اُردو زبان کی انفرادیت ،اُردوالفاظ کا درست استعمال

(Prof Talib Ali Awan, Sialkot)
 اُردو زبان کو دوسری زبانوں کے برعکس یہ انفرادیت حاصل ہے کہ اس میں ہر ایک چیز کے لئے الگ الگ الفاظ استعمال ہوتے ہیں جبکہ دوسری زبانوں بالخصوص انگریزی زبان میں ایک لفظ کئی الفاظ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ روزمرہ زندگی میں ہم اُردوتلفظ کی غلطیوں کے علاوہ کئی الفاظ کی غلطیاں بھی کرتے ہیں ،مثلاً:
سانپ کا بچہ ،
اُلّو کا بچہ ،
بلی کا بچہ،
٭ لیکن اردو زبان میں ان کے لئے جدا جدا الفاظ ہیں ،مثلاً:
بکری کا بچہ : ۔ میمنا
بھیڑ کا بچہ :۔ برّہ
ہاتھی کا بچہ :۔ پاٹھا
اُلّو کا بچہ :۔ پٹھا
بلی کا بچہ :۔ بلونگڑہ ؍بلونگڑا
گھوڑی کا بچہ :۔ بچھیرا
بھینس کا بچہ:۔ کٹڑا
مرغی کا بچہ :۔ چوزا
ہرن کا بچہ :۔ برنوٹا
سانپ کا بچہ :۔ سنپولا
سور کا بچہ :۔ گھٹیا
٭ اس طرح بعض جانداروں اور غیر جانداروں کی بھیڑ(ہجوم) کے لئے خاص الفاظ مقرر ہیں ،جو اسم جمع کی حیثیت رکھتے ہیں ،مثلاً:
طلباء کی جماعت
پرندوں کا غول
بھیڑوں کا گلہ
بکریوں کا ریوڑ
گووں کا چونا
مکھیوں کا جھلڑ
تاروں کا جھرمٹ یا جھومڑ
انسانوں کی بھیڑ
جہازوں کا بیڑا
ہاتھیوں کی ڈار
کبوتروں کی ٹکڑی
بانسوں کا جنگل
درختوں کا جھنڈ
اناروں کا کنج
بدمعاشوں کی ٹولی
سواروں کا دستہ
انگور کا گچھا
کیلوں کی گہل
ریشم کا لچھا
مزدوروں کا جتھا
فوج کا پرّا
روٹیوں کی ٹھپی
لکڑیوں کا گٹھا
کاغذوں کی گڈی
خطوں کا طومار
بالوں کا گُچھا
پانوں کی ڈھولی
کلابتوں کی کنجی
٭ اُردو کی عظمت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ ہر جانور کی صوت (آواز) کے لئے الگ لفظ ہے ، مثلاً:
شیر دھاڑتا ہے
ہاتھی چنگھارتا ہے
گھوڑا ہنہناتا ہے
گدھا ہیچوں ہیچوں کرتا ہے
کتا بھونکتا ہے
بلی میاؤں میاؤں کرتی ہے
گائے رانبھتی ہے
سانڈ ڈکارتا ہے
بکری ممیاتی ہے
کوئل کوکتی ہے
چڑیا چوں چوں کرتی ہے
کوّا کائیں کائیں کرتا ہے
کبوتر غڑ غوں کرتا ہے
مکھی بھنبھناتی ہے
مرغی ککڑاتی ہے
اُلو ہوکتا ہے
مور چنگھارتا ہے
مرغا ککڑوں کوں ککڑوں کوں کرتا ہے
طوطا رٹ لگاتا ہے
پرندے چہچہاتے ہیں اونٹ بغبغاتاہے
سانپ پھونکارتا ہے
گلہری چٹ چٹاتی ہے
مینڈک ٹرّاتا ہے
جھینگر جھنگارتا ہے
بندر گھگھیاتا ہے
٭ کئی چیزوں کی آوازوں کے لئے مختلف الفاظ ہیں ، مثلاً :
بادل کی گرج
بجلی کی کڑک
ہوا کی سنسناہٹ
توپ کی دنادن
صراحی کی گٹ گٹ
گھوڑے کی ٹاپ
روپیوں کی کھنک
ریل کی گھڑ گھڑ
گویوں کی تاتا ری ری
طبلے کی تھاپ
طنبورے کی آس
گھڑی کی ٹک ٹک
چھکڑے کی چوں
چکی کی گُھمر
٭ ان اشیاء کی خصوصیت کے لئے ان الفاظ پر غور کیجئے :
موتی کی آب
کندن کی دمک
ہیرے کی ڈلک
چاندنی کی چمک
گھنگھرو کی چھن چھن
دھوپ کا تڑا کا ؍ تڑاقا
بو کی بھبک
عطر کی لپٹ
پھول کی مہک
٭ مسکن کے متعلق مختلف الفاظ :
پرندوں کا گھونسلہ
بارات کا محل
بیگموں کا حرم
رانیوں کا انواس
پولیس کی بارک (بیرک)
رشی کا آشرم
صوفی کا حجرہ
فقیہ کا تکیہ یا کٹیا
بھلے مانس کا گھر
غریب کا جھونپڑا
بھڑوں کا چھتا
لومڑی کا بھٹ
چوہے کا بل
سانپ کی بانبی
فوج کی چھاؤنی
مویشی کا کھڑک
گھوڑے کا تھان
(شورش کاشمیری کی کتاب ’’فن خطابت ‘‘ سے انتخاب )
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Talib Ali Awan

Read More Articles by Prof. Talib Ali Awan: 50 Articles with 52424 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Aug, 2016 Views: 1904

Comments

آپ کی رائے
جی جناب محترم محمد اکرم صاحب آپ میرے آرٹیکلز بڑے شوق اور غور سے پڑھتے ہیں۔ کیونکہ آپکے قیمتی کمنٹس تقریبا میرے زیادہ تر آرٹیکلز پر موجود ہوتے ہیں۔
قیمتی وقت دیتے ہوئے میرے کالم پڑھنے کا بہت بہت شکریہ
By: Pro. Talib Ali Awan, Sialkot on Oct, 20 2016
Reply Reply
7 Like
جی جناب حسیب صاحب قیمتی کمنٹس کرنے کا بہت بہت شکریہ
By: Pro. Talib Ali Awan, Sialkot on Oct, 20 2016
Reply Reply
2 Like
کچھ غلطیاں ہیں وہ ٹھیک کر دیں شکریہ
ہاتھیوں کی ڈار کی بجائے ہرنوں کی ڈار
فقیہ کا تکیہ یا کٹیا ،​ کی بجائے فقیر کا تکیہ یا کٹیا
روٹیوں کی ٹھپی، کی بجائے روٹیوں کی تھپی
By: Haseeb, Sialkot on Oct, 10 2016
Reply Reply
0 Like
Very informative
By: Muhammad Akram, Sialkot on Oct, 09 2016
Reply Reply
1 Like