کان کا درد اور بہرہ پن کا علاج

(Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore)

قارئین !اسلام و علیکم ۔آج میں کان سے متعلق چند مفید باتیں آپ کو بتانا چاہتا ہوں تو چلیں شروع کرتے ہیں۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں ہیں کہ کان بھی دوسرے اعضاء کی طرح ہمارے جسم کا ایک اہم اور نازک حصہ ہے جس کی احتیاط نہایت ضروری ہے۔ اور آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ کان کی ہڈی جسم کی سب سے نازک اور پتلی ہڈی ہے۔

ہمارا کان تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے ایک بیرونی حصہ، دوسرا درمیانی اور تیسرا اندرونی حصہ ہے۔ کان کے باہر والا حصہ بیرونی کان کہلاتا ہے بیرونی کان سے ایک سوراخ اندر کی طرف ایک ائیر ڈرم کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس ائیر ڈرم کے پچھلے حصے کو درمیانی حصہ اور ائیر ڈرم سے آگے والے حصے کو جو جھلی دار ہوتا ہے اندرونی حصہ کہتے ہیں اور یہ سیپ کی شکل کا ہوتا ہے۔
 


جب کوئی جراثیم، بیکٹریا یا وائرس حملہ آور ہو کر جسم میں موجود سیلز کو نقصان پہنچاتے ہیں جس سے انفیکشن ہوتا ہے۔اور اگر یہ بیکٹریا یا وائرس اندرونی حصہ میں داخل ہو جائے تو وہاں بھی یہ انفیکشن کر دیتا ہے اگر یہ انفیکشن ہو جائے تو کافی تکلیف ہوتی ہے یہ دو طرح سے انفیکشن ہو سکتا ہے ایک Otitis Media اور دوسرا Otitis extema کہلاتا ہے۔ ان دونوں سے کان کے درمیانی اور اندرونی حصے متاثر ہوتے ہیں۔

کان کے درد کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں الرجی، انفیکشن، زخم، پانی پڑ جانا، ائیر ڈرم کو نقصان پہنچنا،کان میں کسی چیز کا پڑ جانا،گلے کے غدود کا ورم اس کے علاوہ ایسے بچے جو دانت نکال رہے ہوں ان کو بھی کان میں درد ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات کان میں کچھ پڑ جاتا ہے اکثر ان میں غلے کے بیج، موتی یا کیڑے وغیرہ کان میں چلے جاتے ہیں۔ اس کے لئے آپ تیز روشنی میں کان کا معائنہ کر سکتے ہیں کوشش کریں خود سے تجربات نہ کریں فوراً مریض کو کسی قریبی ڈاکٹر کے پاس لے جائیں جو مائنہ کے بعد طبعی آلات سے پھنسی ہوئی چیز نکال دے گا۔

اکثر مریض کان کے بہنے کی شکایت کرتے ہیں اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مثلاً چیچک،خسرہ وغیرہ ہونے کی صورت میں کان کے درمیانی حصہ میں ورم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے کان بہنا شروع ہو جاتے ہیں۔بعض اوقات بچوں میں نزلہ و زکام اور سردی کی صورت میں بھی کان سے رطوبت نکلتی ہے اس کے علاوہ ناک اور حلق کی تکلیف میں بھی کان بہنا شروع ہو جاتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر:
کان میں کبھی بھی ماچس کی تیلی سوئی نما تنکا وغیرہ نہ ڈالیں۔
کان کو بار بار نہ کریدیں۔
بازاری ادویات کان میں ڈالنے سے پرہیز کریں۔ مستند ڈاکٹر اور کمپنی کی ادویات کا استعمال کریں۔

دیسی علاج:
٭کان سے پیپ آنے کی صورت میں سرسوں کے تیل کے دو قطرے نیم گرم کر کے ڈالیں۔
٭کان میں اگر کوئی کیڑا چلا جائے تو گلیسرین ڈالیں جس سے وہ چیز باہر آ جائے گی۔
٭صبح نہار منہ پانی میں لیموں کا رس ملا کر پینے سے کان بہنے میں مدد گار ہے۔
٭لہسن کو سرسوں کے تیل میں جلا کر کان میں ڈالنے سے درد اور پیپ ختم ہو جاتی ہے۔
٭پیاز کا رس گرم ڈالنے سے بہرہ پن میں فائدہ ہوتا ہے۔
٭سرسوں کا نیم گرم تیل ڈالنا بھی بہرہ پن میں مفید ہے۔
 


ہومیو پیتھک علاج:
٭کان کے درد،پیپ ،زخم اور بہرہ پن میں مفید ڈراپس صرف دو سو روپے میں گھر بیٹھے منگوائیں۔اپنا نام اور ایڈریس میرے سیل فون 03004716259پر ایس ایم ایس کریں۔Ear Drops ضرور لکھیں۔

٭بچوں کے کان میں اگر پھنسیاں ہوں پیپ اور خون نکلتا ہو تو تھوجا 30x کی ایک خوراک کافی ہے۔
٭بچوں کے کان میں خارش،درد یا میل وغیرہ ہو تو مولین آئل کے دو قطرے کان میں ڈالنے سے آرام آجاتا ہے۔

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
30 Nov, 2015 Views: 16106

Comments

آپ کی رائے
Thanks Muhammad Ali
By: H/Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahore on Dec, 05 2015
Reply Reply
0 Like
Aoa, Dr sb. I have hearing loss upto 65db left ear and 85db right side, I use hearing Aid. My father also has this loss, will your medicine also work for me. PLease advice.
Regards:
Fazal Khan
By: Fazal Khan, Frankfurt, Germany on Dec, 04 2015
Reply Reply
0 Like
very nice informative article.
By: Muhammad Ali, Lahore on Dec, 03 2015
Reply Reply
0 Like
Earaches usually occur in children, but they can occur in adults as well. An earache may affect one or both ears, but the majority of the time it is in one ear. It may be constant or come and go, and the pain may be dull, sharp, or burning.