ایسی وحشت․․․ایسی بے حسی!

(Sana Ghori, Karachi)

 عیدالضحیٰ کی گہماگہمی ہر جگہ ہے، جہاں دیکھیے وہاں لوگ اپنے گھروں کے آگے قربانی کے جانوروں کے ساتھ ان کی دیکھ بھال کرتے نظر آرہے ہیں۔ ہر نوجوان، بچہ، بوڑھا عیدالضحیٰ کی تیاریوں میں مگن ہے۔ یہ الگ بات کہ ہر گلی کوچے میں گندگی کے ڈھیر نظر آرہے ہیں، جو عید کے تین دنوں میں اس حد تک بڑھ جائیں گے کہ فضاء تعفن سے بھر جائے گی۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی میرا شہر بڑی عید پر ایک عجب منظر پیش کر رہا ہوگا۔ قربانی کا اصل مقصد اﷲ کی راہ میں اپنے مال کی قربانی کرکے اپنے اندر صبر کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ اپنے اندر کی صفائی، اپنی روح کی صفائی، اپنے ایمان کی پاکی کو قائم رکھنا اس دن کا مقصد ہے، لیکن عید پر نظر آنے والی گندگی صرف فضاء ہی میں تعفن نہیں پیدا کرتی، یہ ہمارے اندر اٹھنے والے تعفن کی بھی نشان دہی کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ ہم کتنے بے حس ہوچکے ہیں اور ہمارے لیے اپنی روحیں پاک کرنا حد سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ یہ گندگی ہی ہے جو وحشت میں ڈھل جاتی ہے۔ اسی وحشت کے نتیجے میں ایک ایسا سانحہ ہوا ہے کہ عید کے یہ دن مایوس کرگئے ہیں مجھے یہ دن جھنجوڑ کے جارہے ہیں، میں باہر سے تو خوش ہی ہوں لیکن اندر کہیں ماتم ہو رہا ہے۔ باطن کا ماتم کہ وہ عیدکا دن جو ہمیں برداشت کا درس دیتا ہے اسی عید پر ایک معصوم کو معمولی نوعیت کے جھگڑے میں موت کے گھات اتار دیا گیا۔

جی ہاں، کراچی سے تعلق رکھنے والا نوجوان اپنے دوستوں کے ساتھ مویشی منڈی جانور کی خریداری کے لیے گیا تھا۔ اس کی گاڑی ایک گیٹ سے منڈی میں داخل ہوئی، جس پر پارکنگ انتظامیہ سے اس کی تلخ کلامی ہوگئی، اور پھر وہی ہوا جو اس ملک میں اور اس کے سب سے بڑے شہر میں دن رات ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ تلخ کلامی ہوتے ہوتے جھگڑے کی صورت اختیار کرگئی اور آخر مبینہ طور پر پارکنگ انتظامیہ کے اہل کاروں نے اس نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا، جس کے نتیجے میں نوجوان اپنے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جن میں انسانیت ہے نہ کسی چیز کا خوف، قانون کا نہ خدا کا۔ وہ نوجوان کی لاش کو سب کے سامنے گھسیٹتے ہوئے سڑک پر چھوڑ گئے۔ لڑکے کو ہسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کی موت کی تصدیق ہوگئی۔ چلیں جی قصہ ختم ․․․۔

جہاں اتنی بُری خبریں آتی ہیں وہاں ایک اور خبر صحیح۔ لوگوں نے نیوز چینل پر خبر سنی مقتول بیٹے کے غم زدہ باپ کے سامنے چند سیکنڈ مائیک رکھا گیا۔ ماں کو روتے ہوئے دکھایا گیا اور معاملہ یہ جا وہ جا۔

لیکن قصہ ختم نہیں ہوا، بل کہ ایسی ہی دل کو دہلادینے والی کہانیوں میں ڈھلتا رہے گا، لیکن المیہ یہ ہے کہ حکم رانوں سے معاشرے تک کوئی اس الم ناک واقعے پر نہیں چونکا۔ ہم سب کی زندگیاں اسی طرح جاری ہیں۔ جیسی اس واقعہ سے پہلے جاری تھیں۔ خبریں اسی طرح نشر اور شایع ہو رہی ہیں جیسے پہلے ہو رہی تھیں۔ پارکنگ مافیا اب بھی اسی طرح پارکنگ پر غنڈہ ٹیکس لے رہی ہے جس طرح پہلے لے رہی تھی اور ہم بہت خوش دلی سے دے بھی رہے ہیں۔ اب تو کوئی مائی کا لال پارکنگ مافیا کے کارندوں سے الجھنے کی کوشش بھی نہیں کرے گا، کیوں ایک نوجوان کے دن دہاڑے تشدد کا نشانہ بناکر عبرت کا نشان جو بنا دیا گیا ہے۔ ہم سب اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہیں۔ میں ہمیشہ ایک بات اپنے کالم میں کہتی ہوں کہ جب تک خدانخواستہ ہمارے اپنے گھروں سے جنازہ نہیں اٹھ جاتا، ہم پرکوئی قیامت نہیں گزرجاتی․․․ ہم پُرسکوں ہی رہتے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب ہمارا کوئی اپنا ایسے ہی نا حق مارا جائے اور پھر ہم صف ماتم بچائیں، پھر ہم دہائیاں دیں، پھر ہم چیخیں چلائیں۔ لیکن معاف کیجیے گا یہ بات سخت ضرور ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ جس طرح ہم اوروں کے دکھ پر خاموش رہے، اسی طرح دنیا ہمارے غم میں ہم پر بیتنے والے سانحے پر خاموش تماشائی بنی رہی گی اور ہماری خبر بھی چند منٹ چینلز کی زینت بننے کے بات ختم ہو جائے گی، کیوں کی ہم ظلم پر خاموش رہے اور خاموش رہتے آرہے ہیں۔ ہم خود نہیں بدلنا چاہتے تو یہ ملک اور یہ نظام کیسے بدلے گا، حکم رانوں سے کیا امید لگانی کہ کوئی معجزہ ہوگا اور راتوں رات سب بدل جائے گا، جب کوئی بدلنے پر تیار نہ ہو تو کچھ بدلتا بھی نہیں۔

اس نوجوان کی الم ناک موت اور اس المیے پر کوئی ردعمل نہ ہونا بتارہے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ وحشت اور درندگی کا یہ عالم ہے کہ ذرا سی بات پر کسی کی بھی جان لے لی جاتی ہے، کسی کے بھی گھر کا چراغ بجھا دیا جاتا ہے اور کسی بھی ماں کی گود اجاڑ دی جاتی ہے۔ بے خوفی کی یہ حالت ہے کہ دن دہاڑے سب کے سامنے ایک نوجوان کو تشدد کرکے مارڈالا جاتا ہے اور قانون اور لوگوں پر پورا اعتماد ہوتا ہے کہ کوئی اس معصوم جان کے زیاں پر آگے آئے گا نہ اس خون کا حساب لینے۔ بے حسی اس درجے کو چھو رہی ہے کہ یہ المیہ میڈیا پر اس طرح نمایاں جگہ نہ پاسکا جس طرح اسے ملنی چاہیے تھی نہ حکم رانوں نے رسمی طور پر ہی اس کا نوٹس لیا۔ میں سوچ رہی ہوں کہ یہ ہم کس سماج میں رہ رہے ہیں، جہاں اپنے اور اپنے پیاروں کی زندگی، عزت اور سلامتی کے لیے صرف دعا کا آسرا ہے․․․بس۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Ghori

Read More Articles by Sana Ghori: 312 Articles with 184292 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Sep, 2016 Views: 784

Comments

آپ کی رائے