’’پاکستان ‘‘کوئی گالی تونہیں ہے !

(Prof Talib Ali Awan, Sialkot)
ـ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الااﷲ ‘‘، یہ وہ نعرہ تھا جو پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کی بنیاد بنا۔کیا یہ وہی ملک ہے جس کے قیام کے اعلان کے بعد ہمارے آباؤ اجدادنے اس اعلان کو عملی طور پر دیکھنے کے لیے گِن گِن کر دن گزارے تھے؟ کیا یہ وہی ’’اسلامی فلاحی ریاست ‘‘ہے جس کا خواب ہمارے عظیم لیڈر قائداعظم نے دیکھا تھا؟ کیا یہ وہی سرزمین ہے جس کی خاطر لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں،عصمتیں لوٹائیں اور اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے جب اس پاک سر زمیں پر قدم رکھا توسب کچھ بھُول کر،آبدیدہ ہو کر، سجدہ ریز ہو گئے تھے؟نہیں،ہر گز نہیں۔۔۔

آج وطن ِعزیز جن مسائل کا شکار ہے اس کے ہمارے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ہم سب بھی برابر کے ذمہ دار اور شریک ہیں،جس کی بے شمار مثالیں ہیں:یہاں اگر سرکاری ملازم یا افسر کے پاس آپ جائز کام بھی کروانے جائیں گے تو وہ ’’چاہ پانی‘‘کا تقاضاکرے گا ،اگر آپ اسے کوئی’’ اخلاقیات کا سبق ‘‘دینے کی کوشش کریں گے تو اس جواب بھلا کیا ہوگا؟’’ جناب !یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے‘‘۔

اگر آپ مختلف دکان والوں کے پاس جائیں ان سے کسی ایک ہی چیز کا بھاؤ معلوم کریں گے،تو ان میں فرق ہو گا ۔اور اگر آپ نے اسے اس ’’فرق ‘‘کو واضح کرنے کی غلطی کر لی تواس کاجواب بھلا کیا ہوگا؟’’پاجی !یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے،لینا ہے تو لو ورنہ اپنا کام کرو‘‘۔

اگر آپ کسی کو2بجے کا ٹائم دے دیں ،تو وہ اڑھائی تین بجے پہنچے گا اور کوئی ندامت بھی نہیں ہو گی (بلکہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کسی کے قد کاٹھ اور نام نہاد بڑے پن کا معیارہی لیٹ ہونا اور آنا ہے)اور اگر آپ نے ’’بھُول چُوک‘‘سے بھی اپنے انتظار کا ’’رونا ‘‘رویا تو وہ ہنس کر بھلا کیا کہے گا؟’’یہ پاکستان ہے بھئی ،یہاں کون وقت پر آتا ہے‘‘۔

گویا آپ کسی شعبہ ہائے زندگی کو اٹھا کر دیکھ لیں،ایک مزدور سے لیکر مالک تک یا ایک چپڑاسی سے لیکر اعلیٰ افسر تک ،آپ کسی سے بھی ملیں ،جب بھی آپ نے کسی کی غلطی ‘برائی یا کوتاہی کو پکڑ لیا یا نشاندہی کر دی تو وہ فرد بجائے اپنی غلطی کو ماننے کے اور شرمندہ ہونے کے ہنستے ہوئے یہی جواب دے گا ۔’’جناب !یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے‘‘ ۔لعنت ہے ہم پر کہ ہم نے اپنے’’ کرتوتوں‘‘کوچھپانے اور اُن پرپردہ ڈالنے کا آسان حل نکال لیا ہے ۔بلکل ایسے ہی جیسے’’ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا‘‘۔ افسوس درافسوس کہ جس ملک کی بنیاد’’ کلمہ طےّبہ ‘‘کے مقدس نعرے سے رکھی گئی اور جس ملک کا دستورو آئین ’’دینِ اسلام ‘‘کو قرار دیا گیا تھا اس مقدّس سرزمینِ پاکستان کو آج ہم ایک قسم کی بطور ’’گالی‘‘پیش کرتے ہیں۔خدارا !اس ’’مقدس دھرتی ماں‘‘ کو ’’گالی ‘‘نہ بنائیں،اپنی گفتگو کو تولیں، اپنا قبلہ درست کریں ،اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا طرزِعمل بہتر کریں اور کم ازکم لوگوں کو اتنا تو سمجھا دیں کہ ’’پاکستان ‘‘کوئی گالی تو نہیں ہے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Talib Ali Awan

Read More Articles by Prof. Talib Ali Awan: 50 Articles with 49319 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jun, 2016 Views: 290

Comments

آپ کی رائے