کھانے کے لئے جیو یاجینے کے لئے کھاؤ؟

(Shahid Raza, )
دنیا میں دو قسم کے افراد ہیں ایک وہ جو کھانے کے لئے جیتے ہیں ،حلال ہو حرام ہو بس کھاؤ جہاں سے آتا ہے کھاؤ بس اپنی فکر کرو دوسروں کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں ہے کیا یا صحیح عمل ہے ؟اپنی اولاد روئے تو دل میں درد ہوتا ہے دوسرے کی روئے تو سر میں درد ہوتا ہے کیا یہ صحیح سوچ ہے؟اپنے لئے سونے کا نوالہ غریب کے لئے سڑا گلہ کھانا کیا یہ صحیح بات ہے؟اپنے لئے عالی شان محل اور دوسروں کی چھت بھی گر جائے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے کیا یہ بات صحیح ہے؟اپنے لئے ریشمی لباس اور دوسروں کے لئے پھٹا پرانا لباس کیا یہ بات صحیح ہے؟یہ وہ افراد ہیں جو کھانے کے لئے جیتے ہیں قرآن پاک میں اﷲ فرماتا ہے:
’’آگاہ رہو !ظالموں پر اﷲ کی لعنت ہو‘‘(سورہ ہود :۱۸)
’’بے شک اﷲ توبہ کرنے والوں اور پاک و پاکیزہ رہنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘(سورہ بقرہ آیت ۲۲۲)
آیات بتاتی ہیں جو بھی شخص دوسروں پر ظلم کرتا ہے اﷲ اُس پر اپنی لعنت بھیجتا ہے لیکن پھر اﷲ قرآن میں کہتا ہے کہ اگر انسان اپنی غلطی پر نادم ہو جائے اور توبہ کر لے تو بے شک اﷲ معاف کرنے والوں میں سے ہے۔

میں نے ایک فلاسفر کی بات پڑھی تھی کے اُس نے اپنی کلاس میں شاگردوں سے سوال کیا کہ اﷲ نے ہاتھ جس سے آپ کھانا کھاتے ہیں اس ہاتھ کے جوڑ میں موڑ کیوں رکھا ہے اب مختلف جوابات آئے کسی نے کہا تا کہ ہم کھانا کھا سکیں وغیرہ وغیرہ اب اُستاد نے کہا کہ اگر یہ جوڑ میں موڑ نہ ہوتا تو کیا ہوتا تو ایک شاگرد اُٹھا اُس نے کہا کہ اگر ہمارے ہاتھ کے جوڑ میں موڑ نہ ہوتا تو ہم خود نہ کھاتے بلکہ دوسروں کو کھلاتے اُستاد نے کہا تو پھر آپ کیسے کھاتے تو شاگرد نے کہا کہ ہم دوسروں کو کھلاتے کوئی دوسرا ہم کو کھلاتا۔کاش یہ سوچ ہمارے معاشرے کا حصہ بنے۔

دوسری قسم کے افراد اﷲ والے ہوتے ہیں جو کھانے کے لئے نہیں بلکے جینے کے لئے کھاتے ہیں بس اتنا کھاؤ کہ زندہ رہو اور اﷲ نے زیادہ دے دیا ہے تو بانٹ دو اس عمل سے تم بھی جؤ گے اور دوسرا بھی جئے گا ایسے افراد کے لئے قرآن کہتا ہے:
’’اے رسول !جب ہماری آتیوں پر ایمان رکھنے والے لوگ تمہارے پاس آئیں تو کہو سلام علیکم(تم پر سلامتی ہو)(سورہ انعام ۵۴)
’’اﷲ کی رحمت سے ان ان لوگوں پر نرم دل ہیں اگر آپ سخت گیر اور سنگدل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے پس ان سے در گذر کریں ان کے لئے استغفار کریں اور ان کے ساتھ مشورہ کریں(سورہ آل عمران آیت ۱۵۹)

جو افراد جینے کے لئے کھاتے ہیں مسلمان بھائیوں کا خیال کرتے ہیں اﷲ کی رحمت ان ہی افراد پر نازل ہوتی ہے۔میں نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ اولیاء،صوفیاء،قلندر،عالم دین جو بھی بنا اُنہوں نے اس دنیا کی لذتوں کو اُتنا ہی استعمال کیا جتنا زندہ رہنے کے لئے ضروری تھا اور شریعت رسول ؐ میں جائز تھا میں نے یہ بھی پڑھا ہے کہ یہ اﷲ والے لوگ اپنے علم کو حاصل کرنے کے لئے دوسروں کا بچا ہوا کھانا بھی کھاتے تھے اور دوسروں کو کھلانے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے اسی لئے اﷲ نے کسی کو قلندر ؒ بنا دیا اور کسی کو بو علی سینا ؒ،کسی کو صوفیا بنا دیا اور کسی کو اولیاء،کسی کو داتا دربار ؒ والا بنا دیا اور کسی کو عبد اﷲ شاہ غازی ؒ بنا دیا۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 501 Print Article Print
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 120511 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ