کا میا ب مرد کے پیچھے عو ر ت کا کر دار قسط (٦)

(naila rani, karachi)
مثال نمبر (٧):۔۔۔۔۔۔۔۔ا سی طر ح شیخ عبد ا لقا در جیلا نی ر حمتہ اللہ علیہ لڑ کپن میں تعلیم حا صل کر نے چلتے ہیں -وا لدہ ان کے کپڑو ں میں کچھ پیسے سی د یتی ہیں اور نصیحت کر د یتی ہیں بیٹے ہمیشہ سچ بو لنا -چنا نچہ را ستے میں ڈا کو و ں نے لو ٹ لیا -کسی نے پو چھا تمہا رے پاس ما ل ہے ؟ا نہو ں نے سچ سچ بتا د یا -اس نے سردار کو بتا یا تو سردار نے پا س بلا کر کہا تو نے جھو ٹ کیو ں نہیں بو لا ؟نہ تجھے جا ن کی فکر نہ ما ل کی فکر کہنے لگے میر ی ا می نے کہا تھا بیٹا سچ بو لنا اور میں نے ان سے و عدہ کر لیا تھا مجھے جا ن کی پر واہ نہ تھی مجھے ا پنے قول کا پا س ر کھنا تھا -ڈا کو و ں کے دل میں یہ با ت گھر کر گئی کہ جب ایک بچہ ما ں سے کیئے ہو ئے عہد کا اتنا پا س ر کھتا ہے تو ہم نے بھی تو کلمہ پڑھ کر ا پنے رب سے عہد کیا ہے ہم ا سکا پا س کیو ں نہ کر یں ؟۔۔۔۔۔۔۔چنا نچہ وہ اللہ سے تو بہ کر تے ہیں اور اسکے بعد انکی زند گی میں نیکو کا ری آ جا تی ہے یہ بچہ آ گے چل کر شیخ عبد القادر جیلا نی بنا -تو سو چیئے ایک اور کا میاب مرد کے پیچھے آپ کو عورت کا کردار ما ں کی شکل میں نظر آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مثال نمبر (٨):۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت با یزید بسطا می ر حمتہ اللہ علیہ کے با رے میں جنید بغدادی ر حمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ جس طر ح جبر ئیل علیہ السلام کو اللہ تعا لی نے فر شتو ں کے اندر ا متیازی شان عطا فر ما ئی ہے اسطر ح با یز ید بسطا می ر حمتہ اللہ علیہ کو اللہ ر ب ا لعزت نے او لیا ء میں ا متیا زی شان عطا فر مائی ہے -یہ ہی با یز ید بسطا می جب بچپن میں یتیم ہو گئے ما ں نے انکو مد رسے میں دا خل کروا د یا قار ی صا حب سے کہا کہ بچے کو ا پنے پا س ر کھنا ز یا دہ گھر آ نے کی عا دت نہ پڑ ے ا یسا نہ ہو کہ یہ علم سے محروم ہو جا ئے چنا نچہ کئی دن قار ی صا حب کے پاس ر ہے ایک دن اداس ہو ئے دل چا ہا کہ ا می سے مل آ و ں -قا ر ی صا حب سے اجا زت ما نگی ،ا نہو ں نے شرط لگا دی کہ تم ا تنا سبق یا د کر کے سنا و تب ا جا زت ملے گی سبق بھی بہت ز یا دہ بتا دیا -مگر بچہ ذ ہین تھا اس نے جلدی سے وہ سبق یا د کر کے سنا د یا ا جا زت مل گئی یہ ا پنے گھر وا پس آئے دروازے پر د ستک دی ، ما ں و ضو کر رہی تھی وہ پہچا ن گئی میر ے بیٹے کی د ستک معلوم ہو تی ہے چنا نچہ دروازے کے قر یب آ کر پو چھا “کس نے دروازہ کھٹکھٹایا “ جواب د یا با یز ید ہو ں ،تو ما ں کہتی ہے ایک میرا بھی با یز ید تھا میں نے تو اسے اللہ کے لیئے و قف کر د یا ،مدر سے میں ڈال د یا تو کون با یز ید ہے جو کھڑا میرا دروا زہ کھٹکھٹا رہا ہے ؟تو جب ا نہو ں نے یہ ا لفا ظ سنے تو سمجھ گئے ا می چا ہتہ ہیں کہ میرا دروازہ نہ کھٹکھٹا ئے ،اب با یز ید مدر سے میں اللہ کا دروازہ کھٹکھٹا ئے اور اسی سے تعلق ا ستوار کر ے -چنا نچہ وا پس آئے مدر سے میں ر ہے اور ا سو قت نکلے جب عا لم با عمل بن چکے تھے -اور اللہ نے انکو با یز ید بنا د یا تھا تو ایک اور کا میا ب شخصیت کے پیچھے آپکو ایک عورت کا کردار ایک ما ں کی شکل میں نظر آ ئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔

مثال نمبر (٩):۔۔۔۔۔۔حضرت خنسہ ر ضی اللہ عنہا کے با رے میں آ تا ہے کہ ان کے چا ر بیٹے تھے وہ جب کھا نے پر بیٹھتیں تو بچو ں کو کہتیں میر ے بیٹو !تم اس ما ں کے بیٹے ہو جس نے نہ ما مو ں کو ر سوا کیا نہ تمہا رے با پ کے سا تھ خیا نت کی جب بار بار یہ کہتیں تو ایک با ر بچو ں نے کہا کہ امی آ خر اسکا کیا مطلب ہے ؟تو فر ما تیں میر ے بیٹو !جب میں کنواری تھی تو مجھ سے کو ئی ا یسی غلطی نہ ہو ئی جس سے تمہا رے ما مو ں کی رسوا ئی ہو تی اور جب شا دی ہو ئی تو میں نے تمہا رے با پ کے سا تھ خیا نت نہ کی -میں ا تنی غیر ت اور با حیا ز ند گی گزارنے وا لی عورت ہو ں بچے پو چھتے ا می آپ کیا چا ہتی ہیں ؟ تو ما ں کہتی بیٹو!جب تم جوان ہو جا و تو تم سب ا للہ کے را ستے میں جہا د کر نا اور میر ے بیٹو! تم شہید ہو جا نا اور میں آ کر تمہیں د یکھو ں گی ا گر تمہارے سینو ں پر تلوار کے ز خم ہو ں گے تو میں تم سے را ضی ہو جا و ں گی اور ا گر تمہا ری پشت پر ز خم ہو نگے تو میں تمہیں کبھی معا ف نہ کرو ں گی -بیٹے پو چھتے امی ! آپ کیو ں کہتی ہیں شہید ہو جا نا شہید ہو جا نا ؟ تب ما ں سمجھا تیں کہ میر ے بیٹو !اس لئے کہ جب قیا مت کے دن عدل قا ئم ہو گا اور اللہ تعا لی پو چھیں گے شہیدو ں کی ما ئیں کہا ں ہیں ؟میر ے بیٹو !اسو قت میرے پرور د گار کے سا منے مجھے سر خرو ئی نصیب ہو گی کہ میں بھی چا ر شہیدو ں کی ما ں ہو ں -سو چنے کی با ت ہے کہ ا یسے شہدا ء کے پیچھے آپکو ایک عورت کا کردار ما ں کی شکل میں نظر آ ئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جا ری ہے
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: naila rani riasat ali

Read More Articles by naila rani riasat ali: 104 Articles with 109066 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Sep, 2016 Views: 1329

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ