پاکستان نے انگلینڈ کی ہائیکورٹ میں
بھارت کیخلاف حیدرآباد دکن فنڈ کے دعویٰ کا مقدمہ جیت لیا ہے۔ انگلش
ہائیکورٹ نے بھارت کی طرف سے پاکستان کے حیدرآباد فنڈ دعویٰ کے خلاف کوشش
کو مسترد کردیا۔ انگلش ہائی کورٹ کی طرف سے منگل کو سنائے75 صفحات کے فیصلے
میں جج ہینڈرسن نے واضح طور پر پاکستان کے اصولی موقف کی تصدیق کردی۔ بھارت
عدالت میں پاکستان کے اس دعویٰ کو غلط قرار دلوانے میں ناکام رہا کہ 20
ستمبر 1948ء سے پاکستان کے ہائی کمشنر کے نام پر بنک میں پڑے ہوئے پنتیس
ملین برطانوی پاونڈپاکستان کی ملکیت ہیں۔ جج نے اس بات کو قبول کیا کہ اس
رقم کے پاکستانی دعویٰ کی حمایت میں مضبوط شہادت موجود ہے جن کو ٹرائل کے
دوران پوری طرح سے زیر غور لایا جائے گا۔ جج نے یہ بھی تسلیم کیا کہ
پاکستان کے موقف کے حق میں مضبوط قانونی دلائل دئے گئے ہیں۔ بھارت کو اسکی
درخواستیں مسترد ہونے کے نتیجے میں کافی اخراجات کے دعویٰ کا سامنا کرنا
پڑیگا۔ خاور قریشی کی قیادت میں لیگل ٹیم نے مضبوط قانونی دلائل دئے اور جج
کے سامنے فکری ثبوت رکھے جو بھارت کی اس دلیل کو شکست دینے میں کامیاب رہے
کہ پاکستان کا ان رقوم پر دعویٰ درست نہیں ہے۔ جج نے پاکستان کے مرکزی
قونصل کی طرف سے دئیے گئے مندرجہ ذیل دلائل سنے اور شہادتوں کا جائزہ لیا
جن کے مطابق بھارت اور شہزادے یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ پاکستان کا ان
رقوم کی ملکیت کا دعویٰ بے بنیاد تھا۔ 1947-48کے واقعات بہت گھمبیر تھے،
ریاست حیدرآباد دکن (جسے جج نے اس وقت ایک آزاد ریاست تسلیم کیا) پر بھارتی
حملے اور قبضے کا خطرہ تھا، اس نے پاکستان کو مدد کیلئے بلایا۔ برطانوی
حکومت کی دستاویزات کے آرکائیو کے مطابق برطانوی حکومتی حکام کو بھارت کے
ریاست اور اس کے عوام کے ساتھ سلوک کے بارے میں تشویش تھی جس میں محاصرہ
کئے جانے، ریاست حیدرآباد میں خوراک اور ادویات کی سپلائی روکنے کی وجہ سے
نظام کو بھارت میں شمولیت پر مجبور ہونا پڑا۔ قائد اعظم کی رحلت کے بعد
بھارت نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ساتویں نظام پر چڑھائی کرکے محکوم
بنالیا۔تقسیم کے بعد پاکستان کو اس کے حصے کے صرف تین فیصد ہتھیار ملے۔ جج
کے سامنے رکھی گئی اعانتی شہادتیں برطانیہ کے سرکاری آرکائیو سے آئی تھیں
جو اس وقت کی برطانوی انٹیلی جنس رپورٹس اور برطانوی حکومت کی دستاویزات پر
مشتمل تھیں جو برطانوی حکومت کی طرف سے سارے معاملہ کا علم رکھنے سے متعلق
تھیں۔بھارت کی طرف سے اس مواد کو مسترد کیا گیا حالانکہ یہ برطانوی انٹیلی
جنس ذرائع سے آیا تھا اور کہا گیا کہ ساتویں نظام نے اسے یہ رقوم پاکستان
کو منتقلی کے بعد دنوں کے اندر واپس لانے کے لئے کہا تھا کیونکہ یہ ان کی
مرضی سے پاکستان کے حوالے نہیں کی گئی تھی۔ جج نے آبزرویشن دی کہ ان حالات
میں جب بھارت نے ملک پر قبضہ کرلیا اور اسے زبردستی اپنے آپ کو حوالے کرنے
اور اختیارات دینے پر مجبور کردیاتوساتویں نظام سے اپنی آزادانہ خواہش کی
توقع نہیں رکھی جاسکتی تھی۔ جج نے کہا کہ یہ تصور کرنا بے وقوفی ہوگی کہ
انڈین قبضے کے بعد نظام نے یہ مطالبہ اپنی مرضی سے کیا ہوگا۔ اس مقدمے کی
اب اس کے حل کئے جانے تک سماعت ہو گی۔ پاکستان نے جولائی دو ہزار پندرہ میں
ریٹائرڈ لا لارڈز ہوفمین یا لارڈ ہوپ کے سامنے ثالثی کی پیشکش کی لیکن
بھارت نے یہ کہ کر اسے قبول کرنے سے انکار کردیا کہ پاکستان کا دعویٰ درست
نہیں ہے۔ عدالت نے 68سال بعد فیصلہ سنایا۔ ستمبر 1948ء میں اس وقت کی حکومت
کے وزیر خزانہ نے 940،1․007 پاؤنڈ اور 9 شیلنگ کی رقم خاموشی کے ساتھ لندن
میں اس وقت کے پاکستانی ہائی کمشنر حبیب ابراہیم رحمت اﷲ کے نام بنک میں
جمع کرا دی تھی جو اب بڑھ کر 3کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ ہوچکی ہے 75 صفحات پر
مبنی عدالتی فیصلہ حیدر آباد فنڈ پر پاکستان کے اصولی موقف کی تائید ہے۔
|