" جو دیکھا سب تماشا تھا، جو سنا سب فسانہ تھا "

(Shafique Shakir, Hyderabad)
"تکاثر" یعنی زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص،ایک ایسی بیماری جو ایک بار لگ جائے تو قبر میں پہنچاکر ہی جدا ہوتی ہے۔کیا دیندار کیا بےدین، کیا نمازی کیا بے نمازی،کیا حاکم کیا محکوم،بس جس کو بھی لگے،اس کے جذبات، احساسات، اصول و اقدار،بصارت اور بصیرت،سماعت،سوچ،سمجھہ،عقل اور ادراک،ان تمام چیزوں کا جنازہ نکال دیتی ہے۔اگر یہ ہوس کی نہیں زندگی کی دوڑ ہے تو پھر زندگی کی کیا حقیقت ہے؟اس تمام جدوجہد کی حاصلات کیا ہے؟
مصروفیات،مشغولیات،مشقتیں،محنتیں،مسلسل بھاگ دوڑ،نہ اپنا کوئی ہوش نہ دوسروں کی کچھہ خبر،نہ اردگرد کا کوئی پتہ نہ گرد پیش رہنے والے انسانوں کی کوئی فکر۔پتہ نہیں یہ کیسا سفر ہے جس کی کوئی منزل نہیں،کونسی دوڑ ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔شاید زندگی کی دوڑ! نہیں، بلکہ ہوس کی دوڑ،تکاثر(زیادہ سے زیادہ پانے) کی دوڑ جس میں ایک انسان دوسرے انسانوں کو دھکے دیتا،گراتا،چیرتا پھاڑتا اور روندتا آگے بھاگے جا رہا ہے۔جسے قرآن کریم میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا کہ " تم لوگوں کو تکاثر کے مرض نے ہلاک کردیا یہاں تک کہ تم غفلت میں اپنی قبروں میں داخل ہوگئے۔"

"تکاثر" یعنی زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص،ایک ایسی بیماری جو ایک بار لگ جائے تو قبر میں پہنچاکر ہی جدا ہوتی ہے۔کیا دیندار کیا بےدین، کیا نمازی کیا بے نمازی،کیا حاکم کیا محکوم،بس جس کو بھی لگے،اس کے جذبات، احساسات، اصول و اقدار،بصارت اور بصیرت،سماعت،سوچ،سمجھہ،عقل اور ادراک،ان تمام چیزوں کا جنازہ نکال دیتی ہے۔اگر یہ ہوس کی نہیں زندگی کی دوڑ ہے تو پھر زندگی کی کیا حقیقت ہے؟اس تمام جدوجہد کی حاصلات کیا ہے؟صرف چند گز کفن کے اور دو گز قبر کی زمین! صرف یہ ملکیت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کو روندا جاتا ہے؟ایک دوسرے کی گردنیں کاٹی جاتی ہیں،ایک دوسرے سے تعلقات،ناتےاوررشتے توڑے جاتے ہیں۔انسانی زندگیوں سے اس طرح کھیلا جاتا ہے جس طرح مکھیوں اور مچھروں کو مارا جاتا ہے۔چند سکوں کی لالچ میں دوائیاں جعلی،کھانے کی چیزوں میں ملاوٹ!معصوم بچوں اور مریضوں پر بھی رحم نہیں آتا۔اوپر دوکانوں پر درود شریف لکھا ہوا،شکلیں نورانی،ہاتھہ میں تسبیح،دیکھنے میں ہم سب بڑے نیکوکار اور دیندار نظر آتے ہیں لیکن دل میں وہی ہوس کا بت،دل میں وہی تکاثر کا مرض۔بس خدا ہمارے حال پر رحم کرے!حرمت رسولﷺ پر جانیں قربان کرنے کو تیار مگر آپ ﷺکے احکام کو ماننے سے کھلا انکار!ہمارا اسلام تو صرف مسجد تک محدود ہوکر رہ گیا ہے،مسجد میں ہم ضرور خدا کے بندے ہیں مگر مسجد سے باہر ہم وہی ہوس کے غلام!روضہ رسول ﷺ پہ بار بار حاضریاں دینے کے باوجود اس رحمت للعالمین ﷺ کی عیم شفقت،محبت،رحمت اور دیانت کی کوئی معمولی جھلک بھی ہماری عملی زندگیوں میں نظر نہیں آتی جو خود بھوکے رہکر دوسروں کو کھلاتے تھے۔قناعت کا یہ عالم کہ تین تین دن تک گھر میں چولھا تک نہیں جلتا جو گھر میں کھانے کی کوئی چیز موجود ہی نہیں!جو چیز آتی ہے دوسرے ضرورتمندوں میں تقسیم کردیتے ہیں۔ ہمارا حال یہ کہ ایک طرف نماز،روزہ،حج اور عمرے بھی جاری ہیں تو دوسری طرف ملاوٹ،زخیرہ اندوزی،ناپ تول مین کمی،رشوت،بددیانتی،غلط بیانی، دھوکہ دہی،جھوٹ،بدعہدی،حرام کمائی،دوسروں کا حق مارنا،پڑوسیوں کے ساتھہ بدمزاجی، عورتوں اور ملازمین کے ساتھہ بدسلوکی، تکبر،تفاخر،غرور،نمود و نمائش ہمارے ہی معاشرے کی پہچان بنی ہوئی ہے۔یہ ہم کس کو دھوکہ دے رہے ہیں؟اس عظیم ہوس کی کوئی حد بھی ہے؟اس تکاثر کی دوڑ کی کوئی انتہا بھی ہے؟کاش،ہم قرآن کے ان الفاظ کو زندگی کا دیپ بجھنے سے پہلے سمجھہ سکیں! کہ : " زمانے کی قسم! انسان خسارہ ہی خسارہ کما رہا ہے۔"

انسانی مشین بنانے والے خالق نے خود اس مشین کے عیب اور نقائص بتا دئے کہ انسان"عجولا" یعنی جلدباز ہے۔انسان " کفورا" یعنی ناشکرا ہے۔انسان "جھولا" یعنی بے وقوف ہے۔انسان "جدولا" یعنی جھگڑالو ہے۔

سوال کیا گیا کہ " میں قناعت پسند بننا چاہتا ہوں۔" جواب ملا: "جو دوسروں کے پاس ہے اس سے آنکھیں بند کرلو،سب سے بڑے قناعت پسند بن جاؤگے۔"

عرض کی گئی: " میرے اندر تقوای کیسے پیدا ہو؟" جواب ملا: " ہر وقت موت کو یاد رکھا کرو،سب سے بڑے پرہیزگار بن جاؤگے۔"

اس ناداں انسان کو کون سمجھائے کہ دوسروں کے ساتھہ ظلم کرکے اور دوسروں کے حقوق غصب کرکے کمائے ہوئے پئسے کا حساب کتنا سخت ہوگا جبکہ تمہاری حق حلال کی کمائی میں بھی دوسرے یتیموں،فقیروں،محتاجوں اور بے کسوں کا حق مقرر کیا گیا ہے۔آدمی اکثر یہ کہکر اپنے ضمیر کو مطئمن کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ پہلے اپنی فلاں فلاں ضرورتیں پوری کرلوں پھر دوسروں کی مدد کروں گا۔کتنی نہ بڑی بھول اور کتنی نہ عظیم ہے یہ حماقت!

ہوس کی اس نہ ختم ہونے والی دوڑ میں ضرورتوں کا گلا تو صرف قبر ہی دبا سکتی ہے۔موت کے بے درد آہنی شکنجے میں پھنسنے سے پہلے اس دھرتی کے تختے پر وہ لوگ خال خال ہی ملتے ہیں جو یہ کہہ رہیں ہوں کہ ہم نے اپنی تمام ضروریات پوری کرلی ہیں۔جہاں ضرورتوں کی حد ختم ہوتی ھے،اس نقطے کا دوسرا نام " موت" ہی ہے۔
کائنات کے سرورﷺ کے یہ الفاظ کتنی نہ بڑی سچائی پر مبنی ہیں کہ:
"ابن آدم کے حرص کے پیٹ کو صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے،"

ہم تو یہ بھی نہیں سمجھتے کہ موت کا راکاس ہروقت ہمارے تعاقب میں ہے۔یہ اولاد جس کے سکھہ اور چین کی فکر میں ہم ہر جائز اور ناجائز،حلال اور حرام کی تمام حدیں پھلانگ کر ان کے لئے مال اور دولت کے ڈھیر لگا نے میں پاگل بنے ہوئے ہیں، وہی اولاد ہماری مشقت سے جمع کی گئی دولت پر عیش و عشرت کرنے کے باوجود قیامت کے دن ہماری دشمن بن کر ہمارے خلاف گواہی دے گی۔ مرنے کے بعد ہماری قبر پر چار قل نہیں پڑھیگی۔یہ کونسی مشقت ہے جس میں سے ہمیں صرف اتنا ہاتھہ لگنا ہے جو ہم نے کھاکر ختم کرلیا،یا جو ہم نے پہن کر پرانا کردیا یا جو ہم نے صرف خدا کی خوشنودی کے لئے مسکینوں،فقیروں اور محتاجوں میں بانٹ کر اپنی آخرت کی بینک میں ذخیرہ کرلیا۔اس کے علاوہ جومال بھی بچ گیا اس پر ہمارا کیا حق اور ہمارا کیا اختیار!

ایسی دوڑ جس کی ابتدا حرص اور حسد کی آگ اور جس کی انتہا افسوس،حسرت اور پشیمانی کے سوا کچھہ نہیں۔اس سے پہلے کہ ہر خواہش خاک بن جائے،ہر امید پر پانی پھر جائے،ہر خواب ٹوٹ کر بکھر جائے،ہر آس نراس بن جائے،ہر منظر سراب ثابت ہو،اس سے پہلے کہ موت کا آہنی ہاتھہ گلہ دبوچ لے اور اس سے پہلے کہ اپنے پرائے اور آشنا بیگانے بن جائیں، اس سے پہلے کہ زندگی کی پوری حاصلات ریت کے ذروں کی طرح ہاتھوں سے کھسک جائے،اس سے پہلے کہ زندگی کے کیلینڈر کی گھڑی رک جائے،اس سے پہلے کہ تمہاری سب وحشت،دہشت،حشمت،شان و شوکت اوردولت کے خیالی بت ٹوٹ کر ٹکڑے ہوجائیں۔ اپنے آپ سے حقیقی ہمدردی یہی ہے کہ اس حرص اور ہوس کے جنوں سے باہر آجاؤ۔اگر کسی ضرورتمند کو کچھہ دینا ہے تو آج ہی دیدے۔ضرورتمند صرف وہ ہی نہیں جو سوال کرتے ہیں بلکہ حاجتمند وہ بھی ہیں جنہیں ان کا ضمیر کسی سے سوال کرنے اور دست حاجت دراز کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔اپنے عشرتگاہ سے کچھہ باہر نکل کر اپنے ارد گرد نظر دوڑاؤ گے تو تمہیں خدا کی وہ مخلوق مل جائے گی جن کے گھروں کے چولھے غربت کے راکاس نے بجھادیے ہیں۔ جن کی جینے کی آس پتہ نہیں دن میں کتنی بار مرتی ہے اور کتنی بار پھر زندہ ہوتی ہے۔اپنے لئے خرید کئے گئے کپڑے کے بے شمار جوڑوں میں سے کچھہ پر ان ننگے بدن محتاجوں کا بھی حق ہے۔اپنے کتوں کومہیا کئے گئے قیمے کے مقابلے میں کچھہ دال روٹی پر بھوک سے بدحال خدا کی مخلوق کا بھی استحقاق ہے۔یہ سب آج ہی کرلوکہ کل پر شاید تیرا اختیار نہ ہو۔اس سے پہلے کہ اس اٹل حقیقت تک پہنچ جاؤ کہ:
" جو دیکھا سب تماشا تھا،جو سنا سب فسانہ تھا۔"
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shafique Shakir

Read More Articles by Shafique Shakir: 8 Articles with 4478 views »
Work as an educator,write columns in regional dailies.Write poems in Urdu,Sindhi and English... View More
22 Jul, 2016 Views: 390

Comments

آپ کی رائے