کیا کبھی سوچا۔۔۔۔۔۔؟

(samra, Lahore)
اے نوجوانوں! کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہماری عام طور پر کونسی ایسی سرگرمیاں ہیں جو دوسروں کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہیں؟ کیا ہم نے کبھی غور سے اپنی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا؟ ہماری سرگرمیوں کے حوالے سے ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟

یہ وہ سوالات ہیں جن پر آج سنجید گی سے غور کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ آج کل ہمارے ملک میں قانون پر عمل کرنے کی شدد سے ضرورت ہے۔ ون ویلنگ کرنا نوجوانوں کے لیے بہادری سمجھی جاتی ہے موٹر سائیکل پر تیز جگ مگ کرنے والی بتیاں موٹر سائیکل کے لئے خو بصورتی سمجھی جاتی ہے اکثر نوجوان سڑکوں پر بغیر سائلینسر کے ڈرائیونگ کرتے ہیں۔

اس طرح کی سرگرمیاں اپنا کر ہمارے نوجوان قانون شکنی کرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ قانون ہماری حفاظت کے لئے بنائے جاتے ہیں اور ہم نے کبھی سوچا کہ قانون شکنی کرنے سے ہمارے معاشرے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ ہماری غلط ڈرائیونگ سے بہت لوگ حادثات کا شکار ہوتے ہیں ہماری سرگرمیوں سے متاثر ہونے والے افراد کے خاندان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

یہ وہ سوالات ہیں جن پر غور کرنے سے بہت مایوسی ہوتی ہے۔ ہماری غلط ڈرائیونگ کا شکار ہمارے سامنے صرف سڑک پر نہیں ہوتا بلکہ اس کا پورا خاندان متاثر ہوتا ہے اس کی بیوی اپنے بچوں کی خود کفالت کرتی ہے لوگوں کے گھروں کے کام کرتی ہے ،مزدوری کرتی ہے بچے اپنی ضروریات کے لئے مزدوری کرتے ہیں جس سے انکی تعلیم پر اثر پڑتا ہے۔ اس پورے خاندان کو دوسروں کا سہارا لینا پڑتا ہے اس سب سے ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہےاس طرح ایک غلطی کی وجہ سے کئی خاندان پریشان ہو جاتے ہیں
اس کے علاوہ رانگ نمبرز پر لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور لوگوں کے تعلقات میں دڑاڑ پیدا کرتے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں کہ اس سے کئی ذندگیوں کو خطرہ ہوتا ہیں اور کئی لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اکثر لوگ رانگ نمبر کی وجہ سے قتل و غارت کرتے ہیں۔

اسی طرح انٹرنیٹ پر فیک پروفائل بنا کر لوگوں کو پریشان کرتے ہیں۔لوگوں کے اکاوئنٹس ہیک کر کے لوگوں کو پریشان کرتے ہیں۔ اکثر لو گوں کو انکی پروفائل کے ذریعے بلیک میل کر کے مزے لیتے ہیں جس سے بہت لوگ پریشان ہوتے ہیں اور اکثر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

اس لیے بہتر ہے کہ فارغ اوقات میں وہ سرگرمیاں اپنائیں جس سے نہ صرف ہمیں بلکہ دوسروں کو بھی کوئی نقصان نہ ہو۔

ڈرائیونگ ایک ہنر بھی ہےبہتر ڈرائیونگ کرنا، قانون پر عمل کرنا،اپنے موبائل کا مثبت استعمال کرنااور انٹرنیٹ کو اچھے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہماری شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں اس لیے ہمیں ایسی سرگرمیاں اپنانی چاہیےجس سے ہماری شخصیت بہتر ہو اور ہم ایک ذمہ دار شہری بن سکیں۔

آج سے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے فارغ اوقات کو ایسی سرگرمیوں میں صرف کریں جس سے ھماری شخصیت بہتر اور مثبت ہو۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: samra

Read More Articles by samra: 8 Articles with 8761 views »
my name is samra.i am studied in lcwu. i live in lahore... View More
27 Aug, 2016 Views: 330

Comments

آپ کی رائے