کیا خدمت خلق ایک گناہ ہے؟؟؟

(Shafqat Ullah, )
اﷲ کی ذات با برکت اور ہر چیز پر قادر ہے زندگی اور موت سب اسی کے ہاتھ میں ہے تقدیر اور انسان اس کی بادشاہت کے سامنے بے بس ہے یہ دنیا فانی ہے اور ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ہمیں ہر حال میں ذات اقدس کی بارگا ہ میں خیر کا طلب گار اور شکر گزار ہونا چاہئے ۔چند سال قبل دریائے جہلم میں ایک واقع ہوا جس کے مطابق کشتی میں مسافروں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کشتی الٹ گئی اور کئی جانیں گئیں لیکن ان میں ایک شخص ایسا تھا جسے دو دن بعد ریسکیو کیا گیا حالانکہ وہ کشتی تلے دب چکا تھا اور اسی کے نیچے رہا ۔کئی خوش قسمت لوگ تھے جنکی نعشیں نکال کر ورثاء کے حوالے کر دیں گئیں اور انہیں کفن دفن نصیب ہوالیکن کئی ایسے تھے جنکی نعشیں آج تک نہیں ملیں دریا نگل گیا لیکن وہ شخص دو دن پانی میں کشتی کے نیچے دبے رہنے کے با وجود زندہ رہا نہ اسے کسی آبی بلا نے کچھ کہا اور نہ ہی بھوک پیاس سے نڈھال ہو کر وہ بے ہوش ہوا یہی قدرت کی کاری گری ہے ۔روز مرہ کی زندگی میں کئی ایسے واقعات رو نما ہوتے ہیں جو انسان کی عقل سے ماورا حیرت پر مجبور کر دیتے ہیں لیکن ماضی پر نظر دوڑائیں تو کئی صدیاں قبل ارسطو نے ٹھیک کہا تھاکہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے صرف سماج کی بیڑیوں میں پھنس جانے اور سر میں دماغ کے پائے جانے کی وجہ سے دوسرے جانوروں سے الگ عادات کا مالک ہے لیکن شدت پسندی حیوانوں کے جیسے اسکی فطرت میں بھی ہے ۔جیسے اگر کسی سیاست دان سے کوئی غلطی ہو جائے تو فوری طور پر اسکے خلاف ہم فتویٰ جاری کر دیتے ہیں کہ اسے پھانسی پر لٹکا دو !کسی ڈاکٹر سے کوئی غلطی ہو جائے یا چاہے اسکی غلطی نہ بھی ہو اسکے زیر علاج کسی کی موت واقع ہو جائے تو اسکی اتنی تذلیل کرتے ہیں کہ بے چارہ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا اسی طرح زندگی کے باقی معاملات میں بھی ہم بڑی لاتحملی سے کام لیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی اﷲ کا بنایا ہوا ایک انسان ہے اور انسان خطا کا پتلا ہے ہاں البتہ ہمارے معیار بڑے دوغلے اور منافقانہ ہیں اگر وہی غلطی ہم سے سر زد ہو جائے تو ہم اسکے لئے بڑی بڑی دلیلیں دیتے ہیں اور چھپانے کیلئے مٹی پاؤ ڈنگ ٹپاؤپالیسی سے کام لیتے ہیں ۔چند روز قبل جھنگ میں ایک واقع رو نما ہوا کہ جب سرجن ڈاکٹر ایک پانچ سالہ بچے کا آپریشن کر رہا تھا اسی دوران بچے کی موت ہو گئی جس پر ورثاء نے ہسپتال کے سامنے نعش رکھ کر روڈ بلا ک کر کے ڈاکٹر کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور یہاں تک کہ اسے موت کی سزا دینے کا بھی مطالبہ کر ڈالایہاں چندسوالات جنم لیتے ہیں !ایک تو یہ کہ اس ڈاکٹر نے کبھی نہیں انہیں کہا تھا کہ تم میرے پاس ہی آکر آپریشن کروانا !دوسرا یہ کہ ورثاء کی آنکھیں اس وقت بند تھیں اور دماغ کام نہیں کر رہا تھا کہ جب ڈاکٹر نے ان سے ڈیتھ ایگریمنٹ پر دستخط کروائے تھے ؟اور تیسرا یہ کہ ڈاکٹر کیا کوئی بھی کسی بھی شعبہ سے وابستہ ہو کبھی بھی اپنے شعبے کے ساتھ غداری نہیں کرتا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ میں جتنا اچھا کام دوسروں کی نسبت کروں گا اتنا ہی عوام میں مقبول اور مشہور ہو جاؤں گا ۔یہ بات تو اپنی جگہ پھر ساتھ ہی سوشل میڈیا اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا بھی کوئی کثر اٹھا نہیں رکھتے اور ہر ممکن تذلیل کرنے کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اس شخص کو ننگا کر کے چھوڑتے ہیں لیکن اگر کسی نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی ہو اور انسانیت کی خدمت کیلئے اپنا تما م وقت بڑی ایمانداری سے وقف کیا ہو تو اس کیلئے کوئی بیا ن نہیں دیتے بلکہ یہ کہ کر بات کو ختم کر دیتے ہیں کہ یہ تو اس کے فرائض میں شامل ہے ۔چند روز قبل ڈیرہ غازیخان میں ایک ڈاکٹر نے لائٹ کی سہولت نہ ہونے کے باعث موبائل کی ٹارچ پر دس آپریشن کر دئیے اور وہ بھی بالکل کامیاب جسکو ایک نیا موڑ دینے کی کوشش کی گئی لیکن میڈیا ناکام رہا تو ڈاکٹر سے انٹر ویو لینے چلے گئے جس پر ڈاکٹر نے انکار کر دیا اور صرف ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر نے بتایا کہ ایسا کام کرنے کا میرا مقصد یہ ہر گز نہیں تھا کہ کوئی میڈل لوں یا میڈیا پر نام بناتا پھروں بلکہ وہ دس مریض ایسے تھے کہ اگر انکا بروقت آپریشن نہ کیا جاتا تو وہ جان کی بازی ہار جاتے ہسپتال میں بجلی اور جنریٹر کی سہولت نہ ہونے کے باعث مجھے مجبوراََ موبائل ٹارچ پر آپریشن کرنے پڑے اور کامیاب ہوا !کیوں کہ یہاں ڈاکٹر کا مقصد صرف و صرف انسانیت اور انسانوں کی جان بچانا تھا جو اس نے بخوبی نبھایا ہے لیکن یہ بات یا خبر کسی اور چینل یا اخبار نے پبلش نہیں کی کیونکہ اس میں کوئی سکینڈل نہیں تھا ۔کسی کو موت آ جائے یا کوئی ایسی گھمبیر بیماری میں مبتلا ہو جائے تو ہم اسکے بارے میں اپنے ہی خیالات کی کھچڑی پکا کر کہتے ہیں کہ اس نے زندگی میں یہ گناہ کئے تھے یہ جنت میں نہیں جائے گا !یا اس نے ساری زندگی یہ برے اعمال کئے انہیں کی بدولت اس عذاب میں بیماری میں مبتلا ہے جو سرا سر غلط اور شرک کے مترادف ہے ۔ سزا و جزا کا مالک صرف وہی ذات بار برکت و اقدس ،رحیم و کریم اور رحمٰن اﷲ تعالیٰ ہے ۔اب اگر ہم اپنے مذہب اسلام کا جائزہ لیں تو قرآنی آیات کا مفہوم ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :تمام گناہ معاف کر دوں گا گناہ کبیرہ معاف نہیں کروں گا بہتان لگانے ،جھوٹ بولنے کی معافی نہیں اور سب سے بڑی خطا حقوق العباد ہیں جو شخص پورا نہیں کرتے ان کیلئے معافی نہیں ہے حدیث نبوی ﷺ ہے کہ تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جسکا اخلاق اچھاہے اور اخلاقیات کے دائرہ میں ہی انسانیت کا سبق ہے حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ انسان اخلاق کی بدولت ان لوگوں کا مرتبہ حاصل کر لیتا ہے جو اﷲ کے دوست ہوتے ہیں یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقع ہی انسان ہیں یا وہ مخلوق ہیں جو ارسطو نے بیان کی؟کیا یہ وہی آدم ہے جسکو سجدہ نہ کرنے کی سزا میں عزازیل ابلیس بن گیا ؟کیا ہم وہی اشرف المخلوقات ہیں کہ جسکو اﷲ تعالیٰ نے زمین میں اپنا نائب مقرر کیا ؟اگر ہم ہیں تو ہم میں یہ شدت پسندی کیوں ہے؟منافقانہ اور دوہرا معیار کیوں ہے؟انسانیت اور اخلاقیات کا فقدان کیوں ہے ہم میں ؟دوسروں کی تذلیل کرنا ہمیں کیوں پسند ہے ؟اپنی جھوٹی شان کو قائم رکھنے کی خاطر باقی انسانوں کو نیچ کیوں سمجھتے ہیں ؟کون جنتی ہے ،کون دوزخی !کون اچھا ،کون برا !کون گھٹیا، کون بڑیا !کون مجرم اور کون معصوم ! کس کو کیا سزا ملنی چاہئے یہ اسکا اور اﷲ کا معاملہ ہے اور شریعت محمدی ﷺ ہمارے پاس موجود ہے الزام کی صورت میں کسی کو گناہ گار نہیں کہا جا سکتا اور نہ اسکو سزا دی جا سکتی ہے ہمیں ہر حال میں اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر انسانیت کے سبق کو یاد رکھنا چاہئے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Shafqat ullah

Read More Articles by Malik Shafqat ullah : 213 Articles with 91456 views »
Pharmacist, Columnist, National, International And Political Affairs Analyst, Socialist... View More
30 Aug, 2016 Views: 360

Comments

آپ کی رائے