میرا پاکستان

(Farooq Ahmad, Islamabad)
مملکت خداداد پاکستان اہل پاکستان کیلےقدرت کا خاص عطیہ ہے۔جو 27 رمضان کو معرض وجود میں آیا۔اس کا قیام تاریخ کا وہ عظیم الشان واقعہ ہوئی جو عالم کی تاریخ میں بالکل منفرد ھے۔یہ دنیا بھر میں واحد مملکت ہے جسکا وجود اسلام کے نام پر ھوا۔

پاکستانی شاہین


مملکت خداداد پاکستان اہل پاکستان کیلےقدرت کا خاص عطیہ ہے۔جو 27 رمضان کو معرض وجود میں آیا۔اس کا قیام تاریخ کا وہ عظیم الشان واقع جو عالم کی تاریخ میں بالکل منفرد ھے۔یہ دنیا بھر میں واحد مملکت ہے جسکا وجود اسلام کے نام پر ھوا۔

پوری قوم پاکستان لا الہ الا اللہ پر مجتمع ھوئ اور بعد میں بے مثال قربانیوں سے یہ خطہ ارض حاصل کیا گیا-

قیام پاکستان ہو چکا،اب اسکو مستحکم اسلامی فلاحی ریاست بنانا ضروری ہے چونکہ اسکا قیام ہی اسلام پر ہواہے اسلے اس کو اسلامی پاکستان بنانا حد درجے ضروری ہے-

پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور اسلام اسکا نظریاتی اساس ہے۔ہمیں محض خوشحال زندگی بسر نہیں کرنی ہے بلکہ مومنانہ زندگی بسر کرنی ہے-

محض مادی ترقیاں مقصود نہیں، مادی ترقیوں کے ساتھ ساتھ اخلاق و روحانی اور اخروی منافع بھی پیش نظر ہے نہ صرف ملک سے بددیانتی،بےانصافی،ظلم و استبداد،کمزورکشی اور تاداری کا خاتمہ کرنا ہے بلکہ نیکی اور سلامتی کے مشعل برادر بن کر پوری دنیا کی امامت کرنی ہے۔

اس عظیم مقصد کے حصول کیلے ہمیں پاکستان کو اسلام کا ایک مضبوط قلعہ بنانا ہے اور ہر اس شخص کو اس میں پناہ دینی ہے جسکا دنیا میں کوئ آسرا نہیں۔

جس ملک کےحاکم خدا ترس نہ رہیں اس ملک سے انصاف اٹھ جاتا ہے اور جس ملک سے انصاف اٹھ جاتا ہے اس ملک کا باقی رہنا معرض طر میں ہوتا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے قابل ھے کہ
'حکومت کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتی ھے ظلم و جور کے ہوتے ہوے باقی نہیں رہ سکتی ہے'
حاکموں کو اپنی سیرت اسوۃ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق بنانا ہوگی۔
صوبائ تعصب ایک لعنت ہے کچھ پاکستان دشمن عناصر جو غیر ملکی ایجنٹوں کی حیثیت سے گھس بیٹھے ہیں پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ملک کے چاروں صوبوں میں گہری خلیجیں حائل کرنے میں لگے ہوے ہیں ایسے مفسد پرواز عناصر کو یکسر نابود کر دینے کی ضرورت ہے۔

میرے پیارے ملک میں وقت کی کوئی قدر نہیں اور جو قومیں وقت کے ساتھ چلتی ہیں کامیابی ان کے قدم چومتی ہے اور جو قومیں وقت کے دھارے کا ساتھ نہیں دے سکتں۔وہ مدار سے ہٹ کر تباہ ہو جاتیں ہیں۔اور گردش زمانہ میں گم ہو جاتی ہیں۔ان کا سراغ بھی نہیں ملتا۔

اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا،پھر
دوڑوزمانہ چال،قیامت کی چل گیا

میرے پاکستان میں امیر اور غریب میں کوئ فرق باقی نہ رھے سب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں جو دنیا بھرمیں مثال بنے مال کی محبت کسی کے دل میں نہ رھے سب برابر ہوں۔

ہمیں اپنی زبان کا بھی پاس ہونا چاہیے حقیقت یہ ہے کہ کوئ ملک ایسا نہیں ہے جسنے اپنی زبان چھوڑ کر ترقی کی ہو۔ایک ہمارا ملک ہی ایسا ہے جہاں ایک ایسی زبان میں تعلیم دینا ضروری سمجھا گیا ہے جو ملک کے کسی حصے کی زبان نہیں ہے اور ملک کی ایک بہت بڑی اکثریت جسے سمجھنے سے معذور ہے۔

زبان غیر کو پڑھ پڑھ کے وقت کھوتے ہو
یہ تم ترقیوں کے حق میں کانٹے بوتے ھو
پڑھو تم اپنی زباں میں کہ فن کی ہو تسہیل
تمہاری منزل مقصود کی یہی ہے سبیل

غیر زبان میں تعلیم کے ذریعے ہم ہنرمند افراد پیدا تو کر سکتے ہیں مگر سائنسدان اور تخلیقی خصوصیات کے حامل افراد پیدا نہیں کر سکتے۔

آج ھمارے ملک میں غیر ملکی طور طریقے آچکے ہیں۔ہم مغربی لباس اور لیٹریچر کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں۔عورتیں مردوں جیسا لباس پہنتی ہیں اور مردوں نے عورتوں جیسی شکل و صورت اختیار کر رکھی ھے،
نظر آئیں بے پردہ جو چند بی بیاں
اکبر غیرت ایمانی میں گر گیا
لگا پوچھنے کہ پردہ کدھر گیا
کہنں لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑگیا
کبھی سوچو تم اپنی متعدد پیداوار کا حصہ باھر بھیج دیتے ھو لوگوں کئلیے مثال بنو لوگوں کو اپنے لئے مثال مت بناو، دوسروں کے رسوم و رواج کی اندھا دھند تقلید نہ کریں 'اپنی قومی شناخت کو قائم رکھنے کئلیے اپنا لباس پہنیں اور اپنی زبان بولیں'

سورج ھمیں ھر شام یہ درس دیتا ھے
مغرب کی طرف جاو گے تو ڈوب جاو گے

پورے ملک میں ایک فکری انقلاب کی ضرورت ھے۔ھر شخص کیلئے لمحہ فکر یہ ھے کہ آیا میری زندگی ان اصولوں سے ھم آ ہنگ ھے جو قرآن مجید عطا کر تا ھے وہ سنہرے اصول ان تمام خرابیوں کو دور کر سکتے ہیں، اب ضرورت اس امر کی ھے کہ جمہوری اقدار پامال نہ ہوں،شورائی نظام کے ساتھ خدا کی زمین پر خدا کا حکم چلایا جائے۔
زمین خدا کی ھے فرمان بھی خدا کا چلے گا

اور جہاں تک دینی پہلو کا ذکر ھے۔کچے پکے دو رکعت کے امام جب راگ سیکھ لیتے ہیں۔تو عام آدمی کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے لگتے ہیں۔ عام آدمی کی جان،مال اور آبرو کی مکمل ذمہ داری حکومت پر ہو،وہ بغیر اندیشہ ھائے اندیشہ دوردراز کے پر امن زندگی گزارنے کے قابل ہوں،اسکے مسائل فوری طور پر حل کئے جائیں۔مہنگائی کا خاتمہ ہو،پشتینی نوابوں،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں سے اسے نجات دلائی جائے،ملک کے کسانوں کو ان کا پورا حق دیا جائے
چلیں سو آندھیاں،طوفان آیئں
چراغوں کا نگر باقی رہے گا
عدو جو چاہے حربہ آزمالے
ہمیشہ میرا گھر باقی رہے گا
پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Farooq Ahmad

Read More Articles by Farooq Ahmad: 3 Articles with 7606 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Aug, 2016 Views: 425

Comments

آپ کی رائے