ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے اہم ونڈ فارمز

(ATEEQ AHMED AZMI, Karachi)

انسانی رہن سہن میں انقلابی تبدیلیوں کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک بلاشبہ برقی رو کو کہا جاسکتا ہے برقی رو کی دریافت یا اسے پیدا کرنے اوراسے استعمال کرنے کا نظام وضع کرنے والوں نے ہی درحقیقت کرہ ارض کو ’’ عالمی گاؤں‘‘ میں تبدیل کیا ہے اور آج کرہ ارض کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے روزمرہ کی ضروریات میں سے ایک اہم ترین عنصر’’ بجلی‘‘ ہے بلخصوص صنعتی پہیے کی گردش بجلی کی روانی کی مرہون منت ہے کیوں کہ تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ کسی بھی ملک کی ترقی کا زینہ بن چکاہے اور اس زینے کی معراج پر پہنچنے کے لئے بجلی کا ہر وقت رواں دواں رہنا ازحد ضروری ہے لیکن بجلی کی طلب اور رسد پاکستان جیسے ملکوں کے لئے ایک ایسا مسئلہ بن چکی ہے جس کی کوکھ سے ایسے مسائل پیدا ہورہے ہیں جو خدا نا خواستہ ملکوں کو عدم استحکام کی جانب دھکیل رہے ہیں لیکن کچھ قوتیں ایسی ہیں جو ان مسائل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں پرے دھکیلنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لئے متبادل توانائی کے منصوبوں میں مصروف ہیں ایسے ہی متبادل توانائی کے طریقوں میں سے ایک’’ ہوا سے بجلی‘‘ پیدا کرنے کے منصوبے ہیں جن پر زیر نظر تحریر میں روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے واضح رہے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے طریقے دیگر توانائی کے متبادل زرائع سے نسبتا ارزاں اور کم وقت میں نتائج دینے کے اہل ہیں ۔

ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے طریقے
ہوائی طاقت سے بجلی پیدا کرنے کے دو بنیادی طریقے رائج ہیں جن میں سب سے اہم زریعہ سمندر ہے، سمندر کے حوالے سے ہوائی چکیوں یا ٹربائن سے بجلی بنانے کے بھی دو طریقے رائج ہیں جن میں ایک طریقہ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ یا پھر سمندر کے اندر کچھ فاصلے پر ہواؤں کی قدرتی گزرگاہوں کے راستے میں تعمیر کی گئیں ہوائی چکیاں ہیں جن سے بجلی بنائی جاتی ہے سمندر ہی کے حوالے سے دوسرے رائج طریقے میں گہرے سمندر میں لہروں پر ڈولتے ہوئے آبی بیڑوں پر ایستادہ گھومتی ہوائی چکیوں یا ٹربائن سے بجلی پیدا کی جاتی ہے ان ہوائی چکیوں کے ونڈفارمز کو ’’ آف شور ونڈ فارمز‘‘ کہا جاتا ہے۔
 


ہوائی ٹربائن سے بجلی پیدا کرنے کے دوسرے بنیادی اور اہم طریقے میں خشکی کے ایسے زمینی ٹکڑے پر ٹربائن یا پون چکیوں کی تعمیر ہے جہاں تیز ہواؤں کا سالہا سال گزر رہتا ہو ان ہوائی چکیوں کے ونڈ فارمز کو ’’ آن شور ونڈ فارمز‘‘ کہا جاتا ہے۔

واضح رہے ہوائی چکیوں کی مدد سے بجلی بنانے کے لئے طریقہ کوئی سا بھی اختیار کیا جائے بنیادی مقصد ہوا کے زریعے پون چکیوں کی پنکھڑیوں کو تیزی سے گردش دینا ہوتا ہے لہذا وہ ادارے جو اس مقصد کے لئے فعال ہوتے ہیں ہوا کی فراوانی والی جگہوں پر ہی اپنے پروجیکٹ لگاتے ہیں اور ایسی تمام جگہوں پر جہاں ہوائی چکیاں لگائی جاتی ہیں تکنیکی اصطلاح میں ’’ ونڈ فارم یا پارکس‘‘ کہا جاتا ہے واضح رہے جو ہوائی چکیاں زمین سے پانی کھینچ کر نکالنے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں انہیں ’’ پن چکی‘‘ کہا جاتا ہے جب کہ ہوا کی قوت سے بجلی بنانے والی ہوائی چکیوں کو ’’ پون چکی ‘‘ کہا جاتا ہے ۔

اہم ونڈ فارمز
خشکی(آن شور) اور سمندر(آف شور) میں بنائے گئے ونڈ فارمز کی بجلی کی پیداواری صلاحیت کے لحاظ سے اگر ہم دنیا کے اہم ترین ونڈ فارمز پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ اس حوالے سے امریکہ سرفہرست ہے اور دس اہم ترین ونڈ فارمز میں سے آٹھ ونڈ فارمز امریکی سرزمین پر واقع ہیں اہم ترین ونڈ فارمز کی تفصیلات کچھ اس طرح ہے ۔

*آلٹا ونڈ انرجی سینٹر
Alta Wind Energy Centre

امریکی ریاست کیلی فورنیا کی کاؤنٹی’’ کیرن‘‘ کے نواح میں’’ تی ہیکا پائی‘‘پہاڑی کے دامن میں تعمیر کیا گیا یہ ونڈ فارم اپنی پیداواری صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ونڈ فارم ہے جو مکمل کام کرنے کی صورت میں ایک ہزار بیس میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش رکھتا ہے یہ وسیع و عریض ونڈ فارم جو خشکی پر واقع ہے امریکہ کی ٹیرا جین پاور کمپنی کے زیراہتمام سرگرم عمل ہے ٹیرا جین پاور کمپنی کا کہنا ہے کہ عنقریب وہ اس ونڈ فارم کو مزید وسعت دے کر اس سے حاصل شدہ بجلی کی مقدار پندرہ سو پچاس میگا واٹ تک پہنچا دیں گے جب کے اس ونڈ فارم کی مستقبل کی منصوبہ بندی تین ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی ہے اس وقت اس پورے ونڈ فارم میں گیارہ یونٹ سرگرم عمل ہیں جن میں مجموعی طور پر پانچ سو چھیاسی پون چکیاں متحرک ہیں جو سطح سمندر سے تین ہزار سے چھے ہزار فٹ تک کی بلندی پر مصروف کار ہیں۔

* شہپرڈز فلیٹ ونڈ فارم
Shepherds Flat Wind Farm

خشکی پر تعمیر کیا گیا یہ ونڈ فارم آٹھ سو پینتالیس میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے امریکی ریاست ’’اوریگن‘‘ میں ’’گلیام‘‘ اور’’ مورو‘‘ کاؤنٹیز کے درمیان تیس مربع میل پر پھیلے ہوئے اس ونڈ فارم کی تعمیر سن دوہزار نومیں شروع کی گئی تھی اس تعمیر کا بیڑا توانائی کے مشہور ادارے کیتھ نیز انرجی نے اٹھایا تھا تعمیراتی کام کے افتتاح کے وقت منصوبے پر دو بلین امریکی ڈالر خرچ ہوئے تھے دوہزار بارہ میں مکمل طور پر فعال ہوجانے والے اس ونڈ فارم میں مجموعی طور پر تین سو اڑتیس پون چکیاں لگائی گئیں ہیں اس ونڈ فارم سے لگ بھگ دو لاکھ پینتیس ہزار گھرانوں کو بجلی فراہم کی جاتی ہے ۔

*روسکو ونڈ فارم
Roscoe Wind Farm

یہ ونڈ فارم بھی امریکہ میں واقع ہے تاہم اسے جرمنی سے تعلق رکھنے والی ’’ای آن کلائمنٹ اینڈ ری نیو ایبل‘‘ کمپنی آپریٹ کرتی ہے سات سو اکیاسی اعشاریہ پانچ میگا واٹ بجلی بنانے کی صلاحیت رکھنے والا یہ ونڈ فارم امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر روسکو کے نواحی علاقے ابائیلین کے جنوب مغرب میں پینتالیس میل کی دوری پر خشکی میں تعمیر کیا گیا ہے چار سو مربع کلومیٹر پرپھیلا ہوا یہ ونڈ فارم زرعی زمین پر تخلیق کیا گیا ہے جس کی تعمیر پرایک بلین ڈالر کے اخراجات آئے تھے سن دو ہزار سات سے دوہزار نو کے درمیاں چار مختلف ادوار میں مکمل ہونے والے روسکو ونڈ فارم میں چھے سو چونتیس پون چکیاں ہیں جو قرب و جوار میں بجلی کی ضروریات کو بدرجہ اتم پورا کرتیں ہیں ۔

*ہارس ہولو ونڈ انرجی سینٹر
Horse Hollow Wind Energy Centre

یہ ونڈ فارم جسے انرجی سینٹر بھی کہا جاتا ہے ریاست ٹیکساس ہی میں واقع ہے ریاست کی’’ ٹیلر‘‘ اور’’ نولان ‘‘کاؤنٹیز کے درمیان تعمیر کیا گیا ہارس ہولو ونڈ انرجی سینٹر متبادل توانائی پیدا کرنے کے مشہور ادارے نیکسٹ ایرا انرجی ریسورسز کی ملکیت ہے اور وہ ہی اسے فعال رکھنے کی زمہ دار بھی ہے مجموعی طور پر سینتالیس ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے اس ونڈ فارم کی پیداواری صلاحیت سات سو پینتیس اعشاریہ پانچ میگا واٹ ہے جو ٹیکساس کے ایک لاکھ اسی ہزار گھروں کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرتی ہے سن ددہزار پانچ سے دوہزار چھے میں چار مرحلوں میں پایہ تکمیل کو پہنچنے والے اس منصوبے میں مجموعی طور پر چار سو اکیس پون چکیاں کام کررہی ہیں یاد رہے اس ونڈ فارم پر سن دوہزار پانچ میں یہاں کے مکینوں نے مقدمہ کیا تھا جس میں انہوں نے پون چکیوں کی پنکھڑیوں سے پیدا ہونے والے شور کو بنیا د بنا کر اس ونڈ فارم کو منتقل کرنے کی درخواست کی تھی لیکن عدالت نے مقدمہ خارج کردیا تھا اس مقدمے کے باعث ہارس ہولو ونڈ انرجی سینٹر کو عالمی پیمانے پرشہرت ملی تھی ۔
 


*کیپری کورن رج ونڈ فارم
Capricorn Ridge Wind Farm

یہ ونڈ فارم بھی امریکی ریاست ٹیکساس میں روبہ عمل ہے سن دوہزار سات میں شروع کیا جانے والا کیپری کورن رج ونڈ فارم مجموعی طور پر چھے سو باسٹھ اعشاریہ پانچ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس ونڈ فارم کی ملکیت ا بھی نیکسٹ انرجی ری سورسز کمپنی کو حاصل ہے جب کہ اسے فعال رکھنے کا اختیار بھی نیکسٹ انرجی ری سورسز کمپنی ہی کو ہے کیپری کورن رج ونڈ فارم میں مجموعی طور پر چار سو سات پون چکیاں لگائی گئی ہیں جن میں ہر پون چکی کی اونچائی دو سو ساٹھ فٹ ہے یہ ونڈ فارم جو ٹیکساس کی ریاست’’ اسٹرلنگ ‘‘ اور’’ کوک‘‘ کاؤنٹی کے درمیان واقع ہے اس سے حاصل ہونے والی بجلی سے مجموعی طور پر دو لاکھ بیس ہزار گھرانے فیض یاب ہورہے ہیں۔

*دی لندن ایرے
The London Array

بجلی کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کے دس صف اول کے ونڈ فارم کی فہرست میں چھٹے نمبر پر فائز لندن ایرے ونڈ فارم اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کا جائے مقام خشکی کے بجائے آبی ہے دریائے ٹیمز کے باہری حصے میں’’ کینٹ ‘‘اور’’ ایسیکس‘‘ کاؤنٹی کے ساحلوں سے بیس کلومیٹر اندر تخلیق کیا جانے والا یہ ونڈ فارم انسانی ہمت اور جرآت کا بھرپور اظہار بھی ہے جو چھے سو پچاس میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے چار اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر سے مارچ دوہزار گیارہ میں شروع کئے جانے والے اس پروجیکٹ کی تکمیل جولائی دوہزار تیرہ میں ہوئی پروجیکٹ کی تعمیر اور ملکیت کے حقوق ڈنمارک کی ڈونگ انرجی، جرمنی کی ای آن کلائمنٹ اینڈ ری نیو ایبل اور ابو ظہبی سے تعلق رکھنے والے مسدار گروپ کے پاس ہیں کینٹ کاؤنٹی کے دو تہائی گھرانوں کو بجلی فراہم کرنے والے لندن ایرے ونڈ فارم میں ایک سو پچھتر پون چکیاں ہیں جن کی اونچائی سطح سمندر سے ستاسی میٹر بلند ہے جب کے پون چکیوں کی پنکھڑیوں کا گھماؤ ایک سو بیس میٹر پر محیط ہے ۔

*فین تین لی کوجیالیک ونڈ فارم
Fantanele-Cogealac Wind Farm

جنوب مشرقی یورپ میں واقع ملک رومانیہ میں تعمیر کیا گیا یہ ونڈ فارم چھے سو میگا واٹ پیداوری صلاحیت کے ساتھ اگرچہ عالمی سطح پر ساتویں نمبر پر شمار کیا جاتا ہے تاہم براعظم یورپ میں خشکی پر بنائے گئے ونڈ فارمز میں ’’فین تین لی کوجیالیک ونڈ فارم‘‘ اول نمبر پر فائز ہے رومانیہ کے صوبے’’ دوبروجا ‘‘میں بحیرہ اسود کے مغرب میں سترہ کلومیٹر کی دوری پر واقع یہ ونڈ فارم دو ہزار سات سو ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے ونڈ فارم کی ملکیت چیک ریپبلک کے توانائی کے ادارے ’’ سی ، ای، زیڈ گروپ ‘‘ کے پاس ہے جب کے وہی اسے فعال رکھنے کا بھی زمہ دار ہے جون دوہزار دس میں شروع کئے جانے والے اس منصوبے کی تکمیل نومبر دوہزار بارہ میں ہوئی اس دوران اس ونڈ فارم میں دو سو چالیس پون چکیاں لگائی گئیں ہر پون چکی کی پنکھڑیوں کا گھماء کا قطر ننانوے میٹر پر محیط ہے۔

*فاؤلر رج ونڈ فارم
Fowler Ridge Wind Farm

امریکی ریاست انڈیانا کی’’ بین ٹون‘‘ کاؤنٹی میں تعمیر کئے گئے اس ونڈ فارم کی مجموعی پیداوار پانچ سو نناوے میگا واٹ ہے اس شاندار ونڈ فارم کو شمالی امریکہ کی مشہور زمانہ’’ بی پی آلٹرنیٹو ‘‘انرجی اور’’ڈومینین ریسورس‘‘ کمپنیاں چلاتی ہیں یہ ونڈ فارم دو ہزار آٹھ میں پچاس ہزار ایکڑ رقبے پر بنایا گیا ہے ونڈ فارم کی تعمیر دو مرحلوں میں مکمل ہوئی ونڈ فارم کا دوسرا مرحلہ دو ہزار دس میں مکمل ہوا دو لاکھ سے زائد درمیانے درجے کے گھروں میں بجلی کی فراہمی یقینی بنانے والا یہ پروجیکٹ تین سو پچانوے پون چکیوں سے آراستہ ہے جن کی سطح سمندر سے زیادہ سے زیادہ اونچائی آٹھ سو بیس فٹ تک ہے ۔

*سوئٹ واٹر ونڈ فارم
Sweetwater Wind Farm

پانچ سو پچاسی میگا واٹ کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا یہ ونڈ فارم بھی امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں تعمیر کیا گیا ہے ’’نولان ‘‘کاؤنٹی میں تخلیق کئے جانے والے اس ونڈ فارم میں مجموعی طور پر تین سو بانوے پون چکیاں لگائی گئی ہیں دوہزار تین میں شروع کئے جانے والے اس پروجیکٹ کی تکمیل پانچ مرحلوں کے بعد دوہزار تین میں پائیہ تکمیل تک پہنچی خشکی پر واقع اس ونڈ فارم کو ڈیوک انرجی اور انفی جن انرجی فعال رکھنے کی زمہ دارہیں سوئٹ واٹر ونڈ فارم سے پیدا ہونے والی بجلی بیس سالہ معاہدے کے تحت سینٹ انتونیو شہر کو بجلی فراہم کرنے والے مقامی ادارے سی پی ایس کو فروخت کی جاتی ہے ۔

*بفلو گیپ ونڈ فارم
Buffalo Gap Wind Farm

ریاست ٹیکساس سے تیس کلومیٹر کی دوری پر جنوب مغربی سمت میں ’’ایبی لین ‘‘کاؤنٹی واقع ہے جہاں پر پانچ سو تئیس میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا بفلو گیپ ونڈ فارم تعمیر کیا گیا ہے، اے ای ایس ونڈ جنریشن کمپنی کے تخلیق کردہ اس ونڈ فارم کو دوہزار چھے میں تعمیر کرنا شروع کیا گیاتھا اور تین تعمیراتی مرحلوں کے بعد دوہزار آٹھ میں مکمل کیا گیااس ونڈ فارم سے پیدا کی جانے والی بجلی ٹیکساس کی کمپنی ڈائریکٹ انرجی ٹیکساس کو فروخت کی جاتی ہے پورے ونڈ فارم میں دو سو چھیانوے پون چکیاں ہیں ۔

بجلی کیسے پیدا ہوتی ہے
وسیع پیمانے پر بجلی پیدا کرنے کے لئے جو جگہ بنائی جاتی ہے اسے ’’ پاور اسٹیشن‘‘ کہا جاتا ہے جہاں حرارت یا گرمائش کے زریعے پانی کو بھاپ میں تبدیل کر کے بھاپ کی قوت سے بڑے بڑے پنکھوں کو حرکت دی جاتی ہے تکنیکی زبان میں ان پنکھوں کو ٹربائن کہا جاتا ہے یہ ٹربائن جو دراصل سادہ انجن ہوتے ہیں جنریٹر سے منسلک ہوتے ہیں ٹربائن کی گردشی حرکت کے باعث جنریٹر میں لگے کوائل میں مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے اور بجلی بننے کا عمل شروع ہوجاتا ہے بعدازاں ایک منظم طریقے کار کے تحت اس بجلی کو تاروں کے زریعے پورے ملک میں مہیا کردیا جاتا ہے۔
 


کسی بھی پاور اسٹیشن میں موجود جنریٹر سے بجلی پیدا کرنے کے لئے ٹربائن کو حرکت دینے کے دوقدرتی زرائع ہیں جن میں ایک ’’قابل تجدید توانائی‘‘ اور دوسرا’’ ناقابل تجدید توانائی‘‘ کا زریعہ کہلاتا ہے۔

قابل تجدید یعنی بار بار استعمال ہونے والی توانائی سے بجلی بنانے کے دو طریقے رائج ہیں جن میں ایک طریقہ ’’حرارتی‘‘ ہے اس طریقہ کار میں سورج کی شعاعوں(سولرتھرمل پاور) سے پانی کو بھاپ میں تبدیل کر کے اور دوسرے طریقے میں زیرزمین ارضیاتی پرتوں کی حرارت (جیو تھرمل) کے درمیان سے گہرے کنوؤں کی مدد سے پانی گذار کر اسے بھاپ میں تبدیل کرکے یہ عمل انجام پاتا ہے جب کہ دوسرے طریقے کو ’’ بہاؤ‘‘ کا طریقہ کار کہا جاتا ہے اس طریقے کار کے تحت آبی یا پن بجلی یعنی ڈ یم یا بند بنا کر ، ونڈ فارم یعنی پن چکیوں یا ہوا کے زریعے، سمندر کی سطح پر موجوں کی حرکت سے یعنی موجوں کی حرکی قوت اور سمندری مدوجزر یعنی لہروں کے اتار چڑھاؤ( ٹائیڈل بہاؤ) کے دوران پیدا ہونے والی حرکت سے ٹربائن کو گردش دی جاتی ہے جب کے ’’ غیر قابل تجدید توانائی‘‘ یعنی ایک ایسا طریقہ جس میں توانائی صرف ایک مرتبہ حرارت پیدا کرنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے اس طریقہ کار میں کوئلہ ،تیل ،قدرتی گیس اور جوہری توانائی کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ ان دنوں مذکورہ بالا طریقوں کے علاوہ ایک طریقہ ’’ ساکن یا غیر متحرک ‘‘ طریقے سے بجلی پیدا کرنے کا بھی ہے جس میں الیکٹرک بیٹری،شمسی سیل اور دو دھاتوں کے ملاپ سے برقی جنریٹر (تھرموکپل) کے زریعے بجلی پیدا کی جاتی ہے ۔

ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے ممالک
گذشتہ سال کے اختتام تک ہوا سے بجلی حاصل کرنے والے ممالک کے اعدادوشمار
چین اکیانوے ہزار چار سو چوبیس میگا واٹ
امریکہ اکسٹھ ہزار اکیانوے میگاواٹ
جرمنی چونتیس ہزاردوسو پچاس میگا واٹ
اسپین بائیس ہزار نوسو انسٹھ میگاواٹ
انڈیا بیس ہزار ایک سو پچاس میگا واٹ
برطانیہ دس ہزار پانچ سو اکتیس میگا واٹ
اٹلی آٹھ ہزار پانچ سو باون میگا واٹ
فرانس آٹھ ہزار دو سوچون میگا واٹ
کینیڈا سات ہزار آٹھ سو تین میگا واٹ
ڈنمارک چار ہزار سات سو بہتر میگا واٹ

ان دس صف اول کے ممالک کے علاوہ دنیا بھر کے مختلف ممالک اڑتالیس ہزار تین سو اکیاون میگاواٹ بجلی ہوا سے پیدا کررہے ہیں اس طرح مجموعی طور پر دنیا میں دولاکھ سے زیادہ پون چکیوں سے مجموعی طور پر تین لاکھ اٹھارہ ہزار ایک سو سینتیس میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے جس میں سب اہم کردار یورپی ممالک اور ایشیائی ممالک کا ہے یورپی ممالک ایک لاکھ اکیس ہزارچار سو سینتالیس اور ایشیائی ممالک ایک لاکھ پندرہ ہزار نو سو ستائیس میگا واٹ بجلی ہوا سے پیدا کرنے پر قادر ہیں اگر ہم مجموعی پیداوار کا موازنہ دو ہزار بارہ کے اعداد وشمار سے کریں تو علم ہوتا ہے کہ دو ہزار بارہ کے اختتام پر مجموعی پیداوار دولاکھ بیاسی ہزار چار سو بیاسی میگا واٹ تھی اس طرح دوہزار تیرہ کے اختتام تک ہوا سے حاصل ہونے والی بجلی کی پیداوار میں پینتیس ہزار چھے سو پچپن میگاواٹ اضافہ ہوا ہے ۔

آف شور اور آن شور ونڈ فارمز
وہ ونڈ فارم جو خشکی پر تیز ہوا والے علاقوں میں تعمیر کئے جاتے ہیں انہیں’’ آن شور ونڈ فارم‘‘ کہا جاتا ہے آن شور ونڈفارمز کا ہوا سے پیدا کی جانے والی بجلی کی عالمی سطح پر مجموعی پیداوار میں حصہ تین لاکھ گیارہ ہزار بانوے میگا واٹ ہے جس میں چین نوے ہزار نوسوچھیانوے میگا واٹ کے ساتھ اول، امریکہ اکسٹھ ہزار نواسی میگا واٹ کے ساتھ دوئم اور تیسرے نمبر جرمنی ہے جو تینتیس ہزار سات سو تیس میگا واٹ ہوائی بجلی پیدا کررہا ہے جب کہ سمندر کے اندر یا ساحلوں کے ساتھ قائم ونڈ فارمز جنہیں ’’آف شور ونڈ فارم‘‘ کہا جاتا ہے دوہزار تیرہ کے اختتام تک ان سے مجموعی طور پر سا ت ہزار پینتالیس میگا واٹ ہوائی بجلی حاصل کی گئی جس میں سے بڑا حصہ برطانیہ کاتین ہزار چھے سو اسی میگا واٹ جب کہ ڈنمارک ایک ہزار دودسو ستر میگا واٹ کے ساتھ دوسرے اور چین چارسو اٹھائیس میگا واٹ ہوائی بجلی کی پیداوار کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

پاکستان اور ونڈ انرجی
بجلی کی لوڈ شیڈنگ پاکستانی عوام کا سب سے بڑا دردسر بن چکا ہے لیکن اس کے باوجود حکومتی سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے میں کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آرہی حالاں کہ پاکستان ان خوش نصیب ملکوں میں سے ایک ہے جہاں ملک کے مخصوص حصوں میں سال بھر تیز ہوائیں چلتی رہتی ہیں اور اگر حکومت ان ہواؤں کے راستے میں ونڈ فارمز تعمیر کرے تو بہت حد تک بجلی کے بحران میں کمی لائی جاسکتی تاہم پاکستان کی کوئی بھی حکومت ابھی تک ان ہواؤں سے بجلی حاصل کرنے کے منصوبوں پر خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکی ہے حالاں کہ پاکستان کے دو پڑوسی ملک چین اور انڈیا اس حوالے سے بہت ترقی کرچکے ہیں لیکن پاکستان میں ونڈ فارمز کی تعمیر کے پروجیکٹ ابتدائی مراحل ہی پر ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان ونڈ فارمز سے محض ایک سو چھے میگا واٹ بجلی بناتا ہے جب کے ایتھوپیا جیسا ملک ایک سو اکہتر اور تھائی لینڈ دوسوتیئس میگا واٹ بجلی ہوا سے حاصل کررہا ہے۔

امریکہ کی ’’نیشنل ری نیوایبل انرجی لیب ‘‘ کے ایک مطالعاتی جائزے کے مطابق پاکستان کی تقریبا ایک ہزار کلو میٹر طویل ساحلی پٹی کابیشتر حصہ ونڈفارمز کے لئے مثالی حیثیت رکھتا ہے جن میں کراچی، کوئٹہ، جیوانی قابل ذکر ہیں بلخصوص جنوب میں واقع گھارو سے کیٹی بندر تک کا علاقہ بہترین ’’ ونڈ کوریڈور‘‘ ہے جہاں پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے اسی کوریڈور میں واقع میرپور ساکرو کے علاقے میں چھوٹے پیمانے کی پچاسی ونڈ ٹربائن کام کررہی ہیں جن سے تین سوچھپن گھروں کو بجلی فراہم کی جارہی ہے اسی طرح کند ملیر کے علاقے میں بھی چالیس ونڈ ٹربائن کے زریعے ایک سو گیارہ گھروں میں بجلی آچکی ہے واضح رہے پاکستان میں مجموعی طور پربین الااقوامی معیار کے سولہ ونڈ کوریڈور ہیں اس کے علاوہ جائزے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شمالی علاقہ جات ،آزادکشمیر اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے بہت سے علاقے ونڈ فارمز کی تنصیب کے لئے مناسب ہیں رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں مجموعی طور پرتین لاکھ چالیس ہزار میگا واٹ بجلی ہوا کی مدد سے پیدا کرنے کی گنجائش ہے حالاں کہ کچھ زرائع اس تخمینے کو مبالغہ آمیز کہتے ہوئے ڈیڑھ لاکھ میگا واٹ بتاتے ہیں تاہم اس وقت پاکستان میں کراچی سے ایک سو چالیس کلومیٹر کی دوری پر واقع علاقہ ’’ جھمپیر‘‘جو ضلع ٹھٹہ کا حصہ ہے پاکستان میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا اہم مرکز ہے یہاں پاکستان کا اولین جھمپیر و نڈ پاور پلانٹ قائم کیا گیا ہے ساحلی علاقے میں واقع یہ ونڈ پاور پلانٹ ایک ہزار دو سو ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے فوجی فرٹیلائزر کمپنی کا منصوبہ پچاس میگا واٹ سے زائدہوائی بجلی پیدا کررہا ہے سرکاری زرائع کے مطابق اپریل دوہزار چودہ میں جھمپیر ہی کے مقام پر ناروے کی متبادل توانائی کی کمپنی این بی ٹی پاور دیگر کمپنیوں کے اشتراک سے چھے سو پچاس میگاواٹ کے ونڈ فارم کی تنصیب کا کام شروع کردیا گیا ہے اس منصوبے میں چین کا ایک مقامی بنک اورانشورنس کمپنیاں ایک بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے اورامید ہے کہ یہ پروجیکٹ دوہزار سولہ تک روبہ عمل ہوجائے گا-
 


پاکستان میں ونڈ فارمز کی تنصیب کے حوالے سے ترک کمپنی’’زرلو انرجی ‘‘ کی پاکستان میں مقامی کمپنی ’’ زرلوانرجی پاکستان‘‘ اور فوجی فرٹیلائزر گروپ کی زیلی کمپنی فوجی فرٹیلائزر کمپنی انرجی لمیٹڈڈ سمیت فاؤنڈیشن ونڈ انرجی ،چین کی ہاربن الیکٹرک انٹرنیشنل، عربین سیی ونڈ پاور،داؤد پاور،گل احمد انرجی، یونس انرجی،میٹرو پاوراور نیوپارک انرجی شامل ہیں جو متبادل توانائی کے سرکاری ادارے ’’ آلٹرنیٹو انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ‘‘ کے ساتھ مل کر تین ہزار دو سو میگا واٹ کے تینتیس ونڈ فارمز پروجیکٹ پر پیش رفت کررہی ہیں ان پروجیکٹں میں حکومت پاکستان کو ایشین ڈویلپمنٹ بنک کی معاونت بھی حاصل ہے ۔

گانسو ونڈ فارم ۔ چین
دنیاکا سب سے بڑا کثیر المقاصد ونڈ فارم

چین کے شمال مغرب میں واقع صوبے گانسو میں تعمیر کیا گیا یہ ونڈ فارم دراصل کئی ونڈ فارم کا مجموعہ ہے خشکی پر تخلیقی مراحل سے گذرنے والے گانسو ونڈ فارم کا پھیلاؤ صوبہ گانسو کے دو شہروں’’جیوکین ‘‘اور’’ گوز‘‘ کے اطراف میں ہے تیز ہواؤں پر مشتمل یہ شہر بنیادی طور پر صحرامیں واقع ہیں اور یہاں پر سال بھر ہوا کے جھکڑ چلتے رہتے ہیں دوہزار نو میں شروع کئے جانے والا یہ پروجیکٹ اس وقت پانچ ہزارایک سو ساٹھ میگا واٹ سے زائد بجلی کی ترسیل کررہا ہے جب کہ انتظامیہ کے مطابق دوہزار بیس تک ان کا پیداواری ہدف بیس ہزار میگا واٹ ہے تین ہزار پانچ سو سے زائد ہوائی چکیوں پر مشتمل گانسو ونڈ پروجیکٹ چو ں کہ ایک کثیر المقاصد پروجیکٹ ہے جو اپنے غیر روائتی طرز تعمیر اور وسعت کے باعث علیحدہ شناخت رکھتا ہے لہذا ماہرین اسے مروجہ ونڈ فارمز کیکٹیگری کے بجائے اپنی نوعیت کے جداگانہ اور منفرد ونڈ فارمز میں شمار کرتے ہیں ۔

ونڈ انرجی۔ چیدہ چیدہ حقائق
*ہوا کی طاقت سے حاصل کی جانے والی بجلی دنیا بھر میں پیدا ہونے والی بجلی کا محض چار فیصد ہے ۔
*دنیا بھر کے ایک سو تین ممالک تجارتی بنیادوں پر ہوا سے بجلی پیدا کررہے ہیں۔
* وہ ممالک جہاں ونڈ انرجی کے منصوبوں میں تیزی آئی ہے ان میں لاطینی امریکہ،مشرقی یورپ اور افریقہ قابل ذکر ہیں۔
*گذشتہ سال ونڈ انرجی کی شرح افزائش کے حوالے سے چلی ستتر فیصد اور مراکش ستر فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہیں۔
*بجلی کی مجموعی کھپت میں ونڈ انرجی کے حصے کے حوالے سے سرفہرست ملک ڈنمارک ہے جہاں چونتیس فیصد، اسپین اکیس فیصد ، پرتگال بیس فیصد، آئرلینڈ سولہ فیصد اور جرمنی نو فیصد کے ساتھ قابل زکر ہیں۔
*دوہزار تیرہ کے اختتام پر سمندر میں یا ساحلی علاقوں میں لگائے گئے ونڈفارمز سے سات اعشاریہ چار گیگا واٹ بجلی حاصل کی گئی -
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
31 Jan, 2016 Views: 5807

Comments

آپ کی رائے
behtreen article hai,
By: azeem, lahore on Feb, 03 2016
Reply Reply
0 Like
Thanks Azeem
By: ATEEQ AHMED AZMI, Karachi on Feb, 07 2016
0 Like
The world currently has 121 gigawatts of installed wind energy capacity. Most of this electricity is generated via large wind farms. While the newer installations are made up of larger, more efficient turbines with slower-moving blades, earlier wind farms.