پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا!

(Abu Amar Ibrahim, India)
الحمد ﷲ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الکریم، أما بعد!
قارئین کرام! سب سے پہلے اس بات کی وضاحت کردینا مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ تحریر میں نے بذات خود لکھی ہے کسی کے حکم پر نہیں! کیوں کہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ مولانا کمپنی میں ملازم ہیں اس لئے کچھ لکھ دئے ہیں، نہیں! ہرگز نہیں! بس میں اپنے دل کی آواز آپ لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہوں امید کہ بغور پڑھیں گے۔

ہمارے ہندوستانیوں کی فطری عادت ہے کہ جب کوئی شخص ترقی کا رخ کرتا ہے تو تمام ہی عوام و خواص اس کے راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرتے ہیں، کسی کو ترقی کی راہ پر دیکھنا آج لوگوں کو گوارہ نہیں، یہ حسد اور کینہ کپٹ کی وجہ سے ہے جو ہمارے دلوں میں جنم لے چکا ہے۔

’’ہیرا اسلامک بزنس گروپ‘‘ یہ ایک اسلامی تجارتی کمپنی ہے جو کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی سرپرستی میں چلتی ہے، جس کا اصل مقصد ہمارے مسلمان بھائی اور بہنوں کو سودی کاروبار سے محفوظ رکھنا ہے، اس کمپنی کے متعلق بعض نام نہاد لوگ عوام الناس کے ذہنوں میں الجھنیں پیدا کر رہے ہیں، اس کے متعلق غلط افواہیں پھیلائے جارہے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، وہ حدیث یاد آتی ہے جس کو امام مسلمa نے اپنی کتاب ’’صحیح‘‘ کے مقدمہ میں ذکر کیا ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کَفٰی بِالْمَرْءِ کَذِبًا أَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ‘‘ (یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کردے) ’’ہیرا گولڈ کمپنی‘‘ کے تعلق سے آج یہی ہورہا ہے، جو جیسے جی چاہے کہتا جارہا ہے، حقیقت سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا اور جو شخص بھی اس طرح کی باتیں کرتا ہے وہ یاتو حسد کی وجہ سے ہے یا بغض و عناد کی وجہ سے، جو لوگ کمپنی سے واقف ہیں یا اس کے ذمہ داروں سے واقف ہیں کبھی ان کی زبانوں سے اس طرح کی بے کار کی باتیں نہیں نکلتیں۔

الحمدﷲ میں اس کمپنی کے ذمہ داروں سے اس وقت سے واقف ہوں جس وقت ابھی اس کمپنی کا وجود عمل میں نہیں آیا تھا، عام طور پر لوگوں میں دھن، دولت کی وجہ سے بدلاؤ آجاتا ہے مگر میں نے یہ چیز ان میں نہیں پائی، جو تواضع و انکساری پہلے تھی وہی آج بھی ہے بلکہ اور زیادہ ہی۔ دین کے لئے ان کے ایثار و قربانیاں اتنی ہیں کہ انہیں گننا مشکل ہے، دینِ حق کے لئے انہوں نے اپنے تن، من، دھن کی قربانیاں پیش کیں، یہاں تک کہ مار کھانے میں بھی پیچھے نہ رہے، غریبوں کی حمایت، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت، طالبانِ علوم نبوت کی خدمت اور جماعت وجمعیت کی تعمیر و قیادت میں ان کا اہم رول رہا ہے۔ ’’جامعۃ النسوان السلفیۃ‘‘ جو کہ آندھرا پردیش کے شہر ’’تروپتی‘‘ ضلع چتور میں واقع ہے، یہ ایک ادارہ کافی ہے جس کی وجہ سے ان شاء اﷲ، اﷲ تعالیٰ نوہیرا آپا اور ان کے پورے خانوادے کی مکمل حفاظت کرے گا۔ ویسے تو ان کے نیک اعمال جو ہمیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کوملے ہیں اس ادارہ کے علاوہ بھی بے شمار ہیں اور جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں وہ تو ان گنت ہیں۔ آج کے اس پر فتن دور میں انسانوں کا یہ عالم ہے کہ 500 یا 1000 روپئے بھی کسی ضرورت مند کے لئے خرچ کرتے ہیں گرچہ کہ وہ واجبی زکوٰۃ ہی کیوں نہ ہو، احسان جتانا نہیں بھولتے، 100 روپئے خرچ کئے تو 200 لوگوں کو بولتے پھرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں رہتے ہوئے بھی آپا کے کچھ اایسے کارنامے ہیں جس کو اگر کوئی دوسرا شخص انجام دیا ہوتا تو ضرور میڈیا کو بلا کر فوٹو کھنچواتا اور برسرِعام اس کا اشتہار کرواتا۔ مگر ہماری روحانی ماں نوہیرا آپا قربان جاؤں میں آپ کی قربانیوں پر کروڑوں روپئے حاجت مندوں کے لئے خرچ کرنے کے باوجود ایسے رہ جاتی ہیں گویا کہ کبھی آپ نے ان کے لئے ایک روپئے کی مدد بھی نہیں کی۔ ’’جامعۃ النسوان السلفیۃ‘‘ کی تمام ہی طالبات کی وہ کفالت کررہی ہیں، تمام قسم کے فیس کو انہوں نے معاف کردیا اور راقم الحروف ناچیز (ابو عمار ابراہیم منور مدنی) خود آپا کے احسانوں تلے ہے، اتنے احسانات کہ انہیں بھلایا نہیں جاسکتا اور نہ اس دارِفانی میں چکایا جاسکتا ہے، آج میں صحت مند ہوکر یہ تحریر لکھنے کے قابل ہوں تو اﷲ کے فضل کے بعد آپا کے احسان کا نتیجہ ہے، ورنہ پتہ نہیں کہ ہماری کیا حالت ہوئی ہوتی؟ موت کو نہایت ہی قریب سے میں نے دیکھا ہے، بس یوں کہئے کہ موت کے منہ میں جا کر واپس ہوگیا، اﷲ رب العالمین نے فرشتہ صفت خاتون نوہیرا آپا کو ہماری حمایت کے لئے بھیج دیا جبکہ ہمارا آپا سے کوئی خاندانی رشتہ نہیں، ہاں البتہ دینی رشتہ ضرور ہے، اور آپا نے جو کچھ ہمارا تعاون کیا، جس قدر آپ نے ہمارا ساتھ دیا اس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ اﷲ تعالیٰ ہی آپا کو اس کا بہتر بدلہ عنایت فرمائے۔(آمین)

بھلا بتلایئے! جس کے اخلاق ایسے ہو کہ سو (۱۰۰) نہیں، ہزار (۱۰۰۰) نہیں بلکہ لاکھوں اور کروڑوں روپئے اﷲ کے راستے میں احسان جتائے بغیر خرچ کردے اور وہ اپنا نام و نشان بھی باقی نہ رکھے تو کیا وہ لوگوں کو دھوکہ دے سکتی ہیں؟ کیا دوسروں کے مال پر غلط نگاہ ڈال سکتی ہیں؟ اﷲ کی قسم یہ ہرگز ممکن نہیں۔ یاد کرو ’’صحیح مسلم‘‘ کی روایت کو جب اﷲ کے حبیب جناب محمد بن عبداﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نبوت کے ابتدائی ایام میں غارِ حراء سے پریشان ہو کر واپس لوٹے، جب آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے آپ پر خوف لاحق ہونے لگا اور گھبراگئے تو مائی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے کیا کہا تھا؟ فرمایا تھا: ’’کَلَّا اَبْشِرْ! فَوَاللّٰہِ لَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ أَبَداً وَاللّٰہِ اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِيْ الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ‘‘ یعنی ائے اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ کو کچھ نہیں ہوگا، آپ گھبرائیے نہیں، اﷲ کی قسم! اﷲ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، اﷲ کی قسم آپ تو رشتوں کو جوڑتے ہیں، سچی بات کرتے ہیں، غریبوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، بے روزگاروں کی حمایت کرتے ہیں، مہمانوں کی مہماں نوازی کرتے ہیں اور حق پرستوں کی مدد کرتے ہیں۔

امّاں خدیجہr کے قول کا مطلب یہ ہے کہ جس کے اندر یہ صفات پائی جائے اس کو رسوائی کا منہ دیکھنا نہیں پڑے گا، چاہے لوگ اس کی جتنی بھی مخالفت کرلیں، اﷲ کی مدد اس کے ساتھ شاملِ حال رہے گی۔ لہٰذا ہم بھی مائی نوہیرا آپا سے کہتے ہیں کہ آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، چاہے ساری دنیا آپ کی مخالفت کرلیں اور تمام ہی لوگ آپ کے حریف بن جائے، کیوں کہ ربِ کائنات نے آپ کو ان کاموں کو کرنے کی توفیق بخشی ہے جن کو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نبوت سے پہلے بھی کیا کرتے تھے، تبھی تو ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے مذکورہ جملوں کو کہا تھا، یقینا آپ بھی غریبوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ہمسایوں کا خیال رکھتے ہیں، یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کرتے ہیں اور طالبانِ علوم نبوت پر آپ کی خدمات بے شمار ہیں، زمین و آسمان اس کے شاہد ہیں۔

قارئین کرام! لوگ ہمیشہ سے اپنی فطرت پر باقی رہے ہیں کہ کسی کو آگے دیکھ کر برداشت نہیں کر پاتے، جب عام انسانوں میں یہ بات ہوتو ایک مسلم خاتون کی ترقی تو تمام ہی دشمنانِ اسلام کے اذہان و قلوب کو حیرت میں ڈال دے گی اور بالخصوص آپا کا قرآن و حدیث کی پابند ہونا تو ہمارے بعض متعصب قسم کے مسلم بھائی اور بہنوں کے لئے بھی دشوار گزرتا ہی ہوگا، حسد کی آگ کے مزے میں وہ بھی چُور ہوں گے۔ اسی لئے تو کمپنی پر طرح طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں، کمپنی کے تجارتوں پر فتویٰ بازی کی جارہی ہیں اور یہ باور کرایا جارہا ہے کہ یہ تجارت ناجائز ہے جب کہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، خوشی تو اس بات کی ہے کہ یہ فتویٰ دینے والا کوئی سلفی عالم نہیں ہے کیوں کہ سلفی عالم بغیر دلیل کے بات نہیں کرتا، جو بھی فتوے تھوپے گئے ہیں غیر سلفی لوگوں کی جانب سے ہیں، اس کا سبب یا تو دینی ترقی پر جلن ہے یا دنیوی ترقی پر حسد، کہ ایک سلفی خاتون ترقی کی ان اونچی اونچی منازل کو کیسے طئے کرپائی؟ کاش! کہ لوگ جنہوں نے بھی اس طرح کے فتووں کو سنا اس کی تحقیق کرلی ہوتی، اﷲ رب العالمین نے بھی خود فرمایا: ﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِن جَاء کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَیَّنُوا أَن تُصِیْبُوا قَوْماً بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوا عَلَی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ﴾ (ائے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تم اس کی

تحقیق کرلو کہیں جہالت کی وجہ سے تم کسی قوم کو تکلیف نہ پہنچادو پھر تم اپنے کئے پر شرمندہ ہوجاؤ) [الحجرات:۶]

یقینا میرے بھائیو! جو بھی ان بیہودہ چیزوں میں مصروف ہوں گے ان کو شرمندگی ہی ہوگی، جو لوگ بھی ’’ہیرا گولڈ‘‘ پر الزامات تھوپتے ہیں ان سے میں کہوں گا کہ ایک بار آکر تروپتی میں ’’جامعۃ النسوان السلفیۃ‘‘ کی زیارت کرلیں جو کہ لڑکیوں کا ادارہ ہے جہاں خالص کتاب و سنت کی تعلیم ہوتی ہے جس میں 550 سے زائد طالبات زیرِ تعلیم ہیں اور اکثر و بیشتر غریب و یتیم بچیاں ہیں، میں بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ الحمدﷲ اس ادارہ کو پورے ہندوستان میں حسنِ انتظام اور حسنِ تعمیر و بناء میں امتیازی درجہ حاصل ہے اور یہ تمام تر سہولیات ’’ہیرا گولڈ کمپنی‘‘ کی مالکن نوہیرا آپا کی جانب سے فی سبیل اﷲ ہیں، بعض احباب نے تو کہہ دیا کہ تروپتی میں کمپنی کا کوئی ادارہ نہیں ہے شاید انہیں زیادہ معلومات نہیں ہیں اور بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کمپنی کا کوئی تجارت خانہ یا کوئی مرکز نہیں ہے، شاید ان کے علمی ظرف میں بھی نقص ہے، آپ تحقیق تو کیجئے نا۔۔۔! بغیر تحقیق کے حکم لگانا درست نہیں۔ بعض نے تو کہا ہے کہ اس کمپنی میں کوئی ملازم ہی نہیں ہے، میں کہتا ہوں کہ اس کمپنی میں کام کے لئے لوگ قطار لگائے ہوئے ہیں، آدمی جب کمپنی کی ملازمت میں آجاتا ہے تو اس کو ترک کرنا گوارہ نہیں کرتا، لوگ اس کمپنی میں ملازمت کے لئے ترس رہے ہیں اور آپ کہہ رہے ہو کہ کوئی ملازم نہیں؟ عجیب بات ہے! آپ عصبیت کے عینک کو اتار کر دیکھیں، سب کچھ صاف و شفاف نظر آجائے گا، اگر آپ مذہبی یا مسلکی عصبیت پر یہ سب الزامات تھوپ رہے ہیں تو بہتر ہے کہ اس سے باز آجائیں، کیوں کہ اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے، رازق و مدبر تو رب ذوالجلال ہی ہے، وہی روزی، روٹی کا مالک ہے، کسی کے کچھ کہنے پر اﷲ تعالیٰ روزی کو کم نہیں کردیتا، عزت و ذلت اﷲ کے ہاتھ میں ہے۔

قارئین کرام! یقین مانئیے کئی ایسے گھرانے اور قبائل ہیں جو نوہیرا آپا کے لئے دن رات دعائیں دیتے ہیں، میرے خیال سے اس کا علم آپا کو بھی نہیں ہوگا کیوں کہ ان کی اس قدر کثرت ہے۔ یہاں تک کہ میں نے سنا ہے کہ بعض غیر مسلموں نے تو ان کو ’’دیوتا سمان‘‘ بھی کہہ دیا، گر چہ کہ ان کا یہ کہنا درست نہیں۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جو بھی پروپیگنڈے آپا کے خلاف یا ’’ہیرا گولڈ کمپنی‘‘ کے خلاف کئے جارہے ہیں وہ سب بے سود ہیں کیوں کہ ’’پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا‘‘ اﷲ تعالیٰ آپا اور آپا کی کمپنی کا حامی و ناصر ہے اور کئی غریب و مظلوم انسانوں کی دعائیں آپا کے ساتھ ہیں، اﷲ تعالیٰ انہیں کبھی رسوا نہیں کرے گا، حق کے لئے ان کی جو قربانیاں ہیں اﷲ تعالیٰ انہیں اچھی طرح جانتا ہے، باطل کا منہ کالا کرے گا، مشکلات و آزمائشوں کا وجود ہی حق کی علامت ہے، ان شاء اﷲ یہ کمپنی تا روزِ قیامت باقی رہے گی اور حق کے لئے جد وجہد کرتی رہے گی۔

اﷲ رب العالمین سے دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ آپا کی اور کمپنی کی حفاظت فرمائے، حاسدوں کے حسد سے بچائے، جلنے والوں کے جلن سے دور رکھے، حق کا بول بالا کرے، باطل کا منہ کالا کرے، لوگوں کے دلوں سے تعصب کو دور کرے، اس کمپنی کو مسلکِ کتاب و سنت کو پھیلانے کا بہترین ذریعہ بنائے، جتنے بھی لوگ اس کمپنی سے جڑے ہوئے ہیں اﷲ انہیں بہتر بدلہ سے نوازے، اﷲ تعالیٰ کمپنی کی خدمات کو روزِ قیامت اس کے قائمین کے لئے نجات کا سبب بنائے اور ان کے میزانِ حسات میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abu Amar Ibrahim

Read More Articles by Abu Amar Ibrahim: 4 Articles with 2943 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Aug, 2016 Views: 793

Comments

آپ کی رائے