آزاد میڈیا کا ہماری زندگی پر اثر

(Tahir Durrani, )
انسانی معاشرے کی بقا ء اور تعمیر و ترقی اور ملک کی ترقی میں ذرائع ابلاغ کو ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے اور اسے مملکت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے۔میرا آج کا موضع بالکل الگ تھلگ ہے اور شائد کسی کو اچھا بھی نہ لگے کیوں کہ پچھلے ایک دو مہینوں سے ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہوں اخبار پڑھو تو لگتا ہے جیسے بس اب دنیا ختم ہونے والی ہے ، ٹیلی ویژن پر ٹالک شو دیکھ لو تو لگتا ہے جیسے جنگ لگنے والی ہے اور ہم اس دنیا سے بس رخصت ہونے والے ہیں ہر طرف افراتفری کا عالم ہے بے چینی سی ہر طرف پھیلی نظر آتی ہے ہمارے آزاد میڈیا نے تو ساری حدیں ہی پار کر ڈالیں اتنی آزادی بھی کیا جس میں آپ معاشرے میں ایک کھلبلی سی مچا دیں لوگوں کا زندگی سے اعتبار اُٹھ جائے ، کسی کے گھر کا چراغ بجھ جائے اور آپ اس کا براہ راست انٹرویولوگوں کو دکھا کر اپنے چینل کا بھاؤ بڑھایں ، ایک ماں کا لال کسی حادثے میں انتقال کر جاتا ہے اس دھکیاری ماں سے یہ پوچھنا کہ اب آپ کیا محسوس کر رہی ہیں ، اس کی کمی سے کیا فرق پڑا ؟ اور اب آگے آپ کیا کرنا چاہتی ہیں؟ کیا اسی کو آزادی صحافت کہتے ہیں؟ کسی علاقے میں دو سیکنڈ کا زلزلہ آ جائے توآپ پورے2 گھنٹے ٹی وی سکرین ہلا ہلاکر دنیا کو دہلاتے ہیں۔ ایک شریف پا پردہ خاتوں جو کسی دفتر میں کام کرتی ہے اپنی عزت کی حفاظت کے لیئے نقاب کرتی ہے ہمارا یہ آزاد میڈیا تب تک اسے نہیں بخشتا جب تک اس کا نقاب اتر نہ جائے، لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں۔ ایک دوست سے بات چیت کے دوران اس نے بتایا کہ لندن میں ہر سال تقریباََ پچاس ہزار لوگوں کا خون ہوتا ہے ، وہاں بھی سٹریٹ کرائم ہوتے ہیں ، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں وہاں بھی ہوتی ہیں ، وہا ں بھی لوگ خودکشی کرتے ہیں لیکن وہاں ایسی خبر چلانا سخت منع ہے جس سے معاشرے میں بے چینی پھیلے اور لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہو وہا ں کا میڈیا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا اور اس سے بھی اہم بات وہا ں کے لوگ انوسٹیگیٹڈ(investigated information) انفارمیشن کے بنا کسی خبر پر یقین نہیں رکھتے اگر کسی نے بنا تصدیق کے کوئی خبر چلادی اور بعد میں وہ خبر جھوٹی نکلے تو بھاری بھر کم جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ۔

ہمارے میڈیا کے کیا کہنے کہیں آگ برساتا ہے تو کہیں بارش، کسی کی دھوتی اچھالتا ہے تو کسی کی پگڑی ، کتے نے انسان کو کاٹ لیا تو معمولی خبر انسان نے کتے کو کاٹ لیا تو بریکنگ نیوز۔ واہ رے کیا کہنے ۔اگر پولیس ، آرمی یا رینجر کسی مطلوب دہشت گرد، چور ڈاکو یا گینگسٹر کو پکڑنے کے لیئے اپنی حکمت عملی اپناتے ہوئے کوشش کرتی ہے تو ہمارا آزاد میڈیا اس کی اتنی مشہوری کر دیتا ہے اور بار بار اپنے چینل پر اس کی کوریج دیتا ہے کہ دشمن مذید چکنا (ہوشیار)ہو جاتا ہے اسے پل پل کی خبر مل رہی ہوتی ہے ایسے حالات میں ضابطہ اخلاق کی پابندی کرانے والے ادارے سو کر اپنی نیندیں پوری کر رہے ہوتے ہیں اگر ایسا نہیں تو جب نجی ٹی وی پر اہلِ بیت کی شان میں گستاخی کی گئی تھی تو اس کی خلاف ایکشن لیتے ہوئے اسے تاحیات بند کیوں نہیں کیا گیا اگر اس وقت ایسا کیا جاتا تو باقی چینلز کو نصیحت ہو جاتی اور کبھی کوئی ایسا پروگرام نشر نہ کیا جاتا جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی۔اگر کوئی لڑکی گھر سے بھاگ کر شادی کر لے تواسے پسند کی شادی کا نام دے کر اس بے حیائی کو پھیلایا جاتا ہے اور خوب اس لڑکی کا ساتھ دیا جاتا ہے اور اسے ایک ہیرو کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ہمار ا اسلام پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے مگر بھاگ کر والدین کی عزت کو قدموں میں روند کر نہیں بلکہ ولی کا ساتھ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ایک اور زندہ مثال سوشل میڈیا کے ذریعے بلندیوں کوچھونے کے خواب سجائے ایک ماڈل ہے جس کا تعلق ڈیرہ غازی خان کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے سے تھا ، اس ماڈل گرل نے اپنے کیرئیر کی شروعات ایک بس ہوسٹس سے کی اور سوشل میڈیا کو استعمال کرتے شوبز کی دنیا میں اپنا مقام پیدا کرنے کی کوشش کی 2013 سے 2016 کا سفر اس خوبرو دوشیزہ نے بہت جلد طے کیا۔ اور اسی سال اپنے بھائی کے ہاتھوں غیرت کے نام پر قتل ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔اس قلیل مدت میں میڈیا نے اپنا کردار خوب ادا کیا اس ماڈل گرل کو اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے لیئے خوب استعمال کیا اور تواور اسلام کا مذاق اُڑانے میں بھی اس ماڈل کو استعمال کیا اسے اتنی زیادہ کوریج دی کہ وہ ایک قلیل مدت میں اپنے آپ کو بالی ووڈ کی کسی مشہور ایکٹریس سے کسی بھی حال میں کم نہیں سمجھتی تھی ، آزاد میڈیا نے اس کے بھائی کی غیرت جگانے میں اہم کردار ادا کیا اور جب اس کی موت واقع ہوئی تو بڑی ہوشیاری اور مکاری سے اس واقع کو دوسروں پر ڈال کے چلتا بنا۔اﷲ تعالیٰ مرحومہ پر ااپنی خاص رحمت اور جنت میں جگہ نصیب فرمائے آمین۔

میری باتیں بالکل عام سی اور سادہ سی ہیں لیکن میرا مقصد معاشرے میں ایک شعور بیدا ر کرنے کا ہے کہ ہماری زندگی میں اس آزاد میڈیا نے کیا کردار ادا کیا ہے ، اس سے ہمیں کتنا فائدہ اور کتنا نقصان پہنچا ہے ۔مارننگ شو میں میزبان خاتون کے اگر کپڑوں کی ہی بات جائے تو لگتا ہی نہیں کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ پروگرام دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو کلمہ کی بنیا د پر آذاد ہوا تھا ، جس میں شریعت محمدی ﷺ کے مطابق زندگی بسر کرنا تھا، اغیار کو کاپی کر کے ہمارا آزاد میڈیا ہمیں نیکی کا درس دیتا ہے تمام چینلز پر دشمن ملک کے تمام پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں گھر گھر میں کارٹون سے لیکر ڈرامہ فلم تک دشمن ملک کی دیکھائی جا رہی ہے انڈین کلچر پورے ملک میں عام ہو رہا ہے بچوں کی نفسیا ت پر اس کا گہرہ ا ثر پایا جا رہاہے ۔ (پروگرام ہوسٹس)سیٹ پر بیٹھی وہ حسینہ جس نے کم از کم 25 ہزار کا سوٹ پہنا ہوتا ہے وہ سادگی اور سادہ زندگی کا درس دے رہی ہوتی ہے ۔رمضان کریم میں اینکر حضرات ایک جید عالم اور مفتی کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں اور جیسے ہی چاند رات کا پروگرام کرتے ہیں تو جیسے راتوں رات انہوں نے خرافات و فحاشیا ت کی اعلیٰ ڈگری حاصل کر لی ہو۔

ٹی وی پر بیٹھا ایک اینکر بیک وقت بہت سے خوبیاں لیئے بیٹھا ہوتا ہے اﷲ اﷲ یہ کسی معجزے سے کم نہیں ایک انسان میں اتنی خوبیاں وہ ایک اچھا طبیب، ایک ماہر انجینیئر، بہترین موٹر مکینک، بہت ہی زبردست کُک (chef)ڈاکٹر ، اور ڈاکٹر بھی ایسا جس کے پاس تمام بیماریوں کا علاج موجود ہوتا ہے ایک شعلہ بیان مقرر اور سب سے بڑی خوبی اسلام کی سمجھ اور علم سے اس کا ہر پلو بھرا ہوتا ہے غرض ہر میدان میں وہ اپنی مثال آپ ہوتا ہے اس عظیم انسان پر کس قدر مہربان ہے میرا رب ذوالجلال جو بیک وقت اتنی خوبیوں سے کوٹ کوٹ بھر ا ہوتا ہے ۔

اس آزاد میڈیا کے بھی کیا کہنے امیر شہر کا بیٹا گم ہوجائے تو پوری کی پوری حکومتی مشینری کو جگا نے میں ایک بھر پور کردار ادا کرتا ہے اور غریب کی اولاد گُم ہو جائے تو ایف آئی آر لکھوانے میں کئی مسائل کا سامنا بیچارے والد کو اکیلے ہی کرنا پرتا ہے ، پنجاب میں آج کل ایک نیا مسلہ پیدا ہو گیا جس کا سدِباب ابھی تک نہیں کیا جا رہا اور ارباب اخیتار اپنی کرسی کے نشے میں مست سوئے ہوئے ہیں اور کئی ماؤں کے جوان سال کم عمر بچے اغوا کیے جار ہے ہیں ہماری التجا ہے کہ اس مسلے کی طرف حکومت ِ وقت اور آزاد میڈیا مل کر توجہ دے اور اس کے ادراک میں اپناکلیدی کردار ادا کرے ۔

اسلام میں ذرائع ابلاغ کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے عوام الناس تک سچی اور صحیح خبر پہنچائی جائے اور اس میں مرچ مسالے کو استعمال نہ کیا جائے ذرائع ابلاغ (آزاد میڈیا)سچ کے اظہار میں کسی لالچ یامداہنت کا شکار نہ ہو اور صرف ایسی معلومات کی اشاعت کا بندوبست کریں جس سے عوام کے اندر نیکی اور تقویٰ کا عنصرپیدا ہووہ کسی ایسی خبر کی اشاعت سے ہرگز باز رہیں جس کا مقصد ان کے اخلاقیات پر حملہ کرنا ہویا اس سے دوسروں کی دل آزاری ہوجہاں میڈیا کو آزادی دی گئی ہے وہاں اسے بہت سی اخلاقی شرائط اور سماجی و معاشرتی قوانین کا پابند بھی کیا گیا ہے میڈیا کو آزادی دی گئی ہے اور کوئی اس آزادی کو سلب نہیں کرسکتا ساتھ ہی ساتھ میڈیا پر بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ حکومت وقت کے دیئے گئے ضابط اخلاق پر سختی سے عمل کریں اور معاشرے کی تعمیرو ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Tahir Tabassum Durrani

Read More Articles by M Tahir Tabassum Durrani: 53 Articles with 27111 views »
Freelance Column Writer
Columnist, Author of وعدوں سے تکمیل تک
Spokes Person .All Pakistan Writer Welfare Association (APWWA)
Editor @ http://paigh
.. View More
01 Aug, 2016 Views: 400

Comments

آپ کی رائے