علم اور کتاب سے محبت کیجئے

(Dr. Muhammad Javed, Dubai)
روز اول سے ہی ا نفرادی سطح ہو یا اجتماعی سطح انسانی معاشروں کی قسمت کا فیصلہ علم و عقل ہی کرتے رہے ہیں، اور عصر حاضر میں بھی علم کی طاقت ہی اقوام کو مسابقت کے میدان میں سر خرو کر رہی ہے، جو قومیں جہالت کی فضا میں سانس لیتی ہیں وہ زندگی کے ہر شعبے میں گھٹن کا شکار ہو کر زوال کے گڑھوں میں گر جاتی ہیں۔۔۔۔
جب سے انسان نے اس کرہ ارض پہ اپنے زندگی کا سفر شروع کیا، اپنی عقلی قوتوں کو استعمال میں لایا اور اور رفتہ رفتہ جنگلوں کی زندگی سے نکل کر نئے تمدن اور تہذیبوں کو تخلیق کرنے لگا، ہزاروں سالوں پہ محیط اس تاریخ کا اگر تجزیہ کیا جائے تو انسان کی اس ترقی اور ارتقاء کے پیچھے جو قوت محرکہ تھی وہ علم و عقل ہی تھی۔

انسان نے جب جب علم کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط سے مضبوط کیا اسے آگے بڑھنے اور اپنے لئے آسانیاں پیدا کرنے میں کامیابیاں نصیب ہوئیں۔ آج بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کے جوکرشمے ظاہر ہو رہے ہیں اور ان دیکھی دنیاؤں تک رسائی ہو رہی ہے یہ سب صرف علم ہی کی بدولت ہے۔

یہ سچ ہے کہ وہ خاندان، قبیلہ، قوم اور ریاست جو اپنے اندر تعلیم کو ضروری قرار دیتے ہیں، جوعلم وتحقیق کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں، ان کی زندگی میں تہذیب، شائستگی، اورمعاشی خوشحالی کا دور دورا ہوتا ہے۔ عام زندگی کا ہی مشاہدہ کر لیں، ایک گھر میں سارے ان پڑھ ہیں، ان کے رکھ رکھاؤ، بات چیت،نشست و برخاست ایک پڑھے لکھے خاندان کے گھر سے بالکل جدا نظر آئے گا۔اسی طرح ایک پڑھے لکھے خاندان کی خواتین ایک پڑھی لکھی نسلوں کو پروان چڑھاتی ہیں جبکہ ایک ان پڑھ ماں شاید ہی اپنی اولاد کو تعلیم یافتہ بنا نے کا شعور اس قدر رکھتی ہو جتنی ایک تعلیم یافتہ ماں رکھتی ہے۔ تعلیم جہاں انسانیت سکھاتی ہے، وہاں خالق کائنات کے بارے میں آگہی عطا کرتی ہے،تعلیم ہی سے معاشی آسودگی بھی حاصل ہوتی ہے، پڑھ لکھ کر، نئے نئے ہنر سیکھ کر ایک اچھا اور باعزت روز گار حاصل کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایک ان پڑھ شخص فکری حوالے سے ارتقاء کے سفر سے محروم ہو جاتا ہے، وہ اپنے گرد وپیش وقوع پذیر ہونے والے حالات و علوم سے قطعاً نابلد رہ جانے کی وجہ سے معاشرے میں اپنا حقیقی سماجی، سیاسی اورمعاشی کردار ادا نہیں کر سکتا۔اس وقت بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں وقوع پذیر ہونے والی سیاسی تبدیلیاں جس جمہوری نظام کے تحت ہو رہی ہیں اور جس طرح کی ناہل اور کرپٹ قیادت سامنے آ رہی ہے اس میں سب سے اہم کردار جہالت کا ہی ہے، ملک کی اکثریت ان پڑھ آبادی جس کا تعلق دیہاتوں سے ہے وہ اپنے ووٹ کا درست استعمال کرنا نہیں جانتی، اور ناہل لوگوں کے انتخاب کے ذریعے پورے ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔اگر ملک کے دیہاتوں میں علم کو پھیلایا جائے تو اس کے ساتھ ساتھ ووٹ ، جمہوریت، الیکشن کے بارے میں آگہی اور شعور بھی بڑھے گا، لوگ درست فیصلہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
جب معاشرے کا ہر فرد علم سے محبت کرتا ہے اور اپنی نسلوں کو اچھی سے اچھی تعلیم دلاتا ہے تو اس کے اثرات قومی زندگی پہ بھی پڑتے ہیں اور بحیثیت مجموعی پوری قوم ترقی کی منازل طے کرتی ہے۔تعلیم اور علم سے تعلق رکھنے کا ایک اہم ذریعہ کتاب بھی ہے، یقیناً آج جدید ٹیکنالوجی نے معلومات کی بھرمار کر دی ہے، لیکن کتاب کی جوحیثیت اور اہمیت ہے وہ کسی بھی صورت میں کم نہیں ہوئی، آج دنیا کی ترقی یافتہ اقوام جنہوں نے ٹیکنالوجی کے انقلابات برپا کر دئیے، انہوں نے پوری دنیا کو الیکٹرانک میڈیا کے زریعے باہمی جو ڑ دیا اور معلومات تک رسائی آسان کر دی، ان ترقی یافتہ معاشروں کو دیکھیں تو وہاں وقت کے ساتھ ساتھ کتاب سے لگن اور محبت میں اضافہ ہوا ہے، لوگ راستوں میں گاڑیوں میں ،ٹرینوں میں کتابیں اور اخبار پڑھتے دکھائی دیتے ہیں، مطالعہ کا ذوق ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔ان معاشروں میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں کتابیں چھاپی جاتی ہیں،’’ ایک رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ایک سال میں جتنی کتابیں چھپتی ہیں ان کی تعداد آج تک عربی زبان میں چھپنی والی تمام کتابوں سے زیادہ ہے‘‘

ہمیں اس پہلو پہ ضرور توجہ دینی چاہئے، کتابیں مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ کتابیں لکھنے کا شعور بھی بلند کرنے کی ضرورت ہے، معاشرے میں کروڑوں افراد ایسے ہیں جو زندگی کے مختلف شعبوں سے منسلک ہوتے ہیں، ان کا کئی کئی سال کا تجربہ ہوتا ہے،اپنے تجربات کی روشنی میں نئی تحقیق کو سامنے لاناچاہئے، نئے آئیڈیاز پہ بحث کرنی چاہئے، نئی ایجادات کے بارے میں نئے خیالات کو کتاب کی صورت میں شائع کرنا چاہئے سائنسی موضوعات پہ اس وقت زیادہ لکھنے کی ضرورت ہے،اگر ہم معاشرے میں موجود اردو میں لکھی جانے والی کتابوں کے ذخیروں کا تجزیہ کریں تو سائنس پہ لکھی جانے والی کتابیں نہ ہونے کے برابر ہیں،اور اس کے علاوہ نئے تحقیقی موضوعات پہ بہت کم لکھا گیا ہے صرف پرانے خیالات کو نئے انداز سے پیش کرنے کی روش عام ہے، یا پہلے سے موجود خیالات ہی کو نقل کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے نوجوانوں میں علمی وتحقیقی شعور بیدار کرنے کی سخت ضرورت ہے، کہ وہ کتابوں کے مطالعہ کی عادت ڈالیں ، نئے نئے تجربات کے ذریعے ، نئے خیالات تخلیق کریں اور انہیں سپرد قلم کریں، اس سلسلے میں کمیونٹی کی سطح پہ تحقیقی ادارے بنانے کی ضرورت ہے، جو ایک طرف نوجوان طبقے میں مطالعے کا شوق بڑھائیں اور دوسری طرف انہیں سائنسی علوم کی تحقیق کے ساتھ جوڑے، اور مزید یہ کہ جو پڑھے لکھے افراد ہیں وہ معاشرے میں تعلیم کو عام کرنے کے حوالے سے حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر جہالت کے خلاف جہاد کریں۔

عام طور پہ ہمارے ہاں تقریروں میں تعلیم اور علم کی اہمیت بیان کی جاتی ہے، ہمارے ارباب اختیار جن کی اولادیں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم سے مستفید ہو رہی ہوتیں ہیں، ان کی تقریروں میں بڑا درد ہوتا ہے ناخواندگی کا رونا روتے ہیں لیکن عملی طور پہ انہوں نے اس معاشرے کو ایک گھسا پٹا تعلیمی نظام دیا ہوا ہے جو عصری تقاضوں سے بالکل میل نہیں کھاتا ، سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیمی نظاموں کو عصری تقاضوں کے مطابق استوار کرنا یہ ریاستی نظام کی زمہ داری ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں ریاستی نظام ایک مخصوص طبقے کی علمی و تعلیمی ضروریات تو پورا کر رہا ہے لیکن اس ملک کی اکثریتی عوام کو جاہل رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ملکی سطح پہ کوئی ایسا مفید عملی نظام موجود نہیں ہے جو ملک کی نصف ان پڑھ آبادی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرے ، اسی علم دشمنی یا غفلت کا نتیجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ سیاسی، معاشی اور اخلاقی پستیوں میں مبتلا ہو چکا ہے۔ضرورت اگر ہے تو عملی اقدامات کی، چاہے وہ حکومتی سطح پہ ہوں یا کمیونٹی کی سطح پہ،صرف تقریریں کرنے سے یا زبانی دعوے کرنے سے تعلیم عام نہیں ہو سکتی، اس کے لئے آج ہی سے عملی کام کا آغاز کرنا چاہئے، میرا مشورہ ہے ان نوجوانوں کو جو پڑھے لکھے ہیں، وہ اپنے اپنے علاقوں، محلوں کی سطح پہ اپنی مدد آپ کے تحت علمی سوسائٹیاں بنائیں، لائبریریاں بنائیں ، اور اپنے ارد گرد ان پڑھ لوگوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں، لوگوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کے لئے مختلف قسم کے پروگرام منعقد کریں۔یقیناً اگر چند نوجوان اس کام کو مل کر دیانت داری سے شروع کریں تو دیگر افراد بھی ان کے ساتھ ہو جائیں گے، لیکن ضرورت ہے پہلا قدم اٹھانے کی۔ نوجوانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ علمی جہاد کا بیڑہ اٹھائیں،اپنے اپنے علاقوں سے اس کام کا آغاز کریں، اپنا فارغ وقت ضائع کرنے کی بجائے اسے بامقصد بنائیں، اپنی صلاحیتوں کو اس مثبت کام کے لئے صرف کریں اس سے آپ کی اپنی علمی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہو گا اور معاشرے کو بھی علم کی دولت سے مستفید کرنے کا باعث بنیں گے، اور اس عمل میں نوجوانوں کی تنظیم کو اس طرح منظم کریں کہ یہ ملک گیر سطح پہ اس فرسودہ ملکی تعلیمی نظام سے بھی چھٹکارے کا باعث بھی بنے۔ اسی طرح سے ہم مل کر ایک تعلیم یافتہ پاکستان کا خواب پورا کر سکتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68524 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
17 Aug, 2016 Views: 1242

Comments

آپ کی رائے