عید الضحیٰ : قربانی اور مہنگائی کا اژدھا

(Mian Ihsan Bari, )

عید قربانی ہر سال آتی اور گذر جاتی رہے گی جس کو خدا نے تو فیق دی ہے وہ قربانیاں کرے گااور اس کے عزیز و اقارب ،قریبی دوست احباب بھی خوشیاں منائیں گے گلے ملیں گے حتیٰ کہ گلے شکووں کے باوجود مسرتوں کا اظہار کریں گے۔چونکہ مہنگائی کا اژ دھا پسے ہوئے طبقات کے لوگوں کو براہ راست نہیں نگل رہا بلکہ دھیرے دھیرے غرباء کو خود کشیوں اور خود سوزیوں پر مجبور کیے جارہا ہے کہ ان دنوں اشیائے خوردنی کی قیمتیں تو آسمان سے باتیں کرنی لگی ہیں بالخصوص قربانی کے گوشت کو پکانے کے لیے ضروری اہم اشیاء ٹماٹر ،پیاز لہسن ادرک دھنیا مصالحہ جات کی قیمتیں پندرہ گنازیادہ ہوجاتی ہیں ٹماٹر تو ساڑھے تین سو روپے کلو تک بھی نہیں مل رہا ہوتاتو پھر یہ عید آتی تو ہے مگر پسے ہوئے طبقات کے گھروں میں تو قیامت برپا ہو جاتی ہے اگر کسی نہ کسی طرح انھیں کہیں سے گوشت کی صورت میں پھیپڑے،چھیچڑے اوجھڑی یا ہڈیاں مل بھی گئی ہوں تو اسے پکائیں گے کس طرح۔ کہ اس میں ڈالنے والی سبھی لوازمات غریبوں کی پہنچ سے باہر ہیں ویسے بھی ضیاء الحق اور بدترین ڈکٹیٹر مشرف کے دور سے ہی چونکہ نو دولتیے سود خور سرمایہ داروں ،ڈھیروں منافع ہڑپ کرجانے والے صنعتکاروں کے نئے طبقات پیدا ہو گئے ہیں جوسارا خورد برد کردہ اور لوٹا ہوا مال بیرون ملک دفنا کراکڑ فوں کرتے پھر رہے ہیں واضح ہے کہ یہ سبھی بے کس بے سہارا مزدوروں کا خون چوس کر اور انھیں مہنگی اشیاء فروخت کرکے ہی دولت مند ہوئے ہیں تو انھیں کسی غریب سے کیا لینا دیناوہ عید کے روز بھی بھوکے سوتے رہیں تو انھیں کیا فرق پڑتا ہے ان کے ڈیپ فریزر تو قربانی کے بعد لبالب بھر چکے ہوتے ہیں قربانی کرنے کے بعد گوشت کی تقسیم پر بھی اﷲ رب العزت نے چند قوائد بتادیے ہیں کل تین حصوں میں سے ایک حصہ خود اپنے لیے دوسرا حصہ قریبی رشتہ داروں ودوست احباب کے لیے اور بقیہ تیسرا حصہ غرباء مستحقین ،بے کس و بے یار و مددگار لو گوں کے لیے مقرر ہے ۔اب عملاً یہ ہوتا ہے کہ میں نے تیسرا حصہ خصوصاً ران دستی وغیرہ قریبی عزیز کو بھجوادیا اور اس نے بیعنہہ تیسراحصہ مجھے بھجوادیا۔ یعنی بکرا یا گائے جس کی بھی قربانی کی گئی تیسرا اپنا حصہ سنبھال لیااور تیسرا حصہ ہی تبادلہ میں آگیا یعنی 2/3حصہ قربانی کا گوشت تو جمع ہی رہا۔بقیہ بانٹتے بانٹتے دو چار بوٹیاں کسی غریب کو مل بھی گئیں تو پھر پکانے والا مسئلہ "فیثا غورث "درپیش ہی رہااس میں قطعاً کوئی لگی لپٹی بات نہ ہے کہ جب با اثر اور سرمایہ دار طبقات کے لوگوں کو غرباء جانوروں کی قربانیاں کرتے دیکھتے اور پھر انھیں اس میں سے خدائی احکامات اور محمد مصطفیٰﷺ کے طریقے کے مطابق اپنا گوشت کا حصہ بھی نہیں مل پاتاتو وہ اندر ہی اندر کُڑھتے اور ان کے دماغ و دل میں عجیب و غریب خیالات جنم لینے لگتے ہیں کہ بکرے تو مہنگے ہیں ہم کہاں سے خریدیں ہم بکروں کی جگہ کیوں نہ انھیں ہی زبح کرڈالیں کہ نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری مگر پھرباحمیت غیرت مند اور باعزت غرباء کو خیال آجاتا ہے کہ ناجائز منافع خور اور سود خور نو دولتیوں کے حرام مال پر پلے ہوئے گو شت میں سے بھی تو غلیظ بدبو دار بھبوکے آئیں گے۔تو پھر غریب ایسے خطرناک کھیل کو دل سے نکال ڈالتا ہے اس دفعہ تو کئی غریب گھروں میں بچوں نے دیگر بچوں کی دیکھا دیکھی عید پر نئے کپڑے نہ ملنے پر خود کشیاں کر لیں اور کئی کے باپ نے بھی کہ وہ اپنی اولاد کو خوشیاں نہ دے سکا ۔مگر ہم مسلمان یہ عظیم قربانی حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کی یاد میں کرتے ہیں۔ کہ جو بھی استطاعت رکھتا ہے اور پھر قربانی نہ کرے تو فرمان موجود ہے کہ وہ پھر ہماری جنت کی طرف نہ دیکھے قربانی صرف اور صرف حلال مال کی ہی ہوتی ہے اور ثواب بھی اسی کو ملے گاجس کی نیت درست ہو گی وہ ٹریفک پولیس والے جنہوں نے عید قربان کا بہانہ بنا کرراہ چلتے غریب موٹر سائیکل والوں کو بھی نہیں بخشا اور عام دنوں سے دو گنی چوگنی حرام وصولی کی ہواگر وہ بھی جانور لے کر زبح کریں گے تو اغلب امر یہی ہے کہ حرام مال سے خرید ی گئی قربانی خدا کے ہاں مستحسن امر نہ ہو گی اسی طرح رشوت خور حرام مال کمانے والوں کی بھی۔

فرمان خدا وندی(رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں)سود دینے اور سود لینے والوں کی قربانیاں بھی رائیگاں جائیں گی(سودلینے والا دینے والا فردخدا اور اس کے رسول کیخلاف براہ راست جنگ میں ملوث ہوتا ہے اور سود لینا اور دینا اس سے بھی بڑا گنا ہ ہے کہ کوئی شخص اپنی سگی ماں سے 69دفعہ زنا کرلے) سوائے اس کے کہ خدائے عز و جل مہربانی فرمادیں اور آقائے نامدار محمد ﷺ کی شفاعت نصیب ہو جائے تو ہی وارے کے نیارے ہو سکتے ہیں و گرنہ ایسے مال کی قربانیاں تو کیا ہوں گی الٹا ایسا مال جمع کرنے والوں کے لیے شدید عذاب بتایا گیا ہے(فرمایا گیا کہ جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں انھیں دوزخ کا عذا ب سنا دو)عید کی قربانی تو انہی کی قابل قبول ٹھہرے گی جو غربا ء ،مساکین اور ان کے بال بچوں کا بھی خصوصی خیال کرے گا اور ہمسایوں کی بالخصوص خیر و عافیت کا پتہ کرکے ان کو بھی عید کی خوشیوں میں برابر کا شریک کرے گا۔خود پیٹ بھر کا کھایا اور ہمسایہ بھوکا رہا تو الٹا عذاب و گناہ کے مستحق ٹھہریں گے۔یہ عید ایسے وقت آئی ہے کہ کشمیر میں بھارتی بنیا ظلم ،تشدد و قتل و غارت گری کے پہاڑ توڑ رہا ہے وہ مسلمانوں کو شاید عید کی نماز پر بھی اکٹھے ہونے کی اجازت نہ دے۔پوری دنیا کے مسلمان ان کے غموں میں برابر کے شریک ہیں اور دنیا کی حریت پسند اقوام سے بھی اپیل کنندہ ہیں کہ ان کو حق خود ارادیت دیا جائے۔ہمیں قربانی کرتے وقت یا تو ان کے لیے گوشت بھجوانے کا خصوصی انتظام کرنا چاہیے یا پھر ایسی تنظیموں تحریکوں کو اپنا جانورنذر کردیں کہ وہ کشمیریوں کے لیے زبح کرکے وہیں تقسیم گوشت کا اہتمام کردیں وہاں بھوک سے بلکتے بچے معصوم باحیا خواتین و بچیاں عید قربان پر گوشت کھانے سے محروم رہ گئیں تو ہمیں عز و جل کی بارگاہ میں جس شرمندگی کا سامنا ہو گا اس کا تصور کرنا بھی محال ہے مگر ہمارے ہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔مقتدروں کو اپنی پانامہ لیکس کی کلئیرننس کی پڑی ہوئی ہے غریب تو محرومیوں کی وجہ سے مجبور محض ہیں مگر یہ بھی اسی طرح خدا کی طرف سے بھیجے گئے پانامہ لیکسی عذاب کی وجہ سے عید کی خوشیوں سے محروم رہیں گے ۔ اقتداری و اپوزیشنی کھینچا تانی ،ہلہ گلہ سے غریب مزدوروں کسانوں بے کسوں ،مستحقین و غرباء کے مسائل بالکل ہی دفن ہو کر رہ گئے ہیں۔عید قربان پر حرام مال سے مکمل منہ موڑنا ہوگا۔ ذاتی خواہشات کی قربانی کرنا ہو گی، غریبوں کوصحیح معنوں میں گوشت میں سے حصہ دے کر ہی قربانی خدا کے گھر مقبول ہو سکے گی وگر نہ بابا یہ سب کہانیاں ہیں!!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Ihsan Bari

Read More Articles by Mian Ihsan Bari: 278 Articles with 117721 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Sep, 2016 Views: 425

Comments

آپ کی رائے
بحوالہ اپ کے مضمون کا آخری سے پہلا فقرہ
“ غریبوں کوصحیح معنوں میں گوشت میں سے حصہ دے کر ہی قربانی خدا کے گھر مقبول ہو سکے گی “
میں نے اسے کسی اور رنگ میں بھی دیکھا ہے اور اسے ہی سپرد “ ہماری ویب “ کیا ہے ملاحظہ ہو میرا کالم “ہماری ویب“ پر

http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=80832
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Sep, 15 2016
Reply Reply
0 Like