عربی بطور لازمی مضمون

(Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi)
عربی بطور لازمی مضمون،کونسابوجھ؟
ایک خبر ہے کہ ‘‘اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ” اسلامی جمہوریہ پاکستان “ میں عربی کو لازمی مضمون کے طور پر نصاب میں شامل کرنے کیلئے چاروں صوبوں نے مخالفت کر دی ہے۔ ایک معاصرنیوز چینل کے مطابق ‘‘وفاق نے چاروں صوبوں سے اس بارے میں مشاورت کی تھی ،لیکن چاروں صوبوں نے اس کی مخالفت کر دی ہے۔بلا وجہ کئی موقعوں پر اربوں روپے خرچ کرنے والے ان صوبوں کا موقف ہے کہ عربی کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے سے ان پر اضافی بوجھ پڑے گا،اس بارے میں سیکرٹری کیڈ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو صوبوں کے تحفظات سے آگاہ کر دیا، سیکرٹری کیڈ کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں میں عربی اختیاری مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے،یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چاروں صوبے ثقافت یا کسی اور بہانے سے اربوں روپے ضائع کرتے ہیں لیکن عربی کے مضمون کو نصاب میں شامل کرنے کیلئے انہوں نے اضافی بوجھ کا رونا رو دیا ہے’’۔ یا للعجب ولضیعۃ الأدب!

حالانکہ ہماری معلومات کے مطابق کسی صوبائی پارلیمنٹ میں ابھی تک یہ مسئلہ آیا ہی نہیں،نہ سنجیدہ کوئی مشاورت ہوئی ہے،تو مخالفت کیسی کی گئی؟آپ پاکستان کے نظریاتی دشمنوں کی چابکد ستیاں اور چیرہ دستیاں دیکھیں،خود سے کہدیا ،چاروں صوبے مخالف ہیں، پھر یہ کہ تعلیم حالیہ دور میں ایک صوبائی معاملہ ہے،شاید پیش بندی کے طور پرقومی اسمبلی میں لاکراس سلسلے میں بعض کوششوں کو سبوتاژ کیا جارہاہے،حالانکہ یہ کوششیں پاکستان کے آئین ودستور کی روشنی میں کی جارہی ہیں،جس کا ماحصل درج ذیل ہے:
1۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں عربی زبان کی تعلیم وترویج کا نہ صرف وعدہ کیا گیا ہے ،بلکہ ہر مسلمان کے لئے عربی زبان کی تعلیم کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے.... بحوالہ آرٹیکل 230 (1) (الف)۔ آرٹیکل 31(2))الف)۔

2۔ سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاءالحق نے عربی کو چھٹی سے بارہویں جماعت تک لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھانے کا فرمان جاری کیاتھا۔

3۔ پاکستان کے مختلف سرکاری اداروں، جیسے سینٹ آف پاکستان کی تعلیمی کمیٹی نے بھی عربی زبان کو تعلیمی مراحل میں لازمی قرار دینے کی سفارش کی ہوئی ہے....(22نومبر 1990)۔

4۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے 25 فروری 2011ءکو عربی زبان کی لازمی ترویج کے بارے میں سفارشات منظور کیں۔

5۔ فیڈرل شریعت کورٹ اسلام آباد نے تو 22 اکتوبر 2012ءسے پرائمری سطح سے لے کر بارہویں جماعت تک عربی کو بطور لازمی مضمون پڑھانے کا نہ صرف آرڈر جاری کیا، بلکہ چھ ماہ کی مدت کے اندر اندر تمام صوبوں میں اس کی تنفیذ کا حکم بھی صادر فرمایا ہوا ہے۔

6۔ 10 دسمبر 2010ءکو پنجاب حکومت نے حکم جاری کیا کہ پہلی کلاس سے ہی عربی کی تعلیم شروع کی جائے.... (بحوالہ نوٹیفیکیشن: چیف منسٹر سیکرٹریٹ لاہور پنجاب)۔

7۔ حکومت پنجاب محکمہ تعلیم سکولز نے 23 اگست 2011ءکو وضاحتی حکم جاری کیا کہ ‘‘عربی بطور لازمی ’’کی حیثیت برقرار ہے اور رہے گی۔

8۔پھر بھی ستم ظریفی دیکھئے (PEC) کے زیر اہتمام 2006ءسے 2013ءتک گریڈ ہشتم کے 8 مضامین کا جوامتحان ہوتا رہا، اس میں عربی کو بھی لازمی مضمون کی حیثیت حاصل تھی،لیکن نا معلوم وجوہات کی بناء پر اسے خارج کردیاگیا، اس طرح 800 نمبروں کی ایک بہترین سند جاری ہوتی تھی، جس کا موقع ہمارے نونہالوں سے چھیناگیا۔

آج کےگلوبل دور میں بعض بین الاقوامی حیثیت رکھنے والی زبانوں کی اہمیت سے انکار یاپہلو تہی باعثِ تعجب لگتاہے،پاکستان جیسے کثرتِ آبادی والے ملک کے نوجوانوں کو موجودہ دنیا میں فٹ کرنے کے لئے،تعلیم اور عالمی زبانیں ضروری ہیں،انگریزی،فرانسیسی،روسی ،چینی اور عربی اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کی بڑی زبانیں ہیں،اگرچہ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی ینین سے نکل کر برطانیہ زوال پذیر ہے،جس سے آنے وقت میں انگریزی پر بھی اثرات مرتب ہوں گے،لیکن ان تمام زبانوں میں ماہرین پیدا کرنے کی ضرورت ہے،لیکن بطورِخاص عربی ان میں سے وہ زبان ہے کہ اس کا تعلق ہماری اردو زبان سے بے انتہا ہے،یہ ہماری مذہبی زبان بھی ہے،فرقہ واریت اور نسلی تعصب کا قدرے علاج بھی اس سے کیا جاسکتا ہے،بحرِ عرب پرواقع ہونے کی وجہ سے اس سے ہمارا رشتہ مزید مضبوط ہوجاتاہے،ہمارے سب سے زیادہ بیرون ملک کام کرنے والے بھائی عرب ممالک میں ہی ہیں،حج وعمرے پر جانے والے بھی پاکستانی سب سے زیادہ ہوتے ہیں،عرب دنیا ہم سے برادرانہ تعلقات کی خواہاں ہے،تو پھر کیوں عربی کی ترویج میں رکاؤٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، یہ ایک عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

بوجھ کا رونا رویا جاتاہے،یہ بھی بالکل لایعنی بات ہے،کیونکہ جب عربی پہلے سے نظامِ تعلیم کا حصہ ہے،اس کے لئے تمام تر انتظامات ہیں،لیکن اختیاری کی وجہ سے اساتذہ وطلبہ اسے اہمیت نہیں دے پاتے،تو لازمی کرنے سے کونسے بوجھوں کا اضافہ ہوگا،ہم نے اس حوالے سے خاصی پوچھ گچھ کی،معلومات اکھٹی کیں،پتہ چلا،کسی بوجھ میں اضافہ نہیں ہوگا،بتایاگیاکہ یہ سب بد نیتی یا معاملہ نا فہمی کی باتیں ہیں۔

ہمارا ملک اس وقت نظریاتی دو راہے پر کھڑاہے،یہاں لبرلزم،سوشلزم اور سیکولرزم کی باتیں ہورہی ہیں،ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کیاجارہاہے،اشخاص وادارے ہوں یاممالک یہ نظریات پر قائم ہوتے ہیں،نظریات پر باقی ہوں،تو انہیں بقا نصیب ہوتاہے،کسی ملک کابنیادی نظریہ اگر متزلزل ہوجائے،تو اس کےبقا کا سوال پیدا ہوتاہے،ہماری گزارش ہے کہ عربی زبان بطور لازمی مضمون کے مسئلے پرصدر،وزیر اعظم،آرمی چیف اور چاروں وزرائے اعلی کے علاوہ مقتدر حلقوں میں بیٹھے ہوئے تمام مسئولین ملک وملت کے عظیم تر مفاد میں ذرہ سی توجہ دیں، اپنی آخرت بھی سنواریں اور نوجوان اورسیز پاکستانیوں پر رحم کریں،ملک کواپنی بنیادوں پر کھڑاکرنے کی کوشش کریں۔

عرب دنیا بے شمار جنگوں اور تمام تر مشکلات کے باوجود ترقی کی راہوں پر ہے،ہمارے اور ان کے تعلقات میں بھی بحمد اللہ روزبروز اضافہ ہورہاہے، کوریڈور صرف پاکستان نہیں مراکش تک جائے گا،جس سے عرب دنیا میں ہماری آمد ورفت اور زیادہ ہوگی،سعودی عرب کا 2030کا وژن ،امارات کی ترقی اور مصر میں سیسی کے اقتصادی میگا پروجیکٹس سے ہمیں بھی استفادہ کرنا چاہئے،ان سب معاملات کو سمجھنے کے لئے عربی میں مہارت ضروری ہے،ترکی اس حوالے اقدامات کررہا ہے،ملائیشیاانڈونیشیا بھی فکر مند ہوئے ہیں،اس لئے ہمیں اپنے اور ملکی عوام کے مستقبل کے لئے عربی زبان وادب کے کے متعلق سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی،تاکہ ہم اپنے ارد گرد کے ماحول سے مستفید ہوں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 489480 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
24 Jul, 2016 Views: 1329

Comments

آپ کی رائے
جرمنی کے اسکولوں میں عربی بطور لازمی مضمون پڑھایا جائے،سائنسدان
Posted on February 9, 2016By Mohammad Waseem بین الاقوامی خبریں

German School
برلن (جیوڈیسک) جرمنی کے اسکولوں میں عربی کو ایک زبان کے طور پر لازمی قرار دیا جائے، جرمنی کو کثیر الاقوامی اورکثیر ثقافتی ملک ہونا چاہیے،ان الفاظ کا اظہار جرمنی کے مشہور سائنسدان، کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ماہر تھامس شتروتوت نے کیا۔

روسی خبر رساں ادارے کے مطابق تھامس نے مزید کہا کہ جرمنی کے اسکولوں میں عربی زبان بطور لازمی مضمون پڑھایا جائے تاکہ مستقبل میں جرمنی کے بچے بچے تارکین وطن کی مدد کر سکیں۔

تھامس شترو کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی میں بڑی تبدیلیوں کے لئے جرمن بچوں تیار ہونا چاہیے۔ نہ صرف تارکین وطن کو مغربی ممالک کی زندگی کے عادی ہو جانے کی ضرورت ہے بلکہ مغربی ممالک کو بھی مسلم دنیا کے قریب آنا چاہیے ۔
By: Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Jul, 25 2016
Reply Reply
3 Like
اسرائیلی اسکولوں میں عربی زبان کی تعلیم لازمی
اسرائیلی پارلیمان نے اتفاق رائے سے ایک فیصلے کے ساتھ ملکی اسکولوں میں بچوں کے لیے عربی زبان کی تعلیم کو لازمی کر دیا ہے۔ ارکان پارلیمان کو امید ہے کہ یوں اسرائیلی عربوں اور یہودیوں کے تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے گا۔
Bildergalerie Kinder Lesen und Schreiben lernen
یروشلم سے بدھ اٹھائیس اکتوبر کی شام ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق پارلیمان میں منظور کی گئی قرارداد کے مطابق ملک کے تمام اسکولوں میں آئندہ چھ سال کی عمر سے بچوں کے لیے عربی زبان سیکھنا لازمی ہو گا۔
’کنیسیٹ‘ کہلانے والی اسرائیلی پارلیمان نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر کیا ہے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مظاہروں، جھڑپوں، فلسطینیوں کی طرف سے چاقوؤں کے ساتھ کیے جانے والے حملوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران نہ صرف اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین شدید کشیدگی پائی جاتی ہے بلکہ یہی بدامنی دونوں طرف سے مجموعی طور پر اب تک درجنوں افراد کی جانیں بھی لے چکی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق کنیسیٹ کے آج کے اجلاس کے دوران حاضر ارکان کی تعداد نصف سےز ائد تھی اور انہوں نے اس بارے میں ایک مسودہ قانون پر پہلی بحث کے دوران ہی اس کی متفقہ رائے سے منظوری دے دی۔
اب اس مسودہ قانون کو جائزے کے لیے پارلیمان کی ایک خصوصی کمیٹی کے پاس بھیجا جائے گا، جس کے بعد دوسری مرتبہ رائے شماری کے لیے یہی قانونی مسودہ ایک بار پھر پوری کنیسیٹ میں زیر بحث آئے گا۔
عربی اور عبرانی دونوں ہی اسرائیل کی سرکاری زبانیں ہیں لیکن اسرائیلی عربوں کی ایک بہت بڑی اکثریت تو عبرانی زبان بولتی ہے تاہم اسرائیل کی یہودی اکثریتی آبادی میں عربی زبان زیادہ نہیں بولی جاتی۔
ملکی پارلیمان میں یہ قانونی بل وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کے ایک رکن اورَین ہازان کی طرف سے پیش کیا گیا، جنہوں نے کہا کہ اس مسودے کی تیاری اور منظوری کا مقصد یہ بھی ہے کہ ان عرب ملکوں کے ساتھ رابطوں کو بہتر بنایا جائے، جو اسرائیل کے اتحادی ہیں۔
اسرائیلی پارلیمان نے اس بارے میں مسودہ قانون کی منظوری متفقہ رائے سے دی
اسرائیلی پارلیمان نے اس بارے میں مسودہ قانون کی منظوری متفقہ رائے سے دی
اورَین ہازان نے اس بل کی منظوری کے بعد اے ایف پی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’زبان ثقافت کا دروازہ ہوتی ہے۔ میں حقیقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ایسا کوئی ممکنہ راستہ ہے ہی نہیں کہ ایک دوسرے کو سمجھے بغیر (اسرائیل اور عربوں کے مابین) قیام امن کی منزل حاصل کی جا سکے۔‘‘
اسرائیلی عرب، جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد اسرائیل ہی میں رہ جانے والے فلسطینیوں کی موجودہ نسل سے تعلق رکھتے ہیں، اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں اسرائیل میں اپنے خلاف امتیازی رویوں کا سامنا رہتا ہے۔ اسرائیل کی مجموعی آبادی میں عربوں کا تناسب قریب 18 فیصد ہے۔
By: Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi on Jul, 25 2016
Reply Reply
3 Like