اے عندلیب چل !

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Wylie)
پہلے جس وطن میں بستے تھے وہ اب ہمارے دلوں میں بستا ہے ۔ آج بھی اس کے نام سے یادوں میں چراغاں رہتا ہے ۔
پاکستان میں ہمارے کچھ افغان فیملیوں سے بہت اچھے مراسم تھے ۔ بہت سلجھے ہوئے سمجھدار لوگ تھے ہماری ان سے خوب بنتی تھی ۔ وہ لوگ اکثر بات چیت کے دوران اور افغانستان سے متعلق کوئی پرانی یاد تازہ کرتے ہوئے ہمیشہ وطن کہہ کے بات کرتے تھے ۔ ہماری دل ہی دل میں بڑی جان جلتی تھی کہ کیسے نمکحرام اور احسان فراموش لوگ ہیں ، رہتے پاکستان میں ہیں کھاتے پاکستان کا ہیں اور گاتے اپنے اسی افغانستان کا ہیں ۔ انہوں نے کبھی پاکستان کو اپنا وطن نہیں کہا ۔ حالانکہ انہوں نے نہ صرف پاکستانی شناختی کارڈ بلکہ پاسپورٹ تک بنوا لئے تھے مگر پھر بھی وہ پاکستان کو اپنا وطن نہیں سمجھتے تھے ۔ وہ اب بھی افغانستان کے نام کا کلمہ پڑھتے تھے ۔ اور اس بات پر ہمیں بڑی خار آتی تھی ۔ پھر ہماری قسمت ہمیں امریکا لے آئی ۔ ایک قانونی رہائشی کی حیثیت سے ہم نے یہاں تمام حقوق اور سہولیات سمیٹیں ۔ اور ایک مقررہ مدت کے بعد ہمیں امریکی شہریت بھی حاصل ہو گئی ۔ مگر ہم نے کبھی امریکا کو اپنا وطن نہیں سمجھا کبھی اسے اپنا وطن نہیں کہا ہمیشہ اسے پردیس ہی کہہ کر پکارا ۔ آج ہم بھی کھاتے امریکا کا ہیں اور گاتے اپنے پاکستان کا ہیں بلکہ اسی کا رونا روتے رہتے ہیں ۔ جب خود ہم اس دور اس کیفیت سے گذرے تو ہمیں پتہ چلا کہ کسی پرائی سرزمین کو اپنا کہنا سمجھنا اور اپنے اصل وطن کو بھول جانا یا اسے وطن کہنا چھوڑ دینا کتنا مشکل ہوتا ہے ۔ ہمیں بھی جب نیلا پاسپورٹ ملا تھا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے بہت کچھ کھو گیا ہے دور کہیں پیچھے رہ گیا ہے ۔ اپنی شناخت سے دستبردار ہونا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔ خود پہ گذری تو ہمیں ان افغانیوں کے درد کا اندازہ ہؤا جو پاکستان میں وہاں سے لاکھ درجے بہتر زندگی میسر ہونے کے باوجود اپنی مٹی کی یادوں کو اپنے دل سے مٹا نہیں سکے تھے ۔ وہ اب بھی اپنے اسی وطن کے نام پر جیتے مرتے تھے ۔ آج ہم بھی امریکا میں ایک بہترین زندگی حاصل ہونے کے باوجود اپنے اسی پاکستان کے نام پر مرمر کے جیتے ہیں ۔ ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود اپنی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیں ۔ اور یہاں ہم جیسے اور بھی ہزاروں ہیں جن کی روزی روٹی اس سرزمین پر لکھی تھی وہ یہاں پہنچ گئے مگر اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہے جن کے دلوں سے پاکستان کی یاد اور وہاں کے حالات کی فکر جاتی نہیں ۔ ہم وہاں نہیں ہوتے ہوئے بھی وہیں ہوتے ہیں ۔ موقعے کے انتظار میں ہوتے ہیں کہ کس بہانے وہاں کا چکر لگائیں ۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے بچے بھی جنہوں نے آنکھ ہی یہاں کے ماحول میں کھولی لیکن ان کے والدین نے ان کی پرورش و پرداخت میں حتی الامکان اپنی روایات و اقدار کو ملحوظ خاطر رکھا اور انہیں اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ رابطے میں رکھا تو ان کے اندر بھی اپنے اجداد کے وطن سے ایک قلبی وابستگی واضح نظر آتی ہے ۔

پوری دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی مقیم ہیں وفاداری کے حلف اٹھا کر شہریت بھی حاصل کر چکے ہیں اپنا جینا مرنا اجنبی سرزمینوں کے نام کر چکے ہیں مگر خود کو آخری سانس تک پردیسی ہی سمجھتے ہیں ۔
 
ایسے ایسے بھی ہیں جن کی عمریں تو کیا نسلیں گذر گئیں مگر انہوں خود کو پاکستانی سمجھنا نہیں چھوڑا ۔ بس یہ زیادتی کی بات ہے کہ پاکستان سے باہر کسی اور دیس میں اپنی تمام عمر گذار کے بھی ہم اسے پردیس ہی سمجھتے رہیں ۔ ہمیں اسے اپنا دوسرا وطن سمجھنا چاہیئے ۔ پہلے جس وطن میں بستے تھے وہ اب ہمارے دلوں میں بستا ہے ۔ آج بھی اس کے نام سے یادوں میں چراغاں رہتا ہے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 175 Articles with 1048137 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Jul, 2016 Views: 10352

Comments

آپ کی رائے