یہ مسجد نہیں گرے گی

(Dr Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)
۱۱/ رجب ۱۴۲۸ھ، ۲۷/ جولائی 2007ء بروز جمعۃ المبارک بعد مغرب ’’جامعہ اشرفیہ سکھر‘‘ کا ختم بخاری شریف کا پروگرام تھا، جس کے لئے جامعہ کی انتظامیہ نے بڑے بڑے چادر نما رنگ برنگ پوسٹر چھپوائے ہوئے تھے، بالکل وسط میں سب سے مرکزی اور نمایاں حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اﷲ خان صاحب مدظلہم کا نامِ گرامی تھا، دیگر اہم شخصیات میں پیرِ طریقت حضرت مولانا عبدالصمد ہالیجوی صاحب اور سینیٹر ڈاکٹر خالد محمود سومرو صاحب بھی تھے۔

جامعہ کے مہتمم جناب حضرت مولانا محمد اسعد تھانوی صاحب اس پروگرام کے لئے کئی دن پہلے سے سرگرم ہوجاتے ہیں، مولانا قاری خلیل احمد بندہانی، اور مولانا ڈاکٹر حق نواز اعوان صاحب مدرسے کے نظم وضبط کی طرح اس پروگرام میں بھی مولانا تھانوی کے دستِ راست و دستِ چپ کا کردار ہوتے ہیں۔
جامعہ اشرفیہ سکھر، اندرونِ سندھ کے مدارس میں صفِ اول کا ادارہ ہے، حضرت مولانا محمد احمد تھانوی صاحب نوّر اﷲ مرقدہ نے خونِ جگر دے کر اس کی تعمیر وترقی کاسامان کیا تھا، بنین وبنات میں دورۂ حدیث کے علاوہ تحفیظ وافتاء کے شعبے بھی یہاں خوب فعال ہیں، مولانا اسعد تھانوی صاحب ادارے سے اپنی وابستگی فخر سمجھتے ہیں، اسی لئے انہوں نے اس کی خدمت میں اب اپنے خانوادے کے نوجوان اور اَپ ٹوڈیٹ خون کو شامل کرنا شروع کردیا ہے، کہ ’’گر قبول افتد زہے قسمت‘‘۔

’’جامعہ اشرفیہ ‘‘صحیح معنوں میں سکھر سٹی کا جھومر ہے، یہ شہر مُلّا عبدالرحمن سکھروی افغانی کا قائم کردہ ہے، جو بڑے ولی اﷲ تھے، سنا ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی -نوّر اﷲ مرقدہ- اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی -قدس سرہ- بھی براستہ سمندر بذریعہ لانچ اس بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، حضرت امروٹی صاحب کو خلعتِ ولایت انہوں نے ہی عطا کی تھی، حضرت پیر حزب اﷲ شاہ پگارو بھی آپ کے متوسلین میں سے تھے۔

یہاں جامعہ حفصہ -رضی اﷲ عنہا- کا تذکرہ ویسے بھی زبانِ زد عام تھا، حضرت شیخ صاحب کی موجودگی اور لال مسجد میں متبادل انتظام پر ہنگامے کی وجہ سے خاصا گرم بھی تھا، حضرت کے حکم سے میں مسلسل اسلام آباد میں بعض دوستوں سے رابطے میں تھا، بطورِ خاص مولانا محمد وسیم خان صاحب سے، جو حضرت کو لال مسجد کے اندر سے پَل پَل کی خبریں دے رہا تھا، اسی طرح مولانا اسد اﷲ عباسی صاحب اور کراچی میں حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب بھی اس حوالے سے گویا حضرت شیخ الحدیث سے آن لائن تھے۔

انہیں مذکورہ بالا حضرات کے توسط سے آب پارے میں بم بلاسٹ، لال مسجد میں اضطراب وشورش اور بلوچستان کے ایک وزیر کے قتل کی خبریں ملیں، یہاں اعوان صاحب کے ذریعے ایک عجیب بات یہ سامنے آئی، کہ آنٹی شمیم نے پہلے سکھر میں اپنے کاروبار کا غُل غپاڑا مچایا ہوا تھا، اور کامیاب کاروبار کی بناء پر خود حکومت ہی نے اسے اسلام آباد طلب کیا تھا۔

اسی لال مسجد والی بحث کے زمرے میں ڈاکٹر اعوان صاحب نے سنایا کہ: انگریز کے دور میں یہاں سکھر کے قریب جونیجو گوٹھ میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی، جو آج بھی قائم ہے، وہ مسجد کسی نئی نہر کی سیدھ میں آرہی تھی، گرانے اور منہدم کرنے کا حکم آگیا، حضرت مولانا امروٹی صاحب -قدس سرہ- (جن کے ہاتھ پر مولانا عبیداﷲ سندھی مشرف بہ اسلام ہوئے تھے) مسجد میں بیٹھ گئے، فرمانے لگے پہلے ہمیں گرایا جائے، پھر مسجد گرائی جائے، کچھ لوگوں نے جن میں ہم جیسے نام کے مولوی اور کچھ نمبردار بھی شامل تھے، کہنے لگے: حضرت یہ پرانی وبوسیدہ چھوٹی سی مسجد ہی تو ہے، ویسے بھی غیر آباد ہے ، ایسی کتنی مسجدیں ہیں جو اپنی موت آپ مررہی ہیں، گِر رہی ہیں، آپ کو ان کی فکر نہیں ہے، اس مسجد (چھوٹی سی مسجد) کی فکر ہے، حضرت فقیر آدمی تھے، اپنی نرالی شان تھی، سید بھی تھے، فرمانے لگے، جن خستہ مساجد کی آپ بات کررہے ہیں، وہ طبعی موت مررہی ہیں اور یہ شہید کی جارہی ہیں، وہ قانونِ فطرت ہے اور یہ تعدی وجارحیت ہے، اس لئے یہ ہم نہیں ہونے دیں گے۔ لاکھ کوششوں کے باوجود حضرت امروٹی صاحب کو کوئی طاقت وہاں سے نکال نہیں سکی۔ سرکار نے مجبور ہوکر اس مسجد کے نیچے کی بنیادیں پختہ بناکر نہر کے درمیان ویسے ہی رہنے دی اور مستزاد یہ کہ دونوں طرف سے اس کے لئے دو چھوٹی چھوٹی پُلیاں بھی تعمیر کردیں۔ یہ تاریخی واقعات ڈاکٹر اعوان صاحب کی کتاب (تذکرۂ مشائخِ سندھ، ص: ۴۱۰/ ۴۱۴، وص: ۴۷۳-۴۵۱) میں موجود ہیں۔

مغرب کے بعد حضرت نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا مفصل درس دیا، اور پھر علماءِ کرام کے عصرِ حاضر کے چیلنجوں اور اُن کے مقابلے کے لئے مختلف اسٹراٹیجز کا تذکرہ فرمایا، جس خاص نکتے کو آپ نے موضوعِ سخن بنایا وہ یہ تھا کہ جوش کے بجائے ہوش اور تشدد کے بجائے حکمتِ عملی کو اپنا اثاثہ سمجھ کر اپنایا جائے۔

روانگی صبح سات بجے بائی ائیر ہوئی، واپسی رات ’’ملت ٹرین‘‘ سے ہوئی۔
(روزنامہ اسلام ۱۵ رجب ۱۴۲۸ھ)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 482014 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
10 Aug, 2016 Views: 1358

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ