ٹریفک حادثات سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)
ہمارے معاشرے میں جہاں زندگی کے دیگر شعبے زوال کا منظر پیش کر رہے ہیں وہاں ٹریفک کا نظام بھی انتہائی ابتری، نااہلی اور بد انتظامی کا شکار ہے۔ دنیا بھر میں شہریوں کو سب سے اہم ترین جو سہولت درکار ہوتی ہے وہ ٹرانسپورٹ کی سہولت ہے، ٹرانسپورٹ کے ساتھ پورے ملک کی معیشت جڑی ہوتی ہے، ٹریفک کا نظام علاقوں، منڈیوں، مارکیٹوں کو آپس میں معاشی و سماجی سطح پہ جوڑتا ہے معاشرے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، لوگوں کو اپنے کام پہ جانے، ودیگر ضروریات زندگی کے حصول کے لئے نقل و حرکت میں سہولت ہوتی ہے۔

جن اقوام نے ترقی کی راہ میں نام کمایا ہے وہاں ٹریفک کے نظام انتہائی شاندار طریقوں سے چل رہے ہیں، انفراسٹرکچر، بہترین بنایا گیا ہے، سڑکیں، پل، ٹریفک سگنلز، بس اسٹاپ اس طرح سے بنائے گئے ہیں کہ شہریوں کو سفر کرنے میں آسانی ہو۔ٹریفک کا نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ڈرائیونگ کی باقاعدہ تربیت اور لائسنس کے بغیر کوئی شہری کسی قسم کی گاڑی نہ چلا سکے، صاف ستھری، اور تکنیکی حوالے سے پاس کی گئی گاڑیاں سڑکوں پہ چلیں، گاڑیوں کی باقاعدہ انشورنس ہو،اسی طرح گاڑیوں کی دیکھ بھال اور انہیں پاس کرنے کا بہترین اور دیانتدارانہ نظام موجود ہوتا ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ کا معیار تو پوری ترقی یافتہ دنیا میں پرائیویٹ سے بہتر بنایا گیا ہے، اس سے نہ صرف شہریوں کو بہترین سہولت میسر آتی ہے اس کے ساتھ ساتھ پاس شدہ گاڑیوں کے چلنے سے ماحولیاتی آلودگی سے بھی بچاؤ ہوتا ہے۔ٹریفک کے اس نظام کو چلانے کے لئے بہترین تربیت یافتہ اور دیانت دار ٹریفک پولیس کا منظم نظام بنایا گیا ہے ۔ٹریفک کا عملہ شب وروز انتہائی ذمہ داری اور دیانت داری سے اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔ اس سے شہریوں کو مزید سہولت میسر آتی ہے۔ان ساری سہولتوں کے ساتھ ساتھ ایسے قوانین بھی بنائے گئے ہیں جن کے تحت ٹریفک کی کسی بھی طرح کی خلاف ورزی کرنے والے کے ساتھ انتہائی سخت کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے، لہذا ان ممالک کی سڑکیں، گلیاں اور شاہراہیں ان کے بہترین نظام ٹریفک اور ایمانداری کی تصویر پیش کرتے ہیں۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہاں کے شہری بشمول دیگر دنیا سے نقل مکانی کر کے جانے والے تمام شہری چاہے وہ پیدل چل رہے ہوں یا ،گاڑی میں بیٹھے ہوں یا گاڑی خود چلا رہے ہوں،سب ان قوانین کا احترام کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ تو اس دنیا کی بات ہے جہاں ٹریفک کے نظام کو چلانے والا تمام عملہ اوپر سے لے کر نیچے تک ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی ادا کرتا ہے، جہاں شہری سطح پہ قانون کے احترام کو اولیت دی جاتی ہے، جہاں انسانی قدروں کا احترام ہر شہری اور حکمران اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے،جہاں شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق حاصل ہیں۔

لیکن ایک ہماری نرالی دنیا بھی ہے، جہاں ٹریفک کے نظام کو لفظ’’ نظام‘‘ سے تشبیح دینے سے بھی شرم آتی ہے۔سب سے پہلے اگر انفرا سٹرکچر سے شروع کریں تو سڑکوں، پلوں اور ٹریفک سگنلز کی حالت ایسی ہے کہ جہاں قدم قدم پہ حادثے کا خطرہ رہتا ہے۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی کا کوئی رواج نہیں، ٹاؤن پلاننگ کرنے والے ذمہ دار غفلت کی نیند سو رہے ہیں،آبادی اور ٹریفک کا اژدھام دن بدن بڑھ رہا ہے، سڑکیں تنگ پڑ گئیں ہیں، لوگوں کو گھنٹوں انتظار اور بے ہنگم ٹریفک ہر روز جھیلنا پڑتا ہے، ملک کو سڑکوں اور شاہراہوں کے نام پہ بیرونی قرضوں میں جکڑنے والے حکمرانوں کے لئے یقیناً یہ شرم کا مقام ہے۔

سڑک پہ موجود گاڑیوں کا کوئی پرسان حال نہیں،گاڑیوں کی فٹنس کے انتہائی فرسودہ اور نا گفتہ بہہ ہونے کا ثبوت ہماری سڑکوں پہ چلنے والی گاڑیاں ہیں،جو خستہ حالی کی وجہ سے نہ صرف شہریوں کی زندگی کو خطرے سے دو چار کر رہی ہیں ساتھ ساتھ ان کے انجن سے نکلنے والے دھوئیں اور شور سے ماحول بھی آلودگی سے دو چار ہو رہا ہے۔خاص طور پہ گیس پہ چلنے والی گاڑیوں میں نصب سلنڈر چلتے پھرتے بم ہیں جن کی باقاعدہ چیکنگ اور سروسنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہر وقت قیمتی انسانی جانوں کو خطرے سے دوچار رکھتی ہیں۔ خاص طور پہ ایسی گاڑیاں جو سکول کے بچوں کے لئے استعمال کی جاتی ہیں ،جن کو ان پڑھ ڈرائیور اور مالک چلا رہے ہوتے ہیں انہیں اس کابالکل شعور نہیں ہوتا کہ ان کی گاڑی میں نصب یہ سلنڈر اگر ٹیسٹ نہیں کیا ہوا ہے یا معیاری نہیں ہے تو اس سے کتنابڑا نقصان ہو سکتا ہے، اس کی مثال آئے دن سلنڈر پھٹنے کے واقعات ہیں، جن سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں ، لیکن ان سے سبق سیکھنے کی کوئی زحمت نہیں کرتا۔اکثر دیکھنے میں آیا ہے ہے کہ سی این جی سٹیشنوں پہ مسافروں سے بھری ویگنوں، سوزوکیوں میں گیس بھرنے کا عمل ہوتا ہے، جو لوگوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈالنے کا باعث بنتا ہے، اس سلسلے میں گیس سٹیشنوں کے مالکان پہ بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی ایسی گاڑی میں جس کا سیلنڈر میعار کے مطابق نہیں اس میں گیس نہ بھریں۔اس سے وہ کئی انسانی زندگیوں کو بچا سکتے ہیں۔حالانکہ یہ ذمہ داری ٹریفک کے کرتا دھرتاؤں کی ہے کہ وہ ہر گاڑی کی فٹنس کو یقینی بنائیں ، بغیر ٹیسٹ کے گاڑی سڑک پہ آنا ٹریفک کے نظام کی ناہلی اور مجرمانہ غفلت ہے۔

ایک طرف حکمرانوں نے نصف صدی سے شہریوں کے لئے کوئی معیاری ٹریفک کے نظام کی طرف پیش رفت نہیں ہونے دی، بلکہ آئے دن مزید خرابی اور تباہی کی طرف معاشرہ سر گرداں ہے، دوسری طرف ان حکمرانوں ہی کی نا اہلی کی وجہ سے معاشرے کو ٹریفک قوانین کی آگہی اور تربیت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے اس وقت حالت یہ ہے کہ ہماری سڑکوں اور شاہراہوں اور گلیوں میں طوفان بد تمیزی برپا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر سال ہزاروں پاکستانی سڑکوں پہ موت سے ہمکنار ہو جاتے ہیں، اور خاص طور پہ موت کو اپنے ہاتھوں سے گلے لگانے والے افرادمیں زیادہ تر موٹر سائیکل سواربتائے جاتے ہیں۔ ’’ایک سروے کے مطابق 2010میں ایکسیڈینٹ سے بارہ ہزار افراد موت کا شکار ہوئے اور ان میں سے نوے فیصد وہ تھے جو بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلا رہے تھے۔‘‘حالانکہ ہمارے ہاں ہیلٹ پہننے کا قانون موجود ہے لیکن نہ تو پبلک اس پہ عمل کرنے کی زحمت اٹھاتی اور نہ ہی ٹریفک کا نظام لوگوں اس کا پابند بناتا ہے، کاش ایسا بھی وہ کہ لوگوں کو ہیلمٹ پہننے سے مبرا کرنے کے لئے ہماری سڑکوں پہ رشوت کا سلسلہ رک جائے۔لوگوں کو رشوت کے عوض موت بیچنے کی روایت ختم ہو جائے۔

عام طور پہ مزاج یہ بن چکا ہے کہ ٹریفک سگنل کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ٹریفک قوانین کو جاننا تو دور کی بات ہے لائسنس لینا بھی گوارا نہیں کیا جاتا، نوعمر بچے پرائیویٹ گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کو عام سڑکوں پہ چلاتے دکھائی دیتے ہیں،اس وقت صورتحال مزید تباہ کن اس وجہ سے بھی ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلقہ چھوٹی گاڑیوں کو اکثر کم عمر ، ناتجربہ کار اور بغیرلائسنس یارشوت کے عوض حاصل کئے گئے لائسنس کے حامل چلاتے ہیں، جو کئی مسافروں کی زندگی سے کھیلتے ہیں،سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ ہر دن میڈیا میں موٹر سائیکل ون ویلنگ کرتے ہوئے یا تیز رفتاری کے باعث نوجونوں کی ہلاکت کی خبریں آ رہی ہیں۔نو عمر نوجوان بغیر لائسنس ، ہیلمٹ کے اور تمام ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے گلیوں، بازاروں اورسڑکوں پہ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو داؤ پہ لگاتے دکھائی دیتے ہیں لیکن ہمارے ہاں متعلقہ اداروں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے، آئے دن لاشیں اٹھتی ہیں، موٹر سائیکل ایکسیڈنٹ سے نوجوان معذور ہو رہے ہیں، لیکن مجال ہے، نہ انتظامیہ کو احساس ہے اور نہ ہی ان والدین کو جوپنے ہاتھوں سے بچوں کو موٹر سائیکل خرید کر دیتے ہیں، نہ ہی انہیں لائسنس دلاتے ہیں اور نہ ہی انہیں حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تربیت دیتے ہیں اس طرح وہ اپنے لخت جگر کوموت کے گھوڑے پہ سوار کرتے ہیں یا یہ کہیں کہ اسے خود کشی کے لئے بھیجتے ہیں، والدین کی یہ اہم ترین ذمہ داری ہے اگر انہیں اپنی اولاد سے ذرا بھر بھی محبت ہے تو وہ ان تمام قوانین کا خیال رکھیں جو ایک موٹر سائیکل چلانے والے کے لئے ضروری ہوتے ہیں، وہ بچے کو بالغ ہونے کے بعد مناسب ٹریننگ کے بعد پوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تربیت اور پابندی کے ساتھ سڑک پہ جانیں دیں۔ ورنہ اس کی کسی قسم کی غفلت اور ہلاکت کی ذمہ داری والدین یا ان کے ذمہ داروں پہ عائد ہوتی ہے۔زندگی اور موت یقیناً اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے زندگی کی اس نعمت کی قدر کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کی بھی تلقین کی ہے، اور زندگی کو جان بوجھ کر موت کے حوالے کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔جسے خود کشی کہتے ہیں۔اگر ہم ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کریں گے اور اپنے بچوں کو بھی اس کی تربیت نہیں دیں گے تو یقیناً موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو لے کراندھا دھند سڑکوں پہ دوڑانے کی وجہ سے نہ صرف خود کشی کے مرتکب ہوں گے بالکل دوسروں کی زندگیوں سے کھیلنے کا باعث بھی بنیں گے۔اگر اپنی قیمتی جانوں کو خود ہلاکت میں ڈالنے سے بچانا ہے تو سب سے پہلے ٹریفک قوانین کو پوری ایمانداری کے ساتھ سیکھیں اور ان پہ عمل در آمد کریں اور اپنے بچوں کی بھی اسی طرح تربیت کریں، جب خود اس پہ عمل کریں گے تو بچے بھی بڑوں سے سیکھتے ہیں لہذا، پہلے خود عمل کر کے دکھائیں۔

اسی طرح ٹریفک کے نظام کو چلانے والے ایک عام سپاہی سے لے کر اعلیٰ سطح کے آفیسر تک کی زمہ داری یکساں ہے کہ وہ شہریوں کو ان قوانین کا پابند بنائیں، رشوت اور جان پہچان کی بنیاد پہ انہیں انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا لائسنس نہ دیں۔ دنیا بھر میں کامیاب ٹریفک کے نظام کے پیچھے ایماندار عملے اور افسران کا کردار ہے، ٹریفک کا نظام چلانے والے اگر ایماندار ہوں گے اوقوانین کے عمل در آمد میں کسی کا لحاظ نہیں رکھیں گے تو کسی کو معاشرے میں جرات نہیں ہو گی کہ وہ قانون کو توڑے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، اسے ادا کئے بغیر ہماری سڑکوں پہ ضائع ہونے والی قیمتی جانیں نہیں بچ سکتیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68752 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
23 Sep, 2016 Views: 776

Comments

آپ کی رائے