برائی کو برانہ سمجھنا

(Faisal Shahzad, Karachi)
ایک ہے برائی کو برائی سمجھ کرکرنا۔ایک ہے برائی کو برابھی نہ سمجھنا۔پہلی چیز خطرناک ہے اوردوسری خطرناک ترین۔جو شخص گناہ کوگناہ سمجھ کرکرتاہے،بلاشبہ بہت براکرتاہے ۔اس سے اﷲ ناراض ہوتاہے۔ زندگی میں برکت ختم ہوجاتی ہے۔آخرت خطرے میں پڑجاتی ہے۔ مگر ایک امیدباقی ہوتی ہے کہ وہ چونکہ گناہ کی برائی سے واقف ہے اس لیے شاید کبھی توبہ کرلے۔

اس کے برعکس وہ شخص جو گناہ کو گناہ ہی نہیں سمجھتا ، وہ بھلا توبہ کیوں کرے گا۔اس لیے احادیث میں اس صورتحا ل کو سخت ترین شمار کیا گیاہے۔

ایک مرتبہ حضور رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تم لوگوں کا اس وقت کیا حال ہوگا جب نوجوان فاسق بن جائیں گے اور عورتیں نافرمان ہوجائیں گی۔‘‘
صحابہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اﷲ!کیا ایسا بھی ہوگا۔‘‘
فرمایا:’’ بیشک اور اس سے بھی زیادہ براحال ہوگا۔‘‘
پھر فرمایا:’’ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم نیک کاموں کا حکم کرنا چھوڑ دو گے اور بری باتوں سے روکنا چھوڑ دوگے۔‘‘
صحابہ کرام نے عرض کیا:’’ یارسول اﷲ ! کیا ایسا بھی ہوگا۔‘‘
فرمایا:’’ بیشک ہوگا اور اس سے بھی براحال ہوگا‘‘
پھر فرمایا:’’ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم برائیوں کا حکم کروگے اور اچھے کاموں سے منع کروگے۔‘‘
صحابہ نے عرض کیا :’’یارسول اﷲ !کیا ایسا بھی ہوگا۔‘‘
حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ بیشک ہوگا اور اس سے بھی سخت ہوگا۔‘‘
پھر فرمایا:’’ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم نیک کاموں کو برا سمجھنے لگو گے اور ناجائز چیزوں کو اچھا سمجھنے لگو گے۔‘‘ (جمع الفوائد)

ظاہر بات ہے کہ جب برائی کو اچھائی مان لیا گیا تواس کا لازمی اورمنطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اچھائی ،نیکی اورخیر کو برامانا جائے گا۔اگر کوئی دن کور ات مان لے تو پھر وہ رات کو رات نہیں کہہ سکتا۔اگر کوئی سردی کو گرمی کہنے لگے تو اسے گرمی کوسردی کہنا پڑے گا۔یہی سوچ جب خیر وشرکے بارے میں بگڑ جائے تو انسان شرکو خیر اورخیر کوشر مان کر زندگی گزارتاہے۔آج کل ایسے لوگ کم نہیں جو بلاشبہ اس اسٹیج پر پہنچ چکے ہیں۔ وہ موسیقی کوروح کی غذاکہتے ہیں۔پردے کو پرانے دورکی روایت مانتے ہیں۔عورت کی آزادی کو اس کا حق تصور کرتے ہیں۔چادراورچاردیواری کی رسم کو فضول کہتے ہیں۔یہ بہت ہی خطرناک بات ہے ۔شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریا مہاجر مدنی رحمہ اﷲ کاارشاد ہے۔
’’کسی برے کام کو کرنا اور چیز ہے اور اس کو اچھا سمجھنا اور چیز ہے۔ شریعت کی نگاہ میں کسی برے کام کو کرنا اتنا سخت نہیں ہے جتنا اس کو اچھا سمجھنا سخت ہے کہ اس میں عقیدہ کی خرابی ہے اور عقیدہ کی خرابی عمل کی خرابی سے ہمیشہ زیادہ سخت ہوتی ہے، آدمی کتنا ہی بڑے سے بڑا گناہ کرنے لگے وہ کفر نہیں ہے لیکن اسلام کی کسی معمولی سے معمولی چیز کے جس کا ضروریات دین میں سے ہونا ثابت ہوچکاہواستخفاف یا انکار کرنے سے اسلام ہی باقی نہیں رہتا اور بالاتفاق کافر ہوجاتا ہے۔‘‘

حضرت شیخ رحمہ اﷲ کے اس ارشاد کو نقل کرنے کایہ مقصد نہیں کہ ہم آپ دوسروں کو کافر قراردینے لگیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے کہ کہیں کسی برائی کو ہم اچھاتونہیں سمجھ رہے ۔اورکسی اچھائی کوبراتونہیں مان رہے ۔اگر ایساہے تویہ بڑی فکر کی بات ہے۔رہی بات دوسروں کی توانہیں سمجھائیے ضرورمگر کسی خاص فرد کی تکفیر ہرگز نہیں کریں۔یہ بہت ہی نازک معاملہ ہے جس کااختیار صرف مفتیان کرام کو ہے۔یہ حضرات بھی اپنے علم وفضل کے باوجود بہت احتیاط سے ایسے مسائل پر فتویٰ دیتے ہیں۔

اﷲ تعالیٰ امت مسلمہ کو شعورِ ایمانی عطا کرے تاکہ وہ اپنی اصل کی طرف لوٹ آئے اورنفس وشیطان اورباطل قوتوں کے جال سے نکل کر شاہراہ طاعت پرگامزن ہو۔آمین۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Faisal shahzad

Read More Articles by Muhammad Faisal shahzad: 115 Articles with 112200 views »
Editor of monthly jahan e sehat (a mag of ICSP), Coloumist of daily Express and daily islam.. View More
19 Sep, 2016 Views: 496

Comments

آپ کی رائے