زمانے کے انداز بدلے گئے

(Sana, Lahore)

وقت بدل گیا ہے ، زمانہ اچھا نہیں رہا، لوگ بہت خراب ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات ہم سب ہی اکثر کبھی نہ کبھی کہتے پائے جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کائنات مین تبدیلی ہی وہ واحد مظہر ہے جس کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ وقوع پزیر ہوگا ہی ہوگا۔ تبدیلیوں نے انسان کو غاروں سے نکال کر شہروں میں پہنچادیا اسی لئے یہ تبدیلی ہی ہے جو کہ انسان کو کائنات میں رواں رکھے ہوئے ہے۔ بس یہ ہے کہ پہلے تبدیلی کی رفتار ویسی تیز طرار نہیں تھی آج تو انٹرنیٹ سے ذیادہ تیز تبدیلی ہے۔

ہر گزرتا دن ایک نئے ٹرینڈ کی جڑیں ہمارے معاشرے میں سموتا جارہا ہے۔ کچھ ٹرینڈز بے شک ایسے ہیں جو کہ مضر زندگی ہیں مگر وہ ففروغ پارہے ہین اور ہم ان کے حوالے سے کچھ کر بھی نہیں سکتے۔
مگر کچھ ٹرینڈ ایسے ہیں جو کہ دلچسپ ہیں کچھ انکے حق میں ہیں اور کچھ رج کر مخالف ہیں۔

جیسا کہ
ٹرینڈ نمبر 1
پہلے کبھی بچے بزرگوں کے قدموں میں بیٹھے انکی ٹانگیں دابتے اور انکی حکمت و دانائی سے پُر باتیں سنتے دکھائی دیتے تھے۔ بزرگ جی کا قصہ خواہ کتنا ہی لمبا اور کتنا ہی پُر مغز ہو مگر پھر بھی وہ ادب و احترام کا تقاضا سمجھتے ہوئے بیچ بیچ میں جی جی کا لقمہ ضرور دیتے تھے۔

اب جی بزرگ و بچہ ہاتھ میں موبائل یا سمارٹ فون لئے بیٹھے ہوتے ہیں اور بچہ اپنے بزرگ کو ٹیکنالوجی کی کلاسز دے رہا ہوتا ہے۔ بزرگ سمجھنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہا ہوتا ہے اور بچہ دل و جان سے سمجھانے میں جُتا ہوا ہوتا ہے۔ چہرے پر سمجھداری بچے پر ذیادہ نظر آتی ہے اور بزرگ ہونق سا دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

کیا کیجئے کہ اب وقت ہی ایسا ہے کہ انسان خود کو بچوں کے سامنے بچہ ہی سممجھنے لگتا ہے جب بچہ انگلیاں کھٹا کھٹ چلا رہا ہو کی پیڈ پر اور بزرگ کو سمارٹ فون ان لاک کرنا بھی نہ آرہا ہو۔

اس سے ایک یہ کام ضرور ہوا ہے کہ بچہ اور بزرگ اگر دونوں ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھ جائیں تو جو بالکل ہی اجنبی سے اور ایک دوسرے کے لئے عجیب سے ہوتے ہیں وہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

ٹرینڈ نمبر 2
کبھی کوئی وقت تھا کہ اگر بڑے سامنے ہوتے تھے تو بچے انکے سامنے بیٹھنے کی بجائے دائیں بائیں بیٹھ کر صرف انکی گفتگو پر ہوں اور ہاں کرتے تھے اور انکی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے مگر اب ایک تو دونوں کا ساتھ ساتھ بیٹھ جانا معیوب و ممنوع نہیں سمجھا جاتا بلکہ دونوں ہی ایک دوسرے کی آواز سے اونچی آواز میں اپنا نقطہ نظر سمجھانے میں لگے ہوتے ہیں ۔۔

اگر ایک دوسرے کو نا بھی سمجھا سکیں تو پھر دلیل اور کبھی کبھی تو گالی تک کا سہارا لینا بھی عجیب نہیں لگتا ۔

ہار اکثر ماننی پڑ جائے تو بڑا ہی مان لیتا ہے چھوٹا ماننے سے احتراز ہی کرتا ہے۔ اسی لئے خوب زبانی کلامی دھینگا مشتی کے بعد بھی اکثر بڑا ہی قدم پیچھے ہٹانے میں تیار نظر آتا ہے۔

ٹرینڈ نمبر 3
کبھی کوئی وقت تھا کہ لوگ ساتھ والے گھر کے لڑکے کو کالج اور وہ بھی زنانہ کالج کے باہر سے گزتے بھی دیکھ لیتے تو اسکے گھر فوری شکایت لے کر پہنچ جاتے۔ گھر والے بھی آؤ دیکھتے نہ تاؤ صاحب بہادر کی رج کر ٹھکائی کردیتے۔

شکایت لانے والے کے خاصے شکر گزار بھی ہوتے۔

ایک مسئلہ یہ بھی تھا اس وقت کہ خواتین ایک دوسرے کے گھر مِیں دخل اندازی کرنے اور ایک گھر کی بات دوسرے گھر میں بتانے کے لئے خاصی بدنام تھیں۔ چاہتے نہ چاہتے گھر کی آدھی خواتین ایسی خاتون کے خلاف اور آدھی حق میں ہوتیں۔

اب یہ عالم ہے اول تو ساتھ والے گھر میں کون ہے علم نہیں ہوتا اگر رشتے دار کا صاحب زادہ بھی سگریٹ یا ایسی کوئی شے کہیں بھگتاتا نظر آجائے تو اسکے بارے میں بھی شکایت لگانے سے پہلے سوچا جاتا ہے اور اکثر لگائی ہی نہیں جاتی۔

اب یہ بھی ہے کہ جو شاکیتی قسم کی خواتین ہیں وہ بھی شکا یت لانے سے پہلے کوئی ذیادہ نہ بھی سہی چار چھ دفعہ تو سوچ ہی لیتی ہیں۔ اکثر چلو جانے دو ہی کہہ کر خوش ہو جاتی ہیں۔ اب بس وہی خواتین بڑھ چڑھ کر گھر میں دخل اندازی کر سکتی ہیں جنکو آپ اتنی اجازت دیں۔

ٹرینڈ نمبر 4
پہلے کوئی وقت تھا کہ اندازہ ہو جاتا تھا کہ جی کون باپ ہے کون بیٹا کون ماں ہے کون بیٹی اب تو یہ عالم ہے کہ ٹیکنالوجی نے جھریاں اور شکنیں سیدھی کر کر کے ماں باپ کو اولاد سے ذیادہ جوان و توانا دکھانے میں مدد دی ہے۔

بہت زیادہ عمل دخل باڈی لینگوئج کا بھی ہے۔ پہلے حد ادب میں رہ کر بات ہوتی تھی اب کون کہاں کیسا ادب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تلاش گمشدہ ادب۔ اولاد و ماں باپ بے تکلفی سے ایک دوسرے سے مکالمے مباحثے اور تصفیے کرتے نظر آتے ہیں۔

ماں باپ سے ذیادہ عزت اور رعب اکثر اولاد کا نظر آتا ہے۔

بہت کم ایسے نظر آتے ہیں مگر ہیں ابھی بھی جو اولاد کے ساتھ دوستی کو اتنی صحت مند شطح پر لے گئے ہیں کہ اولاد ہر مسئلہ بتا سکتی ہے اور انکے لئے اولاد پالنا مصیبت یا مشکل نہیں مگر ایک مزے کی بات ہے۔

اولاد کو اس قابل بھی سمجھا جاتا ہے کہ اس سے مشورہ لے لیا جائے اور اس پر عمل بھی کر لیا جائے۔
مگر پہلے وقتوں میں آج سے محض تیس برس پہلے بھی اس طرح کی بات پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لا حول ولا قوت

ٹرینڈ نمبر 5
پہلے کبھی لڑکیاں بولتی تھیں تو سہیلیوں کے سامنے بھی اتنی آواز میں کہ سہیلی بھی مشکل سے سن سکے اب تو اماں ابا کے سامنے بھی آزادانہ اظہار رائے کر سکتی ہیں۔

پہلے کبھی ہر معاملے میں پتہ تھا کہ لڑکیاں اس معاملے میں نہیں بولتیں اب بس چپ سوتے ہوئے بھی مشکل سے ہی کرتی ہیں۔

اب آہستہ آہستہ چلتے چلتے وہ وقت آگیا ہے کہ انکو چپ کروانا میڈیا کی طرح ہی مطلب ناممکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 178604 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
28 Sep, 2016 Views: 574

Comments

آپ کی رائے