آزادی ۔۔۔اقرا ٔاور طاہرہ

(Tanvir Sadiq, Lahore)
پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ اقرا ٔاکرم کا تعلق چیچا وطنی سے ہے۔وہ ایک حساس بچی ہے ۔اس کے ارد گرد بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو اس کے نازک مزاج کو ٹھیس پہنچاتی ہیں اس کی روح کو زخمی کر جاتی ہیں۔اک ٹرپ محسوس کرکے وہ لکھنا چاہتی ہے۔ وہ اپنے احساس کو لفظوں میں ڈھالنا چاہتی ہے۔ آزادی اسے بہت عزیز ہے مگر وہ پھر بھی بے چین ہے۔ اس کا یہ چھوٹا سا مضمون اہل فکر کے لئے فکر کا باعث ہے۔ وہ لکھتی ہے؛
آزادی ۔۔۔۔۔۔آزادی مانگ رہی ہے۔
’’تاریخ پرآزادی کے حوالے سے نظر ڈورائیں تو 1857 کی جنگ آزادی بر صغیر پاک و ہند میں یہاں کے باشندوں کی پہلی کاوش تھی جو وقتی طور پر ناکام ہوئی مگر وہ جذبہ زندہ رہا۔ لوگ جہد مسلسل کرتے رہے۔ قربانیاں دیتے رہے ۔انہی لا متناعی قربانیوں کانتیجہ آزادی کی صبح نو تھی، اک نئی سحر تھی۔1947 میں دنیا کے نقشے پر وجود میں آنے والی اک نئی مملکت پاکستان تھی۔مگر یہ کیسی آزادی ہے ہم آزاد ہو کر بھی آزاد نہیں۔ یہ کیسی منزل ہے کہ قربانیوں کا سلسلہ تھمتا ہی نہیں۔منزل تو سکون کا نام ہے ، مگر یہاں سکوں نہیں۔ہماری جانیں اب بھی داؤ پر ہیں۔

سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں ہمیں رٹایا جاتا ہے کہ ہم آزاد ہیں، قائداعظم نے آزادی کو تین لفظوں میں قید کیا تھا،’ ’ایمان، اتحاد، تنظیم‘‘۔ آج یہ چیزیں ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتیں تو آزادی کیسی۔سچ تو یہ ہے کہ ہماری جانیں پھر سے داؤ پر ہیں۔ ایک انجانا بم دھماکہ اور ساٹھ ستر انسانوں کو مار دے، ساٹھ ستر خاندانوں کو تباہ کر دے ، ساٹھ ستر عورتوں کو بیوہ کر دے۔ ساٹھ ستر ماؤں اور باپوں کو جیتے جی مار دے۔ سینکڑوں بچوں کو یتیم کردے۔یہ کیسی آزادی ہے کہ حکمران اپنی مغلیہ سلطنت کی تعمیر میں مگن ہیں انہیں احساس ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونا چاہیے۔، کون کس دہشت گرد کی گولی کا نشانہ بنا، کس کو ٹارگٹ کر کے مارا گیااور کون بغیر ٹارگٹ کے جان گنوا بیٹھا۔ روز بچے اغوا ہوتے ہیں۔ ماؤں کے آنسو کہ تھمتے ہی نہیں۔کوئی بڑا آدمی قتل ہو جائے، کسی بڑے آدمی کا بچہ اغوا ہو جائے تو کچھ ہلچل ہوتی ہے۔ عام آدمی کے بار ے تو بس ایک خبر چلتی ہے، ہمدردی کے دو بیان آتے ہیں اور پھر اندھیرا چھا جاتا ہے خبروں پربھی اور غریب آدمی کے مقدر پر بھی۔ حکمرانوں کو فقط اپنے اقتدار سے دلچسپی ہے۔ جمہوریت فقط نام کی ہے عملی طور پر حکومت اور عوام کا آپس میں کوئی تعلق نہ تھا نہ ہے اور نہ آئندہ نظر آرہا ہے۔البتہ قابل ستائش ہیں وہ جوان جو اس ملک کی اور ملک کے عوام کی حفاظت کے لئے ہنستے ہنستے اپنی جان نچھاور کر جاتے ہیں، قابل قدر ہیں ایدھی جیسے لوگ جو جیتے جی بھی اس ملک کی خدمت کرتے ہیں اور مر کر اپنے اعضا اور آنکھیں تک اس ملک کے عوام کی نذر کر جاتے ہیں۔

لوگوں کو سماجی اور معاشی طور پر بد حال کر دیا جائے تو ان کا کسی نئے انقلاب کی طرف مائل ہونا بہت فطری ہے۔مگر کوئی حقیقی لیڈر نظر نہیں آتا۔ نظر آنے والے لیڈر صرف کرسی کے متلاشی ہیں۔ لوگ مایوس ہیں۔معاشرے میں منافقت عام ہے۔بھیڑ کے روپ میں بھیڑیے، نیکی کا لبادہ اوڑھے ظالم اور مکارہر جگہ صف اول میں نظر آتے ہیں۔ لگتا ہے سچی آزادی آج بھی، اس نام نہاد آزادی سے آزادی کی بھیک مانگ رہی ہے۔‘‘

ایک وقت تھا سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں حکومتی گرانٹ اور مختلف فنڈ زیادہ ہوتے تھے اور طلبا کم۔ اب طلبا کی تعداد کی نسبت فنڈ بہت کم ہوتے ہیں اور جو ہوتے ہیں ان کو خرچ کس طرح کیا جاتا ہے کوئی نہیں جانتا۔ طلبا تشنگی محسوس کرتے ہیں۔غیر نصابی اور ہم نصابی سرگرمیاں ہوتی تو ہیں مگر کچھ تو ان کا انداز بدل گیا ہے اور کچھ طلبا کے بڑھتے ہوئے ہجوم میں بہت سوں کو ان کے ہونے کاپتہ ہی نہیں چلتا۔کبھی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں میگزین اور خبر نامے بڑی باقاعدگی سے شائع ہوتے تھے اور وہ بچے جنہیں لکھنے کا شوق ہوتا اپنے آرٹیکل انچارج اساتذہ کو بھیجتے ۔ انچارج اساتذہ مضمون کی نوک پلک درست کرتے۔ بچے کو اس کی خامیاں بتاتے اور اصلاح کے بعد وہ مضمون کالج یا یونیورسٹی میگزین میں شائع ہو جاتا۔ بچوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی، تربیت بھی ہوتی۔ اب ایسے میگزین شازوناذر ہی نظر آتے ہیں اور جو نظر آتے ہیں ان میں بچوں کے کم اور پروفیشنل کے لکھے مضامین زیادہ ہوتے ہیں ۔ مقصدیت ختم ہو گئی ہے اور نام اور نمود کی ریس میں ہر کوئی شریک ہے۔بعض اوقات کچھ بچیاں اپنے چھوٹے چھوٹے مضامین مجھے دکھا کر پوچھتی ہیں کہ شائع کیسے ہو۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتامگر ان کا طرز تحریر اس قدر خوبصورت ہوتا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ ان کی تھوڑی سی حوصلہ افزائی ان کو ادب کی بلندیوں پر لے جائے گی۔

ہنزہ کی خوبصورت اور حسین وادی میں عطا آباد کی رہنے والی پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ طاہرہ میر کا دل بھی اپنے آبائی علاقے کی طرح بڑا خوبصورت اورحساس ہے۔ وہ اپنے ارد گرد دیکھتی ہے تو ایک درد محسوس کرتی ہے اور پھرچلا چلا کر سب کو احساس دلاتی ہے کہ آزادی کو صرف اپنے تک ہی محدود نہ کرو۔ کچھ اور لوگ بھی آپ کی توجہ کے محتاج ہیں انہیں بتائیں کہ وہ بھی آزاد ہیں۔آزادی منانا ان کا بھی حق ہے۔ مگر وہ بھوک مٹا پائیں تو کچھ اور سوچیں۔ ان کے معاشی حالات نے انہیں قید کر رکھا ہے جس قید سے رہائی ان کے بس میں نہیں۔ آزادی کا یہ جشن ان کے کسی کام نہیں آتا۔ ان کی سوچ کو چھوتا بھی نہیں۔ وہ اپنے بارے سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہمیں ان کے بارے سوچنا ہو گا۔ طاہرہ کایہ مضمون ہماری توجہ کا طلبگار ہے۔

کیا ان کے مقدر میں آزادی نہیں۔
’’چلچلاتی دھوپ، بلا کی گرمی، پیاس کی شدت سے جلتے گلے، خشک ہونٹ، حبس سے گھٹتا دم، ان تمام باتوں کے باوجودزندگی رواں دواں۔لوگ آزادی کا جشن مناتے ہوئے۔دور دور تک سبز جھنڈوں کی بہار۔کھلکھلاتے چہرے مگر ذرہ غور تو کریں۔ایک طرف غریب اور بے وسیلہ لوگ۔ پیٹ کے دوزخ کو ایندھن کی فراہمی کے لئے بھاگ دوڑ میں مصروف۔ گو ان کے پاؤں میں سکت نہیں مگر ویران آنکھوں میں ایک حسرت لئے کہ کاش یہ ہوتا تو یوں ہوتااور گر یوں ہوتا تو یہ ہوتا۔مگر وہ یوں اور یا کی قید سے نکل ہی نہیں پاتے۔پر ہجوم سڑک پر ٹریفک کے سیل رواں کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کی حسرتوں کا سفر بھی بہت ہی سست ہوتا ہے۔

دوسری طرف بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھے لوگ۔گاڑیوں میں ائر کنڈیشن پوری رفتار سے کام کر تے ہوئے۔انہیں گرمی کا احساس ہی نہیں۔ یہ لوگ رکتے ہیں، کھاتے ہیں، پیتے ہیں ، ٹھنڈی ٹھنڈی مزے دار چیزیں، آئس کریم، جوس اور بہت کچھ اور پھر اپنے سفر پر اسی تیز رفتاری سے روانہ ہو جاتے ہیں ان کے نزدیک آزادی کا مفہوم ہی شاید کھانا ، پینااور عیش کرنا ہے۔وہ آزادی کی خوشی میں کھانے کی میز پر بیٹھتے ہیں تو انواع و اقسام کے کھانے میز پر چن دئیے جاتے ہیں۔ وہ کھا نہیں سکتے لیکن بہت سی خوراک ضائع کر دیتے ہیں۔ انہیں احساس ہی نہیں کہ دکان سے ا ن کی گاڑی تک آنے والا لڑکا کس حال میں ہے۔کڑکتی دھوپ کس طرح اس کے سر میں گھس رہی ہے۔ تپتی زمین پر اس کے ننگے پیر کس قدر جلتے ہونگے۔ دوسروں کو احساس نہیں مگر وہ بچہ عادی ہے۔ اس کی مفلسی نے اس کی حس لطافت کو ختم کر دیا ہے۔ اس کے خراب حالات نے اس کی سوچ پر پہرے بیٹھا دئیے ہیں ۔ وہ کیا آزادی منائے۔ اس کے معاشی حالات اسے موقع ہی نہیں دیتے۔ اتنی سخت گرمی اسے فرق نہیں ڈالتی۔ وہ اپنے ارد گرد سے بے نیاز، کچھ محنت کرکے معمولی سی رقم کمانے میں مگن ہے۔ تمام دن وہ مشقت اس لئے کرتا ہے کہ بیمار باپ کی دوائی لا سکے، لاچار ماں کی مدد کر سکے، چھوٹے بہن بھائیوں کو زندہ رہنے کے لئے روٹی کھلا سکے۔ وہ چھوٹا سا بچہ جو کمر پر ایک بیگ جس میں پالش کرنے کا سامان ہوتاہے، لٹکائے سارا دن مارا مارا پھرتا مشقت کرتا ہے، کیا آزادی کا جشن اس کا حق نہیں۔ ہمارے بچے جو لمحوں میں سینکڑوں روپے غیر ضروری خرچ کر جاتے ہیں کیا آزادی صرف ان کے لئے ہے۔۔ کاش ہمارے حکمرانوں اور آزادی کا جشن منانے والوں کو احساس ہو جائے کہ آزادی اس کا بھی حق ہے۔ اس کے بھی جذبات ہیں۔ ہماری آزادی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک ایسے مجبور اور بے آسرا لوگ آزادی سے آشنا نہ ہوجائیں۔ جب تک یہ لوگ معاشی طور پر آزاد نہ ہو جائیں، کاش ہم ان کے بارے بھی سوچیں۔آج آزادی کا دن ہم سے تقاضا کرتا کہ ہم اپنے غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کریں اور کچھ نہ کچھ بچا کر ان بچوں کی خوشیوں کا بھی سامان کریں تاکہ یہ بچے بھی آزادی کے مفہوم سے آشنا ہو سکیں۔‘‘
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 440 Articles with 226954 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
15 Aug, 2016 Views: 315

Comments

آپ کی رائے