کہاں سے لائیں؟

(Sarwar Sidduiqi, Lahore)
ایک بار مدینہ منورہ میں قحط پڑ گیا لوگ بھوک کے ہاتھوں مجبورہوکر فاقے کرنے لگے ایک روزبڑے میدان میں عوام الناس کو بہترین کھانا دینے کااہتمام کیا گیاایک شخص نے کھانا تقسیم کرنے والے منتظم سے دو افراد کے کھانے کا مطالبہ کیا۔۔۔ منتظم نے پو چھا سب اپنا اپنا کھانا لے رہے ہیں تم دو افراد کیلئے کیوں مانگ رہے ہو۔۔۔
’’ایک اپنے لئے اور ایک اس کیلئے جو باسی روٹی پانی میں بھگو کر کھا رہا ہے ‘‘اس شخص نے دور بیٹھے بارریش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا
’’تم اسے جانتے ہو؟‘‘ منتظم نے دریافت کیا
نہیں۔۔۔اس شخص نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہامیں جانتا تو نہیں لیکن اسے باسی روٹی پانی میں بھگو کر کھا تے دیکھ کر بڑا ترس آیا کہ سب اچھا کھانا کھا رہے ہیں وہ کیوں نہیں؟
وہ۔۔منتظم نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا ہمارے امیرالمومنین حضرت ابو بکر صدیق ؓ ہیں آپ سب لوگوں کیلئے کھانے کااہتمام ان کی طرف سے ہی کیا گیاہے وہ شخص یہ سن کر دنگ رہ گیا۔۔۔۔ آدھی رات کا وقت تھا لوگ گھروں میں آرام کررہے تھے ماحول پرایک ہو کا عالم طاری تھا اندھیرااتنا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہ دے رہاتھا بیشتر گھروں میں تاریکی تھی غالباً زیادہ تر لوگ سو گئے تھے اکا دکا گھروں میں زردی مائل روشنی بکھری ہوئی تھی اس عالم میں ایک باوقار شخص ،نورانی صورت ،چہرے پر سختی نمایاں، شکل و صورت ایسی کہ انہیں دیکھ کر ایمان تازہ ہو جائے وہ مختلف گلیوں اور بازاروں سے ہوتے ہی ایک مکان کے آگے رک گئے روشندان سے باہر جھانکتی روشنی سے محسوس ہورہاتھا کہ دیا ٹمٹا رہاہے کھڑکی سے باتیں کرنے کی مدہم مدہم آوازیں آرہی تھی نورانی صورت والے نے کان کھڑکی کے ساتھ لگا دئیے کوئی لڑکی اپنی والدہ سے کہہ رہی تھی
’’ہم کب تک فاقے کرتے رہیں خلیفہ کو اپنا حال بتانے میں کیا امر مانع ہے؟
’’ میں عمرؓ کو کیوں بتاؤں؟ بوڑھی عورت استکامت سے بولی وہ خلیفہ بنے ہیں تو انہیں ہماری خبرہونے چاہیے
لڑکی اپنی والدہ کو پھر سمجھانے لگ گئی۔۔۔ان کی باتیں سن کر کھڑکی سے کان لگائے نورانی صورت والا کانپ کانپ گیا ۔اس نے بے اختیار دروازے پر دستک دیدی ۔ اس وقت۔ کون ؟ اندر سے ڈری اورسہمی شہمی آواز میں کسی نے پوچھا
گبھرائیں مت ۔۔۔نورانی صورت والے نے بڑی متانت سے جواب دیا میں عمرؓ کی طرف سے آیا ہوں ۔۔۔دروازہ کھلاخاتون نے اسے اندر آنے کی اجازت دی اس نے خاتون کی خیریت اور حال احوال دریافت کیالڑکی کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اس نے فرفر انہیں اپنے فاقوں کااحوال کہہ ڈالا
’’ عمرؓ کی طرف سے میں معذرت چاہتاہوں ۔نورانی صورت والے نے بڑے رقت آمیز لہجے میں خاتون کو کہا۔۔ لیکن اسلامی سلطنت بڑی ہے وہ کہاں کہاں توجہ دیں ؟جواب میں خاتون نے وہ بات کہہ ڈالی جس کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی ۔۔۔’’ عمرؓ اگر توجہ نہیں دے سکتا تو اتنی فتوحات کیوں کئے جارہا ہے؟رب کو کیا جواب دے گا؟
’’ماں جی ! ۔نورانی صورت والا کہنے لگا ’’ عمرؓ کو معاف کردیں
’’کیوں۔۔۔معاف کردوں ؟خاتون نے جواب دیا وہ کون سامیری خبر گیری کو آیا ہے
’’ماں جی ۔۔ نورانی صورت والے نے مضطرب ہوکر پہلو بدلا۔۔اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اس نے اٹک اٹک کرکہا میں ہی عمرؓ ہوں۔۔۔۔ وہ شخصیت جس کے نام سے قیصرو کسریٰ جیسی عالمی طاقتیں تھر تھر کاپتی تھیں ایک عام خاتون کے سامنے جوابدہ اندازمیں کھڑے تھے خاتون کے چہرے پر قوس قزح کے کئی رنگ بکھر کئے بے اختیار اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی بولی اگر تم عمرؓ ہو تو مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں دیر سے آئے ہو لیکن کوئی بات نہیں مسلمانوں کا خلیفہ ایسا ہی ہونا چاہیے جو راتوں کو جاگ جاگ کر لوگوں کی خبر گیری کرتا رہے۔۔۔مدینہ شریف سے کوسوں دور ایک چرواہاچیختا چلاتا دوڑا چلا آرہا تھا ایک جگہ بیٹھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگالوگ اکٹھے ہوگئے انہوں نے وجہ دریافت کی اس کی ہچکیاں بند گئیں سب ایک دوسرے کو تکنے لگے۔۔۔لوگوں نے پھر استفسارکیا ۔۔ چرواہے نے روتے روتے بتایا خلیفۃ المسلمین حضرت عمرِ فاروق ؒ کا انتقال ہوگیاہے۔۔۔لوگوں نے حیرت سے پو چھا تم سینکڑوں کوس دور یہ بات تم کیسے کہہ سکتے ہو؟۔۔تمہیں کس نے اس کی خبردی؟۔۔۔ چرواہے نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا آج تلک میری بھیڑ بکریاں جنگل میں بے خوف و خطر پھرا کرتی تھیں کسی درندے نے کبھی آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھا تھا لیکن آج پہلی مرتبہ ایک بھیڑیا میری بھیڑکا بچہ اٹھا کرلے گیاہے اس کی اس جرأ ت پر میں نے سمجھ لیا کہ عدل و انصاف کرنے والے خلیفہ اس دنیا میں موجود نہیں رہے۔۔۔چرواہے کی بات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی تحقیق پر معلوم ہوا کہ جس وقت بھیڑیا ریوڑ سے بھیڑکا بچہ اٹھا کرلے گیا عین اسی وقت حضرت عمرِ فاروق ؒ رحلت فرما گئے تھے یہ مثالیں بھی ہمارے اسلاف کے درخشندہ ادوار کے تابندہ ابواب ہیں اس تاریخ پرہم ہمیشہ ناز کرتے رہیں گے خداکرے پاکستان کو بھی ایسے حکمران نصیب ہوں جو ہم پاکستانیوں کا مقدربدل دے کیونکہ منفی سوچ کی وجہ سے وطن عزیز میں مایوسی، دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ ملا اﷲ تبارک تعالیٰ نے پاکستان کو تمام نعمتوں سے نوازا ہے حتیٰ کہ اﷲ تبارک تعالیٰ نے سورۃ رحمن میں جنت کی جن نعمتوں کا ذکر کیا ہے وہ تمام تر پاکستان میں وافر جاتی ہے غالباً ا س کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کلمہ ٔ طیبہ کی بنیادپر قائم ہونے والی پہلی مملکت ہے اﷲ جل شانہ‘ نے اس ملک کو بھرپور وسائل سے سرفراز فرمایا اس کے باوجود ہم نا شکرے ہیں کبھی بجلی نہیں لوڈشیڈنگ نے کاروبار تباہ کردئیے---کبھی گیس نہیں--- کبھی پانی نہیں--- آئے روز بجلی،گیس ، اشیائے خودونوش،آٹا ،چینی ، گھی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے ایک زرعی اور انڈسٹریل ملک میں لوگ فاقے کرنے پر مجبور ہیں یہ توقیامت کی نشانیاں ہیں سچ ہے جو تاریخ سے کچھ سبق حاصل نہیں کرتے ان کا جغرافیہ بدل جاتا ہے دل سوچتاہے ایسے حکمران کہاں سے لائیں جو ہماری محرومیوں کو خوش قسمتی میں بدل دیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Sidduiqi

Read More Articles by Sarwar Sidduiqi: 218 Articles with 102965 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Jul, 2016 Views: 506

Comments

آپ کی رائے