جب عوام بیدار ہوتی ہے!!!

(Aqeel Khan, Jambir)
جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب ترکی میں رجب طیب اردوان کی حکومت کا تختہ اْلٹنے کی کوشش کی گئی۔یہ وہ رات تھی جب حکومت پرشب خون مارنے والے نیند کی آغوش میں ہوکرٹینکوں پر چڑھ بیٹھے مگر ترک عوام پوری طرح بیدار ہوچکی تھی۔ ترک عوام نے ایسی مثال قائم کردی کہ شاید ایسی دنیا میں کسی نے نہ کی ہو۔ غیر مسلم طاقتیں ہمیشہ مسلمانوں کوکمزور کرنے پر تُلی ہوئی ہیں۔ ترکی میں بھی حکومت پر قبضہ کرانے میں ملوث لوگوں کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس میں بھی غیر مسلم لوگ شامل ہیں۔

حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں اب تک 290 افراد ہلاک اور 1400 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔بغاوت کی اطلاعات ملنے کے بعد صدر رجب طیب اردوان نے اپنے موبائل فون کے ذریعے ایک پیغام میں اس کوشش کی مذمت کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔اْن کی اپیل پر ملک میں بڑی تعداد میں لوگ باہر نکل آئے۔ خاص طور پر دارالحکومت انقرہ اور استبول میں بڑی تعداد میں لوگ رات بھر موجود رہے۔ عوام کی جرات کی مثال آج کے دور اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ وہ فوج کے ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے اور بہت سے لوگوں نے تو ٹینکوں پر قبضہ کر لیا۔

فوجی بغاوت کے آثار توجمعہ کی شام سے نظر آنا شروع ہوگئے جب سڑکوں پرفوجی ٹینک نظر آنا شروع ہو گئے۔اہم پلوں کو بھی فوجیوں نے ٹینک کھڑے کر کے بند کر دیا تھا۔ ترک پارلیمان میں فوجی اہلکار گھس گئے تھے جن کو بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔اس دوران ترکی کی پارلیمنٹ اور صدارتی محل کو بھی نقصان بھی پہنچایا گیا۔ اسکے علاوہ فوجی اہلکاروں نے ملک کے سرکاری ٹی وی پر کچھ دیر کے لیے قبضہ کر کے اعلان کیا تھا کہ فوج نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔لیکن جلد ہی سرکاری ٹیلی ویڑن کی نشریات بحال ہو گئیں۔

باغی فوجیوں کے پاس کچھ جنگی جہاز بھی تھے اور اْنھوں نے فضا سے گولہ باری بھی کی لیکن اْنھیں روکنے کے لیے فوری طور پر حکومت کے جنگی جہاز حرکت میں آئے۔انقرہ اور استنبول میں رات بھر ہیجان کی سی کیفیت رہی اور دھماکوں کی آوزیں بھی سنی گئیں۔ اس دوران عینی شاہدین کے مطابق جنگی جہاز نچلی پروازیں بھی کرتے رہے۔

ترکی کی حکومت کے مطابق بغاوت میں حصہ لینے والے فوجیوں میں سے کم از کم 2839 کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ لگ بھگ 200 فوجیوں نے ہتھیار پھینک دیئے ۔ فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل ہلوزی اقر کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق باغی فوجیوں نے جنرل ہلوزی کو یرغمال بنا رکھا تھا۔

ترکی میں فوجی بغاوت ناکام ہونے کے بعد سے اب تک چھ ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ، زیر حراست افراد میں فوجی افسران اور ججز بھی شامل ہیں۔بغاوت کی کوشش میں حصہ لینے والے تقریباً 3000 فوجیوں کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ حکام نے پانچ جنرلوں اور 29 کرنلوں کو معطل کیا۔ ایک نیوز ایجنسی کے مطابق فہرست میں فوج کے ساتھ عدالیہ بھی شامل ہے۔ حکومت نے 2700 ججوں کو معطل کر دیا ہے۔ انقرہ کے پبلک پرازیکیوٹر نے تقریباً 200 اعلیٰ عدالتی حکام کو حراست میں لیا ہے۔اِن میں عدالت عظمیٰ کے 140 ارکان، ’کونسل آف اسٹیٹ‘ کے 48 ارکان اور ترکی کی تین اعلیٰ عدالتوں میں سے ایک شامل ہے۔

ترک صدررجب طیب اردوان نے استنبول واپس پہنچنے پر ہوائی اڈے ہی پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ’’ مارشل لا لگانے کی کوشش ’بغاوت‘ ہے اور اْنھیں ایسی کوشش کرنے والوں کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘‘

ان کے اس بیان کے بعد کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اِس ناکام بغاوت کو بہانہ بنا کرترک صدر اپنے صدارتی اختیارات میں اضافہ کریں گے اور نہ صرف فوج کا صفایا کریں گے بلکہ دیگر اداروں کی بھی چھان بین بھی کریں گے جہاں اْن کے مخالفین براجمان ہیں۔

تجزیہ نگار اپنی سوچ کے مطابق تجزیہ کرتے ہیں ۔میڈیا تصویر کا ایک رخ دکھاتا ہے کیونکہ جس کی لاٹھی اس بھینس ہوتی ہے۔ ترک صدر اب کچھ بھی کرسکتے ہیں کیونکہ ان کی عوام نے ان کو یہ کریڈٹ دیا ہے۔ اگر تبصرہ نگاروں پر جائیں تو کیا وہ بتا سکتے ہیں عوام کو اتنی جر ات پرکسی میڈیا ، ایجنسیوں یا سیاستدانوں نے اکسایا ؟ نہیں بلکہ یہ ایک ایس ایم ایس تھا جس نے طیب اردوان جیسے عظیم مسلم حکمران عوام کی مدد سے کامیاب کرایا۔

طیب اردوان وہ ہستی ہے جس کو عوام دل و جان سے چاہتی ہے ، ترک عوام ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا میں بھی ان کا بہت بڑا مقام ہے۔ یہ مسلم دنیا میں ایک ماڈل کا درجہ رکھتے ہیں۔ وہ لبرل مسلمان نہیں بلکہ وہ ایک پکے اور سچے مسلمان ہیں۔انہیں ترک عوام کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کا بھی خیال ہے۔

پاکستان کے کچھ خیر خواہ ملکی حالات کو ترکی سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ کوئی فوج کو ویلکم کررہا ہے تو کوئی حکومت کی حمایت میں ترک عوام کی مثالیں دے رہا ہے ۔ حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ایک کو اپنی اپنی جگہ کام کرنا چاہیے کیونکہ اگر کسی ڈاکٹر کو جج کی کرسی پر اور جج کو ڈاکٹر کی کرسی پر بیٹھا دیا جائے توسارا نظام خراب ہوکر رہے جائے گا ۔ اس لیے جو لوگ پاکستان کے حالات کو ترکی کے ساتھ ملا کر الٹا سیدھا سوچ رہے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ بدلیں کیونکہ نہ ہمارے لیڈر طیب اردوان کی طرح ہیں اور نہ ہماری عوام ایک آواز بیدار ہوسکتی ہے۔ ہمارے ملک میں آوازیں دینے والے لیڈربہت زیادہ ہیں مگر طیب اردوان جیسا لیڈر کوئی نہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqeel Khan

Read More Articles by Aqeel Khan: 276 Articles with 130160 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Jul, 2016 Views: 502

Comments

آپ کی رائے