کھیل کود کے متعلق شرعی احکامات،ضابطے،احتیاطی تدابیراوراسلامی تعلیمات

(Ata Ur Rehman Noori, India)
پوری زندگی کو کھیل کود بنادینا اور ’’زندگی برائے کھیل‘‘ کا نظریہ اسلام کے نقطۂ نظر سے درست نہیں ہے
اسلام کامل واکمل شریعت اور اعتدال پسند مذہب ہے۔ہر چیز میں میانہ روی کو پسند کرتا ہے۔اسلامی نظام کوئی خشک نظام نہیں جس میں تفریحِ طبع اور زندہ دلی کی کوئی گنجائش نہ ہو بلکہ اسلام فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ اور فطری مقاصد کو بروئے کار لانے والا مذہب ہے۔ اس میں نہ تو خود ساختہ ’’رہبانیت‘‘ کی گنجائش ہے نہ ہی بے ہنگم زندگی کی اجازت۔ آسانی فراہم کرنا اور سختیوں سے بچانا شریعت کے مقاصد میں داخل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اﷲ تم پر آسانی چاہتاہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔‘‘(سورۂ بقرہ، پ۲ ،آیت ۱۸۵)
اسلام آخرت کی کامیابی کو اساسی حیثیت دیتے ہوئے، تمام دنیاوی مصالح کی بھی رعایت کرتا ہے، اس کی پاکیزہ تعلیمات میں جہاں ایک طرف عقائد، عبادات، معاشرت ومعاملات اوراخلاقیات وآداب کے اہم مسائل پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، وہیں زندگی کے لطیف اور نازک پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اقوامِ یورپ کی طرح پوری زندگی کو کھیل کود بنادینا اور ’’زندگی برائے کھیل‘‘ کا نظریہ اسلام کے نقطۂ نظر سے درست نہیں ہے بلکہ آداب کی رعایت کرتے ہوئے، اخلاقی حدود میں رہ کر کھیل کود، زندہ دلی، خوش مزاجی اور تفریح کی نہ صرف یہ کہ اجازت ہے بلکہ بعض اوقات بعض مفید کھیلوں کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اسلام سستی اور کاہلی کو پسندنہیں کرتا بلکہ چستی اور خوش طبعی کو محبوب رکھتا ہے۔ شریعت کی تعلیمات اس امر کا تقاضہ کرتی ہیں کہ مسلمان شریعت کے تمام احکام پر خوشی خوشی عمل کرے۔ یہ عمل تنگ دلی کے ساتھ نہ ہو کیوں کہ سستی اور تنگ دلی کے ساتھ عبادات کو انجام دینا نفاق کی علامت ہے۔اسلام کی اعتدال پسندی ہی کا یہ اثر ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اور اسلافِ امّت کی زندگیاں جہاں خوف وخشیت اور زہد وتقویٰ کا نمونہ ہیں وہیں تفریح، خوش دلی اور کھیل کود کے پہلوؤں پر بھی بہترین اُسوہ ہیں۔ ان اُمور کو پیش نظر رکھتے ہوئے کھیل کود اور اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کیاجارہا ہے۔
کھیل کی تعریف:
فیروزالغات میں کھیل کے لفظی معنی بازی،بازیچہ،تماشہ،کرتب،دل بہلاوا،مشغلہ اور شغل بیان کیے گئے ہیں۔کھیل سے مراد ایک ایسی منظم سرگرمی ہے جسے عموماً لطف اندوزی کے لیے سرانجام دی جاتی ہے جبکہ بعض اوقات اسے ایک تعلیمی اوزار کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔(وکی پیڈیا) حضورﷺنے کھیل کی تعریف یوں بیان فرمائی:’’ہر وہ چیز جو اﷲ تعالیٰ کے ذکر سے نہ ہووہ کھیل ہے۔‘‘(جامع الاحادیث،ج۳،ص؍۱۰۶)
کھیل پرقرآن میں حکم ممانعت:
قرآن مقدس میں اﷲ پاک کا فرمان ہے۔ترجمہ:’’اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اﷲ کی راہ سے بہکادیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔‘‘(سورہ لقمان،پ۲۱،آیت ۶)لہویعنی کھیل ہراس باطل کوکہتے ہیں جو آدمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے۔
ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے :ترجمہ:’’اے ایمان والو! شراب اور جُوااور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دُشمنی ڈلوا وے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اﷲ کی یاد اور نماز سے روکے ، تو کیا تم باز آئے۔‘‘ (سورہ مائدہ،پ۷،آیت ۹۰۔۹۱)
اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خواری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے۔
احادیث میں مختلف کھیلوں کی ممانعت:
(۱)ترمذی وابوداؤد اور ابن ماجہ نے عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲﷺنے فرمایا:’’جتنی چیزوں سے آدمی لہوکرتاہے سب باطل ہیں مگر کمان سے تیر چلانا ، گھوڑے کوادب دینااور زوجہ کے ساتھ ملاعبت کہ یہ تینوں حق ہیں۔
(۲)حضرت ابوداؤد رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے ارشاد فرمایا:’’مسلمان کاہرکھیل حرام مگر تین چیزیں:بیوی سے کھیلنا،گھوڑے کوسدھانا(مانوس کرنایاتربیت دینا )اور تیراندازی سیکھنا۔‘‘
(۳)صحیح مسلم میں حضرت بریدہ اسلمی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے ارشاد فرمایا:’’جس نے چَوسر(نردبازی،چار گوشہ،شطرنج)کھیلی اس نے گویااپناہاتھ سُوّر کے گوشت اور خون میں رنگا۔‘‘سنن ابی داؤد اور ابن ماجہ میں ہے کہ’’ جس نے چَوسر کھیلی اس نے خداورسول کی نافرمانی کی‘‘۔غرضیکہ مختلف احادیث میں بعض جملوں کی تبدیلی کے ساتھ اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ہر کھیل مرد کے لیے حرام ہے سوائے تین کاموں کے جن کاذکر اوپر ہوا۔
(۴)امام احمد نے ابوعبدالرحمن خطمی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا:’’جوشخص نرد(چَوسر،شطرنج)کھیلتاہے، پھرنماز پڑھنے اُٹھتاہے، اُس کی مثال اُس شخص کی طرح ہے جو پیپ اور سُوّر کے خون سے وضوکرکے نماز پڑھنے کھڑاہوتاہے۔‘‘(بہار شریعت، سولہواں حصہ،ص؍۱۲۸)
(۵)بیہقی نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت کی وہ فرماتے ہیں:’’شطرنج عجمیوں کاجُواہے۔‘‘ابن شہاب نے ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ سے روایت کی وہ کہتے ہیں کہ’’ شطرنج نہیں کھیلے گامگرخطاکار‘‘اور انہیں سے دوسری روایت یہ ہے کہ’’ وہ باطل ہے اور اﷲ تعالیٰ باطل کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘(مرجع سابق)
صدرالشریعہ حضرت علامہ امجد علی صاحب قدس سرہ لکھتے ہیں:’’گنجفہ چوسر کھیلناناجائزہے۔شطرنج کا بھی یہی حکم ہے ۔اسی طرح لہوولعب کی جتنی قسمیں ہیں سب باطل ہیں۔‘‘(مرجع سابق)
(۵)ترمذی نے ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ ﷺنے چوپایوں کولڑانے سے منع فرمایاہے۔اس ضمن میں صدرالشریعہ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:’’مسئلہ:جانوروں کولڑانامثلاً:مرغ،بٹیر،تیتر،مینڈھے اور بھینسے وغیرہ کہ ان جانوروں کو بعض لوگ لڑاتے ہیں،یہ حرام ہے اور اس میں شرکت کرنایااس کاتماشہ دیکھنا بھی ناجائزہے۔‘‘(مرجع سابق)
(۶)بیہقی نے ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہماسے روایت کی کہ رسول اﷲﷺنے فرمایاکہ اﷲ تعالیٰ نے شراب،جُوااور کوبہ (ڈھول)حرام کیااور فرمایاہرنشہ والی چیزحرام ہے۔
شرط پر گیم کھیلنا
آج بہت سے لوگ محض وقت گزاری کے لیے اور بہت سے پیسے پر مختلف کھیل کھیلتے ہیں۔ویڈیوگیمزہویاموبائیل گیمزیا پھر تاش۔پیسے لگاکر جُوا حرام ہے، اسلام میں کسی بھی معاملے میں شرط حرام ہے،اسی طرح پھل فروٹ،چائے ،کھانا یا کسی دوسری چیز کی شرط بھی حرام ہے اور جوا ہے اور ایسے پھل فروٹ سے روزہ کھولنا ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص دن بھر روزہ رکھے اور شام کو کتے یا خنزیر کے گوشت سے روزہ کھولے، کیونکہ جس طرح کتے اور خنزیر کا گوشت نجس اور حرام ہے اسی طرح جوا اور سور بھی نجس اور حرام ہے۔موبائیل گیمز پر سروے کرنے کے دوران دوطرح کے افراد سے راقم کی ملاقات ہوئی،اول وہ جو محض وقت گزاری کے لیے گیمس کھیلتے ہیں اور دوسرے وہ جو باضابطہ چائے،کھانے اور روپیوں کی شرط پر کھیلتے ہیں۔افسوس!دوچاردوست مل کر مختلف گیمس کھیل کراﷲ کی عطاکردہ قیمتی زندگی کویونہی بربادکیاجارہاہے۔جب کہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں، اس لیے کہ پہلی صورت میں وقت کی بربادی ہے اور دوسری صورت میں جُوا اور قمار پایا جاتا ہے ۔قمار ہر اس معاملے کو کہتے ہیں جس میں کچھ زائد ملنے کی اُمید کے ساتھ ساتھ اپنا مال جانے کا خطرہ بھی ہو ۔مذہب اسلام میں جُوا اور قمار ناجائز اور حرام ہے۔
کیرم بورڈ اور تاش کھیلنا
آج بہت سی ہوٹلوں اور کیرم کلبوں میں بڑے ذوق سے کیرم کھیلاجاتاہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ’’ہم وقت پاس کرنے کے لئے یہ کھیلتے ہیں‘‘ اوربعض لوگ شرطیہ کھیلتے ہیں۔جو ہارجاتاہے یاتووہ پیسہ دیتاہے یاچائے ناشتے کااہتمام کرتاہے۔کیرم،شطرنج یااس قسم کے دوسرے کھیل خواہ شرط باندھے بغیر ہوں یاشرط کے ساتھ ،اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کاکھیلناجائزنہیں۔اول صورت میں اس لیے کہ وقت کی بربادی ہے،اگر آپ کے پاس اتناہی وقت ہے تو قضانمازوں کواداکرو،نوافل کااہتمام کرو،کلمۂ طیبہ کی کثرت کرو، درودپاک کاوِرد کرو،دینی کتب کامطالعہ کرویاخاموش رہو،خاموش رہنے پر بھی ساٹھ سالہ بے ریاعبادت کاثواب ہے(حوالہ:مومن کی وفات) اور حضورﷺنے فرمایاجو خاموش رہانجات پاگیا۔ایک سوال یہ بھی پیداہوتاہے کہ کیاقوم مسلم کے پاس اتنی وافر مقدار میں وقت ہے کہ اسے پاس کرنے کے لیے اب وہ مختلف گیمس کاسہارالے رہی ہے جبکہ اسے خاک وخون میں نہلانے اور اسلام کو نشانۂ ہدف بنانے کا منصوبہ نہ صرف بنالیاگیابلکہ اس پر سالوں سے عمل بھی ہورہاہے۔یورپین قومیں بڑی شاطر ہیں،خود اپنے وقت کااستعمال تحقیق وتفتیش اور اﷲ کے سربستہ رازوں کو جاننے کے لیے کررہی ہیں اور ہمارے ہاتھوں میں موبائیل تھمادیا،نہ اس سے چھٹکاراپائیں گے ،نہ ہی ترقی کی راہوں کوعبور کریں گے اور نہ ہی اسلام کی تبلیغ وترویج اور اشاعت کے حوالے سے کام کرپائیں گے۔افسوس!ہماری قوم ان باتوں سے صرفِ نظرکرتے ہوئے بڑی آسانی سے مکاروں کے دام فریب کاشکارہوجاتی ہے۔دوسری صورت اس لیے جائز نہیں کہ اسلام میں ہرقسم کی شرط حرام ہے۔
واضح رہے کہ آج کل جس طرح سے یہود ونصاری نے مسلمانوں کے ذہنوں پر باطل کی محنت کرکے انہیں کھیل کود ، لہو ولعب اور سیرو تفریح جیسے ضیاع وقت کے اسباب میں مشغول کرکے اپنے مقصدِ اصلی سے ہٹا دیا ہے اور اس مختصر سی زندگی کے قیمتی لمحات وہ جس طرح سے لایعنی میں ضائع کرتے ہیں کہ انہیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا، اسلام قطعاً ایسی چیزوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔بلکہ ہمارااولین فرض یہ ہے کہ ہم زندگی کے ہر ہر موڑ پر شریعت کے حکم کو معلوم کرکے اپنی تمام تر اغراض، خواہشات او رمفادات کو پس پشت ڈال کر ، حکم خداوندی کی تعمیل کریں، یقینا اسی میں ہمار ی ابدی کامیابی اور دنیا وآخرت کی سرخروئی ہے۔یقینا جس مرد مومن کو اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی مطلوب ہو اس کے لیے اﷲ تعالیٰ کے ایک حکم کے سامنے اپنی ہزاروں خواہشات کو قربان کرنا آسان ہوتا ہے نہ کہ حکم خداوندی کو پامال کرنا۔پھر وہ کسی قسم کا حیلہ اور بہانہ تلاش نہیں کرتاہے۔
کشتی اور کراٹے کا شرعی حکم
کشتی لڑناسنّت ہے۔حضورﷺنے رُکانہ پہلوان سے کشتی لڑی اور تین مرتبہ پچھاڑاکیونکہ رُکانہ نے یہ کہاتھاکہ اگر آپ مجھے پچھاڑ دیں تومیں آپ پر ایمان لاؤں گا، پھر وہ مسلمان ہوگئے۔ کشی لڑنااگر لہوولعب کے طورپرنہ ہوبلکہ اس لیے ہوکہ جسم میں قوت آئے اور کفارسے لڑنے میں کام دے تویہ جائزومستحسن اورکارِ ثواب ہے بشرطیکہ سترپوشی کے ساتھ ہو۔آج کل برہنہ ہوکرصرف ایک لنگوٹ یاجانگیاپہن کرلڑتے ہیں کہ ساری رانیں کھلی ہوتی ہیں،یہ ناجائزہے۔ناف سے گھٹنوں تک کا حصہ ستر میں داخل ہے اور ستر کا کھولنا حرام ہے، اوّل تو کھیل ہی کوئی فرض و واجب نہیں کہ اس کے لیے حرامِ شرعی کا ارتکاب کیا جائے اور اگر کھیلنا ہی ہو تو کپڑے ایسے تجویز کیے جائے جس سے ستر ڈھک جائے، بہرحال ستر کا کھولنا حرام اور ناجائز ہے۔کراٹے کا بھی یہی حکم ہے یعنی اگر کسی اچھے مقصد کے لیے ہو تو جائز ہے، بشرطیکہ اس کھیل کے دوران فرائضِ شرعیہ کو غارت نہ کیا جاتا ہواور جسم کے ان حصوں کی نمائش نہ ہوتی ہوجن کاچھپاناضروری ہے۔
کرکٹ کھیلنا شرعاً کیسا ہے؟
کھیل کے جواز کے لئے تین شرطیں ہیں، ایک یہ کہ کھیل سے مقصود محض وَرزش ہو، خود اس کو مستقل مقصد نہ بنالیا جائے۔ دوم یہ کہ کھیل بذاتِ خود جائز بھی ہو، اس کھیل میں کوئی ناجائز بات نہ پائی جائے۔ سوّم یہ کہ اس سے شرعی فرائض میں کوتاہی یا غفلت پیدا نہ ہو۔ اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو اکثر و بیشتر کھیل ناجائز اور غلط نظر آئیں گے۔ ہمارے کھیل کے شوقین نوجوانوں کے لیے کھیل ایک ایسا محبوب مشغلہ بن گیا ہے کہ اس کے مقابلے میں نہ انہیں دِینی فرائض کا خیال ہے، نہ تعلیم کی طرف دھیان ہے، نہ گھر کے کام کاج اور ضروری کاموں کا احساس ہے اور تعجب یہ کہ گلیوں اور سڑکوں کو کھیل کا میدان بنالیا گیا ہے، اس کا بھی احساس نہیں کہ اس سے چلنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے اور کھیل کا ایسا ذوق پیدا کردیا گیا ہے کہ ہمارے نوجوان گویا صرف کھیلنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں، اس کے سوا زندگی کا گویا کوئی مقصد ہی نہیں، ایسے کھیل کو کون جائز کہہ سکتا ہے۔
مجدداعظم امام احمد رضامحدث بریلوی قدس سرہ فتاویٰ رضویہ میں پانچ چیزوں کے اہتما م کے ساتھ کھیل کی اجازت کاحکم تحریرکرتے ہیں۔(۱)بدکر(یعنی متعین کرنا،طے کرنا)نہ ہو (۲)نادراًکبھی کبھی ہوعادت نہ ڈالیں(۳)اس کے سبب نماز یاجماعت خواہ کسی واجب شرعی میں خلل نہ آئے(۴)اس پر قسمیں نہ کھایاکریں(۵)فحش نہ بکیں۔مگر تحقیق یہ ہے کہ مطلقاً منع ہے اور حق یہ کہ ان شرطوں کانباہ ہرگز نہیں ہوتا۔خصوصاً دوم وسوم میں کہ جب اس کاچسکاپڑجاتاہے ،ضرور مداومت کرتے ہیں اور لااقل وقت نماز میں تنگی یاجماعت میں کاہلی وغیرہ بے شک ہوتی ہے جیساکہ تجربہ اس پر شاہد۔اور بالفرض ہزارمیں ایک آدھ آدمی ایسانکلے کہ ان شرائط کاپورالحاظ رکھے تو نادرپر حکم نہیں ہوتا ․․․․ تو ٹھیک یہ ہی ہے کہ اس سے مطلقاً ممانعت کی جائے۔ہاں اتناہے کہ اگربدکرنہ ہوتوایک آدھ بار کھیلناگناہ صغیرہ ہے اور بدکرہویاعادت کی جائے یااس کے سبب نماز کھوئیں یاجماعتیں فوت کریں توآپ ہی گناہ کبیرہ ہوجائے گی۔اسی طرح ہرکھیل اور عبث فعل جس میں نہ کوئی غرض دین،نہ کوئی منفعت جائز دنیوی ہوسب مکروہ وبے جاہیں،کوئی کم کوئی زیادہ۔(جامع الاحادیث،ج۳،ص؍۱۰۴)
کیا اسلام لڑکیوں کو کھیل کھیلنے کی اجازت دیتا ہے؟
لڑکیوں کے حقوق کا سب سے زیادہ خیال مذہب اسلام نے رکھاہے اور انھیں ہر قسم کی آزادی اور حقوق عطافرمائے ہیں۔کھیل کے متعلق بھی انھیں اجازت دی گئی ہے ۔چنانچہ ابوداؤد نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہاسے روایت کی کہتی ہیں میں گڑیاں کھیلاکرتی تھی اور کبھی رسول اﷲﷺایسے وقت تشریف لاتے کہ لڑکیاں میرے پاس ہوتیں جب حضورﷺتشریف لاتے لڑکیاں چلی جاتیں اور جب حضورﷺچلے جاتے لڑکیاں آجاتیں۔صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہاسے مروی کہتی ہیں میں نبی کریم ﷺکے یہاں گڑیوں سے کھیلاکرتی تھی اور میرے ساتھ چنددوسری لڑکیاں بھی کھیلتیں۔جب حضورﷺتشریف لاتے وہ چھپ جاتیں،حضورﷺاُن کو میرے پاس بھیج دیتے اور وہ میرے پاس آکر کھیلنے لگتیں۔
عصرحاضر میں مغربی ممالک نے یہ باورکرانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ لڑکی اور لڑکادونوں برابراور ہم پلہ ہے۔انہوں نے یہ یکسانیت حقوق کے معاملے میں نہیں رکھی بلکہ آزادی کے بہانے محض نمائش کے لیے جھوٹاپروپیگنڈہ کیا۔نتیجہ یہ ہواکہ جوعورت گھر کی زینت تھی اب وہ نیم عریاں لباس میں یا مکمل عریاں ہوکر کوچہ وبازارکی زینت بن گئی ہے ۔ یہی حال کھیلوں کا بھی ہے۔ دورِ جدید میں کھیل کواس طرح رواج دے دیا گیا ہے جیساکہ پوری قوم کھیل کے لیے ہی پیدا ہوئی ہے اور کھیل ہی کو زندگی کا اہم ترین کارنامہ فرض کرلیا گیا ہے اور اس سوچ میں لڑکالڑکی دونوں شامل ہے، کھیل کا ایسا مشغلہ تو مردوں کے لیے بھی جائز نہیں چہ جائیکہ عورتوں کے لیے جائز ہو۔اب تو لڑکیاں بھی کرکٹ،ہاکی،کشتی ، ریس،نشانہ بازی،تیراندازی اور بہت سے مردانہ کھیلوں میں حصہ لے رہی ہیں۔جبکہ مذکورہ کھیل مردانہ کھیل ہے، زنانہ نہیں۔ اس لیے خواتین کو اس میدان میں لانا صنفِ نازک کی اہانت و تذلیل بھی ہے۔ اب اگر مَرد مردانگی چھوڑنے پر اور خواتین مردانگی دِکھانے پر ہی اُتر آئیں تو اس کا کیا علاج؟ان کھیلوں میں بدن پر چست ، باریک اور مختصر کپڑے ہوتے ہیں،اتنے کپڑوں میں اسلامی شریعت تومردوں کو کھیلنے کی اجازت نہیں دیتی بھلاان کپڑوں میں عورتوں کے لیے کھیلنا کب درست ہوسکتاہے؟جو کھیل لڑکیوں کے لیے مناسب ہو اور اس میں بے پردگی کا احتمال نہ ہو، اس کی اجازت ہے، ورنہ نہیں۔ آج کل بہت سے کھیل بے خدا تہذیبوں اور بے غیرت قوموں نے ایسے بھی رواج کر رکھے ہیں جو نہ صرف اسلامی حدود سے متجاوز ہیں بلکہ انسانی وقار اور نسوانی حیاء کے بھی خلاف ہیں۔
کبوتر بازی شرعاً کیسی ہے؟
ٹیکنالوجی کے اس دور میں آج بھی کثیرنوجوان کبوترپالنے کے شوق میں مبتلاہے۔اس ضمن میں ایک حدیث پاک ابوداؤدوابن ماجہ میں ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے ایک شخص کو کبوتری کو پیچھے بھاگتے دیکھاتوفرمایا:’’شیطانہ کے پیچھے پیچھے شیطان جارہاہے۔‘‘
صدرالشریعہ حضرت علامہ امجد علی صاحب قدس سرہ رقمطراز ہیں:’’مسئلہ:کبوترپالنااگراُڑانے کے لیے نہ ہوتوجائزہے اور اگرکبوتروں کواُڑاتاہے تو ناجائزکہ یہ بھی ایک قسم کالہوہے اور اگرکبوتراُڑانے کے لیے چھت پرچڑھتاہے جس سے لوگوں کی بے پردگی ہوتی ہے یااُڑانے میں کنکریاں پھینکتاہے جن سے لوگوں کے برتن ٹوٹنے کااندیشہ ہے تو اس کو سختی سے منع کیاجائے گااورسزادی جائے گی اور اس پر بھی نہ مانے تو حکومت کی جانب سے اُس کے کبوترذبح کرکے اُسی کو دے دیئے جائیں تاکہ اُڑانے کاسلسلہ ہی منقطع ہوجائے۔‘‘(بہارشریعت،سولہواں حصہ،ص؍۱۳۱)
ویڈیو گیمز کے نقصانات
مغربی ممالک کے بعداب ہمارے یہاں ویڈیوگیمز کے شائقین کاخاصی تعداد میں اضافہ ہواہے جو کبھی شاپنگ مال ،بگ نازاراور کبھی لیپ ٹاپ وکمپیوٹر پر ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں ۔جس کے بہت سے نقصانات ہیں۔
(۱)اس کھیل میں دِینی اور جسمانی کوئی فائدہ مقصود نہیں ہوتا اور جو کھیل ان دونوں فائدوں سے خالی ہو، وہ جائز نہیں۔
(۲)اس میں وقت اور روپیہ ضائع ہوتا ہے اور ذکر اﷲ سے غافل کرنے والا ہے۔
(۳)سب سے شدید ضَرر یہ کہ اس کھیل کی عادت پڑنے پر چھوڑنا دُشوار ہوتا ہے۔
(۴)گیم کھیلتے وقت بچے اساتذہ ،والدین اور سرپرستوں کی حکم عدولی کرتے ہیں بلکہ شرعی احکام وضوابط کا بھی خیال نہیں کرتے۔
(۵)علاوہ ازیں اس سے بچوں کا ذہن بھی خراب ہوتا ہے،ذہن میں ماردھاڑ اور اشتعال انگیزمناظرگردش کرتے ہیں۔
(۶) کھیل سے بامقصد تعلیم میں خلل واقع ہوتا ہے، پھر بچوں کو پڑھائی اور دوسرے فائدے والے کاموں میں دِلچسپی نہیں رہتی وغیرہ۔
موبائیل گیمز:
آج مسلمانوں کی اکثریت کمپیوٹر،لیپ ٹاپ اور باالخصوص موبائیل میں گیمس کھیلناپسند کررہی ہے۔اینڈرائیڈسسٹم میں من چاہے گیمس کی موجودگی نے اس شوق کو مزیدپروان چڑھایاہے۔اب کچھ دنوں سے یہ لَت جُواکی شکل اختیار کرچکی ہے۔پزل گیمس،ریسنگ گیمس،سائمولیشن گیمس،ایڈوینچرگیمس،اسپورٹس گیمس،آرکیڈ گیمس،ایکشن گیمس،ایڈوکیشنل گیمس،فائٹنگ گیمس اور کڈس گیمس وغیرہ کی بہتات نے ہر طبقے کو اپنادیوانہ بنارکھاہے۔ابھی کچھ دنوں سے ’’لوڈوگیم‘‘کی لَت نے ہر خاص وعام کو اپنا متوالا بنا لیاہے۔جہاں ذراساوقت ملافوراًکھیلناشروع کردیا۔اسی کے ساتھ موبائیل کے ذریعے مسلسل ہیڈفون اور بلیوٹوتھ کے ذریعے گانے سننا،فلمیں دیکھنااور فحش مناظر دیکھناعام سی بات ہوگئی ہے۔اس ضمن میں دوحدیث پاک پیش ہے۔(۱)بیہقی نے حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲﷺنے فرمایا:’’ گانے سے دل میں نفاق اُگتاہے جس طرح پانی سے کھیتی اُگتی ہے۔‘‘(۲)طبرانی نے ابن عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہماسے روایت کی کہ رسول اﷲ ﷺنے گانے سے اور گاناسُننے سے ،غیبت سے اور غیبت سُننے سے اور چغلی کرنے اور چغلی سننے سے منع فرمایا۔قارئین کرام!آپ خودفیصلہ فرمائیں کہ ایسا عمل جس سے اﷲ اور اس کے رسولﷺنے منع فرمایااور جس کے سبب ایمانی حلاوت کے خاتمے کا خدشہ اور نفاق کے بڑھنے کایقین ہو،ایسے عمل سے کس قدر بچناچاہیے؟
وقت کی قدر کریں:
وقت کی قدروقیمت کاموازنہ دنیاکی کسی بھی دوسری چیز سے نہیں ہوسکتا،جو لوگ وقت کی قدرنہیں کرتے ناکامیاں اور مایوسیاں ان کامقدر بن جاتی ہیں۔قوموں کی ترقی کاراز بھی یہی ہے کہ جو قومیں وقت کی رفتار کا ساتھ دیتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتے رہنے کی اہلیت حاصل کرچکی ہیں ان پر کامیابیوں اور ترقیوں کے نت نئے دَور آتے ہی چلے جاتے ہیں۔ترقی یافتہ کہلانے والی ان قوموں کاہرفرد خوش حال دنیا کی ہرآسائش اور سہولت کاحامل اور مالامال ہوتاہے جبکہ وقت کی قدروقیمت کااحساس نہ کرتے ہوئے اسے بربادکرنے والی قومیں خود برباد ہوجاتی ہیں ان کاتقریباً ہرفرد بدحال دنیا کی ہرتکلیف و پریشانی میں مبتلا اور کنگال دکھائی دیتاہے۔حکایت مشہور ہے کہ کسی دانشور نے لوگوں سے پوچھابتاؤ!اس کارخانۂ قدرت میں مہنگی ترین چیز کیاہے؟کسی نے سونے کومہنگی ترین چیز قرار دیاتوکسی نے ہیرے کو،کسی نے اولادکوتوکسی نے وطن کو،الغرض جتنے منہ اتنی باتیں تھیں لیکن دانشور کسی کے جواب سے مطمئن نہیں ہوا،بالآخر خود ہی جواب دیاکہ دنیامیں قیمتی ترین شئے ’’وقت‘‘ہے۔انسان کسی کو وقت سے زیادہ قیمتی تحفہ دے ہی نہیں سکتاکیونکہ وہ اسے تحفے میں ایسی شئے پیش کررہاہے جو کبھی نہ واپس آسکتی ہے اور نہ ہی اسے خریداجاسکتاہے۔مگر افسوس!! ہمیں وقت کی قدر و قیمت کااحساس ہی نہیں ،سستی،کاہلی اور لاپرواہی کے ساتھ ساتھ فضول سرگرمیوں ،بے مقصد مصروفیات اور مختلف گیمزمیں وقت ضائع کرکے ہم اپنے آپ کوبربادکررہے ہیں۔لیکن افسوس کہ اس بربادی کابھی ہمیں کوئی احساس نہیں۔خداراخدارا!اپنی روش کو بدلیے اور شرعی احکام وقوانین کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔
٭٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ataurrahman Noori

Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 401225 views »
M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More
25 Aug, 2016 Views: 2206

Comments

آپ کی رائے