ڈاکٹر کسانہ صاحب کی خدمت میں مفت مشورہ

(Arif Kisana, Sweden)
سائیں رحمت علی ناتھن شاہی ۔ سٹاکہولم ْ سویڈن
عارف محمود کسانہ صاحب سے کافی پرانی یاد اﷲ ہے ۰ تمام تر مصروفیات کی بنا پر کبھی کبھی ملاقات بھی ہو جاتی ہے ورنہ اکثر فون پہ تمام شکایتیں سنا دیتا ہوں اور ڈاکٹر صاحب حوصلہ سے سب کچھ سن بھی لیتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی حکم صادر کر دیتے ہیں کہ سائیں جی مشورے اور تنقید کو ضابظہٗ تحریر میں لے آئیں تو رہنمائی ہوگی ۰ بھلا مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ میں اپنے قیمتی وقت کو کسی کی رہنمائی میں ضائع کروں ۰ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ میرا اکثر وقت فضولیات میں گذرتا ہے۰ تنقید برائے تنقید کرنا، کسی کی عیب جوئی کرنا، ہر اچھے کام میں کیڑے مکوڑے نکالنا اور برے کام میں مزید کیڑے ڈالنا میر ے پسندیدہ مشاغل میں سے ہے۰ لسٹ تو بہت لمبی ہے مگر امید ہے کہ قارئین کرام کے لئے میرا اتنا سا تعارف کافی ہوگا۰ اپنی تنقید کو تحریر ی شکل نہ دینے کی وجہ یہ ہرگز نہ تھی کہ ڈاکٹر صاحب کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ وجہ یہ تھی کہ مجھے اردو عبارت لکھنے میں بہت دشواریاں پیش آتی ہیں اور خاص طور پہ اگر کمپیوٹر پہ عبارت لکھنے کو کہا جائے ۔ اس کے علاوہ اردو میں تین مرتبہ فیل ہونے کی وجہ سے میرے اساتد محترم نے مجھ سے اردو نہ لکھنے کا عہد لیا تھا ۰ ایک ہونہار شاگرد ہونے کے ناطے اس عہد و پیماں کو نباھ رہا ہوں اور اسی لئے یہ مضمون کسی اور سے لکھوایا ہے۰

ایک دفعہ اتفاق سے ڈاکٹر صاحب سے ملا قات ہو گئی اور موقع غنیمت جانتے ہوئے یہ سب کچھ آپکی خدمت میں گوش گذار کردیا مگر ڈاکٹر صاحب ہیں کہ میرے تمام تر عیوب کے باوجود مجھے اہل دانش و قلم گر دانتے ہیں۰ اب کیا کیا جا سکتا ہے ۰ جہاں اتنے الزامات ہیں وہاں ایک اور صحیح۰ اپنی اس غلط فہمی کی بنا پر ڈاکٹر صاحب اپنے ھفتہ وار کالم بھیتجے ریتے ہیں ۰

کوئی تین ماہ قبل ڈاکٹر صاحب نے اپنے تمام کالمز کا مجموعہ افکار تازہ کے نام سے شائع کروایا اور اپنی کتاب کی تقریب رونمائی میں اس حقیر کو فقط مدعو ہی نہیں کیا بلکہ تقریر کرنے کا حکم بھی بھی صادر فرما دیا۰ اب میں نے بھی دل کھول کر اوٹ پٹانگ مارا اور نہایت ہی فضول قسم کی تقریر کر کے حاضرین محفل کو اچھی طرح بور کیا ۰ امید تو بہت ہے کہ آئیندہ مجھے بلانے کی کوئی غلطی نہیں کرے گا ۰

بات ڈاکٹر صاحب کی تحریر پہ تنقید کی ہو رہی تھی لیکن میں جوش خطابت میں دور نکل گیا اور اﷲ اﷲ کر کے جلدی واپس لوٹ آیا ۰ ڈاکٹر صاحب کے کالمز جیساکہ عرض کیا ہے کہ نہ چاہنے کے با وجود پڑھ لیتا ہوں۰ آپکے کالمز میں روانگی ہوتی ہے اور اپنی تحریر میں عنوان کی مطابقت کے ساتھ حقائق بیان کرتے ہیں۰ ڈاکٹر صاحب اگر کوئی واقعہ بیان کرتے ہیں تو اس واقعہ کے تمام تر محرکات پہ بھی روشنی ڈالتے ہیں ۰ یورپ میں پاکستانیوں کو خصوصی طور پر اور غیر ملکیوں کو عمومی طور پر جو مسائل درپیش ہیں اس پہ سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں ۰ آپ معاشرے کے تمام تر پہلووں پر گہری نظر رکھتے ہیں۰ اگر کسی تاریخی واقعہ پہ قلم اٹھاتے ہیں تو اس کا تجزیہ کرتے ہیں مگر کسی ہچکچاہٹ یا تذبذب کے بغیر اپنا نقطہء نظر بھی واضع کرتے ہیں۰ مثلاأ آپ نے واقعہ کربلا پہ ایک نہایت ہی دلچسپ مضمون لکھا۰ اس مضمون میں آپ نے جذباتی روایت سے ہٹ کر حضرت امام حسین ؑ کے قیام کے محرکات پہ تفصیل سے گفتگو کی اور ساتھ ساتھ یہ بھی واضع کیا کہ یزید پلید نے اپنے مختصر سے دور حکومت میں دین اسلام پہ کون کون سے مظالم ڈھائے۰

اسی طرح ڈاکٹر صاحب جب سیاسی ، معاشی اور معاشرتی مسائل پہ لکھتے ہیں تو صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ ساتھ ساتھ حل بھی تجویز کرتے ہیں۰ ڈاکٹر صاحب بچوں کے مسائل سے بھی بخوبی آگاہ ہیں اور اسی لئے آپ نے بچوں کے لئے دلچسپ کہا نیوں کو کتابی شکل میں شائع کیا۰ آپ دین اسلام کو جذبات اور عقیدت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ۰ آپکے نزدیک کلمہ توحید و رسالت پڑھنا دینی عقیدت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کا نام ہے۰ قرآن کریم کی تعلیمات کو صرف ثواب کی حد تک نہیں رکھتے بلکہ آپ قرآن کے عین مطابق دعوت غور و فکر دیتے ہیں اسی لئے آپ نے ہفتہ وار قرآنی سٹڈی سرکل کا اہتمام کر رکھا ہے ۰

ڈاکٹر صاحب کے احباب آپکی تمام کاوشوں کو تعریفی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مزید کاوش کی دعا بھی دیتے ہیں۰ ان تمام کار ہائے نمایاں کے باوجود ڈاکٹر صاحب اپنی تحریروں میں بسا اوقات (دانستہ یا نادانستہ) نہایت سخت الفاظ کا استعمال کر جاتے ہیں۰ یہ شکوہ فقط اس فقیر نے ہی نہیں بلکہ پنجاب یونیورسٹی کے ایک پروفیسر صاحب نے بھی کیا۰ کسی نے سویڈن کو دیار غیر لکھ دیا ڈکٹر صاحب نے اس پہ بھی تجزیہ کر ڈالا۰ بھئی اگر ہمیں چالیس چالیس سال یہاں رہتے ہوئے ہو گئے ہیں تو کیا ہوا ؟ اگر ہمارے بچے یہاں کے سکولوں میں پڑھتے ہیں تو کیا ہوا؟ اگر ہمارے بچوں کے بچے یہاں پیدا ہو گئے تو کیا ہوا؟ اگر حکومت ٹیکس میں کمی بیشی کرتی ہے تو بھلا ہمیں کیا لینا دینا؟ اگر اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ہماری صحت پہ کونسا برا اثر پڑتا ہے؟ اگر ہمارے گھر سے نزدیک سڑک ٹوٹ جائے تو کون سی مشکل ہے؟ ڈاکٹر صاحب آپ خود ہی فرمائیے کہ مندرجہ بالا حقائق کے باوجود کیا سویڈن دیار غیر نہیں؟ ہم نے دفن بھی سویڈن میں ہی ہونا ہے تو اس سے دیار غیر کا لیبل اتر جائے گا؟ بلکل نہیں۰ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ سویڈن کے متعلق اپ ڈیٹ انفارمیشن کے سیاپے میں پڑیں۰ گھر میں ٹی وی ہے جس پہ انڈیا و پاکستان کے ڈرامے اور فلمیں دیکھتے ہیں۰ اس لئے آپ سے گذارش ہے کہ یورپ ، امریکہ اور کنیڈا میں رہنے والے پاکستانیوں کو واعظ و نصیحت کریں کہ بھائی ہم دیار غیر میں رہتے ہیں اور آپ بھی سویڈن کو یہی کچھ سمجھیں ۰

حال ہی میں یوم آزادی کے موقع پر آپ نے پاکستانی مایہ ناز سیاستدانوں پہ یلغار کر دی۰ واقع کچھ یوں ہے کہ تیرہ اگست کو سویڈن کی ایک وزیر مستعفی ہو گئی۰ وجہ یہ تھی کہ مذکورہ نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے پکڑی گئی۰ وزیر محترمہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم کی خدمت میں استعفیٰ پیش کر دیا۰

اب اس واقع کا پاکستان کے سیاستدانوں سے کیا تعلق؟ پہلی چیز تو پاکستان کے رہنما خود گاڑی چلاتے ہی نہیں اور دوسرا یہ کہ اتنی کم مقدار میں شراب پینے کو اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں۰ آپ نے بیس کروڑ عوام کو مردہ قرار دے دیا لا حول ولا۰ نعرے بھی تو زندہ لوگ ہی لگاتے ہیں نا۰ جلسے جلوس، دھرنے، سیاسی و مذھبی اجتماع اور نعرے بازی کیا قبرستان میں ہوتے ہیں؟ ہمارے وزرا بھی اتنی چھوٹی سی غلطی پہ استعفیٰ دے دیں، تو ملک کون چلائے گا جی؟ ہمارے وزرا اتنے سمجھدار ہیں کہ بڑی سے بڑی غلطی پہ بھی مستعفی نہیں ہوتے اور بڑے حوصلہ کے ساتھ تنقید کا مقابلہ کرتے ہیں۰ پناما لیکس بھی یہود و نصارا کی ایک سازش ہے جس کے تحت فرزندان امیر المومنین کو بدنام کیا جا رہا ہے۰ یہ کوئی رہنما ہیں جو آرام سے گھر چلے جائیں۰ رہنما میدان کاردار میں تلوار بکف ہیں۰ آپ نے جے آئی ٹی اور کمشن بنانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۰ ڈاکٹر صاحب اگر ایسا نہیں ہوگا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیسے ہوگا؟ ہمارے رہنما کلین چٹ لینے کے لئے اب یہ بھی نہ کریں؟ بارہ مئی ، سانحہ ماڈل ٹاون اور دیگر واقعات میں اگر ایک یا دو کانسٹیبل کو معطل کر دیا تو کیا ہوا؟ کیا کسی بڑے افسر کو معطل کیا جاتا؟ اس سے تو ہماری پولیس فورس کا مورال ڈاون ہو جائے گا جس سے اس مقدس ادارے کی کارکردگی پہ نہایت ہی برے اثرات پڑیں گے۰ آپ نے رہنماوں کو لٹیرے لکھا ہے جو کہ ایک نہایت ہی نا شائستہ لفظ ہے ۰ کذاک ذرا ادبی لفظ ہے یہ لکھنا چاہئے تھا۰ قانون شکن اور کرپٹ جیسے نامناسب الفاظ استعمال کر کے آپ نجات دہندگان ملت کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۰ ہمارے رہبران کے ہاتھ میں کوئی ہتھوڑا نہیں پکڑا ہو ا جس سے قانون توڑیں بلکہ اس سے تو ریل کی پٹری اور گٹر کے ڈھکن توڑ کر اتفاق کی بھٹیوں میں ڈھال دیتے ہیں تا کہ مارکیٹ میں صارف کو اصلی مال میسر ہو اور ملاوٹ شدہ نہ ہو ۰ مجھے یقین ہے اس تشریح کے بعد آپ اس کار خیر کو نگاہ تحسین سے دیکھیں گے۰ کرپٹ کی جگہ اگر الراشی لکھتے تو ذرا بہتر معلوم ہوتا۰ آخر میں لیڈران کو چلو بھی پانی میں ڈوب کر مرنے کا مشورہ دیکر بے عزت کرنے کی آپ نے حد ہی کر دی۰ بھلا کیا ہمارے رہبران اس قابل ہیں؟ کم از کم آپکو ایک بڑی جھیل لکھنی چاہئے تھی جس میں ذرا آرا م سے ڈوب کے مرتے۰ بحرحال ڈاکٹر صاحب امید ہے میرے مختصر سے مشورے پہ عمل کرتے ہوئے آئندہ آپ ذرا نرم الفاظ کے ساتھ قوم و ملت کے رہبران کی کلاس لیں گے۰
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Kisana

Read More Articles by Arif Kisana: 239 Articles with 126973 views »
Blogger Express Group and Dawn Group of newspapers Pakistan
Columnist and writer
Organiser of Stockholm Study Circle www.ssc.n.nu
Member Foreign Pr
.. View More
30 Aug, 2016 Views: 367

Comments

آپ کی رائے