جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ

(Mufti Muhammad Waqas Rafi, )
یہ سنہ1965ء کی بات ہے ۔مسٹرا جوانی کلکتہ کی ایک بڑی دوا ساز کمپنی میں سیلز مین مقرر ہوئے ۔ ان سے پہلے جو شخص ان کی جگہ کام کر رہا تھا اس کو ماہانہ 1,200 روپے تنخواہ اور آمد و رفت کے لئے ریلوے کا کرایہ ملتا تھا ۔ مسٹرا جوانی نے کہا کہ میں 3,000 روپے مہینہ وار تنخواہ لوں گا اور ہوائی جہاز سے سفر کروں گا ۔ کارخانہ کے ڈائریکٹرنے کہا کہ: ’’ یہ تو بہت زیادہ ہے ۔ ‘‘ انہوں نے کہا : ’’میں کام بھی زیادہ کروں گا ۔ایک بار تجربہ کرکے دیکھ لیجئے! ۔‘‘بالآخر ان کا تقرر ہوگیا اور گجرات کا علاقہ ان کے سپرد ہوا۔

اس زمانہ میں گجرات میں ایک لیڈی ڈاکٹر تھی ، جس کی پریکٹس بہت کامیاب تھی اور اس کے یہاں دواؤں کی کھپت بہت زیادہ تھی ، مگر وہ کسی مرد ایجنٹ سے نہیں ملتی تھی ۔ ایک دوا ساز ادارہ کا ایجنٹ ایک بار اس کے یہاں آیااور باتوں باتوں میں اس نے بتایا کہ : ’’میں ’’پامسٹری‘‘ جانتا ہوں اور ہاتھ بھی دیکھتا ہوں ۔‘‘ لیڈی ڈاکٹر نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کردیا ۔ ایجنٹ نے دیکھ کر کہا کہ : ’’آپ کے ہاتھ کی ریکھائیں بہت اچھی ہیں ۔‘‘ یہ کہتے ہوئے ایجنٹ نے لیڈی ڈاکٹر کا ہاتھ چوم لیا ۔ اس واقعہ کے بعد لیڈی ڈاکٹر کو مرد ایجنٹوں سے نفرت ہوگئی اور اس نے اپنے دواخانہ میں مرد ایجنٹوں کا داخلہ بالکل بند کردیا ۔

مسٹرا جوانی اپنے تجارتی سفر پر مذکورہ شہر کے لئے روانہ ہوئے تو کمپنی کے ڈائریکٹر نے ان سے اس لیڈی ڈاکٹر کا ذکر کیا ۔ مسٹرا جوانی نے کہا کہ : ’’میں اس لیڈی ڈاکٹر سے بھی آرڈر لوں گا۔‘‘ ڈائریکٹر نے مسٹرا جوانی کی اس بات کو ان کی سادگی پر محمول کیا اور کہا کہ: ’’ اس سے آرڈر لینا بالکل ناممکن ہے ۔‘‘ در اصل لیڈی ڈاکٹر اس بارے میں اتنی زیادہ مشہور ہوچکی تھی کہ لوگوں نے اس کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیا تھا ۔

چنانچہ مسٹرا جوانی اپنے سفر پر روانہ ہوگئے ۔ ہوائی جہاز میں ان کی سیٹ سے ملی ہوئی سیٹ پر ایک بوڑھی خاتون تھی۔ راستہ میں ایسا ہوا کہ بوڑھی خاتون کو کھانسی اٹھی اور کف آنے لگا جس سے بوڑھی خاتون پریشان ہوئی ۔ مسٹرا جوانی کو عام اخلاقی عادت کے مطابق اس خاتون سے ہم دردی پیدا ہوئی اور انہوں نے فوراً اپنا رومال اس کے منہ کے سامنے کردیا ۔ اس کا کف اپنے رومال پر لے لیا اور پھر غسل خانہ میں جاکر اسے دھولیا ۔ بوڑھی خاتون اس واقعہ سے بہت متاثر ہوئی ۔اور عجیب اتفاق یہ کہ اس خاتون کو بھی وہیں جانا تھا جہاں مسٹرا جوانی جارہے تھے ۔ ہوائی جہاز جب وہاں پہنچا اور بوڑھی خاتون باہر آئی تو وہ یہ دیکھ کر پریشان ہوئی کہ اس کو لینے کے لئے کوئی ہوائی اڈہ پر نہیں آیا ہے ۔ یہ خاتون کسی بڑے گھر سے تعلق رکھتی تھی اور اس کو لینے کے لئے کسی موٹر کار کو آنا چاہیے تھا ، مگر اس کی آمد کی صحیح اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے اس کے گھر والوں کی طرف سے اسے کوئی لینے نہ آسکا ۔ مسٹرا جوانی نے یہاں دوبارہ اس کی مدد کی ۔ انہوں نے کہا کہ : ’’میں ہوٹل جانے کے لئے ٹیکسی کرا رہا ہوں ، آپ اس میں بیٹھ جائیں ، میں پہلے آپ کو آپ کے گھر اتاروں گا اس کے بعد اپنے ہوٹل پر جاؤں گا ۔‘‘ چنانچہ انہوں نے بوڑھی خاتون کو اپنی ٹیکسی میں بٹھایا اور اس کو لے کر اس کے گھر پہنچے ۔ خاتون نے اپنے گھر پہنچ کر ان کا نام ، پتہ پوچھا ۔ انہوں نے اپنا نام اور ہوٹل کا پتہ لکھ کر دے دیا اور پھر اپنے ہوٹل میں آگئے۔

کچھ دیر بعد بوڑھی خاتون کی لڑکی اپنے کام سے فارغ ہوکر گھر پہنچی تو دیکھا کہ اس کی ماں آئی ہوئی ہے ۔ اس نے کہا کہ ہم کو آپ کی آمد کی اطلاع نہیں تھی ، اس لئے گاڑی ہوائی اڈے پر نہ لاسکے ، آپ کو تو آنے میں بہت دقت ہوئی ہوگی؟۔ ماں نے کہا کہ : ’’نہیں ! مجھ کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔‘‘ اور اس کے بعد اس نے مسٹرا جوانی کی پوری کہانی سنائی۔ کہانی سن کر لڑکی بہت متاثر ہوئی اور فوراً مذکورہ ہوٹل کی طرف فون کرکے مسٹرا جوانی سے رابطہ قائم کیا اور کہا کہ : ’’ہم آپ کے بہت مشکور ہیں اور آج رات کا کھانا آپ نے ہمارے یہاں کھانا ہوگا!۔‘‘ مسٹرا جوانی مقررہ پروگرام کے مطابق خاتون کے مکان پر پہنچ گئے ۔ جب لوگ کھانے کی میز پر بیٹھے اور تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ اس بوڑھی خاتون کی لڑکی وہی لیڈی ڈاکٹر ہے جس کو مرد ایجنٹوں سے نفرت تھی اور وہ مرد ایجنٹوں سے ملاقات تک کی روادار نہ تھی ۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ مسٹرا جوانی دوا ساز کمپنی کے سیلز مین ہیں تو اسی وقت اس نے خود اپنی طرف سے دواؤں کا ایک بڑا آرڈر لکھوادیا ۔ اور کہا کہ : ’’ہمارے یہاں دواؤں کی بہت کھپت ہے، آج سے آپ ہمیں اپنا ایک مستقل گاہک سمجھ لیجئے اور ہر مہینہ دوائیں بھیجتے رہیے ۔

مسٹرا جوانی کھانے اور ملاقات سے فارغ ہوکر ہوٹل واپس آئے اور اسی وقت کلکتہ میں اپنے ڈائریکٹر کوکال کی اور اس کو فون پر بتایا کہ مذکورہ لیڈی ڈاکٹر سے میں نے اتنے ہزار کا آرڈر وصول کرلیا ہے ۔ ڈائریکٹر نے فوراً کہا: ’’تم غلط کہہ رہے ہو، ایسا کبھی نہیں ہوسکتا ۔‘‘تاہم اگلی ڈاک سے جب ڈائریکٹر کے پاس مذکورہ لیڈی ڈاکٹر کا چیک اور اس کا دستخط شدہ آرڈر پہنچا تو اس کو معلوم ہوا کہ وہ واقعہ بالفعل پیش آچکا ہے ، جس کو وہ اب تک ناممکن سمجھے ہوئے تھا ۔

اسی طرح سنہ 1939ء کی بات ہے ،مولانا سید عطاء اﷲ شاہ بخاری ؒ لاہور مجلس احرار اسلام کے دفتر میں تشریف لائے ۔ جب وہ نیچے سے اوپر آنے لگے تو بھنگی اوپر سے گندگی لے کر نیچے آرہا تھا ۔ سیڑھیوں کے درمیان دونوں میں مڈبھیڑ ہوگئی ۔ بھنگی سمٹ کر دیوار کے ساتھ لگ گیا کہ شاہ جی آسانی سے گزر سکیں ۔ جب اﷲ کے ولی کی نظر اس بھنگی پر پڑی تو اس سے کہا : ’’ یہ ٹوکری نیچے رکھ کر اوپر آجاؤ ، میری ایک بات سن جاؤ!۔‘‘ بھنگی ٹوکری نیچے رکھ کر اوپر چلا آیا اور شاہ جی سے کہا : ’’ میرے لئے کیا حکم ہے ؟۔ ‘‘ شاہ جی نے فرمایا : ’’ یہ صابن لو اور منہ ہاتھ دھوکر میرے پاس آجاؤ !۔‘‘ اس نے ایسے ہی کیا ۔ شاہ جی نے اسے اپنے پاس بٹھالیا ۔کھانا منگوایا اور ایک لقمہ توڑ کر سالن میں ڈبویا اور اس کے منہ میں ڈال دیااورپھر اس سے کہا : ’’میاں ایک لقمہ تم توڑ کر سالن لگاؤ اور میرے منہ میں ڈال دو!۔ ‘‘ وہ بھنگی بڑی حیرانگی سے شاہ جی کی طرف دیکھنے لگا ۔ شاہ جی نے اس سے کہا : ’’ بھائی انسان ہونے کے ناطے آپ میں اور مجھ میں کیا فرق ہے ؟ گندگی اٹھانا تمہارا کام ہے ، تم اس مکان کی گندگی صاف کر رہے ہو ، جب کہ میں پوری قوم کی گندگی صاف کر رہا ہوں ۔‘‘ اس نے لقمہ اٹھایا اور شاہ جی کے منہ میں ڈال دیا اور کہا : ’’ شاہ جی ! یہیں بیٹھے رہیں ۔‘‘ وہ گھر گیا اوراپنے بیوی بچوں کو ساتھ لے کر آیا اور کہنے لگا : ’’ اگر یہی اسلام ہے تو پھر ہم سب کو مسلمان کر دیجئے! ‘‘۔چنانچہ شاہ جی نے سب کو کلمہ پڑھایااور مسلمان کردیا ۔

بلاشبہ میٹھی زبان اور اچھے اخلاق اتنا بڑا ہتھیار ہیں کہ ان سے جس کو چاہیں اپنا بنالیں ۔ جگر مرحوم نے کیاخوب کہا ہے :
وہ ادائے دل بری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Muhammad Waqas Rafi

Read More Articles by Mufti Muhammad Waqas Rafi: 185 Articles with 132322 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Aug, 2016 Views: 467

Comments

آپ کی رائے