آزادی یا جہالت

(Dur Re Sadaf Eemaan, )
 تقریب اپنے عروج پر تھی اور ٹھیک اسی طرح رنگ و بو وعریانیت بھی عروج پر تھی۔ کپڑوں کی ڈیزائننگ میں ۔۔یہ کوشش خاص طور پر کی گئی تھی کہ زیادہ سے زیادہ وجود نمایاں ہو اور کم سے کم کپڑا استعمال ...... اور غلطی سے بھی آنچل کا وجود ،وجود میں نہ آ جائے۔ اور اگر آنچل بن بھی جائے تو سر پر جا کر ، ہیر اسٹائل تباہ نہ کر دے۔ یہ تقریب تھی ایک مسلم گھرانے میں عقیقے کے........ ۔عقیقہ سنّت کی ادائیگی کے..... ، ڈانسر بھی آئے . . مووی میکر بھی ،.... گانوں کی بے ہنگم آواز سے ماحول گونج رہا تھا اور اس سنّت کی ادائیگی میں بے حیائی، عریانیت ، مغرب کی تقلید ،،،، سب کچھ تو تھا ،،بس سنّت کی ادائیگی کا طریقہ کسی سسٹم یا لبرل ازم کی نظر ہوگیا تھا ......اور میرے ذہن میں وہ عیسائی اسکول گھوم رہا تھا.......

مجھے یاد ہے وہ وقت جب میں عیسائیوں کے اسکول میں پڑ ھتی تھی اور اس سکول میں فی میل اسٹوڈنٹ کے ساتھ وی (V) ہونا لازمی تھا اور سیکنڈری اسٹوڈنٹ کے ساتھ وائٹ اسکارف ہونا لازمی تھا۔ ورنہ فائن چارج ہوتا تھا۔....یونیفارم میں شلوار قمیض ہوتی تھی ....پرنسپل عیسا ئی تھے لیکن روزے رمضان ،حجاب ہر چیز کا احترام تھا . . .

اور اس بات کو زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا ۔ آج مسلم اسکولز سے لیکر مسلم وطن میں ہونے والی یونیورسٹیز میں بے شرمی و بے حیائی عام ہے ،،،اور انتظامیہ ان بڑے ادارو ں میں شا ید کوئی رول نافذ نہیں کرسکتی ......کیوں آزادی بھی تو کوی چیز ہوتی ہے نہ.....

افسوس........... یہ وہ ملک ہے جو اسلامی تعلیمات کے نام پر آزاد ہوالاکھوں جانوں کا نذرانہ دے کر...... اور اسی ملک کے گورنمنٹ سے رجسٹر شدہ اداروں میں نقاب ، حجاب لینے والی لڑکی کو ایڈمشن نہیں ملتا جاب نہیں....... ملتی

یہ کیسا اسلامی وطن ہے؟ وہی وطن جس کے خواب ان بزرگو ں نے دیکھے تھے کے آزادی سے نماز ادا کرسکیں گے مسجدو ں میں جاکے ....آج اسی ملک میں مسجدو ں میں لڑائی ....اور اسی ملک کے تعلیمی اداروں میں ....بے حیائی پھیل.... گئی ہے
اسلامی نظریات پر عمل کرنا خواب تھا ۔۔۔۔۔ کھل کر آزادی کے ساتھ.........
لیکن عمل نہیں کر سکتے کیوں؟؟؟

شاید اس لیے کہ حکمرانوں سے لے کر رعایا تک کسی نے اپنے اندر اسلام کو اتارا ہی نہیں۔.......... اب اسلام کی پیروی ہو یا نہ ہو، اسلامی ملک تو آزاد ہو گیا نہ اسلام کے نام پر اب اسلام ہویا نہ ہو........ شاید یہ ہی سوچ رکھ کر کرپٹ حکمران ،لبرل کے حامی جج، اور سیکولر اساتذہ ۔۔۔۔ چنے جانے لگے ہیں۔ وہ لڑکیاں جو اسلام کے ۔۔پردے ،دی ہوئی عزت ،احترام عزت کو دیکھ کر مسلمان ہوتی تھی، اب کیا دیکھ کر مسلمان ہوں گی؟ ؟؟؟؟؟ یہ ملک سسٹم پر نہیں بنا تھا،ایک مسلم نظریہ پر حاصل کیا گیا تھا.... ان نظریات اسلامی پر زندگی گزارنی تھی گذارنی چاہیے .... جن نظریات پر یہ ملک حاصل کیا گیا۔۔۔ ......۔۔۔ تھا
آج غیر مسلم اور مسلم دونوں میں شاید نظر یات کا کوئی فرق نہیں۔رہا

اللہ کرم فرمائے اس ملک پر اور ہم پر! آگے شا ید مجھے خود نہیں پتا کے مجھے کیا کہنا ہے یا میرے الفاظ کیا ہوتے ............ لیکن آزادی کا مطلب ہماری شریعت میں بے حیائی ہرگز نہیں ہے........
کاش مسلم نادان شہزادیوں کو یہ بات سمجھ آجائے....
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dur Re Sadaf Eemaan

Read More Articles by Dur Re Sadaf Eemaan: 49 Articles with 26984 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Sep, 2016 Views: 493

Comments

آپ کی رائے