ہمارا پرچم

(Kosar Naz, )
چودہ اگست 1947 کو ایک سبز ہلالی پرچم دنیا کے نقشے پر ابھراایک ایسی مملیکت کی سرزمین پر جسکے حصول کے لیئے دن رات ایک کردیا گیا لوگوں نے مال جان عزت و آبرو سب قربان کردیا لیکن آزادی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔۔ اور آخر کار قائداعظم اور انکے ساتھیوں کی انتھک محنت ، کاوشوں اور قربانیوں نے علامہ اقبال کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرکے ایک نئی اور زندہ پیکر اسلامی مملیکت کی بنیاد رکھی۔۔اور اسکی فضاؤں میں ایک سبز ہلالی پرچم بلند کیا جسکا کا رنگ ڈیزائن اور سائز اس قوم کے عزائم واْمنگوں کا ترجمان تھا۔۔جیسے کسی بھی پرچم سے ان کے نصب العین کا اظہار ہوتا ہے ایسے ہی ہمارے پرچم پر موجود سبز رنگ مسلمانوں اور سفید رنگ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو ظاہر کرتا ہے جبکہ سبز حصے کے بالکل درمیان میں سفید چاند(ہلال) کا مطلب ترقی اور پانچ کونوں والے ستارے کا مطلب روشنی اور علم کو ظاہر کرنا ہے۔۔۔اور اسی چاند تارے کو دیکھ یہی خیال من میں ہوتا ہے کہ
جان سے ہمیں کیوں نہ یہ پیارہ رہے
چاند روشن چمکتا یہ ستارہ رہے

پرچم کسی بھی ملک یا قوم کی شناخت ہوتا ہے اور اسی پرچم سے اس قوم کی عزت ، مان ، محبت ، جذبے سب جڑے ہوتے ہیں ساری پہچان صرف ایک اسی پرچم کی بنیاد پر ہوتی ہے چاہے وہ کھیل کا میدان ہو یا اولمپکس کی ڈور۔۔۔۔ آسکر جیتنا ہو یانوبل پرائز کا حق دار بننا ہو۔۔ پرچم لہرا کر اسکی شناخت کروائی جاتی ہے۔۔۔ ایسے میں ہمارا فخر ہمارا غرور وہی ایک پرچم ہوتا ہے جو ہماری شناخت ظاہر کرتا فضا میں سربلند ہوتا ہے۔۔اور اس پرچم کی سربلندی بس یہی بات کہتی ہے کہ
ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم
یہ پرچموں میں عظیم پرچم
عطائے ربِ کریم پرچم ، ہمارا پرچم

یوں تو پرچم ِ پاکستان کا تاریخی طور پر رشتہ 30 دسمبر 1990کو ڈھاکا میں ہونے والی جنوبی ایشیاء کے سرکردہ مسلم رہنماؤں کے اس اجلاس سے جاملتا ہے جسمیں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کی منظوری دی گئی تھی۔۔ اور اس پرچم میں بھی سبز اور سفید رنگ واضح اور چاند تارہ کندہ تھا مگر 11 اگست 1947 لاہور میں پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے باقاعدہ طور پر قائداعظم کے سامنے منظوری کے لیئے پیش کیا جس کا ڈیزائن امیر الدین قدوائی نیمرتب کیا اور اسے بنانے کا سہرا دو بھائیوں الطاف حسین اور افضل حسین کے سر جاتا ہے جسے قائداعظم نے اعزاز کی صورت منظور کیا اور جو اہل پاکستان کی آزادی ، خود مختاری ، خوشحالی ، اور برابری و علمبرداری کو ظاہر کرتا ہے اور اسی پرچم کی بنیاد پر یہ سوہنی دھرتی اس حقیقت کا خوبصورت و دلنشین اعلان کرتی ہے کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے باسی ہیں اور اس سرزمین کے چپے چپے پر لہراتا ہمارا مان ، فخر ، احترام، آنکھوں کو خیرا اور اور دل کو ٹھنڈک پہنچانے والے اس پرچم پر موجود چاند تارے میں ہماری جان ہے کیونکہ یہ ہماری آزادی کی سب سے خوبصورت علامت ہے بقول شاعر۔۔۔
ہماری عظمت کا پاسبان ہے
ہماری ملت کا ترجمان ہے
ہمارے احساسات کا بیان ہے
ہماری عبرت کا آسمان ہے
عظیم ملت عظیم پرچم
عطائے ربِ کریم پرچم، یہ ہمارا پرچم۔۔۔

ہاں میں مانتی ہوں جب آپ اور میں اپنی سرحدوں پر یا انڈیا پاک باڈر کی عمارتوں پر سبز ہلالی پرچم لہراتا دیکھتے ہیں تو دل جوش سے بھر جاتا ہے آنکھیں نم ہوجاتی ہیں پاکستانی ہونے کا غرور۔۔۔ دل کو سینہ چیر کر باہر آنے پر مجبور کررہا ہوتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اسی پرچم کی زبانی ہم مخالفوں سے آزادی کی زبان میں محوِ گفتگو ہوتے ہیں اور قومی پرچم کی سر بلندی ہمارا سینہ فخر سے پھلا دیتی ہے کہ اسی پرچم کی سر بلندی میں ہماری بلندی پنہاں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں جو آزادی ہم نے حاصل کی ہے وہ محض ہمیں پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملی ہے بلکہ آزادی کا مطلب تو کسی تپتے صحرا سے گھنے درخت کی چھاؤں میں آجانے کا نام ہے ، ظلمتوں سے نکل کر نور کو پالنے کا نام ہے یا پھر وہ گھر جسکا کوئی نعم البدل نہیں کے اپنا ہوجانے کا نام ہے۔۔۔۔ہاں ہم لڑنا جانتے ہیں ہم میں فتح کرنے کا جذبہ موجود ہے جبھی تو پاکستان جیسی عظیم سر زمین کو لاکھوں جانوں کا نذرانہ دے کر بھی وصول کرکے ہی دم لیا تھا اور تبھی تو شاعر نے بھی کہا تھا کہ
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں
سانجھی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں

لیکن جہاں ہم میں قومی پرچم کے لیئے بے تحاشہ فخر پایا جاتا ہے وہیں اس قوم کی سیاسی پارٹیوں میں مختلف رنگوں کے جھنڈوں کی برسات ہے اور انہیں جھنڈوں کے لیئے ہمیں لڑتے ہوئے بھی دکھایا جاتا ہے ایسے میں پاکستان کا پرچم کہیں پیچھے نہیں رہ گیا ؟؟اور نہ صرف سیاستدان بلکہ سیاسی جماعتوں میں موجود اکثر نوجوان قومی پرچم پر سیاسی پرچم کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں کیا یہ وہی نوجوان ہیں جو واہگہ باڈر پر قومی پرچم کو لہراتے دیکھکر پرجوش نعراتے لگاتے نظر آتے ہیں اگر یہ وہی ہیں تو کیا یہ تضاد نہیں کہ دشمن کے سامنے تم وہ لبادہ اوڑھ لو جو تمھارے جنون کو ظاہر کرئے اور گھر میں آکر بیدردی سے وہ لبادہ نوچ ڈالو ؟؟؟ کیا پرچم کی یہی اصلی قدر ہے کہ گھر میں تمھارے لیئے وہ پرچم صرف چودہ اگست پر ٹانگنے والا سامنا رہ جائے؟؟ اگر تمھیں آزادی کی یہ خوبصورت علامت میسر ہے تو اسکی قدر کیا یہ ہوگی؟؟؟؟ نہیں بالکل نہیں آزادی کی قدر ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ آزادی کی قدر اور اس پرچم سے لگاؤ کا اندازہ تو ان فوجی جوانوں سے لگا سکتے ہیں جو اس پرچم میں لپٹ کر سپرد خاک ہونا چاہتے ہیں جن کی ہر پل یہی ایک خواہش ہوتی ہے وہ اپنی جان وطن پر نثار کرکے سبز پرچم میں اپنے جسم کو لپیٹے ابدی سفر پر روانہ ہوں۔۔ یا آزادی کی قیمت تو بنگلہ دیش میں محصور ان پاکستانیوں سے بھی لی جاسکتی ہے جنہیں پاکستان سے محبت کی سزا دے کر تمام حقوق سے بری الذمہ کردیا ہے مگر اسکے باوجود ان پاکستانی بھائیوں نے محبت کے جذبے کو سرد نہیں ہونے دیا اور اپنے دلوں میں پاکستانی پرچم کے لیئے مچلتے جذبات کی آگ کو بجھنے نہیں دیا۔۔۔۔ اور اگر اس پرچم کی قدر و قیمت پوچھنی ہے تو جموں کشمیر کی اس بیٹی آسیہ اندابی سے پوچھیں جو ہر اختلاف سہہ کر بھی ہزاروں ظلم سہہ کر بھی دشمنوں کے بیچ پچھلے پچیس سالوں سے پاکستانی پرچم لہراتی آرہی ہے اور اس پرچم و آزادی کی قیمت وہ کشمیری جوان بتا سکتے ہیں جو آئے روز دشمن فوج کے ہاتھوں زخمی ہوتے لہو بہاتے پیاروں سے جدا ہوتے قبرستان چلے جاتے ہیں انکے پیارے بت سکتے ہیں ہم اور آپ کیا جانتے ہیں اسکی قدر؟؟؟؟ جذبہ حب الوطنی تو ان میں موجود ہے جو دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوئے ہیں ہمیں تو یہ جھنڈا بازار سے مل جاتا ہے لیکن جنہوں نے اسے پانے کے لیئے جانیں تیاگ دیں انہوں نے جانوں کے نذرادنے دینے سے پہلے بھی ہر طرح کی قربانیاں دی تو یہ پرچم ہمارے وطن کی آن شان بنا۔۔ جسے آج صرف چودہ اگست پر ہی اہمیت حاصل ہوتی ہے
گلوں میں باس چمن کا نکھار زندہ رہے
دعا کرو کے سرشت بہار زندہ رہے
میں ہزار بار پیوند خاک ہوجاؤں مگر
میرا وطن اے پروردگار زندہ رہے

جہاں میں یہ کہتی ہوں کہ ہمارے درمیان پاکستان سے محبت صرف وقتی جذبہ رہ گئی ہے ضرورتاً ابھر آتی ہے وہیں میں اس بات سے بھی انکار نہیں کروں گی کچھ متوالے کچھ دیوانے جن کی تعداد لاکھوں میں وہ آج بھی ہر دن اسی پرچم کو لے آزادی کی زبان میں گفتگو کرنا جانتے ہیں اسی پرچم کی سربلندی کے لیئے انکی ہر کوشش ہے انکی انکھوں میں خواب صرف پاکستان ہی کے لیئے بستے ہیں انکے دلوں میں پاکستان کے محبت و جذبہ ہمیں رلا دیتا ہے پاکستانی پرچم سے عشق انہیں سر رہ گر پاکستانی پرچم کو چومنے پر مجبور کردیتا ہے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ
اس مٹی سے ابھرتے ہیں محبت کے گلاب
پھوٹتی ہے اس مٹی سے دعا کی خوشبو

ہاں یہی وہ پاکستانی ہیں جنکا ساتھ پاکر قائداعظم نے ہمیں پاکستان دیا یہی تو قابلِ فخر لوگ ہیں اور انہی کی محبت و چاہت پر تو ہماری ارضِ پاک قائم و دائم ہے خدا ان متوالوں کو ہمیشہ سلامت رکھے وطنِ عزیز و پرچم پاکستان کو تابندہ رکھے اور آخر میں صرف یہی کہوں گی کہ آزادی ایک جنون ایک جہد مسلسل ہے ، منتقل کرنا ہے ہمیں۔۔ اپنی نسل کو شعور دینا ہے ارضِ پاک سے محبت کا اسکی تعمیر کا۔۔۔
اپنی مٹی سے وفا ہم بھی کریں تم بھی کرو
اسکا جو حق ہے ادا ہم بھی کریں تم بھی کرو۔۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kosar Naz

Read More Articles by Kosar Naz: 18 Articles with 8806 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Aug, 2016 Views: 550

Comments

آپ کی رائے