نقطہ،نکتہ اور نقطۂ نظر

(Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi)
یہ ایک خالص علمی اور باریک بحث ہے،لیکن پھر بھی ہم یہاں اس کی اہمیت و افادیت کی خاطر پیش کرتے ہیں،تاکہ اس سے ایک عام قار ی کو بھی فائدہ ہو۔نقطہ:ج نُقُطات(بضم القاف)،نُقطات(بسکون القاف)،نِقاط،نُقَط:خال،سُوَیداء،کائنات،خالق،علم، علامات الترقیم کی ایک علامت۔سطح مستوی کا ایک چھوٹا سا گول دائرہ ،جس کا کوئی طول ہو نہ عرض، بابِ نصر سے نقطہ لگانا،آئٹم،پوائنٹ،ڈاٹ،خط کے بنیادی اکائی یا جز کا نام ہے،جو کہ ناقابل تقسیم ہوتا ہے.نیزکئی نقطے مل کر خط یعنی لائن بناتے ہیں(۔۔۔۔۔۔۔۔)نقطہ لائن کے منتہٰی کوبھی کہا جاتا ہے،جو قابل تقسیم نہیں ہوتا(اگر چہ جدید سائنس نے اسے بھی قابل تقسیم بنایا ہے).بالفاظ دیگر :دو لائنوں کے ملاپ کی جگہ نقطہ کہلاتی ہے۔نقطہ کو بطور ایسا کُرہ جس کاقطر صفر ہو تعریف کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ نقطہ کا کوئی قطر نہیں ہوتا، مگر علمِ ہندسہ (انجینئرنگ)میں اس کا مقام ہوتا ہے۔ وہ جگہ جہاں دو خطوط ایک دوسرے کو کاٹیں ،بعض ا وقات انتخاب کے لئے بھی نقطہ بناتے ہیں ۔ خط نقطوں سے مرکب تسلیم کیا جاتا ہے،شک ظاہر کرنے کے لئے بھی نقطہ دیتے ہیں ،قلم کی نوک کاغذ پر رکھنے سے جو نشان بنے،مرکزِ دائرہ ، باریک روشنی جو شعاعوں کے جمع ہونے سے بنتی ہے،وہ صفر کا نشان جو بعض حروف پر دیا جاتا ہے، جیسے ب کے نیچے ایک ‘ ت کے اوپر دو۔ ج کے پیٹ میں ایک ‘ ث کے اوپر تینوں نشان ،جس کی نہ چوڑائی نہ لمبائی نہ موٹائی ہو،کسی چیز کی بہت تھوڑی مقدار۔ایمان ،عقیدہ،جملہ یا پیراگراف کے اختتام پرجو نشان لگایاجاتاہے۔ نقطۂ انجماد،نقطۂ تحوُّل،نقطۂ اختلاف ،نقطۂ انحطاط،نقطۂ اتفاق،نقطۂ اتصال،نقطۂ حرارت،نقطۂ ارتکاز:انجماد،تبدیلی یاموڑ، اختلاف،انحطاط،اتفاق وغیرہ کی بنیادیں۔نیز اسی سے سیکورٹی پوائنٹ،پولیس پوائنٹ،بس پوائنٹ وغیرہ بھی ہیں،شادی کے موقع پر دلہا دلہن کو جو تحفہ پیش کیاجا تاہےاسے بھی عرب لوگ نقطہ کہتے ہیں،دل کی ایک خونی بیماری کا نام بھی نقطہ ہے،چہرے پر داغ: ترے خال و خد بتا کر جو پتہ کسی سے پوچھیں ۔۔وہی ہم کوسمجھے پاگل ترا کیا کسی سے پوچھیں۔

نکتہ:ج نُکتات(بضم القاف)نُکتات(بسکون القاف)،نِکات،نُکت۔زمین کھرچنے سے جونشان لگ جائے،بابِ نصر سے غور وفکر کے وقت زمین پر لکڑی وغیرہ مارتے رہنا،باب ِ تفعیل سے کسی کے کلام میں نکتے نکالنا، کسی بهی معاملہ، امر،چٹکی یا چٹکلہ، کام یا کسی بات کی باریکی کا نام ہے ،جو کہ غوروفکر کے بغیر سمجھ میں نہیں آتی،مخفی علامت۔جبکہ ‫لغت میں اس کے درج ذیل مطالب ہیں۔ کنہ، باریکی، سخنِ دقیق و بلیغ اور پاکیزہ جسے ہر ایک نہ سمجھ سکے(لطیفہ)، باریک بات، راز، بھید، عقدہ۔وہ چمڑا جو گھوڑے کے منہ پر رہتا ہے۔
دونوں کا محل استعمال یہ ہے کہ نقطہ عبارت کے رموز و علامات میں سے ایک علامت ہے، جو کہ جملہ اور بات پورا ہونے پر لگایا جاتا ہے جس کےلئے یہ نشان(•)استعمال ہوتا ہے..جسے انگریزی میں فل اسٹاپ یا ڈاٹ کہا جاتا ہے. جبکہ نکتہ باریک بات کو کہا جاتا ہے.اس کا تعلق رموز وعلامات کے بجائے عبارت سے ہے،کیونکہ یہ کچھ الفاظ کا مجموعہ ہوتاہے۔نکتہ کا لفظ آپ لفظاً و کتابۃً جب کہ نقطہ کو آپ علامۃً استعمال کرینگے۔

البتہ نقطہ کا لفظ نظر کے توجہ والی جگہ پر استعمال کرسکتے ہیں جیسے" نقطہء نظر اور نقطۂ نگاہ/پوائنٹ آف وِیو"،البتہ یہ بهی کہا جاتا ہے کہ اگر ‫‏نظر‬ سےمراد بصارت ہو تو لفظ نقطۂ نظراور مراد بصیرت ہو تو لفظ نکتۂ نظر استعمال ہونا چاہیئے،لیکن عام استعمال میں ان دونوں حالتوں میں نقطۂ نظر مستعمل ہوتاہے.نُقطہ اور نُکتہ اُردو کے اُن الفاظ میں سے ہیں جن کا استعمال آجکل عام طور پر سمجھ میں نہیں آتا اور سمجھا جاتا ہے کہ ایک غلط ہے یا دوسرا ۔

عدم توجہی کی وجہ سے اُردو لغت بجائے افزائش کے انحطاط کا شکار ہو چکی ہے ۔ ہمارے ذرائع ابلاغ بالخصوص چینلز، اخبارات اور رسائل صرف اُردو ہی نہیں عربی وانگریزی بھی غلط لکھتے ہیں ۔ اس کا مجموعی اثر عام آدمی پر ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں زبان بارے علم محدود ہو گیا ہے اور لوگ الفاظ کے صحیح استعمال سے بیگانہ ہو گئے ہیں ۔ بہر حال فیروزاللغات نقطہ کی تشریح یوں کرتی ہے :نقطہ کا مطلب ہے ۔ بِندی ۔ صفر ۔نقطہ اشتعال : گرمی اور کھولاؤ کا وہ نقطہ جس پر آگ بھڑک اُٹھے ۔نقطہ انتخاب : وہ نقطہ جوکسی چیز پریا کتاب کے حاشیہ پر یا کسی عبارت یا شعر پر پسندیدگی کے طور پر لگایا جائے ۔نقطہ عروج :کمال ۔ انتہاء ۔ انتہائی بلندی کا مقام ۔نقطہ کا فرق نہ ہونا:ذرابھی فرق نہ ہونا ۔نقطہ گاہ : دائرہ کا مرکز ۔نقطہ لگانا : عیب لگانا ۔ دھبّہ لگانا ۔نقطہ نظر کا مطلب ہے ۔ دیکھنے یا سوچنے کا انداز یا ڈھنگ نیز نظریہ، انداز نظر، انداز فکر، مرکز ۔علم: العلم نقطۃ کثرھا جھل الجھلاء"، علم ایک نقطہ جس کو جاھلوں کے جھل نے زیادہ کیا ہے۔ ان ہی معانی کی طرف اشارہ ہے۔اور عارفوں کے کلام کا بھی یہی مطلب ہے جو انھوں نے فرمایا:"ظھر الوجود من باء بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
یہاں ایک اہم بات عرض کرتا چلوں ،نقطۂ نظر کی اہمیت سمجھنے کے لئے اس موضوع پر لکھی گئی کہانیاں پڑھنی چاہیئے،اس کا باقاعدہ مشق بھی کرایاجاتاہے، عربی کی کتاب (کلیلہ ودِمنہ )اردو کی کتاب تین ریچھوں کی کہانی وغیرہ اسی تناظر میں لکھی گئی ہیں،اپنا نقطۂ نظر ،اس کاخوبصورتی سے بیان،دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنا ایک بہت بڑی صلاحیت ہوتی ہے،بچوں کو حیوانات اور قدیم زمانوں کی کہانیاں سناکر ،پھر ان کا پوائنٹ آف ویو سن کر انکی فکری ونظری استعداد کو خوب بڑھایا جاسکتا ہے،دلیل کی بنیاد پر نقطۂ نظر قائم کرنے سے ،بلا ضرورت بحث ومباحثہ سے بچا جاسکتاہے،نیز نظریاتی اختلافات میں سامنے والے کو سننے کا حوصلہ ملتاہے، یوں لڑائیوں اور جھگڑوں کے بجائے علم وادب پروان چڑھتا ہے، کہتے ہیں کہ ایک تصویر ہزار الفاظ بول سکتی ہے ۔ لیکن یہ تصویر کی نہیں انسانی آنکھ کی خوبی کا بیان ہے جو خارجی دنیا کو سمجھنے اور جاننے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ تاہم آنکھوں سے جو علم حاصل ہوتا ہے اس میں کئی محدودیتیں بھی ہوتی ہیں ۔ مثلاً انسانی آنکھ اپنے سامنے موجود منظر کا مکمل طور پر احاطہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ لیکن انسانی ذہن گہرے طور پر اور جزئیات میں جا کر صرف عین نظر کے سامنے والی چیز جس پر انسان کا فوکس ہوتا ہے ، اسی کو سمجھتا ہے ۔ باقی چیزیں نظر آنے کے باجود انسان دیکھ نہیں پاتا۔

اس بات کو ٹی وی سے باآسانی سمجھاجا سکتا ہے۔ کسی نیوز چینل پر چلتی ہوئی خبروں کی پٹی کو پڑھنا شروع کر دیں۔ یہ کرتے وقت آپ کی نظر میں ٹی وی اسکرین بلکہ اردگرد کی دیوار یا الماری بھی ہو گی۔ مگرخبرو ں کی پٹی کو پڑھتے وقت آپ کو یہ اندازہ کرنا بھی مشکل ہے کہ اس وقت اسکرین پر کیا مناظر بدل رہے تھے۔ ان مناظر کو دیکھنے کے لیے آپ کو نظروں کا فوکس ان کی طرف کرنا ہو گا۔ غرض آپ دنیا کے کسی بھی منظر پر نظر ڈالیں آپ کو بہت کچھ نظر آئے گا لیکن ذہن قبول صرف اسی کو کرتا ہے جسے نظریں گاڑھ کر پوری توجہ سے دیکھا جائے۔ یہیں سے ہماری زبانوں میں نقطہ نظر یا پوائنٹ آف ویو کے الفاظ داخل ہوئے ہیں۔ یعنی وہ فکر جو ہماری نگاہ کا مرکز ہو۔

انسان اس دنیا میں جس آزمائش میں ہے اس میں سب سے بنیادی چیز صحیح نقطہ نظر کو دریافت کرنا ہے۔ اس امتحان میں عمل کی حیثیت ثانوی ہے ۔ اگر نقطہ نظر غلط ہے تو زیادہ عمل بھی کچھ نہیں اور نقطہ نظر درست ہے تو تھوڑا عمل بھی نجات کے لیے کافی ہے ۔

تاہم صحیح نقطہ نظر کو دریافت کرنے کی اس آزمائش میں اصل مصیبت یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں شعور کی عمر میں پہنچنے کے بعد نہیں بھیجا جاتا بلکہ ایک بے سمجھ بچے کے طور پر جنم لیتا ہے اور بڑا ہونے سے قبل اس کے والدین اور قریبی ماحول اس کا ایک نقطہ نظر بنا چکے ہوتے ہیں۔ وہ کسی خاص عقیدے یا نظریے کو اس کی نگاہوں کا مرکزی خیال بنا چکے ہوتے ہیں۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان کا شروع میں کوئی خاص نظریہ نہیں ہوتا لیکن کچھ دینی ذوق کی بنا پر وہ کسی گروہ، جماعت یا فرقے میں شامل ہوجاتا ہے اور وہاں یکطرفہ باتیں سنا سنا کر کوئی خاص نقطہ نظر اس کے ذہن کا مرکزی خیال بنا دیا جاتا ہے۔

اب یوں نہیں ہوتا کہ دنیا میں دوسرا کوئی نقطہ نظر پایا نہیں جاتا۔ سب موجود ہوتے ہیں اور انسان کو نظر بھی آ رہے ہوتے ہیں ، مگر ٹی وی کی پٹی کی طرح چونکہ اس کا ذہن ایک خاص چیز ہی میں دلچسپی رکھتا ہے، اس لیے وہ خبریں ہی پڑھتا ہے اور باقی چیزیں نظر انداز کر دیتا ہے ۔ کوئی دوسرا توجہ دلائے تو وہ اسے غلط اور گمراہ کہتا ہے۔ کبھی وہ دوسری حقیقت کو درست سمجھنا بھی شروع کر دے تو اس کا ابتدائی ماحول زبردست مزاحمت کرتا ہے۔ وہ طرح طرح کے نکتے اٹھا کر اس کے تعصب کو بھڑ کاتا ہے اور یوں انسان سچائی کو سامنے پا کر بھی اسے دیکھنے سے محروم رہ جاتا ہے ۔

اس محرومی سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے ۔ وہ اس حقیقت کو جان لینا ہے کہ انسان اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ اس امتحان میں ناکامی کا نتیجہ جہنم کی آگ ہے۔ یہ امتحان عمل سے پہلے صحیح نقطہ نظر دریافت کرنے کا امتحان ہے۔ اس میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان نظریں اپنے موجودہ نقطہ نظر سے ہٹائے ، دوسرے حقائق غور سے دیکھے اور انھیں سمجھے ۔ پھر تقابل کر کے دیکھے کہ سچائی کہاں ہے۔ جو انسان یہ نہیں کرے گا وہ گمراہی کا شدید خطرہ مول لے رہا ہے۔ وہ تعصب کا شکار ہوجائے گا۔ وہ ساری زندگی کنفیوژ ہو کراس عزم سے محروم رہے گا جو عمل پر ابھارتا ہے ۔ یا پھر پہلے خود گمراہ ہو گا اور پھر دوسرے کی گمراہی کا وبال لادے روز قیامت ایک مجرم کے طور پر پیش ہو گا۔

نُکتہ کی فیروزاللغات یوں تشریح کرتی ہے :نکتہ کا مطلب ہے ۔ باریک بات ۔ تہہ کی بات ۔ لطیفہ ۔ چٹکلہ ۔ رخنہ ۔ عیب ۔ چمڑا جو گھوڑے کے منہ پر رہتا ہے ۔نکتہ بیں :نازک خیال ،زیرک۔نکتہ چیں : عیب ڈھونڈنے والا ۔نکتہ داں: ذہین ۔نکتہ شناس :سمجھ دار، جچی تُلی بات کرنے والا ۔ ہوشیار ۔ عقلمند ۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 2686 Print Article Print
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 386731 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More

Reviews & Comments

ڈاکٹر صاحب! آپ کا شکریہ کہ آپ نے اچھا اصلاحی مضمون لکھا۔ اللہ آپ کو مزید توفیق عطا فرمائے۔

آپ کے تحریر کردہ اس مضمون میں مجھے دو جگہوں پر غلطیاں دکھائی دیں، نشاندہی کر رہا ہوں:
یہ جملہ غلط ہے: جس کے نتیجہ میں زبان بارے علم محدود ہو گیا ہے۔
یہ جملہ درست ہے: جس کے نتیجہ میں "زبان کے بارے میں" علم محدود ہو گیا ہے۔

یہ غلط ہے: جسے نظریں گاڑھ کر
یہ درست ہے: جسے نظریں "گاڑ" کر

جزاک اللہ
By: برہان فیروزی, کراچی on Oct, 10 2019
Reply Reply
0 Like
Thanks hamariweb.com
By: Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Mar, 15 2016
Reply Reply
1 Like
Language: