کم ہے اس کے ساتھ ساتھ کوئی قانون قائدہ نہیں ہے ۔

گریجویٹ نرسنگ کےبعد میں نے مزید تعلیم جاری رکھتے پنجاب یونیورسٹی سے بی ایس سی بھی پہلے ہی چانس میں پاس کر لی بد قسمتی سے گورنمنٹ جاب کےلیے ہم دونوں بہنوں نے لاہور سے لیکر نارووال؛ وزیراباد ؛گوجرانوالہ؛اور کوٹ خواجہ سعید سے لیکر پی آئی سی تک شاہدرہ سےلیکر جنرل ہسپتال تک پنجاب کی سڑکوں کی خاک چھان ماری مگر کہیں شنوائی ہوتی نظر نہیں ائی مگر یہاں پر تعلیم کی قدر ہےنہ انسان کی گورنمنٹ جاب صرف شفارشیوں کے لیے ہیں جس کی شفارش ہے اس کو بغیر قانوں قائدہ کے ملازمت دی جا رہی ہے

میری کلاس فیلو جن کے نمبر بھی کم ہیں اور نرسنگ دو دو چانس میں مکمل کیا وہ کئی سال سے گورنمنٹ ہسپتالوں میں جیسے پی ۤآئی سی شاہدرہ ننکانہ گنگاہ رام سروس وغیرہ میں دو گنا معاوضہ کے ساتھ ملازمتیں کر رہیں ہیں ثبوت موجود ہیں مگر قبل از وقت ذکر اچھا نہیں مگر اس نا انصاف معاشرہ میں انصاف کا حصول مشکل یے کسی انٹرویو میں کوئی سوال پوچھا نہیں جاتا اگر پوچھا گیا تو جواب بھی دیا گیا مگر قسمت نے پھربھی ساتھ نہ دیا۔ مجاز افیسران کو خدا یاد نہیں کہ کسی حقدار کی حق تلفی ہو رہی ہے شائد ان کی بیٹیاں نہ ھوں مگرمیرے خیال میں ہوتیں تو حق تلفی کرنے سے پہلے ضرور سوچتے کہ حق دار کو حق ملنا چاہے -

چیف منسٹر پنجاب جو ہر وقت میرٹ کی رٹ لگائے رکھتے ہیں مگر یہ الفاظ شائد ہم جیسے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہیں صرف ایک ٹیسٹ کا حال یہاں پر عرض کر دیتی ہوں کچھ عرصہ پہلےشاہدرہ میں نرسنگ بھرتی کےلیے ٹیسٹ رکھا گیا تو ہونے والا پیپررات کو ہی طے شدہ بچیوں کودے دیا گیا بلکہ ان کے گھروں میں پہنچا دیا گیا اور انٹرویو والے دن مخصوص لڑکیوں کے انٹرویوکے بعد کسی کا انٹرویو نہ لیا گیا تمام بچیاں رات کو بعد از انتظار تھک ہار کر واپس چلی گئیں -

گوجرانوالا رابطہ کرنے پرایک بااختیارآدمی نے بتایا کہ پرائیویٹ اداروں میں نرسنگ کرنی والی لڑکیوں کو گورنمنٹ ملازمت نہیں دی جاتی میرے پاس نوٹیفیکشن موجود ہے ،سوال یہ ہے کہ میری کلاس فیلو جو لاہور میں کام کر رہی ہیں یا جن کے حال میں ارڈر ہوئے ہیں کس قانوں کے تحت ہیں یہ ہے شہباز شریف کا میرٹ اس تحریر پر بھی کسی کو کوئی اثر نہ ہو گا کیو نکہ سب بے حس ہیں شائد کہ میری بات کسی کے دل پر اثر کر جائے اور انصاف کا بول بالہ کرتے ہوئے ہمیں بھی سرکاری ملازمت دلوا دے یہ ایک بیٹی کی گزارش ہے التجا ہے اپیل ہے

درج زیل لوگوں کوبرائے انصاف میل کر دی گئ ہے مگر کوئی جواب نہ ملا. خدا را میری ۤاواز حکام بالہ تک پہچا دیں
[email protected], [email protected]
> Cc: [email protected], [email protected], [email protected], [email protected]

درخواست کنندہ صبا رمضان

Saba Ramzan
About the Author: Saba Ramzan Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.