موسم گرما : ـلان کی بہاریں۔۔۔۔۔

(Rukhsar Fatima, Lahore)
موسم گرماکے حوالے سے لان ہمیشہ خواتین کی اولین پسند رہی ہے۔ اس لیے گرم اور اور خشک دوپہر میں بھی لان کے مالبوسات خریدنے کا رش لگا رہتا ہے۔ہر دکان لان کے جدید اور اسٹا ئلش پرنٹس سے بھری ہوتی ہے۔ اور دکان دار اپنی دکان داری چمکانے کی غرض سے حسین اور دلکش رنگوں کے امتزاج والے لان پرنٹس سجائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ جو گرمیوں کی اس چلچلاتی دھوپ میں خواتین کو کسی قوس قزح کی مانند معلوم ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتے ہیں، خریدای کی ترغیب بھی دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہر جگہ سیل کابورڈ چسپاں ہوتاہے۔ جبکہ قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں۔ لان موسم گرماں کی ایک خاص ضرورت ہے۔ پاکستان میں پڑنے والی گرمی کی شدت اور بجلی کی لوڈشڈنگ خواتین کو اس بات پر مجبور کرتی رہتی ہے کہ وہ لان کے چند جوڑے تو ضرور بنا لیں۔جس میں گرمی کا موسم با آسانی گزرجائے۔

لیکن آج کل نظر آرہا ہے کہ خواتین لان سے زیادہ ڈیزائنر لان میں دل چسپی لے رہی ہیں۔ ایک معرف و مشہور لان کے جو پرنٹس ڈیزائن کرتایا کرتی ہے وہ ڈیزائنر کی ڈیزائن کردہ لان کہلاتی ہے۔اور اِس کا نام منظرِعام پر آجاتا ہے۔ دوسری طرف عام لان کہ بھی ڈیزائن کرنے والا ڈیزائنر کہلاتا ہے۔ لیکن چونکہ اِس کا نام منظرِعام پر نہیں آتا یا کمپنی کا نام اِس طرح سے سامنے نہیں آتا، اِس لیے اس کا اثر عام لان کی خریدوفروخت پر ضرور پڑتا ہے۔دوسری طرف ایک اہم وجہ ڈیزائنر لان کی بے تحاشا پبلسٹی اور نمائش ہے۔ٹیلی ویژن، ریڈیو، اخبارات اور میگزین غرض یہ کہ ہر جگہ ڈیزائنر لان کے اشتاہرات کی بھرمار ہوتی ہے۔یہاں تک کہ جب آپ راستے سے گزر رہے ہوتے ہیں تو آپ کو ہر جگہ بورڈ نظر آتا ہے۔ جس پر خوبصورت اور اندام ماڈلز اور اداکارائیں جدید طرز پر ہوئی ڈیزائنر لان کے ملبوسات زیب تن کیے نظر آتی ہیں۔اِس کے علاوہ ہر روز صبح ـ’’مارننگ شوز‘‘ میں سلی میزبان صبح کا آغاز ایک مشہور ڈیزائنر کے خوبصورت اور قیمتی لباس زیب تن کر تی ہیں۔ یہاں تک کہ جس ڈیزائنر کا لباس زیب تن ہوتا ہے اُس ڈیزائنر کا نام اور موبائل نمبر بھی سکرین پر نظر آتا ہے۔ تاکہ خواتین اگر بعد میں چاہیں تو وہ ڈیزئنر سے رابطہ کر سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ خواتین کو ہر زوز گفٹ ہیمپربھی دیئے جاتے ہیں جن میں ایک ڈیزائنر لان کا جوڑا لازمی شامل ہوتا ہے۔جس کی قیمت 2500سے 3000 کے قریب ہوتی ہے۔آج کل خواتین نہ صرف ڈیزائنر لان کی دوڑ میں شامل ہیں بلکہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے پر بھی تلی ہوئی ہیں۔جبکہ دوسری طرف متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین مہنگائی کے اِس دور میں 3000 روپے میں چار عمدہ جوڑے بنا سکتی ہیں ۔ تو اُن کے پاس اتنے ہی پیسوں میں لان کا صرف ایک وہ بھی اتنا قیمتی جوڑا بنانے کا کیا جوازبنتا ہے۔

بحیثیت خاتون لان کی خریدای آپ کاحق بنتا ہے۔ لان کی اس دوڑ میں ضرور شامل ہوں مگر کیا ہی اچھا ہو کہ آپ اپنی ڈیزائنر آپ خود ہی بن جائیں۔ خواتین میں کپڑوں کے استعمال اور ڈیزائنگ کے حوالے سے قدرتی تخلیقی صلاحیتں چھپی ہوتی ہیں جن کو بروئے کار لا کر فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ضروری نہیں کہ مہنگا جوڑا ہی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے، اگر آپ لان کی سادہ یا پرنٹڈ قمیض پر لیس یا ربن لگا کر فراک یا اے لائن اسٹائل میں سلواکر چوڑی دار پاجامہ ، فلیپر یا ٹراؤزر کے ساتھ زیب تن کریں گی تو ہر نظر آپ کی جانب اُٹھے گی اور اگر ساتھ میں شفون کا دلکش دوپٹہ بھی ہو تو واہ کیا ہی بات ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rukhsar Fatima

Read More Articles by Rukhsar Fatima: 3 Articles with 1122 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Aug, 2016 Views: 313

Comments

آپ کی رائے