امراء کے انوکھے شوق دنیا بھر کے لیے حیرت انگیز

دنیا میں لوگ اپنے مختلف شوق کے حوالے سے جانے جاتے ہیں جبکہ امیر ترین افراد کے شوق بھی امیرانہ ہی ہوتے ہیں اور ان کی رکھی گئی ہر چیز انتہائی بیش قیمت ہوتی ہے،وسیع معاوضہ اور دولت کے بل بوتے پر وہ پرتعیش گھر اور جائیدایں اور اثاثیں بنا کر وہ مستقبل کی فکر سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ امراء اپنے مہنگے اور انوکھے ترین شوق کو پورا کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ان کے شوق کئی قسموں کے ہو سکتے ہیں گھر کی انٹریر، مختلف برانڈز کی گاڑیاں ، جدید موٹر بائیک، لگژری ہالیڈے پیکیج، قیمتی اور مہنگی ترین گھڑیاں، ڈائمنڈز، جیولری، ہوم الیکٹرونک کے آلات (جن میں قیمتی استری سے لے کر موبائل فون اور کیمرے وغیرہ شامل ہیں) ،ہینڈبیگز، پرفیومز، جوتے، ساڑھیاں، شاپنگ اور جانور پالنا شامل ہیں۔ان کے پاس طاقت، پرکشش شخصیت، دولت اور اثر و رسوخ سب کچھ ہوتا ہے، جس سے وہ مہنگی سے مہنگی گاڑیوں سمیت زیورات، گھر یہاں تک کہ کرکٹ ٹیمیں بھی خرید لیتے ہیں، مگر کچھ امراء کا انوکھا شوق دنیا بھر کے لیے حیرت انگیز ضرور ثابت ہو سکتا ہے۔ تو ایسے ہی چند شخصیات کے انوکھے شوق کے بارے میں جانیں جو آپ کو حیران کر کے رکھ دیں گے۔

سونا اور ہیرے جواہرات تقسیم کرنے کا شوق
دنیا میں بہت بہت امیر ترین شخصیات گزری ہیں لیکن سات سو سال قبل ایک ایسا مسلمان بادشاہ بھی گزرا ہے جن کو آج بھی دنیا کا امیر ترین شخص ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور سات سو سال گزرنے کے بعد آج بھی دنیا کے امیر ترین شخصیات میں سرفہرست ہیں کیونکہ کوئی شخص یا خاندان ان کے مجموعی اثاثوں کے برابر نہیں پہنچ سکا ہے۔14ویں صدی عیسوی کے دوران افریقہ کے ایک غریب ملک مالی کے بادشاہ مانسا موسیٰ 400ارب ڈالزر کے مالک تھے جو کہ آج بھی دنیا کے امیر ترین شخصیات کی فہرست میں پہلے نمبر ہیں ابن خلدون ،العمری اور ابن بطوطہ جیسے مسلمان مورخین نے بھی مالی کے بادشاہ کے بارے میں اپنی کتابوں میں تفصیل سے لکھا ہے۔مورخین کا کہنا ہے کہ ان کی دولت وثروت اور شوق کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سنہ 1324ء میں اس نے اپنے ملک کے 60 ہزار افراد کے ہمراہ حج کا سفر کیا تھا۔ ان میں سے بارہ ہزار افراد کو کئی ٹن سونا اور ہیرے جواہرات اٹھوائے گئے تھے، وہ جہاں جاتے سونے اور ہیروں کے انبار لگا دیتے، جس کے باعث ان کے راہ میں آنے والے شہروں میں سونے کی اتنی ریل پیل ہوگئی کہ کئی سال تک سونے کی قیمتیں نچلی ترین سطح پر آ گئی تھیں۔ اس کا شوق سونا اور ہیرے جواہرات کثرت سے تقسیم کرنا تھا۔


پام آئی جزائر میں پر تعیش محلات
ہر انسان کی خواہ وہ امیر ہو یا غریب گھر بنانے کی خواہش ایک فطری عمل ہے اور ہر انسان اپنی خواہش اور استطاعت سے بڑھ کر اپنے گھر کی تعمیر کرواتا ہے اور پر آسائش اور پر تعیش اور آرام دہ ماحول میں گھر لینا کوئی آسان کام نہیں ہے ،امراء اور روساء کا محلات بنوانا اور ان میں دنیا بھر کی پر تعیش سہولیات بھرنا پسندیدہ کام ہے مگر مہنگے ترین جزائر تعمیر کروانا اور پھر وہاں رہنا خواب کے مترادف ہے مگر اب یہ خواب ’’پام آئی لینڈز ‘‘میں حقیقت بن چکا ہے۔ پام آئی لینڈز دنیا کے سب سے بڑے مصنوعی جزائر ہیں۔ ان جزائر کو دبئی کی ’’نخیل پراپرٹیز‘‘ نامی کمپنی نے بلجیئن اور ڈچ کمپنیوں کی مدد سے بنایا ہے۔ یہ درحقیقت تین جزائر ہیں جن کے نام ’’پامِ جمیرہ‘‘، ’’پام جبل علی‘‘ اور ’’پام ڈیرہ‘‘ ہیں۔ ہر جزیرہ پام کے درخت کی شکل میں بنایا گیا ہے۔ جس کے اْوپر ایک ہلالی نیم دائرہ ہے۔ ان میں سے ہر جزیرے پر کثیر تعداد میں رہائشی پلاٹ، ہوٹل اور تفریحی سہولیات تعمیر ہو رہی ہیں۔ یہ جزائر دبئی کے ساحل کے قریب خلیج فارس میں بنائے گئے ہیں اور ان کی وجہ سے دبئی کی ساحلی پٹی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ساحل بنیادی طور پر سمندر کی تہہ سے ریت نکال کر ہی بنائے گئے ہیں لیکن اس عمل کے دوران لاکھوں ٹن پتھر بھی استعمال ہوا ہے۔ ان جزائر کی تعمیر ایک ایسا کارنامہ ہے جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ تعمیر کی تفصیلات تو انتہائی پیچیدہ اور خشک ہیں لیکن اتنا کہنا کافی ہوگا کہ دنیا کی بہترین تعمیراتی کمپنیوں، کثیر سرمائے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی دستیابی کے باوجود ان جزائر کی تعمیر کے لیے ایک طویل عرصہ درکار تھا۔ پام جمیرہ جو سب سے چھوٹا جزیرہ تھا اس کو رہائش کے قابل بنانے کے لیے بھی پانچ سال تک دن رات کام کرنا پڑا اور اس کے بعد بھی ترقیاتی کام جاری رہے۔ پام جمیرہ کے مختلف حصوں کو ملانے کے لیے ایک مونو ریل بھی چلائی گئی ہے۔ پام جمیرہ کے مقابلے میں پام جبل علی کا رقبہ تقریباً ڈیڑھ گنا ہے۔ اس جزیرے میں Sea Village کے نام سے ایک واٹر پارک بھی بنایا جا رہا ہے۔ پام ڈیرہ کا رقبہ پام جبل علی کے مقابلے میں بھی تقریباً 5 گنا زیادہ ہے۔ اس جزیرے کے لیے سینکڑوں منصوبے عرب شیوخ کے سامنے ہیں لیکن دْبئی میں آنے والے معاشی بحران کی وجہ سے یہاں کام کی رفتار انتہائی سست ہو گئی تھی۔ 2008ء میں اس کے ڈیزائن میں تبدیلی کر کے رقبہ بھی کچھ کم کر دیا گیا۔ پھر بھی یہ دنیا کے کسی بھی دوسرے مصنوعی جزیرے کے مقابلہ میں کئی گنا بڑا ہوگا۔ ہر طرف روشنیاں ہی روشنیاں، روشن عمارتیں، روشن پارک، روشن مارکیٹیں، روشن فلائی اوور، روشن انڈر پاس یوں لگتا تھا جیسے کوئی بچہ کمپیوٹر پر گیم کھیل رہا ہو اور انہی کے دائیں بائیں ایستادہ محلات نما گھروں کی طرف نگاہ دہرائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ گھر دْنیا کے مہنگے ترین گھر ہیں جنہیں دنیا کے امیر ترین لوگوں نے خریدا ہے اور یہ سمندر پر بنے ہوئے ہیں وہیں دونوں طرف دْنیا کے مہنگے ترین وِلاز بھی پائے جاتے ہیں اور انہی میں سے کچھ بنگلے انڈین اداکاروں کے بھی ہیں جن میں سر فہرست نام شاہ رْخ خان کا اور امیتابھ بچن کا ہے۔


پر تعیش بحری جہاز رکھنے کا شوق
دنیا میں چند امیر ترین افرادایسے بھی ہیں جن کا شوق اپنے اثاثوں میں پر تعیش بحری جہاز( Yacht))رکھنا بھی ہے-

اعظم بحری جہاز
دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے مہنگا ترین بحری جہاز رکھنے کا اعزاز سعودی شہزادے الولید بن طلال السعود کے پاس ہے- 400 ملین یورو کی مالیت کا یہ بحری جہاز حال ہی میں خریدا گیا ہے اور اس نے ہر لحاظ سے Eclipse Yachtکو پیچھے چھوڑ دیا ہے- اس بحری جہاز کی رفتار 30 knots یا 35 میل فی گھنٹہ ہے- 590 فٹ لمبا یہ بحری جہاز دوسرے بحری جہازوں کی نسبت انتہائی منفرد خصوصیات کا حامل جہاز ہے۔

گرہن بحری جہاز
اس بحری جہاز کے مالکRoman Abrahamovich ہیں جو کہ اپنے نمائشی طرز زندگی کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں- اس جہاز کی مالیت 350 ملین ڈالر ہے- یہ جہاز اس وقت خریدا گیا جب کساد بازاری کا دور دورہ تھا- جب یہ خریدا گیا تھا اس وقت اس جہاز کی مالیت اور اس کے سائز نے تمام جہازوں کے ریکارڈ توڑ ڈالے-اس جہاز میں 2 ہیلی پیڈ, سنیما, 5000 اسکوائر فٹ پر پھیلا ماسٹر ہال, لائبریری اور 20 واٹر جیٹ بھی موجود ہیں- اس کے علاوہ اس جہاز میں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں زیر آب داخلی و خارخی راستے بھی موجود ہیں- 2 سال سے زائد عرصے میں مکمل ہونے والے اس 558 فٹ لمبے اس جہاز کی 9 منزلیں ہیں-

دبئی بحری جہاز
اس بحری جہاز کے مالک شیخ بن راشد المخطوم ہیں- 300 ملین ڈالر کی مالیت کے اس بحری جہاز کی تعمیر کا کام 2001 میں شروع ہوا جس کا اختتام 2006 میں ہوا- اس بحری جہاز پر 1 ہیلی پیڈ کے ساتھ ساتھ کشادہ ڈائننگ ایریا, وی آئی پی کمرے, مہمان خانے, مختلف منزلوں تک رسائی کے لیے ایلیویٹر اور متعدد سیلون موجود ہیں- یہ پرتعیش بحری جہاز زیادہ تر خلیجی علاقوں میں موجود ہوتا ہے- اس جہاز کا بیشتر حصہ ائیر کنڈیشنڈ ہے جو کہ مہمانوں کو گرم موسم سے محفوظ رکھتا ہے-


دلبر بحری جہاز
اس بحری جہاز کے مالکAlishar Usmanov ہیں جو کہ ایک روسی اسٹیل میگنٹ کمپنی کے مالک ہیں- 263 ملین ڈالر کی مالیت کے اس بحری جہاز کو 2005 میں تعمیر کیا گیا اور اس کے بعد اس جہاز کو Alishar Usmanovنے اپنی والدہ کے نام سے موسوم کردیا- 361 فٹ کے اس دیو قامت جہاز کو Lurrson اور Tim Haywood نے ڈیزائن کیا- اس جہاز میں عملے کے 47 افراد کے ساتھ ساتھ 20 مہمانوں کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے- دوسری مختلف سہولیات کے ساتھ ساتھ اس بحری جہاز میں سوئمنگ پول اور ہیلی پیڈ بھی موجود ہیں- یہ بحری جہاز 18.4 knots کی رفتار سے دوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے-

سن رائسنگ بحری جہاز
اس خوبصورت بحری جہاز کے مالکDavid Geffen ہیں اور اس بحری جہاز کی مالیت 200 ملین ڈالر ہے- 453 فٹ لمبا یہ جہاز اسٹاف ممبرز کے علاوہ 16 مہمانوں کو ٹھہرانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے- 8000 فٹ اسکوائر فٹ کے رقبے پر پھیلے اس بحری جہاز میں ایک باسکٹ بال،ہیلی پیڈ،سوئمنگ پول،سنیما ہال اور ایک آبدوز کے لیے جگہ بھی موجود ہے،جسے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں استعمال کیا جاسکتا ہے- قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس جہاز کی دیکھ بھال پر سالانہ 13 ملین ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں-

اوکٹاپس بحری جہاز
اس شاندار بحری جہاز کے مالک Paul Allen ہیں جو کہ دنیا کی سب سے معروف سوفٹ وئیر کمپنی مائیکرو سوفٹ کے شریک بانی ہیں- اس بحری جہاز کی مالیت 200 ملین ڈالر ہے- پال کی دلچسپیوں میں جہاز رانی بھی شامل ہے اور اسی وجہ سے یہ بحری جہاز ان کا اثاثہ بھی ہے- یہ بحری جہاز 414 فٹ لمبا ہے- اور اس جہاز میں مسلسل 2 ہفتوں تک سفر کرنے کی صلاحیت موجود ہے- کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک آبدوز بھی اس جہاز کے ساتھ منسلک ہے جو کہ 10 افراد کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے-اس کے علاوہ دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ اس جہاز میں 2 ہیلی پیڈ, سوئمنگ پول اور 7 کشتیاں بھی موجود ہیں-

امیوی بحری جہاز
اس بحری جہاز کے مالک لکشمی متل ہیں جو کہ انڈیا کی ایک اسٹیل مل کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ انڈیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں بھی شامل ہیں- ان کی ایک پرتعیش رہائش گاہ بھی دنیا بھر میں مشہور ہے- اس کے علاوہ ان کے دیگر قابل ذکر اثاثوں کے طرح یہ انتہائی مہنگا ترین بحری جہاز بھی ان کے اثاثوں میں شامل ہے- یہ بحری جہاز اب تک دنیا کے کئی مشہور ترین افراد کی میزبانی بھی سرانجام دے چکا ہے جیسے کہ 2010 میں جنیفر لوپز رات کے کھانے پر اس جہاز کی مہمان رہی- اس جہاز پر مساج روم،سنیما،سوئمنگ پول اور ایک سیلون بھی موجود ہے- اس جہاز میں 22 اسٹاف ممبرز کے ساتھ ساتھ 16 مہمانوں کی گنجائش بھی موجود ہے-

السعید بحری جہاز
Al Said Yachtاس بحری جہاز کے مالک سلطان قابوس ہیں اور حقیقی طور پر یہ بحری جہاز شاہی اشرافیہ ہی کے لیے تخلیق کیا گیا ہے- 2007 میں تعمیر کیے گئے اس بحری جہاز کی مالیت 109 ملین ڈالر ہے- اس جہاز کو ڈیزائن کرنے والےJonathan Quinn Barret ہیں- یہ پرتعیش جہاز 65 مہمانوں اور 140 اسٹاف ممبرز کو جگہ فراہم کرتا ہے- اس جہاز میں آپ براہ راست 50 افراد کی آرکسٹرا کی کارکردگی کا مشاہدہ کرسکتے ہیں- مہمانوں کو اس جہاز تک رسائی کے لیے ہیلی کاپٹر کی مدد سے جہاز تک پہنچایا جاتا ہے۔


عبدالعزیز بحری جہاز
اس بحری جہاز کے مالک عبداﷲ بن عبدالعزیز السعود ہیں- 73 ملین ڈالر کی مالیت کے اس بحری جہاز کو سعودی بادشاہ عبداﷲ بن عبدالعزیز السعود نے اس وقت خریدا جب وہ شاہی خاندان کے ولی عہد شہزادے تھے- اس جہاز کی تعمیر 1984 میں کی گئی اور اس پرتعیش جہاز پر 22 مہمانوں کے ساتھ ساتھ 14 افراد کے اسٹاف کے لیے بھی جگہ موجود ہے- جنہیں باقاعدہ طور پر شاہی مہمانوں سے حسن سلوک سے پیش آنے کے لیے خاص تربیت دی جاتی ہے- یہ بحری جہاز زیادہ سے زیادہ 22 knots کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے- دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ ایک ریسٹورنٹ بھی موجود ہے-

ٹین بحری جہاز
اس بحری جہاز کے مالک بھارتی بزنس مین انیل امبانی ہیں- 80 ملین ڈالر کی مالیت کا یہ بحری جہاز چند قانونی وجوہات کی بنا پر ایک عرصے تک خبروں کی زینت بھی بنتا رہا- ریلائس انڈسٹری کے مالک انیل امبانی نے یہ جہاز اپنی بیوی کو تحفے میں دیا اور اس جہاز کا نام بھی دلچسپ انداز میں رکھا گیا ہے- نام کے دو حروف انیل امبانی کے نام سے لیے گئے ہیں جبکہ باقی دو حروف ان کی بیوی کے نام سے لیے گئے ہیں- دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ اس بحری جہاز میں ایک کلاسیکل ڈائننگ ایریا،5 کیبن بھی موجود ہیں جس میں ہر کیبن میں 2 برتھ بھی موجود ہیں-

مہنگے ترین پرتعیش کروز شپ رکھنے کا شوق
ایسے ہی دنیا کے چند امیر ترین افراد کے مہنگے ترین پرتعیش کروز شپ (Super Yachts) رکھنا بھی ہے- ان کروز شپ کے بارے میں کئی ایسی باتیں ہیں جو عام افراد نہیں جانتے.دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ پرتعیش کروز شپ کے مالک دنیا بھر میں موجود ارب پتی افراد ہیں-مغربی ممالک میں تیار کیے جانے والے کروز شپ کلب وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ ایشیائی ممالک کے تیار کردہ کروز شپ میں ایک کانفرنس روم ضرور تعمیر کیا جاتا ہے جہاں بزنس میٹنگ کا انعقاد کیا جاسکے-اگر آپ اتنے امیر نہیں ہیں کہ اپنا کروز شپ خرید سکیں تو آپ اسے کرائے پر بھی حاصل کر کے لطف اندوز ہوسکتے ہیں،جی ہاں اکثر کروز شپ کے مالک اپنے جہاز کے دیکھ بھال پر آنے والے بیشمار اخراجات کو اسی طرح پورا کرتے ہیں-زیادہ تر کروز شپ پر مہمانوں کے لیے تفریح کے سامان بھی مہیا کیے جاتے ہیں جیسے کہ ڈائیونگ گئیر, چھوٹی کشتیاں جنہیں وہ سمندر میں اتار کر کروز شپ کے آس پاس ہی سفر کرتے ہیں،جیٹ اسکائیز،ہیلی کاپٹر اور ٹرامپولائنز وغیرہ-زیادہ تر لگڑری کوز شپ کے مالک مشرقِ وسطیٰ کے باشندے ہیں- ایک طویل مدت تک یہ اعزاز امریکی اور یورپی باشندوں کے پاس رہا ہے تاہم حال ہی مشرقِ وسطیٰ اس میں بازی لے گیا ہے- یہاں تک کہ دنیا کا سب سے بڑا کروز شپ بھی مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والی ہی ایک امیر ترین شخصیت کی ملکیت اس وقت دنیا کے سب سے بڑے 200 کروز شپ میں سے ایک تہائی کے مالک مشرقِ وسطیٰ کے رہائشی ہیں-زیادہ تر کروز شپ کا عملہ 24 گھنٹے کے لیے ملازم ہوتا ہے اور اپنی خدمات سرانجام دیتا رہتا ہے- اس عملے کی رہائش اور کام دونوں ہی کروز شپ پر ہوتے ہیں- یہ ایک فل ٹائم جاب ہوتی ہے- اس عملے کے لیے کروز شپ پر علیحدہ سے بیڈروم بھی موجود ہوتے ہیں-کروز شپ کے مالک اپنے جہاز کی مالیت کی 10 فیصد کے برابر کی رقم ہر سال جہاز کی بحالی اور مہنگی دیکھ بھال کے نام پر خرچ کر دیتے ہیں- مائیکرو سوفٹ کے شریک بانی پال ایلن ایسے حیرت انگیز کروز شپ کے مالک ہیں جس میں دو آبدوزیں بھی موجود ہیں- ان میں سے ایک آبدوز 10 افراد کے ساتھ مستقل 8 گھنٹے تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ دوسری کو ریموٹ کنٹرول کی مدد سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے-اس کروز شپ کے سر ایک حیرت انگیز دریافت کا بھی سہرا ہے- اس کروز شپ نے حال ہی میں فلپائن کے ساحلوں سے ایک ایسے بحری جہاز کو دریافت کیا تھا جو جنگِ عظیم دوئم کے دوران ڈوب گیا تھا-


کلاسک و مہنگی کاروں کا شوق
دنیا بھر کے امیر طبقے میں کلاسک ماڈلز کی قدیم اور نایاب کاریں جمع کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ افغان بادشاہ کی رولز رائس ہو یا بھارت کے آخری وائسرائے کی کار ، ان کے سامنے پیسہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ مختلف ایونٹس کے تحت نہ صرف قیمتی اور پرانی کاروں کی نمائش بلکہ دنیا بھر میں مختلف ممالک میں کار ریلیوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ مالکان کو اپنی قیمتیں کاریں منظر عام پر لانے کا موقع مل سکے۔اس نیلامی میلے میں 50، 60 اور 70 کی دہائی کی گاڑیاں رکھی جاتی ہیں ، اور دنیا بھر سے گاڑیوں کے شوقین افراد نیلامی میلے کا رخ کرتے ہیں ، ان میلوں میں رکھی گئی گاڑیاں کبھی فروخت ہی نہیں ہوتی تو کبھی ایک لاکھ ڈالر تک کی فروخت ہوتی ہیں۔شاہ رخ خان کے پاس گاڑیوں کا انتہائی مہنگا کلیکشن ہے ان کے پاس اس وقت سات لگژری گاڑیاں، جن میں بی ایم ڈبلیو کی سیریز، audi ،baggati گاڑیوں کے علاوہ مہنگی ترین وینٹی کار بھی ہے۔


اعلیٰ و نایاب نسل کے جانوروں کا شوق
امیر طبقہ میں دو شوق ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جو نا صرف مہنگا بلکہ وقت طلب ہے،ایک کتب بینی اور دوسرا اعلیٰ نسل کے جانور پالنے کا ہے،تمام امیراء کے گھرو محلات میں آپ کو ایک لائبریری ضرور ملے گی جس میں دنیا بھر کے بہترین لکھاریوں کی کتابیں موجود ہونگی اور دوسرا ان کے پاس اعلیٰ و نایاب نسل کے جانور رکھنا ہیں ،ان میں اعلیٰ و نایاب نسل کے گھوڑے،کتے ،مور ،ہرن طوطے،کبوتر اور دیگر جانور شامل ہیں اگر اس حوالے سے ہم وزیراعظم نواز شریف کی بات کریں تو ان کے رائے ونڈ پیلس میں ان کے شوق کیلئے دنیا بھر کے جانوروں کی اعلیٰ نسلیں رکھی گئیں ہیں، جن میں مور، ہرن، چھوٹے قد کے گھوڑے، آسٹریلین بھینسیں، نیل گائے، نایاب طوطے، کبوتر اور دیسی بکرے شامل ہیں۔حال ہی میں چوبیس لاکھ روپے مالیت کے نایاب نسل کے کتے بھی خریدے گئے ہیں، خاص بات تو یہ ہے کہ ان کی سکیورٹی کیلئے اکیس پولیس اہلکار رکھے گئے ہیں۔


جزیرہ حمدان
شیخ حماد بن حمدان کا تعلق ابو ظیبی کے شاہی خاندان سے ہے،حماد بن حمدان نے اپنے شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جزیرہ بنوایا ہے،ویسے تو امراء کے لیے جزیرے بنوانا کوئی انوکھی بات نہیں یہاں جو چیز ان کے جزیرے کو دنیا کے باقی جزیروں سے مختلف کرتی ہے وہ ہے ان کا نام ’حماد‘جزیرے پر واضح طور پر لکھا ہوا ہونا ہے۔یہ نام انگریزی کے کیپیٹل حروف’’HAMAD‘‘میں لکھا ہوا ہے۔یہ جزیرہ عرب امارات کی ایک ریاست ’’الفوطائسی ‘‘میں ہے سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیوں حماد بن حمدان نے جزیرے پر اپنا نام انگریری حروف میں لکھا ،کیونکہ ان کی زبان تو عربی ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ سمجھی جاسکتی ہے کہ وہ اپنا نام ایک ایسی زبان میں لکھنا چاہتا تھا جس سے ہر کوئی باآسانی واقف ہو۔اس جزیرے کی خاص بات یہ ہے کہ جزیرے پر لفظ ’’حماد‘‘ایک ہزار چوڑائی اور دو میل کے وسیع رقبے پر مشتمل ہے اور سمندر کی لہریں ان حروف کو مٹانے کی بجائے ان حروف میں جذب ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

Reviews & Comments

I WANTED TO BE SO RICH TO BUILD WASH ROOMS WITH FULL FACILITY. BUT MY DREAM REMAIN SO FAR ONLY DREAM,I AM STILL OPTIMISTIC,TO BUILD IN PAKISTAN ONLY
By: IFTIKHAR AHMED KHAN, MISSISSAUGA/ONTARIO on Feb, 13 2016
Reply Reply
1 Like
i imressed from only moosa mansa..............baqi bekar hain.
By: azeem, lahore on Jan, 18 2016
Reply Reply
0 Like
TO BE RICH IN ISLAM IS NO PROBLEM .PERSON HAS TO FIGURE OUT POOR DUE.IF NON MUSLIM IS VERY RICH,PERSON WILL ENJOY HIS OR HER LIFE ONLY IN LIFE SPAN.AFTER DEATH NO BARGAINING STRAIGHT TO HELL
By: IFTIKHAR AHMED KHAN, CALGARY ALBERTA CANADA on Jan, 17 2016
Reply Reply
0 Like
Language:    
Rich people are famous for numerous reasons across the world. Their astonishing activities and habits are jaw dropping and head turner for all. From purchasing luxurious houses, cars, jewelry, perfumes and branded clothes to airplanes the rich people possess everything in their domain.