گرمی پیاس اور کربلا

(Shahid Raza, )

میں نماز پڑھ رہا تھا کمرے کا AC چل رہا تھا ،گرمی میں بھی سردی کا احساس ہو رہا تھا میرے ذہن میں خیال آ یا کہاں ہماری AC کے ٹھنڈے ماحول کی نمازیں اور کہاں کربلا کی تپتی زمین پر امام کا سجدہ،کہاں فریج کا ٹھنڈا پانی اور کہاں سوا نیزے پر سورج،کہاں بھرے پیٹ اور کہاں تین دن کی بھوک،کہاں مختلف مشروبات نوش فرمانے والا انسان اور کہاں کربلا میں ۸۰ سال سے ۶ ماہ کے پیاسے شہید،کہاں سکون کی نیند اور کہاں ایک ہی گھر سے ۷۲ جنازوں کا نکلنا،کہاں بچے کی خواہش کو پورا کرنے والا باپ اور کہاں مظلوم باپ کے بیٹے نے پانی مانگا کے پیاس لگی ہے بابا تو امام حسین ؑ نے کہا بیٹا تیرا باپ مجبور ہے،کہاں آج کی ماں جو بچوں کو پالنے کے لئےMaid رکھتی ہیں اور کہاں چکی پیس کر پالنے والی ماں ،ابھی کچھ دن پہلے کراچی میں گرمی پڑی جسے Heat Stroke کا نام دیا گیا جس میں ہمارے کئی مسلمان پاکستانی بھائی بہنوں کا انتقال ہو گیا اُن کے گھر میں پانی بھی تھا،پنکھے بھی تھے،جب وہ روڈ پر گرمی سے چکر کھا کر گر جاتے تھے تو ہزاروں لوگ اُن کی مدد کے لئے پہنچ جاتے تھے اور کہاں کربلاء میں نواسہ رسول ؐ ،جنت کے سردار امام حسین ؑ کربلاء میں کھڑے وصیت کر رہے ہیں اے میرے چاہنے والوں جب بھی ٹھنڈا پانی پینا مجھ حسین ؑکی پیاس کو یاد کرنا ،میں کربلاء میں کھڑا تھا کوئی تیر مار رہا تھا کوئی نیزہ مار رہا تھا لیکن مدد کرنے والا کوئی نہ تھا،جب Heat Stroke سے لوگوں کا انتقال ہوا کیا اُن کو غسل نہیں ملا ،کیا اُن کو کفن نہیں ملا کیا اُن کو دفن نہیں کیا گیا سب کچھ ہوا تو پھر امام حسین ؑ کا کیا قصور تھا ایسا کہ نہ غسل ملا نہ کفن ملا،لاشے کو پامال کیا گیا،کیا یہی ہے رسول ؐ سے محبت کا مطلب ،کہ جن کو رسول نے جنت کے جوانوں کا سردار کہا،جن کو کندھوں پر بیٹھا کر سیر کرائی ،جن کے جھولے کو فرشتوں نے جھلایا،فرشتے جن کے درزی بنے،جنت کا لباس آیا،کیا حق بنتا ہے ان کا ،جو دنیا میں ظلم سے مرے پوری دنیا ایک ہو جاتی ہے تو پھر کربلاء میں جو ظلم ہوا ایک کیوں نہیں ہو جاتی دنیا،۹ اور ۱۰ محرم کو ایسا لگتا ہے جیسے آسمان رو رہا ہو،ہر طرف ویرانی ہی ویرانی نظر آتی ہے کیوں اس لئے کیوں کہ اﷲ بھی ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا،ہمیں چاہئے کہ ہم ایک ہو جائیں اگر ہم حق اور باطل کی پہچان میں ایک ہو گئے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمیں زیر نہیں کر سکتی،کیوں کہ دین اﷲ کا ہے بتایا رسول ؐ نے ہے اور بچایا امام حسین ؑ نے ہے،امام کا مقصد صرف دین بچانا تھا اگر معاز اﷲ امام کا مقصد حکومت و طاقت کا حاصل کرنا ہوتا تو امام ؑ کبھی اپنی ماؤں بہنوں کو ساتھ لے کر نہ جاتے ،ماؤں اور بہنوں کا ساتھ جانا بتا رہا ہے کہ امام جنگ کرنے نہیں آئے تھے بلکہ صرف دین بچانے آئے تھے اگر امام ؑ اپنی تلوار اُٹھا لیتے تو سب کہتے کہ دین تلوار کی نوک پر زبردستی پھیلایا گیا امام ؑ نے ثابت کیا کہ دین تلوار سے نہیں بلکہ کردار کی وجہ سے پھیلا ہے خدا ہمیں کربلاء والوں کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 408 Print Article Print
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 120407 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: